بلاعنوان: ایک بے احتیاطی

(Sajid Ali, Mehrabpur)

یونی ورسٹی سے واپسی پرمیں جیسے ہی پوائنٹ سے اترا میں نے تیز تیز قدموں سے چلنا شروع کیا دل ہی دل میں میں سوچ رہا تھا کہ آج میں نے وہ کام کر دیناہے جس کے بارے میں کئی دن سوچ رہا ہوں۔ جلد ہی میں وکیل ہائی کورٹ کی آفس تک پہنچ گیا اور بدحواسی سی کے عالم میں بولنا شروع کر دیا کہ کیا آپ میرا کیس لڑیں گے؟ میں بہت پریشان ہوں ۔اس کے بدلے میں میرے پاس پچیس سوروپے اور میرا موبائل ہے میں وہ آپ کو دے دوں گا۔ وکیل صاحب نے مجھے کہا کہ پہلے بھائی اپنا مسئلہ تو بتاؤ۔۔مجھے اپنی جلدی بازی پر شرمندگی ہوئی اور اپنی غلطلی کا احساس ہوا۔ بہر حال میں نے اپنی سانسیں سنبھالی اور تسلی سے انھیں بتایا کہ قرآنی آیات، احادیث مبارکہ، انبیاء کرام ،صحابہ کرام اور اللہ تعالیٰ کے ناموالے اوراق،رسائل اور اخبار وغیرہ لوگ یوں ہی سڑکوں، گلیوں اور کوڑے کچرے کے ڈھیروں میں پھینک دیتے ہیں ایسا عمل دیکھ کر دل بہت پریشان ہوتا ہے کہ لوگ ان کو کیوں کرنظر انداز کر سکتے ہیں۔میں جتنا ہو سکتا ہے اتنا اپنی مدد آپ کے تحت ان کو اٹھاتا ہوں اور محفوظ جگہ پر رکھتا ہوں لیکن یہ فعل دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔میں اب چاہتا ہوں آپ میری اس سلسلے میں مدد فرمائیں۔ اللہ آپ کو اس اجر دے گا۔ وکیل صاحب تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر بولے۔ آپ نے جس مسئلے کی نشاندہی کی وہ بہت اہم مسئلہ ہے مجھے افسوس ہے میرے ذہن ایسا خیال کیوں نہیں آیا۔ لیکن سمجھ نہیں آرہا کہ اصل میں غلطی کس کی ہے وہ اخبا ر اور رسائل جو ان کو شائع کرے ہیں یا لوگ جو بے احتیاطی سے ان کو پھینک دیتے ہیں۔ لہذا وہ مجھے اپنے ساتھ لیکر گئے اور اپنے چند مزید وکیل دوستوں کے ساتھ ملوایا اور مجھے اپنا مسئلہ بتانے کو کہا میں نے ایک پھر سے ان لوگوں کے سامنے اپنا مسئلہ رکھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے میری بات سن کر جواب دیا کہ اس کے لیے مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے اس کا بہتر حل میرےخیال سے یہ ہے کہ اگر کوئی ایم این اے صاحب اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں اٹھائے اور اس سے متعلق بل منظور کرائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مجھے مایوسی ہوئی کیوں کہ شاید یہ کام میری طاقت سے باہر تھا۔

اور اب مجھے اس مسئلے بارے میں لکھنے کا خیال آیا کیوں نہ یہ مسئلہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کے سامنے رکھوں اور ہو سکتا ان کی مدد سے یہ مسئلہ بالا حکام تک پہچانے میں کامیاب ہو جاؤں اور اس مسئلے کا کوئی خاطر خواہ حل نکل آئے۔

اگر دیکھا جائے اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہماری عدم توجہ ہے۔ ہم اگر دکاندار ایسی اردو زبان والی اخبار ،رسائل اور کتب بطور ردی نہ لے جس میں اللہ، ابنیاء کرام یا قرآنی آیات ہونے کا اندیشہ ہواور ہم ایسی چیزوںمیں سودا سلف لینے سے انکار کریں۔اگر کوئی دکاندار ایسا کرے تو اس سے سودا نہ لیں تاکہ اس کو احساس ہو۔

آپ لوگوں نے ضرور دیکھا ہوگا کہ جوتے بنانے والی معروف ایک غیر ملکی کمپنی نے ایسے نام استعمال کیے اور جیسے ہی اس کا پتا چلا ہم ان نے اس کو سوشل میڈیا پر وائرل کردیا اور لوگوں کو اس فعل کے بارے میں آگاہ کیا۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کو بھی اٹھایا جائے تاکہ لوگ اس مسئلے کو نظر انداز نہ کریں۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sajid Ali

Read More Articles by Sajid Ali: 3 Articles with 602 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Apr, 2019 Views: 176

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ