جادو سا جگاتی آواز

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

اس بار وہ جب واپس آئ تو اس کی آواز میں فرق آچکا تھا۔ جانے سے پہلے جب وہ بولتی تو ہلکی آواز پانی کی شکل میں بہہ رہی ہو جو حامد کو پسند تھی یا پھر جس سے پیار کیا جاے اس کی ہر چیز سے پیار ہو جاتا ہے ۔

آواز بھی قدرت کے بے شمار تحفوں میں ایک تحفہ ہے
یہ صرف پیغام کا نہیں پہچان کا بھی زریعہ ہے اور اچھی آواز نام ہی نہیں کام کا بھی دیتی ہے۔
کچھ آوازیں مانوس ہو جاتی ہیں اور کسی آواز سے آپ کو محبت ہو جاتی ہے جو محبوب کی آواز ہوتی ہے جو والدین دوست اور اولاد بھی ہو سکتی ہے ۔
آواز میں اثر بھی ہوتا ہے جو خدا کے نیک بندوں کی آواز ہوتی ہے اور خدا کے کلام کی آواز کی صورت میں اپنے بے پناہ اثرات ظاہر کرتی ہے۔

جب وہ آئ تو آواز میں پیار بڑھ گیا اور حامد کو لگا کہ پہلے والی آواز سب کے لیے تھی اور یہ خاص اس کے لیے ہے اور صرف اس کے لیے ہے۔
سانولی کو شائد ایسا لگا ہو کہ گلے کی خرابی سے ایسا ہو لیکن حامد کو اس کا بولنا پہلے سے بھی زیادہ اچھا لگ رہا تھا جیسے وہ پانی والی آواز تھوڑی سی خشک ہو گئ ہو اور کہیں کہیں پھسلتے پھسلتے اک رکاوٹ سی آے اور پھر ایک جھٹکہ سے چل پڑے ۔
دوسرا کوئ ہو تو دل چاہے کہ کھنکھار کر گلہ صاف کر لے لیکن اس میں دل چاہے کہ ایسی ہی رہے اور اس کی خشکی کسی کے پیار سے نم ہو جاے اور آواز کی رفتار کم ہو جاے کہ دیر تک آتی رہے اور اس کے دل پر چھاتی رہے اور اسے بلاتی رہے اور حامد کی آواز سے آواز ملاتی رہے۔
جیسے کچھ گانے والوں اور فلم اور دوسرے پروگراموں میں ایسی آوازیں زرا ہٹ کر اور ممتاز ہو جاتی ہیں۔
لیکن یہاں بات کچھ اور ہے شائد کہ محبوب کا نا ٹھیک بھی ٹھیک لگتا ہے اور وہ اور بھی نزدیک لگتا ہے۔

خاموش فضا میں چپ چاپ کام کرتی سانولی اور غور و فکر کرتا حامد اسے اور بھی خاموش بنا رہے ہیں جو اس کی چند لمحوں پہلے سنی ہوئی باریک آواز تصور میں اب بھی سن رہا ہے اور باریکی سے سن رہا ہے جو حقیقت میں آتی ریڈیو پر گانے کی آواز کےبادیک سروں کے ساتھ مل کر ایک جادو سا جگا رہے ہیں۔

آواز وہ جادو سا جگاتی ہوئ آواز
مدہوش دل و جاں کو بناتی ہوئ آواز

کلیوں کے چٹکنے کی صدا ہم نے سنی ہے
بلبل کے چہکنے کی صدا ہم نے سنی ہے
شیشوں کے کھنکنے کی صدا ہم نے سنی ہے
لیکن وہ کہاں ہوش اڑاتی ہوئی آواز
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91191 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Apr, 2019 Views: 798

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ