الله کا نور

"مت دیکھ۔۔کچھ بھی نہی دیکھ سکتی" دل کی آواز بھی نہ کہیں بھی چونکا دیتی ہے۔
"میں دیکھ سکتی ہوں" وہ ضد میں بولی تھی
"تو نہی دیکھ سکتی۔۔۔اس دُھند کے آرپار کچھ بھی نہی" دل بھی جیسے ضد پر ہی اڑا تھا
"میں دیکھ سکتی ہوں" اسنے مسکراتے ہوۓ کہا
اور سامنے آسمان کی طرف کی دیکھا جہاں دُھند کا پردہ قائم و دائم تھا۔
"میں اپنے اللهﷻ کو تو دیکھ سکتی ہوں" اب کی بار اسکا لہجہ نرم تھا۔۔
" ہاں تم دیکھ سکتی ہو۔۔۔
بلکل دیکھ سکتی ہو۔۔" اب کی بار دل بے ساختہ مسکرایا تھا جیسے اس کو بھانپ گیا ہو
"نور۔۔۔۔۔۔۔۔نور ہی نور" اس کے لبوں نے جنبش کی تھی۔
اسے ہمیشہ سے دھند بہت پسند تھی، بہت ہی زیادہ پسند وہ کہتی تھی کہ اسے دھند الله کے نور جیسی لگتی ہے
صاف شفاف پُر نور
اسے ہمیشہ دھند کی خوشبو سے الفت تھی
وہ دھند میں بڑا سا سانس لیتی اور کہتی کہ یہ نور میری اندر کی میل کو دھو دے گا اور کہتی کہ اس دھند میں خاص ذائقہ ہے
جب وہ سانس کو اپنے اندر سے نکال باہر کرتی تو کہتی کہ اب ذائقہ بدل گیا ہے۔
جب نور اندر داخل ہوتا ہے تو باذائقہ ہوتا ہے یہ اندر کی میل کو لے کر بےذائقہ ہو جاتا ہے
وہ پھر بڑا سانس لیتی اور نور کو قید کرتی اور پھر سانس کو آزاد کر دیتی تھی
"فی اسمٰوات ومافی الارض"
"آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے"
اسے لگتا تھا کی یہ ہی وہ نور ہے جو آسمان پر بھی ہے اور زمین پر بھی۔
"و ھو علٰی کل شیٍؑ قدیر"
"اور وہ ہر چیز پر قادر ہے"
وہ رحمٰن ہے
واحد ہے
یکتا ہے
اس کا دل گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔۔
کہیں دور کچھ منظر دھندلا گیا تھا بلکل دھند کی طرح اس کی آنکھوں میں اتری نمی کی وجہ سے۔۔
وہ دعا کیا کرتی تھی کہ آۓ دن دھند ہو اور وہ دھند کے عالم میں خوش رہا کرتی تھی
وہ کہتی تھی دھند میں آسمان پر اللہ کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے
اسے لگتا تھا اللہ بہت قریب ہے اس کے۔۔۔۔
ایک رات اس نے "رات کا نور" دیکھا تھا
بلب کی روشنی میں نور کا بادل جو بلب کو گھیرے ہوۓ تھا ایک درخت کی اوٹ میں۔۔
جبکہ درخت پر اندھیرے کا پہرہ تھا جیسے دور کہیں کسی کوٹھڑی میں چراغ روشن ہو
اُس کا دل اللہ کے رعب سے خوف کھا گیا تھا
وہ نور ہے
بے تحاشہ نور
دیکھ لو یہ نور کی پربت
محبت مجھے جس سے ہے
وہ نور کی منزل ہے
وہ نور ہے
اس کا دل گواہی دے رہا تھا جب کہ اس کی آنکھوں میں اللہ کی موجودگی کا خوف تھا

 

Aneeqa Ashfaq
About the Author: Aneeqa Ashfaq Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.