روزے کے مقاصد

(Ahsan ul haq, karachi)
’’جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔

روزے کے مقاصد

تقویٰ کا حصول:
کیونکہ جب نفس اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی امید اور اس کے دردناک عذاب کے خوف کی وجہ سے حلال چیزوں سے رکنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو وہ بدرجہ اولیٰ حرام چیزوں سے بھی باز رہے گا۔ لہٰذا روزہ ہمیں حرام چیزوں سے بچنے کی تربیت دیتا ہے جس سے ہم فرمانِ باری تعالیٰ:لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون کامصداق بن سکتے ہیں۔نعمت کا شکر ادا کرنے پر آمادہ کرنا: روزہ نفس کو کھانے پینے اور جماع جیسی کئی نعمتوں سے روک کر اُسے ان نعمتوں کی قدر کرنے کا احساس بیدار کرتا ہے اور ہمیں شکر گزار بندے بننے پر آمادہ کرتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ.
. نفس کو مغلوب کرنا اور شہوت کو کم کرنا:
روزہ نفسانی خواہشات کو کم کر کے نفس کو مغلوب کرتا ہے
مساکین پر شفقت ومہربانی:
روزہ دار جب تھوڑے وقت کے لیے بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے تو اُسے ہمیشہ اس تکلیف میں رہنے والے انسانوں کے بارے میں احساس ہوتا ہے اور غریب غرباء ومساکین پر شفت ومہربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
. بذریعہ روزہ اللہ تعالیٰ سے خاص اجر کا حصول: روزہ ایسی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان راز ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے لیے رکھا ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ اور اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ.
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
’’جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔‘‘
رمضان المبارک کے روزوں کو جو امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارک سے لگایا جا سکتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّإِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّم مِنْ ذَنْبِهِ.
’’جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر سکتے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو صحیح معنوں میں رمضان کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
دعا گو۔ احسان الحق ۔ وفاقی اردو یونیورسٹی۔کراچی
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 300 Print Article Print
About the Author: Ahsan ul haq

Read More Articles by Ahsan ul haq: 10 Articles with 2661 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ