شب برات، قبرستان اور ہم۔۔۔!!

(جاوید صدیقی‎, Karachi)

آج میں اپنے قلم سے شب برات کی اہمیت و افضلیت، قبرستان کے آداب اور احساس،اپنے وجود اور خودی کے خمار ےسے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کیلئے بعد از موت کے معاملات کو سامنے رکھ کر تحریر کرنی کی کوشش کررہا ہوں مگر اس احساس اور روح کی توانائی کے ساتھ کہ رب العزت اپنے پیارے حبیب محمد و آل محمد ﷺ کے صدقے بخشش فرمادے اور شفاعت رسول کی نعمت سے مالا مال کردے کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا گناہ گار ہوں ، کمزور لاغر اور غلطیوں کا مجسمہ ہوں ، ہر لمحہ ڈرتا ہوں کہ نجانے قبر میں کیا معاملات ہونگے ، اندھیرے کوٹھری اور تنہائی کے عالم میں منکر نکیر کا سامنا اور اپنے اعمال کی جانب اک رخ کرنا کہ ساتھ کیا لایا اور کیا چھوڑ آیا اسی خوف سے تن من بدن کیساتھ ساتھ روح بھی کانپ جاتی ہے لیکن ایک خوبصورت لمحہ جب مجھے یاد آتا ہے تو جسم و روح کو سکون میسر ہوجاتا ہے کیونکہ درود و سلام آپ ﷺ پر کڑوروں بار کہ جن کے صدقے اور محبت سے خوف بھی جاتا ہےاور جہنم کے عذاب سے خلاصی محسوس کی جاتی ہے تشفی مل جاتی ہے جب لبوں پر درود و سلام ہوتا ہےدرود و سلام کے پڑھنے سےمیرے بے نور دل میں نور بھر جاتا ہےذہن کو سکون اور دل کو آرام مل جاتا ہے شب و روز احساس گناہ کا ہوتا ہے ضرور لیکن اللہ کی بے پناہ رحمتوں کے سمندر کا بھی خیال ہوتا ہے وہ خالق و مالک جو ماں سے بھی ستر گناہ محبت کرتا ہے اس کی محبت پر مجھے بڑا ناز رہتا ہے کیوں نہ کروں وہی تو خالق و مالک ہے میں فخر کیوں نہ کروں کہ اس کے حبیب ﷺ کا ایک ادنا امتی ہوں میری شان یہی ہے کہ میں آقائے نامدار حضور کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ کا ایک گناہ گار امتی ہوں لیکن پھر بھی بخشا ہوا ہوں کیونکہ میرے رب کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے حبیب ﷺ کی امت کو بخش دیگا اللہ ہم سب مسلمانوں کے گناہ کو معاف فرمادے آمین۔ ۔معزز قارئین!! اللہ رب العزت نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے ان ہی عظمت و فضیلت میں کچھ ایام اور کچھ راتیں بھی ہیں ان راتوں میں ایک رات شعبان المعظم کی پندرہویں شب ہے جوشب برأت سے موسوم ہے جو دراصل خطاؤں اور گناہوں سے توبہ کرکے بری ہونے کی رات ہے قرآن المجید والفرقان الحکیم کے پچیس ویں پارہ سورۃ دخان کی ابتدائی آیتوں میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: قسم ہے اس کھلے ہوئے واضح کتاب کی ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں اتارا ہے کیونکہ ہم لوگوں کو آگاہ و متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے یقیناًہم ایک رسول بھیجنے والے تھے۔۔ لیلۃ المبارکۃ کے بارے میں حضرت عکرمہؒ اور مفسرین حضرات کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس سے شب برأت مراد ہے جیسا کہ فیہا یفرق کل امر حکیم سے واضح ہوتا ہے (بحوالہ:معارف القرآن) احادیث میں بھی شب برأت کی عظمت، برکت اور رحمت بہت اہتمام اور بلیغ انداز میں بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ خیر کو چار راتوں میں خوب بڑھاتا ہے عید الاضحی کی رات۔ عید الفطر کی رات ۔شعبان کی پندرہویں رات اور چوتھی نویں ذی الحجہ کی رات۔ ان تمام راتوں میں صبح کی اذان تک خیر و برکت کا نزول ہوتا رہتا ہے(بحوالہ:ابن ماجہ) حضرت معاذ ابن جبلؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی ساری ہی مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے سوائے شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے (طبرانی، بیہقی) حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو اس رات میں عبادت کرو اور اس کے بعد والے دن میں روزہ رکھو کیونکہ اس رات کو اللہ تعالیٰ غروب آفتاب کے وقت سے ہی آسمان دنیا پر جلوہ خاص فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت چاہنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کیا کوئی مبتلائے مصیبت ہے کہ اسے عافیت دوں کیا کوئی ایسا ویسا ہے اور یہ آواز صبح تک آتی رہتی ہے (بحوالہ:الترغیب ) پندرہویں شعبان کی اسی مبارک شب میں بنی آدم کا ہر وہ شخص جو اس سال پیدا ہونے والا ہوتا ہے لکھ دیا جاتا ہے اور بنی آدم کو ہر وہ شخص جو اس سال مرنے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس رات میں بندوں کے اعمال (اوپر) اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں بندوں کے رزق اترتے ہیں (بحوالہ:مشکوٰۃ شریف) شب برأت حضور اقدسﷺ کا اس مبارک شب میں بقیع غرقد (بحوالہ:مقبرہ مسلمین) میں جا کر مومنین اور مومنات اور شہدا کے لئے مغفرت کی دعا کرنا پھر وہاں سے گھر لوٹ کر تنہا نفل کی نیت باندھ کر اللہ کے سامنے سربسجود ہونا اور سجدے میں یہ دعا کرنا اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخْطِکَ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَلِّ وَجْہِکَ لاَ اُحْصِیْ ثَنَاءُ عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَنْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ ترجمہ: میں تیری سزا سے تیری عفو کی پناہ مانگتا ہوں اور تیری ناراضی سے تیری رضامندی کی اور تجھ سے (یعنی تیرے عذاب و عقاب و قہر سے) تیری ہی پناہ مانگتا ہوں، تیری ذات بزرگ برتر ہے، میں تیرے لائق تیری تعریف نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا تو نے خود اپنے نفس کی تعریف فرمائی (بحوالہ:شعب الایمان)امت مسلمہ کو چاہئے کہ اس مبارک رات میں بے جا فضولیات و دیگر بدعات و رسومات سے احتراز کرتے ہوئے نفلی نماز، روزہ، ذکر و تلاوت، توبہ و استغفار اور دعا مناجات میں وقت گزارے کیونکہ بس یہی اعمال و افعال اور معمولات صحابہ، تابعین و اسلاف سے ثابت ہیں چنانچہ حضرت مفتی شفیع صاحبؒ نے اپنے رسالہ شب برأت میں تحریر فرمایا ہے کہ صحابہ و تابعین سے اس رات میں جاگنا اور اعمال مسنونہ پر عمل کرنا قابل اعتماد روایات سے ثابت ہے نیز علامہ عثمینؒ نے فرمایا کہ بعض تابعین سے اس موقع پر نماز اور ذکر و فکر کی صورت میں شب بیداری کا ثبوت ملتا ہے (بحوالہ:فتاویٰ برائے خواتین) حضرت امام اوزاعیؒ نے اس رات میں اجتماعی طور پر عبادت، تلاوت اور ذکر و دعا کو مکروہ بتایا ہے لیکن انفرادی طور پر ان اعمال کو مستحسن و محمودو مطلوب بتایا ہے(بحوالہ: لطائف المعارف) صاحب درمختار نے عید الفطر اور عیدالاضحی کی راتوں میں اور شب برأت میں اور رمضان کے عشرہ اخیر کی راتوں میں اور ذی الحجہ کی اول دس راتوں میں جاگنا اور عبادت کرنا تنہا تنہا مستحب بتایا ہےعلامہ البانیؒ نے اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پندرہویں شعبان کی رات کے بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں تو ان لوگوں کا یہ کہنا جلد بازی کا نتیجہ ہے ان پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے (بحوالہ:سلسلۃ الاحادیث) آپ نے اصلاح المساجد کے مؤلف علامہ شام محمد جمال الدین القاسمی کے اس شب کے سلسلہ میں کسی صحیح حدیث کے نہ ہونے کے حکم و فیصلہ پر کلام فرمایا ہے کہ حدیث بطریق مالک بن عامر بن معاذ ابن جبل عن النبی مروی ہے اس حدیث کی تخریج حضرت ابن ابی عاصمؒ نےالسنۃ میں اور حضرت ابن حبان نےصحیح میں کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں اور حدیث صحیح ہے اس لئے مصنف کا قول کہ شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے ناقابل توجہ ہے ہاں اس سے بدعات کا جواز البتہ نہیں نکلتا (بحوالہ:اصلاح المساجد) شب برأت کے سلسلہ میں بعض مروی احادیث صحیح کچھ حسن اور ایک حدیث مرسل جید ہے اس کے علاوہ ساری احادیث کی سند کمزور ہے لیکن اس سلسلہ میں حضرات صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد سے روایات موجود ہیں، حضرت حسن بصریؒ نے ۳۳،۳۴ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی روایات نقل کی ہیں اور علامہ سیوطیؒ نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب الدرالمنثور میں پندرہ سے زائد احادیث مرفوعہ موقوفہ ذکر فرمائی ہے، اسی تعداد کی طرف اور کثرت روایات کی بنا پر ان ضعیف روایات کو بھی ایک طرح کی قوت حاصل ہوجاتی ہے، حضرت مولانا عبدالرحمن مبارکپوریؒ نے شب برأت سے متعلق مروی احادیث بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ احادیث مجموعی اعتبار سے ان لوگوں کے خلاف حجت و دلیل ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ پندرہویں شعبان کی فضیلت کے سلسلے میں کچھ ثابت نہیں ہے (بحوالہ:تحفۃ الاحوذی) مذکورہ بالا مسلمہ حقیقت کے باوجود امت مسلمہ کی ایک تعداد شب برأت کی مشروعیت کی منکرہے اور دن رات میں کئے جانے والے اعمال خیر کو لغو اور بدعت قرار دیتی ہے اور اس سلسلہ کی ساری احادیث کو ضعیف، موضوع اور من گھڑت خیال کرتی ہے لیکن ان لوگوں کا یہ فکر و خیال بالکل حقیقت سے دور ہے بلکہ صحیح اسلام کے بالکل برعکس ہے کیونکہ شب برأت کے سلسلہ میں مروی احادیث مبارکہ اور اکابرین امت حضرات محدثین و محققین کے اقوال کے ساتھ ساتھ اسلاف امت حضرات تابعین عظام خالد بن معدان، لقمان بن عامر اور مکحول رحمہم اللہ اور امام اسحاق ابن راہویہؒ کے عملی نمونے سے بھی اس رات کی فضیلت و اہمیت معلوم ہوتی ہے (بحوالہ:ماثبت بالسنہ) دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام امت مسلمہ کو بدعات و خرافات اور تمام غیر اسلامی مروجہ رسومات سے اجتناب کرتے ہوئے اس اہم اور مبارک رات کی سعادتوں، رحمتوں اور برکتوں سے مستفیض فرمائےآمین ثما آمین۔۔۔معزز قارئین!!شب برات کے بارے میں عام فہم کئی باتیں موجود تھیں جن کا ذکر کرنا لازمی تھا اسی بابت کئی حوالہ جات کیساتھ بیان کیا ہے دوسری بات کہ عمل صالح اور بدعت حسنہ تمام مکاتب فکر علما و مشائخ جائز اور اچھا عمل کہتے ہیں ،دور حاضر زمانے گزشتہ چند صدیوں سے شب برات کوخاص کر پاک و ہند میں بڑے اہتمام اور انہماک کیساتھ منایا جاتا ہے ،اس شب جہاں عبادات و ذکر کی محافل سجائی جاتی ہیں وہیں اپنے پیاروں کی قبروں پر پہنچ کر قرآنی آیات اور درود پاک پڑھ کر ایثال و ثواب کا بھی اہتمام کرتے ہیں، حکومت اور سول انتظامیہ کی جانب سے اس روز قبرستان کی صفائی و ستھرائی اور روشنی کا خاص اہتمام بھی کیا جاتا ہے جبکہ گل پاشی کیلئے اسٹال بھی لگائے جاتے ہیں، قبرستان جانے کا حکم ہمیں کئی مستند احادیث سے بھی ملتا ہے ،آپ ﷺ نے قبرستان جانے کا بار ہا بار حکم فرمایا ہے آپ ﷺ کے مطابق قبرستان جانے سے ابدی زندگی کی تیاری اور من اللہ حساب و کتاب کے معاملات تازہ ہوجاتے ہیں قبرستان جانے سے جہاں ہم اپنے پیاروں کی بخشش کیلئے دعائیں کرتے ہیں وہیں ہمیں اپنی حیثیت کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے بالآخر من ڈھیر مٹی میں جانا ہے، نہ بچھونا ہے ،نہ بستر ہے، نہ دولت ہے ، نہ چاندی ہے اگر کچھ ہے تو صرف اور صرف عمل ہے اور اللہ کی رحمت، قبرستان کی حرمت اور عزت کیلئے بھی احادیث میں وارد ہے کہ قبرستان میں ننگے پاؤں جایا جائے، با وضو رہا جائے اور قبروں کے اوپر پھلانگنا بے حرمتی کے مترادف ہے ، کچھ خبر نہیں کہ صاحب قبر اللہ کا مقرب بندہ ہو اور وہ عبادت میں مشغول ہو، کئی بزرگان دین نے اپنی تصانیف میں قبرستان کی حرمت و احترام کی پابندی اور اصول بیان کیئے ہیں۔۔معزز قارئین!! شب برات، قبرستان اور ہم کے عنوان سے میں نے انتہائی ڈرتے ڈرتے کالم لکھنے کی کوشش کی ہے کہیں کسی سرزش کا شکار نہ ہوجاؤں یا گناہ کا مرتب نہ بن جاؤں اللہ مجھے معاف فرمائے اور میری نیک نیتی کو قبول فرمائےآمین،مجھ سمیت ہم سب شب برات اور قبرستان میں جاکر اس بات کا تو احساس محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا انجام اور ٹھکانہ آخر کار یہی ہے لیکن پھر بھی اپنے نفس امارا کے ہاتھوں بے بس نظر آتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا جینے کیلئے صرف اشد ضرورت کو پورا کرنا چاہیئے کیونکہ خواہشات کیلئے اللہ تبارک تعالیٰ نے بہت خوبصورت جگہ جنت بنائی ہے جہاں تمام خواہشات پوری کی جائینگی، کاش ہر ایک مسلمان امیر ہو یا غریب اس معاملہ کو سمجھ لے تو پھردنیا کی دولت، مقام ،عیش و عشرت ،عیش و تعائش کیلئے نا حق کسی کیساتھ ظلم کریگا اور نہ ہی زندگی میں جھوٹ کو شامل کریگا، ہر گناہ کی ابتدا ہی جھوٹ سے شروع ہوتی ہے اور جھوٹ انسان کو رسوا و برباد کرکے رکھ دیتا ہے، مجھ سمیت ہم سب دنیاوی عہدوں، مرتبوں، معاشرتی طبقات کی جھوٹی شان و شوکت میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم سے کیا کیا گناہ اور غلطیاں سرزش ہوتی جارہی ہیں جو ہمارے لیئے باعث عذاب اور باعث پکڑ کا باعث بن سکتی ہیں، دل آزاری کرنا ہمارے لیئے کوئی بات نہیں، اپنے سے کم تر انسان کو جس قدر جھڑکتے ہیں وہ اللہ کو پسند نہیں، مجھ سمیت ہم سب منافقت، ریاکاری ، چاپلوسی کے رسیلے بن چکے ہیں ہمیں سچ و حق بہت برا لگتا ہے شاید اس لیئے کہ سچ و ھْ بہت کڑوا ہوتا ہے اس میں ہمارے ذات کی نفی بھی ہوسکتی ہے ہمیں تو صرف اپنی ذات کو خوش کرنے کیلئے ہر وہ عمل پسند ہوتا ہے جو ہماری جھوٹی تعریف پر ہی مبنی ہی کیوں نہ ہو ہمیں اللہ اور اس کے حبیب کی پسند کا قطعی خیال نہیں ہوتا، آج دنیا بھر کی طرح خاص کر پاکستان کے تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا حال تو ایسا ہے جیسا کعبہ سے پھرا کافر، ہم نام نہاد مسلمان ہوکر بہت زیادہ مغرور اور متکبر رہتےہیں ، ذرا سی عبادات و ریاضیات اور فلاحی امور ہمیں دیوانہ کردیتی ہے گویا ہم سب میں سپیریئر ہوگئے ہیں جبکہ اللہ کے نزدیک وہ سپیریئر ہوتا ہے جس کو ہم حقیر سمجھ رہے ہوتے ہیں، ہماری فرعونیت اور یزیدیت آسمان کو چھو رہی ہوتی ہے پھر بھی ہم اپنی مگن میں خود کو ولی سمجھتے ہیں، ہم خودی میں اس قدر رہتے ہیں کہ ہمیں آس پاس مجبورکوئی دکھائی نہیں دیتا، کسی کےدکھ کا احساس بیدار نہیں ہوتا پھر کیونکر ہماری دعائیں قبول ہونگی پھر کیونکر ہم پر رحمت و برکت کی بارش ہوگی پھر کیونکر ہمارے معاشرے میں امن و سکون ہوگا پھر کیونکر ہم جہاد کرسکیں گے پھر کیونکرہم متحد ہوسکیں گے پھر کیونکر ہم کامیاب ہوسکیں گے یقیناً ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا چایئے ۔۔۔معزز قارئین!! پاکستان خالصتاً اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، اس کا آئین بھی قرآن و سنت اور اللہ کے اھکام پر مبنی ہے لیکن جس قدر یہاں آئین کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں،جس قدر قادیانی، لاہوری، احمدی اور دیگر غیر مسلم گروہ ریاست پاکستان اور نظام پاکستان میں مداخلت کرتے نظر آتے ہیں پھر کس طرح ممکن ہوسکے گا کہ پاکستان ریاست مدینہ ثانی ہو، یقیناً یہاں فیصلے اور احکامات قرآن و سنت کی روشنی مین سخت سے سخت ترین کرنے چاہئیں، امیر و غریب کیلئے قانون جدا جدا نہیں ہونا چائیے، بحیثیت مسلمان ہائی کورٹ ہو یا سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان کو سوچنا ہوگا کہ انہیں بعد موت اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ان کے فیصلے ان کی نسلوں کو بھی جہنم وارد کرسکتے ہیں اور یہی صورت حال حکمرانوں، سیاسی عہدیداروں اور کارکنوں، صحافی حضرات، بیوروکریٹس کو بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا،آخر ہم سب کو ایک دن مرنا ہوگا کوئی جلد کوئی کچھ وقف لیکن جانا سب کو ہی ہوگا،اللہ ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائے اور ایمان پر خاتمہ فرمائے آمین ثماآمین ۔۔۔۔ اللہ پاکستان کو ہر دشمن سے محفوظ بھی رکھے آمین ثما آمین ۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔!!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 524 Print Article Print
About the Author: جاوید صدیقی‎

Read More Articles by جاوید صدیقی‎: 300 Articles with 113458 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ