ابتداۓ اذان اور فضیلت

(Babar Alyas, Chichawatni)

اللہ پاک نے کائنات کو پیدا فرمایا تو میرا اللہ جانتا تھا کہ آدمی کی اولاد فانی دنیا کے عشق جنون کی حد تک جاۓ گی لہذا انکی واپسی میرے اللہ کو مقصود تھی تاکہ شیطان کی اتباع کو چھوڑ کر ایک اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور دوزخ سے بچ کر جنت میں جانے والے بن سکے
رات کی ختم ہوتی تاریکی , دن کی غروب ہوتی روشنی کی ابتدا ؤ انتہا اذان سے ہی ہوتی ہے
کائنات میں موجود تمام مذاہب عبادت کے وقت کا بلاوہ دینے کے لیے مختلف طریقے رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں کا طریقہ اذان منفرد, یکتا ؤ اعلی,پیغام فلاح ؤ نجات اور ذریعہ کامرانی ہے.
اذان مسلمانوں میں اللہ تعالی کی بزرگی کا یقین, سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کا اقرار ؤ شہادت کو پختہ کرتی ہے
اذان کے لفظی معانی ""اطلاع دینے, اعلان کرنے کے ہیں. دنیا کے تمام مسلمان جو الفاظ بلند آواز میں پکارتے ہیں وہ اذان کہلاتے ہیں
اذان مسلمانوں کا امتیازی نشان ہے یہ وہ واحد آواز ہے جو پانچ وقت کی نماز کا بلاوہ بن کر مشرق ؤ مغرب, شمال ؤ جنوب غرض کائنات کے ہر کونے کونے میں اللہ کی بڑائی, بندگی ؤ وحدانیت, رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت, اسلام کے پیغام امن, دنیا ؤ آخرت کی فلاح ؤ کامرانی ,بھلائی پھیلنے اور دین ابدی ہونے کا اعلان ہے
تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ھوتا ھے کہ واقعہ معراج کے وقت سے ہی پانچ وقت کی نماز فرض ہو چکی تھی مگر اسلام کا ابتدائی دور تھا, تعداد میں کمی تھی, کفار کا شر سر چڑھ کر بولتا تھا لہذا بطور حکمت مسلمان علی الاعلان ازان دے کر با جماعت نماز ادا نہیں کرتے تھے
اذان دینے والے کو مؤزن کہتے ہیں اور اسلامی معاشرے میں مؤزن کو بلند ؤ اعلی تصور کیا جاتا ھے.
حضرت بلال رضی اللہ تعالی کو مؤزن رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہہ کر بڑے بڑے جید صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم پکارتے تھے اور کبھی سید نا بلال رضی اللہ تعالی کہتے تھے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اذان کی فضیلت بیان کرتے ہوۓ فرمایا کہ
قیامت کے روز اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے زیادہ بلند ہوں گئ. گویا کہ اللہ تعالی روز قیامت ان لوگوں کو اذان کے باعث بلند ؤ اعلی مقام عطا فرمائیں گۓ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
اذان کی وجہ سے مؤزن کی مغفرت کر دی جاۓ گئ
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ بھی ارشاد گرامی ہے کہ اگر یہ معلوم ہو جاۓ کہ اذان دینے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا ثواب کتنا ہے تو ہر شخص آگے بڑھنے کی کوشش کرے حتی کہ فیصلہ کرنے کے لیے قرعہ ڈالنا پڑے.
ایک سچا مسلمان اذان کی آواز سنتا ہے اور فوراً اپنا کام کاج چھوڑ کر ایمان کی مضبوطی, رب کائنات کی عظمت, آخرت کی فلاح, دنیا کے فانی ہونے کا یقین, دین اسلام کی حقیقی رغبت, وقت کی پابندی, آپس کا اتحاد ؤ اتفاق ,اور حق کی گواہی پر لبیک کہتے ہوۓ مسجد میں سجدہ کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہی اذان کا اول ؤ آخر مقصد ہے کہ ان کے دل میں اللہ کی وحدانیت اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شہادت کا نور پیدا ہو جاۓ.
اذان کی روح پرور گونج صرف نماز کیلئے بلاوا یا ہمارے دل اور روح کے سرور کا باعث ہی نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کی عظمت کا نشان ہے۔ ہم دن میں پانچ بار اذان کی آواز سنتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا کے طول و عرض میں پھیلے مسلمان ملکوں میں روزانہ پانچ بار اذان دی جاتی ہے لیکن ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ دنیا کے مشرقی کنارے سے لے کر مغرب تک دن اور رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ جب اذان کی آواز نہ گونج رہی ہو۔
ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد مدنیہ منورہ تشریف لانے اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ضرورت اس امر کی پیش آئی کہ مسلمانوں کو باجماعت نماز کے لیے کیسے بلایا جاۓ .؟
یہ اپنی جگہ سوال تھا لیکن مالک کائنات نے اس کا بھی حل فرما دیا تاریخ گواہ ھے کہ حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالی ایک مرتبہ سرکار مدنیہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوۓ اور عرض کیا!
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک شخص قبلہ رو ہو کر اللہ اکبر, اللہ اکبر پکار رہا ہے.
محبوب کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ یہ خواب سچا ہے
کچھ دیر دعاۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی بھی یہی خواب آ کر بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تصدیق فرمائی کہ مجھے اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے اذان کی تعلیم دی جا چکی ہے
جنانچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی کو اذان کے الفاظ تعلیم فرماۓ اور انکو ہی اذان دینے پر مامور بھی فرمایا.
اگر آپ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو انتہائی مشرق میں انڈونیشیا واقع ہے، یہاں صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے اذان کا آغاز ہوتا ہے اور جاوا، سماٹرا، بورنیو اور سیبل کے علاقوں میں ہزاروں مﺅذن اذان دیتے ہیں اور یہ سلسلہ مغرب کی طرف بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ ڈیڑھ گھنٹے بعد جکارتہ میں صبح ہورہی ہوتی ہے اور یہاں اذان کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
ابھی مغربی انڈونیشیا میں اذانیں جاری ہوتی ہیں کہ ملائیشیا میں فجر کا وقت ہوجاتا ہے اور یہاں اذان شروع ہوجاتی ہے۔
ملائیشیا میں اذان فجر کے اختتام سے پہلے ہی برما اور پھر اس کے مغرب میں واقع ملک بنگلا دیش میں اذان فجر شروع ہوجاتی ہے۔
بنگلا دیش کے مغربی حصوں میں اذانِ فجر کے ختم ہونے سے پہلے ہی بھارت کی مساجد میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوجاتی ہے۔
مشرق میں کلکتہ سے شروع ہونے والا سلسلہ جب تک مغرب میں ممبئی تک پہنچتا ہے تو اس وقت تک کشمیر کے شہر سری نگر اور پاکستان کے شمالی شہر سیالکوٹ میں اذانِ فجرکا آغاز ہوچکا ہوتا ہے۔
جب تک اذان کا سفر پاکستان کے شمالی حصے سے جنوب میں کراچی تک پہنچتا ہے تو اس سے پہلے ہی افغانستان اور عمان میں اذان کی آواز گونج اٹھتی ہے اور پھر یہاں اذان فجر کے اختتام سے پہلے عراق اور پھر حجاز مقدس میں فجر کا وقت ہوجاتا ہے۔
مکہ اور مدینہ سے لے کر یمن، متحدہ عرب امارات اور کویت تک اذان کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے اور اسی دوران مصر میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوجاتی ہے۔
مصر کے شہر اسکندریا اور لیبیا کے شہر طرابلس میں فجر کے وقت میں ایک گھنٹے کا فرق ہے اور اس دوران سارے افریقہ میں اذان کی آواز گونجتی ہے اور یہ سلسلہ بحراوقیانوس کے کنارے تک جاپہنچتا ہے۔
انڈونیشیا سے شروع ہو کر بحر اوقیانوس کے مشرقی کنارے تک مسلسل اذان کا سلسلہ ساڑھے نوگھنٹے میں پہنچتا ہے اور اس وقت تک انڈونیشیا میں اذان ظہر کی آواز بلند ہوچکی ہوتی ہے اور اب اسی طرح اذان ظہر کی گونج مشرق سے مغرب کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہے اور جس وقت مغربی افریقہ میں عشاءکی اذان دی جارہی ہوتی ہے تو مشرقی انڈونیشیا میں پھر سے فجر کی اذان شروع ہوچکی ہوتی ہے۔
بحرالکاہل سے لے کر بحیر اوقیانوس تک اذان کا مسلسل سلسلہ یوں جاری رہتا ہے کہ دن اور رات میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آتا کہ جب سینکڑوں ہزاروں مؤذن اللہ اکبر کی صدا بلند نہ کررہے ہوں، اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور تا قیامت یونہی جاری رہے گا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 314 Print Article Print
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas: 166 Articles with 51345 views »
I am a teacher. I am very fond of studying different issues in the world... View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ