غلامی کو دے دیا ہے حسن اخلاق کا نام

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

کسی بھی بد صورت لڑکی کی شادی ہونا آسان نہیں ہوتا ۔ ہر ماں کو اپنے ہیرے لعل کے لئے کسی خوشحال گھر سے چاند سی دلہن درکار ہوتی ہے ۔ ایسے میں اگر کوئی اس لڑکی کو قبول کرتا ہے تو ضرور خود اس میں بھی کوئی عیب ہوتا ہے کوئی مجبوری کمزوری یا پھر کوئی مطلب مفاد وابستہ ہوتا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی لڑکی بد صورت ہونے کے ساتھ ساتھ بد اخلاق اور گھر کے کام کاج میں بھی کوری ہو تو اس کا گھر بسا نہیں رہ سکتا ۔

لڑکی کتنی بھی با اخلاق ہو اور ساتھ ہی بہت خوبصورت بھی ہو مگر کام چور ہو صرف زبانی جمع خرچ ہی جانتی ہو تو کچھ ہی دنوں میں سسرال والوں کو زہر لگنے لگتی ہے ۔ ابتداء میں مخمل میں لپیٹ لپیٹ کے رسید کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد کھل کر گولہ باری ہونے لگتی ہے ۔ بہو کا بیک گراؤنڈ اگر بہت مضبوط ہے تو خون کے گھونٹ بھی پینے پڑ جاتے ہیں اور ایک ماں کو اپنا بیٹا چھن جانے کا خدشہ بھی حقیقت میں ڈھلتا نظر آنے لگتا ہے ۔ خوبرو مگر نکمی بہو کانٹے کی طرح کلیجے میں چبھنے لگتی ہے ۔

تو سوچنے والی بات ہے کہ کوئی بد صورت لڑکی صرف اپنے حسن اخلاق کی بدولت اپنے سسرال والوں کے دل کیسے جیت سکتی ہے؟ اگر وہ اس مہم نا ممکن کو سر کرنے میں کامیاب ہوئی ہے تو اس میں اخلاق سے کہیں زیادہ دخل خدمت کا ہے ۔ اور اگر وہ اپنی کم رُوئی کے باعث اپنے مجازی خدا کی توجہ و عنایت سے بھی محروم رہی ہو تو اس بیچاری کو تو وہ قرض بھی اتارنے پڑتے ہیں جو اس پر واجب ہی نہیں ہوتے ۔ اور پھر اسے خدمت نہیں کہتے یہ غلامی ہی کی ایک شکل ہے ۔ اپنے بہت معقول اور ہر لحاظ سے بہتر بیٹے کے لئے اس کے جوڑ کی بجائے کسی کم حیثیت گھرانے کی یا پھر کسی بد صورت لڑکی کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ بیٹے کے لئے بیوی نہیں خود اپنے لئے ایک ملازمہ درکار ہے وہ بھی بغیر تنخواہ کے اور بیٹا بھی اپنے قابو میں ۔ پھر اس کاٹھ کے اُلو کی منکوحہ اسے اور اس کے پورے خاندان کو اپنی کھال کی جوتیاں بنا کر پہناتی ہے تب جا کے یہ اس کے قابو میں آتا ہے اور اس کے پیر دھو دھو کر پیتا ہے ۔

صرف حسن اخلاق کے بل پر تو کسی خوبصورت لڑکی کا گزارا نہیں ہے تو پھر بیچاری بد صورت لڑکی کی تو بساط ہی کیا (رعنا تبسم پاشا)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2731 Print Article Print
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 108 Articles with 733122 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: