بڑی بھاری قیمت

(Amjad Siddique, Lahore)

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ نوازشریف کو اقتدار سے محرومی کا انجائنا دردتھا جو جیل سے نکلتے ہیں ختم ہوگیا۔شریف خاندان کے افراد جیل جاتے ہی بیماراور باہر آتے ہی لندن چلے جاتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کی فلم نہیں چل رہی۔ان کی گاڑی کا انجن سیز ہوگیا ہے۔وہ اس میں پیٹرول ڈالیں یا ڈیزل ان کی گاڑی اب چلنے والی نہیں۔

چودھری فواد نے شریف فیملی کے اطوار اور عادات کا احوال سناکر خود پر جگ ہنسائی کا موقع دیا ہے۔وہ اپوزیشن کے جس رویے اور حربوں کا ذکر کررہے ہیں خود بھی انہی پر عمل پیرا رہے ہیں۔ان کی زبان پہلے ایک پارٹی کے گن گایا کرتی تھی ۔پھر وہ دوسری کے لیے جی حضور جی حضور کرتے نظر آئے ا ب وہ ایک تیسری کے لیے حاضر جناب حاضر جناب کی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔ آپ کو ایک پارٹی جب تک اقتدا رمیں تھی ۔ایماندار اور شریف لگا کرتی تھی۔جب اقتدار سے گئی۔تو آپ پھدک کر نئی پارٹی میں آگئے ۔پچھلی والی کرپٹ اور بے ایمان قرار دے دی۔آپ نے پی پی اور مشرف لیگ کی مدحا سرائی کی ۔آج تحریک انصاف کے ڈھولچی بنے ہوئے ہیں۔آپ کی دوسری بات بھی درست ہے مولانا فضل الرحمان کی گاڑی واقعی نہیں چلے گی ۔مولاناکی بات سننے کو دونوں بڑی پارٹیاں تیارنہیں۔دونوں کا الگ الگ فلسفہ ہے۔پی پی کی تو یہ تاریخ ہی نہیں کہ وہ لڑجھگڑ کر اقتدار لے سکے ۔نوازشریف نے جو ماردھاڑ والا شو چلا رکھا ہے۔پی پی کا فلسفہ اس سے بالکل برعکس ہے۔زردار ی صاحب کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی اس طرح کھل کر مخالفت نہ کریں گے ۔وہ تو بھٹو اور بے نظیر کی طرح کو ئی بیک ڈو ر ڈھونڈیں گے۔بھٹوجب ستر کا الیکشن ہار گئے تھے تو بجائے ہارتسلیم کرنے اور جیتنے والے کو مبارک باد دینے کے بیک ڈور چینل کی طرف ہوگئے۔یحییٰ کسی بھی طرح اقتدار کی بقا کا متمنی تھا۔بھٹو کو بھی ہر قیمت پر اقتدار میں آنے کی حسرت تھی۔اقتدار پرستی نے سترکے عوامی مینڈیٹ کو رونددیا۔اس معاونت نے سقوط ڈھاکہ کی سازش کو مذید آسان بنادیا۔بے نظیر نے بھی میثاق جمہوریت تو کچھ اور کہہ کر کیامگر اس کا استعمال اس کے سو ا کچھ نہ ہوا کہ آمریت سے بارگین کے لیے کسی ڈراوے کی طرح استعمال ہوا۔آج بھٹو کے داماد بھی اس تاریخی روایت کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔پردہ نشینوں نے نوازشریف کو نشان عبرت بنانے کے لیے جو جو فرمان جاری کیے زرداری صاحب ان کی بجاآوری کرنے والوں میں سے ہیں۔ الیکشن دوہزار اٹھارہ کے نتائج کوئی اتنے یک طرفہ نہ تھے کہ تحریک انصاف لازماملک گیر حکومت بناپاتی۔یہ بھٹو کے داماد ہی تھے۔جنہوں نے ہر مرحلے پراس کارخیر میں معاونت بخشی۔صدار تی الیکشن ہو یاسینٹ کا الیکشن بھٹو کے داماد کی آنیاں جانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔جب جب بھی اپوزیشن کے اتحاد کا وقت آیا بھٹوکا داماد کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑکر روٹھ گیا۔آپ جناب نے وہی کچھ کیا جس سے نوازشریف کے مخالفیں کی تسلی ہوتی۔فواد چودھری درست کہتے ہیں مولانا صاحب کو دونوں بڑی جماعتوں سے کچھ نہیں ملے گا۔مسلم لیگ ن حد بغاوت کو پھلانگ چکی۔وہ اتنی دور آچکی ہے کہ واپسی ناممکن ہے۔اس کے متحرک نہ ہونے کا سبب دوسراہے۔وہ تحریک انصاف کو بالکل ننگا کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔جو ہیر اپھیریاں اسے اوپر لانے کے لیے کی گئیں۔جو سبز باغ قوم کو دکھائے گئے۔نوازشریف ان سب کے عیاں ہونے کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔پچھلے آٹھ ماہ سے دوتہائی میک اپ اتر چکا۔اب اگلے کچھ ماہ بعد اس کا بدشکل اور بھیا نک چہرہ پوری طرح نظر آنے لگے گا۔ایسے میں کوئی اسے کیوں کر سیاسی شہید بنا ئے گا۔کیوں کر بے ایمانی کے کھیل کاایک اور فیز مہیا کرنے کی غلطی کرے گا۔

چودھری فواد کی قوم کو طفل تسلیاں جاری ہیں۔زرداری صاحب مفاہمت کے نام پر پی پی کی سیاست مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔ان کی دال نہ گلنے کا سبب بھاگ دوڑ میں کمی نہیں بلکہ بدلتے حالات ہیں۔میڈیا کے چکا چوند اجالوں میں قوم کو جھوٹ اور سچ میں تمیز ہوچکی۔اب دن کو رات اور رات کو دن بنا کرپیش کرنا آسان نہیں یہی چیز جناب زرداری کے آگے آرہی ہے۔کہتے ہیں بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے اچھی ہے۔بس اسی طرح کی بدترین جمہوریت یہاں جاری ہے۔بے مزہ اور بے کیف جمہوریت جس کو صرف اس لیے برداشت کیا جارہا ہے کہ بہرحال یہ آمریت سے بہتر ہے۔آمریت کا ننکا ناچ اس قدر گھناؤنا ہوتا ہے کہ اسے ہر حال میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔ریاستی نظام چالنے کے لیے آئین اور قانون بنائے جاتے ہیں۔ہر آمر سب سے پہلے آئین اور قانون کو ہی معطل و منسوخ کرتاہے۔ایل ایف او اور پی سی او آجاتے ہیں ۔آمر یت کوبھلا کیوں کر گوارہ کیا جاسکتا ہے۔یہاں جو لولی لنگڑی ۔اندھی بھینگی جمہوریت دستیاب ہے اسی پر غنیمت کرنا ہوگی۔ بہترین جمہوریت تو دورکی بات اوسط درجے کی جمہوریت بھی ابھی تک ہمارا مقدر نہیں بن پائی۔اب تک اہل جمہور یا توفواد چودھری کی طرح عہدے کے لیے کسی کے اشارے پر بھی اچھل کود کرنے والے ہیں۔یاپھر زردار ی صاحب کی طرح اچھل کود کا موقع پانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ۔مثالی جمہورت آئے بھی کہاں سے آئے۔قوم آمریت سے بے زار ہے مگر اہل جمہور بھی قوم سے اپنی خدمات کی بڑی بھاری قیمت وصول کررہے ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 144 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 51246 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: