کیا مسلمان محض ’ووٹ‘بن کر رہ گیا ہے؟؟

(Asif Jaleel Ahmed, India)

جس طرح الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے اسی طرح امیدوار وں کی انتخابی مہم دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے۔عوامی رابطے کیلئے گھر گھر جاکر لوگوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور مقامی مسائل وعوامی دلچسپی کے امور پر سماج کے مختلف طبقات کے لوگوں سے تبادلہ خیال کررہے ہیں،امیدوار تو فکر مند ہوگئے ہیں مگر کیا عوام اپنے ووٹ کے متعلق سنجیدہ ہیں ؟اسی لئے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے اور سیکولر پارٹیوں کے حق میں ووٹ دینے کے تئیں بیدار ہوں اورایک ایک ووٹ کو کارآمدبناکر بی جے پی کے فرقہ پرستانہ عزائم کو چکناچور کردیں۔تمام سیاسی پارٹیاں بھی یہ اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ اگر یہ ہم سے بک گئے یا ہمارا ساتھ دینے لگے تو ہمیں مسلمانوں کا اچھا خاصہ ووٹ مل سکتا ہے۔انہیں سوداگروں کی حرکتوں کا نتیجہ ہے کہ اب مسلمان اس ملک میں ایک قوم کی حیثیت سے نہیں ہیں بلکہ اب اس ملک میں مسلمان محض ’ووٹ‘بن کر رہ گیا ہے۔وہ الیکشن کے وقت ہی خرید ا اور فروخت کیا جاتا ہے اور باقی دنوں میں اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ کسی بھی زندہ اور خوددار قوم کیلئے یہ حالت انتہائی شرمناک ہے۔ لوک سبھا الیکشن پھر آرہاہے۔ مسلم ووٹوں کے سوداگر پھر پوری سرگرمی کے ساتھ میدان میں ہیں۔ مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طریقے سے مسلم ووٹ خریدنے کی کوشش میں لگ چکی ہیں۔اسی خرید وفروخت کے درمیان ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی بھی مسلمانوں کے ووٹوں پر نظر گڑائے ہوئے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ باقی تمام پارٹیاں مسلم ووٹروں کو اپنی اپنی طرف کھینچنے میں لگی ہیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوری طاقت اس کوشش میں لگی ہے کہ کسی بھی طرح اس الیکشن میں مسلم ووٹروں کوایک بار پھر سے منتشر کیا جائے۔ بی جے پی کسی بھی طرح الیکشن میں ملک کے مسلمانوں کو اپنے اور اقتدار کے درمیان دیوار نہ بننے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ جہاں دوسری تمام سیاسی پارٹیاں اس مقصد کو لے کر چل رہی ہیں کہ مسلمان اس کے حق میں ووٹ کریں وہیں بی جے پی یہ چاہتی ہے کہ مسلمان اگرچہ اس کے حق میں ووٹ نہ کریں مگر وہ متحد ہو کر کسی پارٹی کے حق میں ووٹنگ نہ کر سکیں۔ یہ الیکشن بہت اہم ہے۔ ایسے میں جو مسلمان کہیں سے پیسے کھاکر مسلمان ووٹ خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہیں انہیں اچھی طرح پہچاننے کی ضرورت ہے۔اور اگر مسلمانوں نے اس بار بھی انہیں ملت فروش رہنما ؤں کے آگے سر جھکا دیا تو وہ اپنی پستی اور پچھڑے رہنے کا خود ہی ذمہ دار ہوگی۔کوئی دوسرا اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ اس لئے ضرورت ہے متحد ہونے کی کیونکہ اگر ہم متحد ہو کر کسی ایک پارٹی کے ساتھ ہو لئے تو یقیناًہم بہت حد تک کامیاب رہیں گے ورنہ ہر پارٹی ہمیں استعمال کرے گی اور موقع نکل جانے کے بعد پھر ہماری خیر خیریت دریافت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرے گی۔اس لئے جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں اور اپنا مستقبل خود طے کرنے کی کوشش کریں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 168 Print Article Print
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 154 Articles with 94786 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More

Reviews & Comments

Language: