شہزادہ محمد بن سلمان کے اختیارات میں کمی یا۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

سمجھا جارہا تھا کہ مملکتِ سعودی عربیہ میں ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کوانکے والدو سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے وسیع تر اختیار ات دیئے گئے ہیں جو حقیقت پر مبنی بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن گذشتہ دنوں لندن کے مشہور اخبارر گارجین نے مختلف حوالوں سے یہ چونکادینے والی تفصیلات شائع کیں ہیں کہ شاہ سلمان کے نورِ نظر شہزادہ محمد بن سلمان کے وسیع تر اختیارات کو یا تو محدود کردیا گیا ہے یا ان سے بعض اختیارات چھین لئے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک کابینی اجلاس میں شرکت کرنی تھی لیکن وہ اس میں موجود نہیں تھے جس کے بعد شاہ سلمان نے ایک سنیئر وزراء گروپ کی موجودگی میں ولیعہد کے مالیاتی اور اقتصادی اتھاریٹی سے مبینہ طور پر اختیارات چھین لئے یا محدود کردیئے ہیں۔گارجین کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ایک با اعتماد مشیر مساعد بن محمد العیبان جو ہاروڈ یونیورسٹی تعلیم یافتہ ہیں ، حال ہی میں انہیں قومی سلامتی کا مشیر نامزد کیا گیا ہے وہ غیررسمی طور پر بادشاہ کی جانب سے سرمایہ کاری کے فیصلے کی نگرانی کریں گے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ ترکی کے سعودی سفارت خانہ میں جرنلسٹ جمال خاشقجی کی ہلاکت نے، سعودی عرب کو عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑااور آج بھی کئی ممالک سعودی ولیعہد کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے جبکہ سعودی عرب نے شہزادہ محمد بن سلمان کا اس معاملہ میں دفاع کرتے ہوئے اس سے انکار کیا ہے،البتہ سعودی عربیہ نے چند افراد کو جمال خاشقجی کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہراکر انہیں گرفتار کیا اور انکے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں کئی علماء و ائمہ اور مذہبی شخصیتوں کو ولیعہدشہزادہ محمد بن سلمان کی ویژن 2030 سے متعلق پالیسیوں کے خلاف کہنے کی وجہ سے حراست میں لے لیا گیا اور نہیں معلوم ان میں سے کس کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مملکت کو یوروپی و مغربی تہذیب سے ہم آہنگ کرنے کے لئے خواتین کو ڈرائیورنگ لائسنس کی اجرائی عمل میں لائی، ملک بھر میں سینما گھروں کی اجازت، کنسرٹ پروگرامس جہاں مردو خواتین کے درمیان بے حیائی شامل ہے اقدامات کئے جس کے خلاف کئی سعودی شہری ہیں لیکن مملکت میں شاہی حکومت کے خلاف کہنے کی جرأت کرنے والوں کا حشر بھی عوام نے دیکھ ر ہے ہیں ۔ شاہی خاندان کے افرادبھی شہزادہ محمد بن سلمان کے عتاب کا شکار ہوچکے ہیں اس کے بعد عام شہریوں کا شاہی فرمان کے خلاف آواز اٹھانا اپنی جان گنوانے سخت سزاؤں کو دعوت دینے کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف شاہ سلمان کی جانب سے اگر واقعی اختیارات میں کمی کی گئی ہے تو یہ اسلامی تشخص کی ایک جیتی جاگتی مثال تصور کی جائے گی ۔ گارجین اخبار نے شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف کی گئی کارروئی کی تصدیق کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسے اس میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس لئے گارجین کی اس خبر کو مصدقہ بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ گارجین کے مطابق شہزادہ محمد نے پندرہ دن کے اندر دو ہفتہ واری کابینی وزراء کے اجلاسوں میں شرکت بھی نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے بادشاہ اور گرانڈ مفتی ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ کے ساتھ ملاقات اور لبنان کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے علاوہ انڈیا و چین کے سفراء کے ساتھ بھی ملاقات نہیں کی۔شہزادہ محمد نے اسی طرح روس کے وزیر خارجہ سرجیولاوروف سے بھی ملاقات نہیں کی۔ان تمام لوگوں سے ملاقات نہ کرنا بھی شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے محمد بن سلمان جو ولیعہد کے علاوہ وزیر دفاع بھی ہیں اور انہوں نے جس طرح سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں شامل کیا ہے اس سے بھی سعودی عرب کی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور سعودی عرب کو عالمی سطح پر خصوصاً اقوام متحدہ کی جانب سے بھی ندامت کا شکار ہونا پڑا۔سب سے اہم مسئلہ جمال خاشقجی کی ہلاکت کاہے جس کے خلاف سی آئی اے امریکہ نے بھی ولیعہد کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور امریکی سینیٹرس نے بھی انکے خلاف کہا ہے۔ حالات کب کیا ہوسکتے ہیں اس سلسلہ میں کچھ کہانہیں جاسکتا، سمجھا یہ جارہا تھا کہ سعودی عرب میں شاہ سلمان تمام تر اختیارات اپنے ہونہار لختِ جگر کو دے چکے ہیں لیکن گارجین کی رپورٹس کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہیکہ شاہ سلمان اپنے شاہی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ولیعہد کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرسکتے ہیں یا بعد گوشوں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شاہ سلمان کی یہ کارروائی جسے گارجین نے شائع کی ہے یہ بھی دنیا کو بتانے کے لئے ہوسکتی ہے کیونکہ جس طرح سعودی عرب کو عالمی سطح پر جمال خاشقجی اور یمن کی جنگ کی وجہ سے بدنامی کا لیبل لگا ہے اسے ہٹایا جائے اور اسی سلسلہ کی ایک کڑی ولیعہد کی بعض کوتاہیوں کے خلاف ایکشن لینا شامل دکھائی دیتا لیکن سچ کیا ہے اس سلسلہ میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔

سعودی عرب میں ثقافتی کلچر اور آرٹس کے فروغ کیلئے دنیا کے منفرد پارک کی تعمیر
سعودی عرب میں تیل پر انحصار کرنے کے بجائے معاشی استحکام کیلئے مختلف ذرائع آمدنی کی تراکیب اختیار کی جارہی ہیں۔اسی سلسلہ میں ویژن 2030کے تحت ملک بھر میں یورو پی و مغربی تہذیب کو فروغ دیا جارہا ہے ۔شاہی حکومت کی جانب سے ملک میں ثقافت، کلچر اور آرٹس کے فروغ کیلئے شاہی آڈیٹوریم قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 13 اعشاریہ 4 مربع کلومیٹر کے علاقے پر محیط شاہ سلمان پارک پروجیکٹ کی منظوری دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پارک پرانے الریاض ہوائی اڈے کی اراضی پر تعمیر کیا جائے گا جو اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا پا ک ہوگا۔یہ پروجیکٹ الریاض شہر میں چار بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے جس کی تعمیر پر 86 ارب ریال کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔شاہ سلمان پارک پروجیکٹ میں شاہی آرٹ آڈیٹوریم کیلئے 4 مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی ہے۔ اس پارک میں نیشنل اور ڈرامہ تھیٹر کے لیے 2500 نشستوں پرمشتمل ایک بڑا آڈیٹوریم ہوگا۔ اس کے علاوہ پانچ مختلف سائز کے دیگر تھیٹرس بھی قائم کیے جائیں گے۔ ایک اوپن ایئر تھیٹر ہوگا جس میں 8 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش بتائی گئی ہے۔ ایک بڑا سینما جس میں تین کھلے ہال تعمیرکیے جائیں گے۔ موسیقی اکیڈمیاں، آرٹس کے ادارے جن میں بصری آرٹ اکیڈمی، آرٹس انسٹیٹیوٹ، موسیقی انسٹیٹیوٹ، تعلیمی مراکز اور دیگر منصوبے شامل ہونگے۔شاہ سلمان پارک کے لیے 9 اعشاریہ تین ملین میٹر جگہ پر سبزہ لگایا جائے گا جسے اسلامی طرز تعمیر پر بنایا جائے گا۔ اس میں عمودی شکل کے چھوٹے چھوٹے پارک ہیں۔ سات کلو میٹر پر محیط پیدل ٹریک، پارک کے درمیان 8 لاکھ مربع میٹر پر مشتل وادی اور آرٹس اور فنون کے دیگر معالم و آثار بھی قائم کیے جائیں گے۔اس طرح سعودی عرب سیاحت کے فروغ کیلئے اہم اقدامات کررہا ہے ۔

قازقستان کے صدر نورسلطان نذر باؤف مستعفی
قازقستان کے 78سالہ صدر نور سلطان نذر بایوف نے اپنے تین دہائیوں پر مشتمل حکمرانی سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ وہ یکم؍ ڈسمبر 1991ء سے سویت یونین سے قازقستان کی آزادی کے بعد سے صدارت پر فائز تھے۔ صدر نذر بایوف کا کہنا ہے کہ وہ نئی نسل کو قیادت حوالے کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ ایک ایسے وقت صدر بنے تھے جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوچکا تھا ، انہوں نے ملک کی رہنمائی کے فیصلے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک چیالنج کا دور تھا جہاں معیشت کے استحکام اور اداروں کو جدید بنانے کیلئے تھا۔صدر قازقستان نے اپنی ترقی کا راستہ بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایک زرعی معیشت سے صنعتی خدمت کی معیشت میں منتقل کرنا تھا ، تیل اور گیس کے شعبے میں سب سے زیادہ بیچیدہ منصوبوں کو لاگو کرنے کے لئے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ لوگوں نے ہر انتخاب میں میری مدد کی ہے اور مجھے اپنے عظیم ملک کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل تھا‘‘ ۔سلطان نذرنے اس خیال کابھی اظہار کیا کہ قازقستان کو دنیا کے ساتھ تبدیل کرنا چاہیے اور یونیورسل لیبر سوسائٹی بننا چاہیے، جہاں ہر قوم کے شہریوں کے لئے سب کچھ کیا جاتا ہے، انہوں نے کہاکہ قازقستان کا مستقبل مضبوط معیشت، بہترین تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال ہے۔ جہاں شہری آزاد اور برابر کے شریک ہیں اور اقتدار پر صرف قانون کی حکمرانی ہے۔ 2010میں آئینی قانون نے ملک کے اتحاد کو یقینی بنانے کے لئے قازقستان جمہوریہ کے طور پر انہیں پہلے صدر کی حیثیت سے متعارف کروایا وہ اپنے خطاب میں کہا کہ انکی ذمہ داری تھی کہ وہ آئین کی حفاظت کریں اور شہریوں کے حقوق اور آزادی کا خیال رکھیں۔ نور سلطان نذر کی جگہ انکے جانشین فی الحال سینیٹ چیرمین قاسم جومرت توکاوف ہیں ان کے تعلق سے سلطان نذر باوف نے کہا کہ وہ ایک ایماندار ، فرض شناس اور قابل شخص ہیں۔ یہ ایک قابلِ تقلید بات ہیکہ 78 سالہ قازقستان کے صدر نے اپنی تین دہائیوں پر مشتمل حکمرانی کو بغیر کسی دباؤ کے خیر باد کہہ دیا اور ملک میں نئی نسل کو قیادت سنبھالنے کی بات کہی ہے ۔

اقوام متحدہ اورقطر کے تعاون سے غزہ کی پٹی میں روزگار کے مواقع
قطر جس کے خلاف سعودی عرب ، عرب امارات، بحرین ، مصر کی جانب سے معاشی و سفارتی بائیکارٹ جاری ہے ایسے میں قطر فلسطینی علاقہ غزہ کی پٹی کے بے روزگار عوام کے لئے روزگار کے منصوبے کو عملی جامہ پہنارہا ہے۔ اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی میں قطر کے تعاون سے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے غزہ کے عوام میں3ہزار ملازمتوں کا اعلان کیا ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے اور قطر نے ایک مشترکہ معاہدے کی منظوری دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت قطر غزہ میں 7ملین ڈالر کے ترقیاتی پروگرام شروع کرے گا۔اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، بحری تحفظ اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ان منصوں کی مدت 6 سے 9 ماہ تک ہوگی اور ان سے غزہ کے عوام کو 3ہزار ملازمتیں ملیں گی۔غزہ میں اقوام متحدہ کے پروگرام منیجر کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے غزہ میں نوجوانوں بالخصوص جامعات کے نئے فارغ طلبہ کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں مہیا کی جائیں گی۔اسطرح قطر کی جانب سے غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں کیلئے روزگار سے مربوط کرنے کا یہ اقدام دیگر ممالک کیلئے قابلِ تقلید ہے ۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جمعے کو ریڈیو، ٹیلی ویژن پر اذان
نیوزی لینڈ میں مسلم کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں میں شہید ہونے والوں اور مسلم کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کیلئے جمعہ کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اذان نشر کیگئی۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے خود حجاب کا استعمال کیااور انہوں نے جمعہ کو نیوزی لینڈ کے تمام شہید مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے عوام سے کہا تھا، جمعہ کے روز ملک بھر میں دو منٹ کی خاموشی منائی گئی۔وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے کہا تھا کہ ہماری خواہش ہیکہ مسلم کمیونٹی کو سپورٹ کریں تاکہ وہ مسجدوں میں واپس آئیں خاص طور پر جمعہ کو۔علاوہ ازیں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے حملے کے بعد سب سے پہلے جائے وقوع پہنچنے والے اہل کاروں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ایسی فضا بنانا ہوگی جہاں تشدد پروان نہ چڑھ سکے۔جسینڈا آرڈرن نے اس حملے کے بعد پارلیمنٹ میں خطاب سے قبل السلام علیکم سے آغاز کیا ۔ یہ سچ ہے کہ نیوزی لینڈ میں ایک دہشت گرد نے مصلیوں پر فائرنگ کرکے 50افراد کو شہید کیا اور کئی زخمی ہوئے لیکن اس کے بعد مذہب اسلام سے متعلق کفار و مشرکین کو سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ یہ کیسا مذہب ہے جہاں اتنا بڑا واقعہ ہونے کے بعد بھی شہداء کے لواحقین صبرو تحمل کا اظہار کرتے ہوئے امن وآمان کی فضاء بنائے رکھنے کی بات کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ملک کی وزیراعظم بھی اس امن و سلامتی کے مذہب کو سمجھتے ہوئے ملک بھر میں شہدا کوخراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی جو قابل ستائش ہے۔
***

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 135 Print Article Print
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 194 Articles with 60067 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: