کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے؟

(Syed Haseen Abbas Madani, Karachi)
ساس بہو کلچر میں مہبئل کا دخل

ساس بہو کے جھگڑوں کی کیا کہانیاں زبان زد عام ہیں ۔ باوجود ان اطلاعات کے ہم بھی بہو لانے پر مجبور تھے، کیوں کہ اس گلوبل ولیج کے دور میں بھی ہمارے صاحبزادے اس صلاحیت سے محروم تھے کہ خود ہی ہمارے لئے بہو کا انتظام کر سکتے، اگرچہ کہ پاس پڑوس میں فیس بک اور ٹویٹر پر جیون ساتھی کی تلاش عام ہوتی جا رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سوشل میڈیا والے اپنے گھر اور خاندان سے بیزار سوشل میڈیا پر پینگیں بڑھاتے ہیں۔ شوہر ہوں یا بیوی،شادی ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر ہی اپنی تنہائی کو شیئر کرنے میں مگن رہتے ہیں۔تو اس ہنگامئہ خاموش(خاموش اسلئے کہ ہینڈ فری کی سہولت کان ہی میں شور بپا کرتی ہے،دوسروں کی شراکت اسمیں بھی گوارہ نہیں ہے۔)میں ساس یا سسر کا کیا دخل ہے۔ بہر حال متذکرہ بالا حقائق سے نا آشنا ہم بھی بڑے مراحل کے بعد بہو کو رخصت کراکراپنے گھر لےآئے۔جلد ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ بہو موبائل میں اپنا میکہ ساتھ لائی ہے۔ ہمہ وقت ، امیّ، باجی، دولہابھائی، سب ہی سے رابط ہے شیئر اور لائک چل رہا ہے۔

اگر کوئی اَن فرینڈ ہے تو وہ ساس،سسر ہیں۔مگر واقعئ ماحول اس قدر پر سکون ہےکہ میاں اور بیوی بھی آپس میں ایس ۔ایم۔ایس کرتے ہیں(کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے بھی ٹویٹر کا نیا اور انوکھا رجحان متعارف کرایا۔اگرچہ یہ بھی امریکہ سے شروع ہوا تھا غصّہ بھی آئے تو وہ بھی موبائل پر۔ چونکہ ہم لوگ مفتہ کے بہت عادی ہیں،لہٰذ فون کا کوئی خرچ بھی نہیں ہے۔ واٹس ایپ ہے نا! اور آئی ایم او بھی ہے۔دنیا کے گلوبل ولیج ہونے کا فائد اٹھانا بھی تو ہمارا حق ہے۔ اسمیں یہ تخصیص نہیں ہے کہ امریکہ یا کنیڈا میں کیا ٹائم ہوا ہے۔بس آپا کو کھڑکا دیا، اب وہاں سے جان چھوٹے گی تو کسی اور کی باری آئے گی۔

اللہ جنّت نصیب کرے ہماری( اہلیہ مرحومہ)ایک بہو اسی گلوبل ولیج سے لائی تھیں اور اپنے نا کردہ گناہوں کیلئے ہمیشہ معافی کی طلبگار تھیں۔کیونکہ بہوں سے انکا کوئی رابطہ اس لئےنہیں ہو سکتاتھا۔ کہ انکو موبائل چلانا نہیں آتا تھا، تین سال کے نو سگنل نے انکو بے حد مایوس کیاتھا۔ اسکے باوجود انہوں نے دوبارہ ہمّت پکڑی اور ایک اور بہو کی تلاش میں سرگرداں ہو گئیں،خیال یہ تھا کہ اس مرتبہ، بہو بہت کم عمر بہو لائیں گی ،تاکہ انکی آنکھ کا تارہ بنی رہے گی۔حالات کا کرنا ایسا ہوا کہ جیسے ہی ایک بچی اٹھارہ سال کی ہوئی، انہوں نےرشتہ دے ڈالا، اور کامیابی بھی ہوئی۔ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ بھی موبائل سمیت وارد ہوئی اور نئی رشتہ داری سے لا تعلق اپنے موبائل میں مگن۔مرحومہ بڑی تمنّا کرتی رہیں،مگر بہو تک یہ بات کیسے پہنچائی جائے کہ بیٹا میرے پاس بیٹھو۔مگر دوسری بہو نےبھی موبائل گروپ کو ووٹ دیا۔دو ڈہائی ہفتے گذرے کہ اہلیہ اس صدمہ کوبرداشت نہ کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو گئیں پچاس سال کا ساتھ تھا صدمہ تو مجھے بھی ہوا،مگر کیا کرتا۔دل کو دلاسہ دیا کہ مرحومہ جنریشن گیپ کو بھلا کیسے پر کرتیں۔اچھا ہی ہوا کہ یہ دفتر بند ہوا اور اب اللہ کے ہاں انشا اللہ آرام سے ہوں گی۔

مرحومہ کو اللہ اور آخرت پر غیر متزلزل یقین تھا۔ترکی کے ڈرامہ ، چھوٹی سی قیامت، نے اس یقین کو دگنا کر دیا تھا۔ اٹھتے بٹھتے بغیر موبائل کے اللہ سے رابطے میں تھیں اور اسی کی ہو گئیں۔

دوسرے اپیسوڈکیلئے ہم ہیں نا! اب ہم اکبراللہ آبادی کو اسطرح پڑھتے ہیں کہ بہو نے فقط موبائل ہی پے بات کی۔۔۔۔۔


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 326 Print Article Print
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 79 Articles with 50304 views »
Since 1964 in the Electronics communication Engineering, all bands including Satellite.
Writing since school completed my Masters in 2005 from Karach
.. View More

Reviews & Comments

Language: