کرپشن فری AJKاور گوجرز کمپنی؟

(Tahir Ahmed Farooqi, Muzaffarabad)
کرپشن فری AJKاور گوجر ز کمپنی؟

آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا معمول کا اجلاس جاری ہے 13ویں ترمیم کے بعد سال میں 60دن اجلاس کا ہونا لازمی ہے اور جون تک باقی ایام مکمل کرنے کے لیے کارروائی کو طویل وقت تک چلانا ہوگا،اس ایوان کا یہ اعزاز ہے ختم نبوت 13ویں آئینی ترمیم کے قوانین منظور کیے جنکی برکات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ان کے اثرات سے آزاجموں وکشمیر کی ترقی وعظمت اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے بین الاقوامی قومی سطح پر کاوشوں کو منزل ملنے کا امکانات ہیں کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں وزراء کے زیر استعمال آج بھی نصب صدی پہلے انڈیا کے وزیراعظم کے زیرا ستعمال سفید رنگ صابن ڈبی نما والی کاریں ہیں تو زیر سایہ آفیسران کا حال بدتر ہوگا ،پاکستان کے مرکزی وزراء کے زیراستعمال گاڑیوں کی صورت بہت بہتر ہے مگر وہاں بہت بڑے مالیاتی بحران چل رہے ہیں اس لیے لشکار ے بغیر گاڑیاں وغیرہ انکی قسمت ہے ہمارے آزادکشمیر کے مقدر جاگ چکے ہیں اس لیے اسمبلی اجلاس کے پہلے دن سابق صدر وریاست کو اضافی پنشن ادا کرنے کے عمل کو محفوظ بنانے کا ترمیمی قانون پیش کیا گیا ہے جن کو ادائیگیاں پہلے کر دی گئیں قانون کے بعد میں لایا جارہا ہے تو اعلیٰ آفیسران کو اپنی اپنی فیملیوں کے استعمال کے لیے نئی کاریں یوٹیلی بلاتھ دوگنا کرنے باڈی گارڈز دینے کے مطالبات پر بھی سنجیدگی سے غور وعمل ہو کر رہے گا کیونکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو یہ باور کرانا لازمی ہے آزادجموں وکشمیر ایک ترقی یافتہ خوشحال ریاست ہے کم وبیش 30لاکھ آبادی والے اس خطہ کے عوام شہزادوں شہزادیوں کی طرح زندگی بسر کررہے ہیں یہاں کے دس لاکھ سے زائد لوگ برطانیہ سمیت بیرون ممالک اور ملک کے بڑے شہروں میں سرمایہ کاری کرکے انکی معشیت کو چلارہے ہیں ریاست میں ہر مریض کو 24گھنٹے علاج کی بہترین سہولت مفت ادویات اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہر بچہ کو بغیر خرچہ کے حاصل ہے یہاں غریب بھی امیر ہے جسکا گھر کوٹھی اور پانی خوراک امپورئٹڈ ہے شاہرات سے لیکر آب ہوا اور نعمتوں سہولتوں کے اعتبار سے جنت ہے یہاں کوئی کام کرنے کو نہیں ہے کیونکہ کوئی مسئلہ مشکل باقی بچا ہی نہیں ہے اگر ہے تو سرکار کی تعریف میں آنے والے ارباب اختیار زیادہ کام کم اجرت کی وجہ سے عدم توازن کے باعث عوامی خوشحالی ترقی کے مقابلے میں کمزور معاشی معیار کی وجہ سے احساس محرومی سے دوچار ہوجاتے ہیں اس لیے اپنے جہازوں ہیلی کاپٹروں میں سفر کرنے والے عوام کے خدمت گاروں کو کم ازکم ملک کی سب سے جدید گاڑیاں امپورٹڈ پانی خوراک کیلئے دوگنایوٹیلٹی بل پھر ان کیلئے گن مین بھی ہونا چاہیے کیونکہ یہ خطہ کرپشن فری اسٹیٹ ہے یہی وہ طاقت ہے جسکے باعث ازلی دشمن کپکپا ء اٹھتا لہذا دشمن پھر کبھی یہاں کے ان ولیوں کو فضائی حملہ کرکے نشانہ بنانے کی بزدلانہ کارروائی کرے تو گن مین بندوق سے جہاز کو نشانہ بنا کر عبرتناک سبق سکھا سکے اور مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر آزادکشمیر کاصو بہ بن جائے اگر نیب پاکستان ایشن نارکوٹیکس ایف آئی اے یہاں آگے تو انکے نام سن کر یہاں کرپشن شروع ہوسکتی ہے منشیات منی لانڈرنگ سمیت دو نمبر دھندوں کے مراکز کھل سکتے ہیں اس لیے تیرہویں ترامیم سے انکے آنے کے راستے کھلے ہیں تو چودہویں ترامیم لا کر کوہالہ برارکوٹ میرپور بھمبر تمام راستوں پر ویزے کا حصول لازمی قرار دے دیا جائے کہ جسکے پاس ہمارا ویزہ ہوگا وہی داخل ہو سکے گا،خاص کر ہولاڑسے تتہ پانی نکیال کھوئی رٹہ سیکٹر جانیوالی سڑک پر ٹینک مزائل شکن سسٹم لگانا لازمی ہے جہاں چائنہ کی تھر ی گوجرز کمپنی ساڑھے سات سو میگاواٹ کے ہائیڈرل پراجیکٹ پر کام کررہی ہے جسکے ناقص ٹرکوں سے اعلیٰ معیار کی سنگ مرمر سڑک کو بہت نقصان پہنچا ہے ان کو ہوائی جہازوں میں سب کچھ لانا چاہیے تھا تاکہ سنگ مرمر سے منور شاہراہ کو دکھ درد صدمہ لائق نہ ہوتا ہمارے کسٹم فری سات ہزار سے زائد جہازوں کو اس کام کے لئے منتقل کر دیں جن کو اسٹیٹس کو آڈر مل گیا ہے انصاف قانون کی بالا دستی قائم ہوئی ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 71270 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Apr, 2019 Views: 327

Comments

آپ کی رائے