سیکولرازم کے علمبردار ملک میں جمہوریت کا قتل

(Altaf Nadvi, India)
جماعت اسلامی کے بعد لبریشن فرنٹ پر پابندی

 اول مارچ 2019ء کو اچانک یہ خبر میڈیا کی وساطت سے سننے کو ملی کہ’’ سیکولر ملک بھارت‘‘ میں حکمرانوں نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر یہ الزام لگاتے ہو ئے پابندی عائد کی ہے کہ جماعت اسلامی قوم دشمن اور تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہے ۔میڈیا کے مطابق اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی مرکزی کابینہ میٹنگ میں کیا گیا جس کے بعدوزارت داخلہ کی طرف سے ایک نو ٹیفکیشن زیر نمبر (E)10699 S.O بتاریخ 28فروری2019جاری کیاگیاہے ۔اس نوٹفکیشن میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے ،جو اندرونی سلامتی اور عوامی نظم وضبط کے خلاف ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت اسلامی کو پانچ سال تک غیر قانونی قرار دیا گیاہے۔ نو ٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ (الف)جماعت اسلامی کا جنگجو تنظیموں کے ساتھ نزدیکی رابطے ہیں اور جموں وکشمیرودیگر مقامات پر انتہا پسندی اور عسکریت کی حمایت کرتی ہے۔(ب)جماعت اسلامی بھارت کے علاقے کے ایک حصے کی علیحدگی کے دعویٰ کی حمایت کرتی ہے اوردہشت گردوں او رعلیحدگی پسند گروپوں کو اس مقصد کیلئے لڑنے کی حمایت کرنے کیلئے ایسی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے ،جو بھارت کی علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈالتی ہے۔(پ)جماعت اسلامی ملک میں قوم مخالف دشمنانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے تاکہ منافرت کو ہوا دے سکے۔ اسکے علاوہ مرکزی حکومت اس خیال کی حامی ہے کہ اگر جماعت اسلامی کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا اور قابو نہ کیا گیا تو اس سے یہ منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں جن میں (الف)اپنی منفی سرگرمیوں میں تیزی لائے گی جن میں بھارت کے علاقے میں قانونی طور قائم حکومت کو غیر مستحکم کرکے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی کوششیں شامل ہیں۔(ب)وہ جموں وکشمیر ریاست کو بھارت سے علیحدہ کرنے کی وکالت جاری رکھے گی نیز ریاست کا مرکزکے ساتھ الحاق کی مخالفت کرے گی۔(پ)قوم مخالف اورعلیحدگی جذبات کی تشہیر کرے گی جو کہ ملک کی سالمیت اور سیکورٹی کیلئے خطرناک ثابت ہوگی۔(ت)علیحدگی کی تحریک کو تیز کرے گی ،جنگجوؤں کی حمایت اور ملک میں تشدد کو بھڑکائے گی۔ اسکے علاوہ مرکزی حکومت یہ بھی خیال رکھتی ہے کہ جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کے تناظر میں اسے ایک غیر قانونی تنظیم قرار دی جائے جس کا اطلاق فوری طور ہو۔

اسی طرح مرکزی حکومت نے22مارچ 2019ء کو جماعت اسلامی کے بعد محمد یاسین ملک کی سربراہی والی لبریشن فرنٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے5 برسوں کیلئے اس پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے لبریشن فرنٹ کو انسداد غیر قانون سرگرمیوں کی دفعات کے تحت غیر قانونی قرار دیدیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی سربراہی میں میٹنگ منعقد ہوئی،جس کے دوران فرنٹ پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔جاری شدہ نوٹفکیشن کے مطابق فرنٹ پر الزام عائد کرتے ہو ئے کہاگیا ہے کہ یہ’’ اندرونی سلامتی کیلئے نقصان دہ اور امن عامہ میں رخنہ ڈالنے ‘‘ کی سرگرمیوں میں ملوث ہے ،یہ ملک کی سالمیت اور اتحاد میں خلل ڈالنے کی صلاحت رکھتی ہے‘‘۔ اس سلسلے میں جو حکم نامہ جاری کیا گیااس میں کہا گیا ہے کہ’’ محمد یاسین ملک کی سربراہی والی لبریشن فرنٹ کا جنگجو تنظیموں کے ساتھ قریبی روابطہ ہیں،اور یہ جموں کشمیر اور دیگر جگہوں پر جنگجویت اور انتہا پسندی کی حمایت کرتی ہے‘‘۔ حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ’’ لبریشن فرنٹ(وادی کشمیر) بھارت کے حصے کو بھارت سے علیحدگی کے دعوؤں کی حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ اس کی حمایت بھی کرتی ہے،اور اس مقصد کیلئے جنگجو و علیحدگی گروپوں کی حمایت بھی کرتی ہے،اور بھارت کی علاقائی سالمیت کو زک پہنچانے کیلئے اس طرح کی سرگرمیوں میں شرکت کرتی ہے‘‘۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے ’’ مرکزی حکومت کا مزید نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ’’ کی غیر قانونی سرگرمیوں‘‘ کو نہیں روکا گیا اور اس پر فوری قابو نہیں پایا گیاتو یہ’’ بھارت کی ریاست کو یونین آف انڈیا سے علیحدہ کرنے کیلئے تخریبی کارروائیوں میں اضافہ کرے گی،جبکہ جموں کشمیر کی علیحدگی کی وکالت مسلسل جاری رکھنے اور وفاق کے ساتھ ریاست کے الحاق میں خلل پیدا کرے گی‘‘۔حکم نامہ میں واضح کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ’’ ملک مخالف ا ور علیحدگی پسند جذبات کی تشہیر کر رہی ہے جو ملک کی علاقائی سالمیت کیلئے نقصان دہ ہے۔ لبریشن فرنٹ ریاست میں دوسری ایسی جماعت ہے،جس پر ایک ماہ کے دوران پابندی عائد کی گئی۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی ہے۔مرکزی کابینہ کمیٹی نے 28فروری 2019کو ایک اہم میٹنگ کے دوران جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر 5برس کے لیے پابندی عائد کی تھی جس سے ایک ہفتہ قبل اور مابعد ریاست کے سبھی اضلاع میں جماعت کے لیڈران اور کارکنان کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سید علی شاہ گیلانی پر ان کی تحویل سے مبینہ طور غیر قانونی طور برآمد کئے گئے دس ہزار امریکی ڈالر بر آمد کرنے پر 14.4لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ادھردلی کی ایک عدالت نے ای ڈی کو گیلانی کے فرزند نسبتی الطاف احمد شاہ سے پوچھ تاچھ کی اجازت دیدی ہے۔خیال رہے الطاف احمد شاہ دلی کے تہار جیل میں مقید ہیں۔

جماعت اسلامی پر پابندی کے بعد جموں و کشمیرکی تمام ہندنواز اورآزادی پسند جماعتوں نے بہ یک زبان اور ایک ہی لہجے میں اس کی شدید ترین الفاظ میں سخت مذمت کی جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں تھا کہ مرکزی سرکارنے ایک اور حکم نامہ جاری کرتے ہو ئے لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کر دی جس سے پورے جموں و کشمیر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ مرکزی سرکار کی پہلے سے سخت گیر پالیسی میں مزید شدت آچکی ہے وہ آہنی ہاتھوں سے جموں و کشمیر میں مخالف آوازوں کو دبانے کی تیاری کر چکی ہے ۔جماعت اسلامی خالص ایک اسلامی تحریک ہے جبکہ لبریشن فرنٹ آزادی پسند جماعت ۔دونوں کے نظریوں میں گر چہ زمین و آسمان کا فرق موجود ہے مگر دہلی سرکار کے نزدیک دونوں ان کے لئے برابر کا خطرہ ہے حالانکہ لبریشن فرنٹ کے مقابلے میں جماعت اسلامی ایک وسیع نظریہ کی حامل اسلامی جماعت ہے جس کے فکری اثرات برصغیر پاک و ہندکے علاوہ عالم اسلام کے دوردراز خطوں تک پھیلے ہوئے ہیں ۔دونوں کو ایک ہی ترازو میں تولا نہیں جاسکتا ہے ایک کا ایجنڈا مقامی ہے جبکہ دوسری کے خیال میں ’’روئے زمین کا چپہ چپہ پر ‘‘اﷲ کے احکام نافذ کرنے میں ہی انسانیت کی بھلائی ہے ۔مگر بھارت اسے قطع نظر ان دونوں کو ملک دشمن سمجھتا ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت کی مرکزی حکومت کے سامنے یہ سبھی انکشافات کسی نئی تحقیق کا نتیجہ ہے ؟نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ عجلت میں اٹھایا گیا ایک غیر متوازن قدم ہے اس لئے کہ ان دونوں جماعتوں کے خیال میں تمام تر مسائل کی جڑ وہ مسئلہ کشمیر ہے جس کا خالق کشمیریوں کے برعکس خود بھارت ہے ۔بھارت مسئلہ کشمیر پر پرامن طور طریقوں کو اس لئے پسند نہیں کرتا ہے کہ انہیں آج کے دور میں یورپ اور مغرب بہت سراہتا ہے جبکہ بھارت بزور بازو مسئلہ کشمیر کی بات کرنے والوں کچلنا چاہتا ہے اور اس کے لئے اس کے پاس جمہوری طور طریقوں سے مسالہ نہیں ملتا ہے لہذا اب وہ نوے کے عشرے کے برعکس یہ چاہتا ہے کہ کشمیری ’’پرامن طریقوں کے برعکس‘‘بندوق تھام لے تاکہ انہیں کچلتے ہو ئے اسے باہر کی دنیا میں ایک جواز فراہم ہو جائے جیسا کہ بھارت کے آرمی چیف نے خود کہا تھا کہ پتھر باز پتھروں کے بجائے اگر بندوق تھام لیتے ہیں تو ہم انہیں سبق سکھا سکتے ہیں ۔

جماعت اسلامی ہو یا لبریشن فرنٹ دونوں جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کی نظر میں مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں مضمر ہے ۔بھارتی دانشوروں اور حکمرانوں کی خواہش کے عین مطابق لبریشن فرنٹ نے بندوق کے برعکس پر امن جدوجہد کو اپنا لیا اور جماعت اسلامی نے ’’حزب المجاہدین ‘‘کی سرپرست تحریک ہونے سے یہ کہتے ہو ئے علٰحیدگی اختیار کی کہ تحریک کے بانی کی نصیحت کے عین مطابق وہ خفیہ طور طریقوں پر یقین نہیں رکھتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود نئی دلی نے پابندی لگا کرایک ’’شرمناک اورعبرتناک مثال ‘‘ قائم کردی ۔عبرتناک اس لئے کہ ایک طرف بھارتی فوج کے سبھی بڑے جرنیل آج بھی عسکریت پسند نوجوانوں سے بندوق چھوڑ کر پرامن طور طریقوں کو اختیار کرنے کی نصیحت دیتے ہیں جبکہ ٹھیک دوسرے ہی سانس میں یہی لوگ پر امن راہیں اختیار کرنے والوں کو پابندیاں عائد کرتے ہو ئے اور جیلوں میں ٹھونستے ہو ئے نشان عبرت بنادیتے ہیں ،ایسے میں کشمیری عوام کس بات پر اور کیسے یقین کر لے کہ بھارت کی نیت خراب نہیں ہے ۔جماعت اسلامی پر اسے قبل بھی کئی بار پابندی عائد کی جاچکی ہے اور لبریشن فرنٹ کے لئے بھی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے مگر گہری تحقیق سے یہی بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے شاید بی ،جے ،پی کو فوری طور پر کوئی انتخابی فائدہ حاصل ہو تو ہو مگر یہ اس کے وجود کے لئے انتہائی نقصان دہ پالیسی ہے ۔اس لئے کہ بھارت خود اپنے لئے ہی راستے تنگ کر رہا ہے اور وہ من و عن اپنے لئے وہی راستہ بنا رہا ہے جو راستہ افغانستان میں امریکہ نے اپنا لیا ہے کہ کل کے’’ دہشت گردوں ‘‘کے ساتھ آج اسے خوددوسری جانب بیٹھنا پڑتا ہیاور جنگ بندی کے لئے منتیں کرنی پڑی رہی ہیں ۔بھارت کو سوچنا چاہیے کہ نظریوں اور افکار کو طاقت کے بل بوتے پر زیادہ دیر تک دبائے رکھنا ممکن نہیں ہوتا ہے بلکہ انہیں دلیل و برہان کی بنیاد پر ہی شکست سے دوچار کیا جاتا ہے اور یہاں بھارت کی کمزوری یہ ہے کہ اس کی تمام تر سیاسی دلیلیں مٹی کے کھلونے ثابت ہو جاتے ہیں جبکہ اس کے مخالفین کی سب سے بڑی جیت اور کامیابی یہ ہے کہ ان کی بات میں اخلاقی وزن کے ساتھ ساتھ ان کا موقف سیاسی اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اوچھے ہتھکنڈوں سے ایک ایسی تحریک کو کچلنا چاہتا ہے جس کے حامیوں کی دنیا میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اسے بے چین سیکولر بھارت انہیں اب طاقت کے بل پر دبانے کے لئے جمہوریت تک کو دن دہاڑے قتل کرنے سے بھی نہیں جھجکتا ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 168 Print Article Print
About the Author: altaf

Read More Articles by altaf: 116 Articles with 44801 views »
writer
journalist
political analyst
.. View More

Reviews & Comments

Language: