پاکستان کا عظیم ترین سرمایہ تعلیمی اداروں سے محروم ہے

(Rabia Irshad, )

میں بھی دوسرے بچوں کی طرح پڑھنا چاہتا ہوں ۔ کیا میرا حق نہیں ؟ کہ میں بھی اچھی تعلیم حاصل کروں ، لیکن پھر سوچتا ہوں کہ اگر میں کماؤں گا نہیں تو گھر کو کیسے چلاؤں گا۔ پاکستان میں بھی مشاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی ، استحصال ، بے روزگاری، غربت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے بچے جو ایک ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ لیکن حالات سے مجبور ہو کر ہنسنے کھیلنے کی عمر میں کام پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اپنے بچپن کے ایک خوبصورت حصہ سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ اسکول جانے کی عمر میں دوکانوں ، ہوٹلوں ، بس اڈوں ، ورکشاپوں اور دیکر متعدد جگہوں پر ملازمت کرنے کے علاوہ مزدوری کرنے پر بھی مجبور ہیں ۔ بچوں کی مزدوری کے پیچھے ایک اہم وجہ غریبی ہے اور بہت سے والدین اگر پیسوں کے لئے نہیں تو صرف اپنے بچے کو اس لیے کام پر بھیجا شروع کردیتے ہیں کہ وہ ہنر تو سیکھے گا۔ پاکستان جیسے ملک میں ۱۳ ملین بچے مزدوری کرتے ہیں جن کی عمر ۱۰ سے ۱۴ سال کے درمیان ہوتی ہے پاکستان میں بچوں کی مزدوری کا قانون بنے چودہ سال ہوگئے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا مزدور بچوں پر آخری بار سروے ۱۹۹۶ میں ہوا تھا جس میں بتایا گیا کہ ملک میں بڑھتے تعلیم اور مہنگائی میں اضافہ کے پیش نظر خدشہ ہے کہ مملکت خداداد میں بجائے چائلڈ لیبر کم ہونے کے مذید بڑھے گی لہٰذا چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے صرف حکومت سطح پر ہی اقدامات کو کافی نہ سمجھا ئاے غربت کی وجہ سے مزدوری کرنے والے کو مفت تعلیم ، علاج معالجہ اور انہیں کفالت فراہم کرنے کے ذرائع مہیا کرنا ہوگے ۔ ہزاروں کے فنڈ خرچ کرنے والی این جی اوز کو بھی چائلڈ لیبر اور اس کے اسباب کے خاتمہ کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے۔
نام: راجیہ اراشاد
وفاقی اُردو یونیورسٹی
٭٭٭

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 398 Print Article Print
About the Author: Rabia Irshad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: