ایم آئی ایف سے 8ارپ کا معاہدہ طے ۔۔10ارب ڈالر کالا دھن سفید۔!

(Saif Adeel, grw)

گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت نے ملکی معاشی بد حالی اور مزید قرض لینے کی صورت حال سے دو چار پی ٹی آئی حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو چور دروازے کے معاہدے قرار ددے دیا اور ملکی معاشی بدحالی پر بغل بجاتے ہوئے ساتھ یہ خبر بھی دے ڈالی کہ پاکستان روزانہ کی بنیادوں پر 16ارپ روپے کا مقروض ہو رہا ہے یہ نہیں بتا یا کہ یہ قرض جو پچھلی حکومتوں نے لیا تھا اس کی وجہ سے پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہو رہا ہے یا آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ ہونے والے معاہدوں کی وجہ سے جو ابھی قرض ملنا ہے اس سے قوم ابھی سے مقروض ہونا شروع ہو چکی ہے خیر سنی سنائی بات ہے اس پر زیادہ کان دھرنے کی ضرورت نہیں یہ معاملات حکومتوں کے ہیں ان چیزوں سے اس قوم کو کوئی خبر نہیں کہ ہونے والے معاہدے کیا ہیں اور جو ہوئے تھے وہ کیا تھے خبر صرف اتنی آتی ہے کہ ہم مقروض ہو چکے ہیں تو مقروض ہو نے پر مسلم لیگ ن کی قیادت نے خوب خوشی کا اظہار بھی کیا اور ساتھ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا بھانڈا بھی پھوڑا، مسلم لیگ نون کی قیادت میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو مذاق قرار دے دیاگیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ کوئی شرم ہوتی ہے اور وہ ہوتی ہے پاکستان میں صرف چھ سے سات افراد کا احتساب ہو رہا ہے عمران خان کے بارہ کروڑ کے ساتھ سے 4 ارب کیسے ہو گئے ن لیگی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی جلد سیٹی بجنے والی ہے ، یہی نہیں مسلم لیگ نون کی قیادت نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت گورننس میں دیوالیہ ہے نواز شریف اور مسلم لیگ کو برا بھلا کہنے والے مہنگائی نہیں روک سکیں گے، قیادت نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خالی برتن ہے اور خالی برتن شور کے سوا کچھ نہیں ہوتا یہ نالائق ہیں کہ ترقی کی شرح 9 ماہ کے دوران آدھی رہ گئی 18 جعلی اکانٹس سامنے آئے ہیں اور ان کی تفصیلات بھی عوام کو دی جائیں اور پی ٹی آئی میں ہونے والی کرپشن کو پس پردہ نہیں جانے دیا جائے گا آئی ایم ایف کے ساتھ چور دروازے سے معاہدے کئے جا رہے ہیں عوام یہ مصیبت جھیلنے کے لیے تیار ہے مگر کون سی عوام ؟؟ اگر تو پاکستانی عوام کی بات ہورہی ہے تو یہ عوام پہلے ہی مصیبتوں کے پہاڑ سہہ رہی ہے مزید بوجھ کے قابل نہیں رہی !دوسری جانب حکومتی وزیر کا دعوی ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے پاگئے پائے گئے ہیں آئی ایم ایف سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوگا ان شرائط سے معیشت پر بڑے مثبت اثرات مرتب ہوں گے عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ سے آٹھ ارب کا معاہدہ تین سال کے لیے ہوگا دستخط بھی اسی ماہ کیے جائیں گے۔ تین سال کے لیے 6 سے 8 ارب کا فنڈ ہوگا پہلی بار معاہدے کا ڈرافٹ پارلیمنٹ میں پیش ہوگا عالمی بینک ایشیائی بینک سے بھی فنڈز ملیں گے حکومت کا کہنا ہے کہ مشکل صورتحال سے نکل گئے ہیں لیگی قیادت کا جواب دیتے ہوئے حکومتی وزیرنے کہا ہے کہ اربوں روپے کرپشن کے سراغ مل چکے ہیں اور قوم کو امید ہے کہ قانون بھی ان سے حساب لے کا اور ملک کی دولت لوٹنے والے عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں اربوں روپے کے کالے دھن کے حقائق سامنے آ چکے ہیں سلیمان شہباز سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا شہباز خاندان کی طرف سے دی جانے والی وضاحت اور بیانات سے باوجود حقائق پر واضح جواب یا تردید سامنے نہیں آسکی سلیمان شہباز حقائق کا جواب دینے سے بھی قاصر ہیں ان کے پاس اکائونٹس میں منتقلی کا کوئی جواب نہیں ہے اور سلیمان شہباز ملک سے بھاگے ہوئے ہیں اور ان کا واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ساتھ ہی مسلم لیگ نون کی قیادت نے جواب دیتے ہوئے حکومت سے یہ پوچھا کہ قوم کو پاپڑ والے کی بھی تفصیلات بتائیں جائیں،تاکہ حقائق عوام کے سامنے مکمل رکھے جائیں بچاری عوام۔دو وقت کی روٹی سے پریشان ہے اور ان حکومتوں کے فیصلے کریگی ۔ مہنگائی کا طوفان آئے گا اور عام آدمی دو وقت کی روٹی سے بھی تنگ ہو جائے گا دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت کے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی پاکستان کی مدد کی جائے گی کیا ہم آئی ایم ایف سے آنکھیں بند کرکے معاہدہ کر لیتے سابق وزیر خزانہ آنکھیں بند کر کے معاہدے کرتے رہے ہیں، جو بھی حکومت آتی ہے وہ ایک دوسرے کو چور کہتی ہے اور خوب بغلیں بجاتی ہے صورت حال یہ ہے کہ آئندہ مہنگائی آسمان سے کہیں اوپر چلی جائے گئی قوم توبہ کر لے ورنہ مہنگائی عذاب کی صورت نازل ہو نے والی ہے ، حکومتی وزیر خزانہ نے بالکل صاف صاف یہ بتایا ہے کہ مہنگائی بالکل نہیں ہوگی اور عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا ساتھ بڑی سادگی سے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے دور میں جن چیزوں کی قیمت نہیں بڑھائی گئی ان چیزوں کی قیمت مہنگی کرنا پڑے گی کتنے سادہ وزیر خزانہ ہیں کہ مسلم لیگ نون کے دور میں جن چیزوں کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئی اس کا بدلہ عوام سے لیا جائے گا یا مسلم لیگ نون سے یہ وقت بتائے گا،اصل بات یہ ہے کہ چھ سے آٹھ ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا رہا ہے جن کی شرائط سے کوئی ہی ایسا فرد ہو گا کوئی ایسا پاکستانی ہوگا جو ان کی شرائط سے آگاہ نہ ہو گزشتہ روز ایمنسٹی اسکیم کے تحت پاکستانیوں نے10 ارب ڈالر کا کالا دھن سفید کیا اور کوئی رقم پاکستان نہیں بھیجی عوام خود انصاف کریں گے کہ ہم آئی ایم ایف سے خود کو ان کی شرائط کے مطابق چھ یا سات ارب ڈالر کا قرضہ لیں گے اور دوسری جانب دس ارب ڈالر کو کالے دھن کو سفید کر دیا گیا ہے کسی کے پاس اس چیز کا کوئی ثبوت ہے نہ غریب عوام جانتی کہ یہ دس ارب ڈالر کن لوگوں کے تھے اور کیوں ان کو سفید کیا گیا ہے اور ان کو اگر سفید کیا گیا ہے تو یہ پاکستان رقم کیوں نہیں لائی گئی اگر اس کی آدھی رقم بھی پاکستان میں لائی جاتی تو کسی قسم کا نہ سود دینا پڑتا اور نہ ہی مہنگائی کی یہ صورت حال ہوتی، اس بیچاری بدحال قوم کو بتایا جائے کہ یہ ایمنسٹی اسکیم کن کے کہنے پر شروع کی گئی تھی اور یہ کن کا پیسہ کالا تھا اور کن کن کا پیسہ سفید کیا گیا ہے اور سفید کیا گیا ہے تو سفید پیسے کو پاکستان میں کیوں نہیں لایا گیا،بے بسی کا عالم دیکھئے کہ گزشتہ روز وزیر مملکت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری ایمنسٹی اسکیم ایسی نہیں ہوگی اگر پیسہ واپس نہیں آئے گا تو سفید نہیں ہو گا رواں ہفتے اسکیم کو مکمل کر لیں گے آئی ایم ایف کی شرائط پر قرضے کے لیے مان گیا آئندہ بجٹ میں پرتعیش اشیا پر ٹیکس کو بڑھایا جائے گا بیرونی ملک پاکستانیوں نے دس ارب ڈالر کالے دھن کو سفید کیا لیکن یہ رقم پاکستان نہیں بھیجی جواب ٹیکس ایمنسٹی سکیم ہوگی وہ ایسی نہیں ہوگی اگر یہ پیسہ واپس نہیں آئے گا تو سفید نہیں ہوگا اور یہ آخری ایمنسٹی اسکیم ہوگی-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saif Adeel

Read More Articles by Saif Adeel: 13 Articles with 6079 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Apr, 2019 Views: 657

Comments

آپ کی رائے