کیا سندھ کی ہندوں لڑکیاں واقعی اسلام سے متاثر ہوئی یا پھر ان کا زبردستی مذہب تبدیل کروایا گيا؟

(Saif ur Rehman, Mirpur Mathelo, Sindh)

حقیقت کیا ہے
کیا سندھ میں آج کل جو ہندوں لڑکیاں مسلمان ہورہی ہیں وہ واقع اسلام سے متاثر ہوئی ہیں یا پھر ان کا زبردستی مذہب تبدیل کروایا گيا ؟

میں ان سب لوگوں سے متفق ہوں جو زبردستی مذہب تبدیل کے خلاف ہیں -

لیکن آج کل جو کیسز سامنے آرہے یا پھر جو ماضی میں ہوئے ان کیسز میں وہ سب لڑکیاں اسلام سے متاثر ہوئی یے کہنا بلکل غلط ہوگا دراصل ان کیسز میں سے کجھ ایسے کیسز تھے جو پیار حاصل کرنے کی وجہ بنے وہ لڑکیاں اسلام سے متاثر نہیں ہوئی بلکے اپنا پیار حاصل کرنے کے لیے مذہب تبدیل کیا جو ان کی مجبوری تھی لیکن صرف لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں لڑکے کیوں نہیں اس کی ایک خاص وجہ ہے ہمارے معاشرے میں خاص کر کہ سندہ کے دیہی علائقوں میں جتنی آزادی ہندو ماں باپ اپنی بیٹی کو دیتے ہیں اتنی ایک مسلم نہیں دے سکتا سواۓ چند ایسے خاندان ہوں اگر ایک مسلم لڑکی کسی مسلم کو آنکھ اٹھا کر دیکھے تو اسے برا بھلا کہ کر اس پر تشدد کیا جاتا ہے یا پھر کاری کر کے مارا جاتا ہے اس معاشرے کی مسلم لڑکیاں کسی ہندو سے پیار کرنا دور کی بات ہے وہ کسی مسلم سے بھی اپنے پسند کی شادی نہیں کر سکتی ہاں یے بات الگ ہے کہ آجکل کجھ نہ کجھ شعور آگيا ہے لیکن اس حد تک نہیں بس یہی خاص وجہ ہے جو ہم کہہ سکتے ہیں اس کی وجہ سے کوئی مسلم لڑکی کسی ہندو سے تعلق نہیں رکھ سکتی -

یہ بات سچ ہے جو پیار کرتے ہیں ان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن ہاں اس معاشرے میں اگر ان کو ساتھ رہنا تو ظاہر سی بات ہے لڑکی کو ہی قربانی دینی ہوگی کیوں کہ اگر لڑکا مسلم سے ہندو ہوا تو اس انجام کیا ہوگا وہ ہم سب جانتےہیں اس خراب معاشرے اور ایسے نظام کی وجہ سے ایسے واقعات ہوتے ہیں اور اک اہم بات ہم میں سے کجھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ان باتوں کو بڑہا چڑہا کر پیش کرتے ہیں جس وجہ سے اکلیتیں یے محصوص کرنے لگتی ہیں کہ ان کو حقوق نہیں دیے جاتے وہ الگ بات ہے ہمارے ہاں اکثریت کا بھی یہی حال ہے -

ہم سب جانتے ہیں ہمارے سندہ میں ہم ہندو بھائیوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں سندہ شروع سے لیکر ابھی تک صوفیئزم کی دھرتی رہی ہے ہم انسانیت کے پہلوکار ہیں لیکن کجھ لوگ باتوں کو بڑہا چڑہا کر پیش کر کے ہم سب ميں نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں -

سندھی ہندوں کو یے بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یے سندہ انکی دھرتی ہے لیکن جو لوگ ان کے ہمدرد بننے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہی اکلیت اور اکثریت میں فساد کی جڑ ہیں حیرانی کی بات یے ہے کہ ایسے لوگ خود کو انسانیت کا ہمدرد سمجھ کر بس ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں-

ہر معاشرے میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اسکو ہر پہلو کے ساتھ دیکھنا چاہییے نہ کی کوئی خبر سوشل میڈیا پر دیکھ کر واویلا کرنا چاہیےاگر کسی ہندو کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اسکا زبردستی مذہب تبدیل کیا جاتا ہے تو اسلام ایسے کام کی اجازت بلکل نہیں دیتا اور ایسا کام کرنے والوں کے خلاف سخت کاوائی کی جائے جو تحقیقی ہو جیسے کسی کہ ساتھ ناانصافی نہ ہو سکے-
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 500 Print Article Print
About the Author: Saif ur Rehman

Read More Articles by Saif ur Rehman: 3 Articles with 792 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ