ریاست قانون اور ادارے کہاں ہیں

(Hammad Hassan, )

کبھی اس جاہل اور حریص آدمی کی کہانیاں بلکہ کرتوت سامنے لائے جائیں ،جس نے بظاہر مذہبی لبادہ اوڑھ رکھا ہے تو تاریخ کو راسپوٹین سے بھی بد تر کردار ہاتھ لگے گا ۔حد درجہ احمق لیکن مکار ایسا کہ بڑے بڑوں کو ٹیکہ لگانے کا ھنر جانتا ھے.

اپنے بڑوں کے ساتھ آخری وقت میں جو کیا سو کیا لیکن اپنے قریبی عزیزوں اور عام لوگوں کی زمینوں حتٰی کہ گھروں اور سرکاری املاک تک پر قبضے کرنے لگا ۔اور کیوں نہ کرتا چند سو طالبان ایک مذھبی (درسگاہ؟) اور بہت ساری جھالت میّسر ہے جس کے نام پر رقمیں بٹورنے کی خصوصی مہارت رکھتا ہے ۔ ضلع کے پولیس افسر کو تحائف اور مرغن کھانوں سے مالا مال کرنے میں طاق بھی ہے ۔

سو ایک اندھیر نگری ہے اور اس بظاھر اس روحانی پیشوا نے ایک اودھم مچا رکھا ہے ۔ لیکن سوال یہ ھے کہ ریاست قانون اور ادارے کہاں ہیں-

یہ ایک ممتاز لکھاری کی باتیں تھیں جس کے لفظ لفظ اور حرف حرف پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے کبھی حرف و لفظ اور شخصیت کو کسی قسم کی دھوکہ بازی اور فریب کاری سے آلودہ نہیں ہونے دیا اور جاننے والے اسے بخوبی جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ اور بلیک میلنگ کا آدمی ھے ھی نہیں.

کمرے میں سناٹا چھا یا ہواتھا اور آدھ درجن سے ذائد با اثر صحافیوں اورُدانشوروں کے سامنے اس نے غیر جذباتی انداز سے بات شروع کی اور حسب توقع پوری وضاحت اور سچائی کے ساتھ خوفناک حقائق بمع دستاویزات اور تصاویر سامنے رکھتا اور سوال اُٹھاتا رہا ، سامنے بیٹھے لوگ کوئی معمولی لوگ بھی نہ تھے کیونکہ ان کا پیشہ اور ذھنی استعداد بار ہا ان پر خوفناک حقائق منکشف کر چکے تھے لیکن اب کے بار انہیں کچھ ایسے تلخ اور حیرت انگیز حقائق تک رسائی ہو رہی تھی کہ پتھر کے بت تو وہ بن ہی چکے تھےلیکن ساتھ ساتھ اپنے آپ کو کوس بھی رہے تھے کہ میڈیائی افیون کے ذریعے وہ ایک ناقابل معافی غفلت کے مرتکب بھی ہو چکے ہیں ۔

حد درجہ ایماندار اور قابل تقلید لکھاری نے اپنی بات کو مزید بڑھایا اور صاف گوئی سے کہا کہ میں بھی خاموشی کا مجرم بنتا لیکن چونکہ میں بھی ان درجنوں “متاثرین “ میں سے ایک ہوں جو ایک مقامی دھشت گرد کی ذیادتیوں کے شکار ہوئے۔ شھر کو بہانے والا سیلاب دھلیز پر دستک دے گیا تو مثرگاں کھولنے ہی پڑے ، بعض آف دی ریکارڈ باتیں اس نے اپنے مخا طبین کے سامنے رکھیں تو پتہ چلا کہ وہ ظالم اور حریص ہونے کے ساتھ ساتھ پرلے درجے کا بے غیرت بھی ہے ۔ اس کے ایک ذاتی سہولت کار کی وارداتوں اور “آپشنز “ کا ذکر آیا تو ایک سے زائد لوگوں نے بیک آواز کہا کہ اگر صرف اس سہولت کار کو بھی گرفتار کر لیا جائے تو بہت سارے راز اورثبوت سامنے آسکتے ہیں ۔

اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے اس نے “ روحانی شخصیت “ کی تین عشروں سے جاری وارداتوں کا مدلّل سچائی کے ساتھ ذکر کیا ۔

ستّر کروڑ سے ذائد متنازعہ رقم ، لگژری گاڑیاں اور قیمتی جائدادیں کہاں سے آئیں ؟

کتنے لوگوں کی زمینوں ،راستوں اور گھروں پر قبضے ہوئے ؟

اپنے حق کے لئے مزاحمت کرنے والے کتنے لوگوں پر جاھل پیروکاروں کے ذریعے حملے کروائے گئے ؟

کتنی بار تھوڑی سی متنازعہ زمین خرید کر دوسروں کی جائدادیں اس میں جبرًا شامل کر لی گئیں ؟

ایک انتھائی قابل احترام ادارہ (جسے سرے سے معاملات کا علم ہی نہیں ) کی تعریف کرکے غلط پیغام کیوں دیا جا رھا ہے ؟

پولیس افسران کو کھانے کھلاتے یا تحائف دیتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقاصد کیا ہیں ؟

کتنے لوگوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا یا مقامی پولیس کو درخوستیں دیں ؟

ایک قریبی عزیز کو مارنے کا منصوبہ اور ایکسپوز ہونے کے بعد اسے فون کال کے ذریعے تحفظ کی خوشخبری سنانا اصل میں کیا ہے ؟

یہ وہ خوفناک سوالات ہیں جو اس نے کامل سچائی اور دلیر اعتماد کے ساتھ اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میری درخواست کو چیلنج کے طور پر لے ۔

معزز عدالت سے اس نے التجاء کی کہ تین عشروں سے جاری بربریت کے بارے میں جوڈیشل کمشن قائم کیاجائے اور تمام حقائق منظر عام پر لا کر ذمہ دار شخص کو انتھائی سخت سزا دی جائے ۔

ایک قابل اعتماد ادارے کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے درخواست کی کہ میرے لگائے گئے الزامات اور درخواست پر آزادانہ اور منصفانہ انکوائری اور اس کی روشنی میں موثر اقدامات کئے جائیں۔

مزید کہا کہ میں نہ کسی طور خوفزدہ ہوں گا نہ پیچھے ہٹوں گا بلکہ آپ مجھے بہت دیر تک اور دور تک یہ جنگ لڑتی ہوئے پائیں گے ، صبر اور تحمل لیکن استقامت کے ساتھ .
جگہ جگہ کھڑے حصارِ ستم گرانے کوئی اور تو نہیں آئے گا ہمیں ہی اُٹھنا ہوگا ۔

ادارے کمزور اور غنودہ ہی سہی جھنجھوڑنے اور جگانے کے عمل سے باز نہیں آنا چاہیے ، یہی وہ راستہ ہے جو کسی ناخواندہ اور سرکش آدمی کو اپنی ریاست اوراپنا قانون بنانے پر عبرت کا تماشہ بنا کر دم لے گی ۔

اس نے بات ختم کی اور ایک کُرسی پر بیٹھ گیا تو سب لوگ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ ایک نوجوان صحافی نے کہا کہ اس معاملے کو ھم الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی طرف موڑ دیتے ہیں تو اس نے انکار میں سر ھلاتے ہوئےکہا کہ میں کوئی پری میچور اور غیر فطری شارٹ کٹس کا قائل نہیں اس لئے اپنی بات فطری اور جینوئن انداز میں آگے بڑھاؤں گا ۔

ایک بزرگ دانشور نے کہا کہ اگر آپ چاھیں تو ھم ایک وفد بنا کر مقتدر اداروں اور شخصیات سے مل کر نوٹس لینے اور انکوائری کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں ، ایک با خبر آدمی نے فورًا کہا کہ جن کی طرف آپ اشارہ کر رھے ہیں وھاں اِن کی اپنی تحریروں کے مداح بہت ہیں کم از کم ایسے پانچ لوگوں کے بارے میں مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے ۔

ایک کونے سے آواز آئی کہ اگر وہ آپ کے نقصان اور توھین کا ازالہ کرے تو آپ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹ جائیں گے ؟

قطعًا نہیں !

ھرگز نہیں !
میرا یہ مطالبہ تو سب سے آخر میں ہے.
اور سب سے پہلے ؟

اس عظیم اور قابل فخر ورثے کو اس جرائم پیشہ شخص سے آزاد کرانا جس نے رقم بٹورنے اور غنڈہ گردی کرانے کے لئے اسے ایک غلیظ روپ میں ڈال لیا ھے۔ لیکن مصنوعی دھشت اور خوف نے زبانوں کو گنگ کر دیا ھے. ورنہ کل طاقت ھے ھی کیا محض جھالت کا ایک غول یا مقامی پولیس کی پشت پناھی
جس کا مقتدر اداروں اور افراد کو علم تک نہیں

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 239 Print Article Print
About the Author: Hammad Hassan

Read More Articles by Hammad Hassan: 24 Articles with 5364 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: