مخدوم شاہ محمود قریشی امید کی نئی کرن

عرب ممالک میں چلنے والی انقلابی تحریک نے آگ پکڑ لی ہے اور پٹرول کی آگ کی طرح اس کے شعلے ملکی سرحدوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں،اب یہ سوال نہیں کہ اگلا ہدف کون ہوگا بلکہ اب سوال یہ ہے کہ یہ آگ کہاں جاکر رکے گی۔امریکہ کے اعلیٰ عہدے دار جو بائیڈن کا کہنا تو یہ ہے کہ یہ آگ وسط ایشیا اور پاکستان تک کو متاثر کرسکتی ہے۔مگر پاکستان اور عالم عرب کی رائے عامہ کے سیاسی مزاج اور سماجی حالات میں بعد المشرقین ہے۔دونوں میں سوائے مذہب کے کیا قدر مشترک ہے؟پاکستان حساس اور جذباتی لوگوں کا ملک ہے جو عالم عرب میں کسی مکھی کے مارے جانے پر بھی احتجاجاً سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور پاکستانی عوام کے سروں سے موج خوں کیوں نہ گزر جائے عالم عرب کے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔تاریخ بتاتی ہے کہ جب عالم عرب کے فوجی حکمرانوں نے انقلاب برپا کیے تو پاکستان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا،حالانکہ اس وقت نہ دنیا گلوبل ویلج بنی تھی اور نہ میڈیا اتنا طاقتور اور متحرک تھا،ملکوں کی خبریں ریڈیو سے حاصل ہوتی تھیں اور ریڈیو سننے والے بھی کہیں کہیں ملتے تھے۔کرنل قذافی ،یاسرعرفات،کرنل ناصر،حافظ الاسد اور صدام حسین جب عرب ممالک میں ابھرے یا انکے ابھرنے کا عمل جاری تھا تو پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ابھر رہے تھے۔وہ پاکستان کی روایتی سیاست کو اتھل پتھل کا شکار کر کے مقبولیت کی لہر پر سوار ہوگئے۔برسراقتدار آنے کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی تعلقات عالم عرب کے انہی حکمرانوں کے ساتھ رہے۔انکی پھانسی پر جن عرب حکمرانوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا وہ یہی عرب حکمران تھے۔عین ممکن ہے جو بائیڈن نے جس خطرے کا اظہار کیا،اسکی وجہ یہی تاریخ ہو۔حسنی مبارک کی رخصتی نے بہت سی جگہ پر لوگوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے،حسنی مبارک جس سٹائل سے رخصت ہوئے ،اس طرح کی تحریک چند ماہ قبل پاکستان میں عدلیہ کی کامیاب تحریک کی صورت میں چل چکی ہے۔قاہرہ کے تحریر چوک پر ہونے والے دھرنوں میں کوئی بات بھی اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ہونے وکلاء کے دھرنوں سے مختلف نہیں تھی۔ عالم عرب میں آنے والا انقلاب آزادیوں کا انقلاب ہے اور یہ یو ٹیوب،فیس بک،ٹوئٹر ،وکی لیکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ برپا ہورہا ہے۔پاکستان میں جدید ٹیکنا لوجی کا انقلاب تو پہلے برپا ہوا،اور ان سب ذرائع کو استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بھی عالم عرب سے کہیں زیادہ ہے،مگر یہ ٹیکنالوجی ابھی تک کسی تحریک میں کوئی خاص رول نہیں ادا کرسکی اور اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان کے جذبات دور جدید کی ان سہولتوں کے ساتھ جڑے نہیں مگر کسی لمحے پر انکے جڑنے میں دیر بھی نہیں لگے گی۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ پاکستان کا جو بے نام اور بے ڈھنگا رشتہ موجود ہے اس میں ایک ایسا مقام آنا ہی تھا جو ریمنڈ ڈیوس کیس کے بعد آیا ہے۔ان تعلقات میں ایک طرف اقتدار کی اعلیٰ چنگاری موجود تھی تو دوسری طرف نو آبادیاتی رویہ۔تضادات کا یہ لاوہ ریمنڈ ڈیوس کیس میں پھٹ پڑا۔اس کیس میں خلاف توقع جو نام معتوب ہونے بعد کے ابھر کر سامنے آیا ہے وہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا نام ہے۔شاہ محمود قریشی میدان سیاست کے پرانے شہسوار ہیں مگر ریمنڈ ڈیوس کیس کے بعد قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے وہ جس طرح وزارت اور اقتدار کو چھوڑ کر پلٹے ہیں اس سے ماضی کے دریچوں سے جھانکتی انکی بصیرت و دانشمندی کی یادیں بھی ایک بار پھر تازہ ہوگئی ہیں۔2007کے آخر میں جب مخدوم شاہ محمود قریشی جہانیاں سے پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے تو ایک مرتبہ الیکشن مہم کے سلسلہ میں جہانیاں کی معروف مذہبی وسماجی شخصیت ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کے گھر پر آئے ،اسی موقع پر جہانیاں میں ان کے ساتھ کچھ دیر رہنے اور اکٹھے سفر کرنے کا اور انکی ایک تقریر سننے کا موقع ملا۔میں نے اس مخدوم سے ضلع ناظم ملتان کی حیثیت سے سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ گزرے وقت کے متعلق پوچھا تھا اور اس پر مخدوم نے مجھے پوری کہانی سنائی ۔کوئی 9برس قبل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج پورے جوبن پر تھا اور استقامت کے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے دکھائی دے رہے تھے،ایسے میں شاہ محمود قریشی ہی تھے جنہوں نے علم بغاوت بلند کیا اور ملتان کے ناظم کی حیثیت سے ریفرنڈم نامی ڈرامے کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔پرویز مشرف نے ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرنے آنا تھا تو انتظام وانصرام کیلئے سرکاری وسائل دستیاب نہ ہوسکے اور ستم بالائے ستم یہ کہ ضلع ناظم مخدوم شاہ محمود قریشی نے ائر پورٹ پر جاکر پرویز مشرف کا استقبال کرنے سے انکار کردیا۔اس گستاخی کے بعد نیب کے جلادوں نے سزا کا جواز ڈھونڈنے کی بڑی کوشش کی مگر شاہ محمود کے دامن پر بدعنوانی و بد انتظامی کا داغ نہ ڈھونڈ سکے۔ پھر مخدوم نے نظامت کو خیر باد کہہ کر بہت سوں کو اپنا مرید کرلیا،جب 18فروری کے عام انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کا تاج ملتان کے ہی ایک مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے سرپر سجانے کا فیصلہ ہوا تو ملتان کے اس دوسرے مخدوم کے حصے میں وزارت خارجہ آئی ۔ بہت سے تجزیہ نگاروں نے اسے سید گیلانی کی خوش بختی قرار دیا مگر میری دانست میں اس موقع پر شاہ محمود کی نئی اڑان کا آغاز ہورہا تھا۔ شاہ محمود کو یہ بات معلوم تھی کہ مرحوم بھٹو نے بھی عرب حکمرانوں کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنا گرویدہ بنایا تھا اور عالمی قیادت سے تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھے تھے۔بھٹو صاحب نے جس طرح وزارت خارجہ کو چھوڑا تھا اور انہیں عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی تھی ،شاہ محمود قریشی نے بھی ریمنڈ ڈیوس کیس کے بعد وزارت خارجہ کو خیر باد کہہ دیا ہے اور بقول انہی کے کہ ان دنوں میں انہیں جتنی پذیرائی ملی وہ وزارت خارجہ کے تین سالوں میں نہیں ملی تھی۔ اب شاہ محمود قریشی عوام کی عدالت میں ہیں اور عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے وہ ملکی سیاست کو ایک نیا رخ دے رہے ہیں۔امریکی سنیٹر جان کیری کے ساتھ ملا قات کے بعد انہوں نے اپنا مقدمہ عوام کے سامنے پیش کیا،شاہ محمود قریشی کی جماعت انہیں اپنے ایک وزیر کے ذریعے ایک” نیا فاروق لغاری“ قرار دے چکی ہے،مگر یہ حقیقت ہے کہ شاہ محمود بھٹو کی طرح تعلیم یافتہ ہیں ،بھٹو کی طرح انکی دوستیا ں بھی مغرب میں ہیں،بھٹو کی طرح جاگیردار بھی ہیں،بھٹو کے پاس تاشقند کے راز تھے جنہیں وہ ایک کاغذ کی صورت میں لہرایا کرتے تھے ،شاہ محمود کے پاس بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے کئی راز ہیں جنہیں وہ وقت آنے پر افشاں کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں،شاہ محمود ،بھٹو کی طرح تعلم وتہذیب اور زبردست قوت مذاکرہ کی دولت سے مالا مال ہیں اور سیاسی داؤ پیچ سے بھی خوب واقف ہیں۔ شاہ محمود میں اگر کوئی کمی نظر آرہی ہے تو وہ بھٹو کی طرح عوام میں رچ بس جانے کی ہے ۔ آج کچھ لوگ انہیں اقتدار سے رخصت ہوتا دیکھ کر طنز وتشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان میں شیشے کا لبادہ اوڑھے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کل تک پرویز مشرف کے ساتھ مل کر آمریت کو پروان چڑھا رہے تھے۔شاہ محمود قریشی بھٹو کے نقش قدم پر چل کر ان جیسا کردار ادا کرتے ہیں یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں بھٹو جیسے لیڈر کی جگہ موجود ہے۔خدا جانے اس پر کوئی سوچ وبچار کر رہا ہے کہ عالم عرب میں شروع آگ نے اگر پاکستان کا رخ کیا تو اس لہر کو کون اور کیسے سنبھالے گا؟عمران خان ؟ شاید نہیں کیونکہ انکے پاس تنظیمی طاقت نہیں حد تو یہ ہے کہ وہ عوامی ہجوم سے بھی محروم ہیں۔نواز شریف تو یقیناً نہیں کیونکہ وہ انقلاب کے معانی ومطالب تک سے بھی ناواقف ہیں،مولانا فضل الرحمن کے بہت بڑا سیاست دان قد آور اور قابل قدر لیڈر ہونے میں کوئی شک نہیں مگر انکی سمجھ نہ آنے والی پالیسیوں کی بنا پر لوگ اعتبار نہیں کرتے اور رہی ہماری فوج تو وہ پرویز مشرف کی حکمرانی کے چکروں سے ہی ابھی تک باہر نہیں نکل سکی،البتہ فوج کسی ایسی لہر کو کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش ضرور کرے گی ۔اب ایک نیا نام مخدوم شاہ محمود قریشی کا سامنے آرہا ہے۔ وہ آزمودہ بھی ہیں ،تعلیم یافتہ بھی ہیں اور اب عوام کے ترجمان بھی بن چکے ہیں۔شاہ محمود کو چاہیے کہ وہ ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے روحانی آباؤ اجداد کے دین حق اسلام کو پاکستان کا مقدر بناکر پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ،پرامن اور مستحکم بنائیں اور تاریخ میں اپنا کردار ثبت کرجائیں۔
Muhammad Younus Qasmi
About the Author: Muhammad Younus Qasmi Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.