بھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحد پار تجارت کیوں معطل کی؟

بھارت نے اعلان کیا کہ وہ بھارتی زیر انتظام اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے درمیان سرحد کے آر پار تجارت کو معطل کر رہا ہے۔ بھارت کا الزام ہے کہ اسے غیر قانونی ہتھیار بھارت پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
 


بھارت نے جمعرات 18 اپریل کو اعلان کیا کہ وہ متنازعہ خطے کشمیر کے بھارتی اور پاکستانی زیر انتظام حصوں کے درمیان تجارت کو معطل کر رہا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان انٹیلیجنس رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا ہے جن کے مطابق اس سہولت کو غیر قانونی ہتھیار، منشیات اور جعلی کرنسی سرحد پار پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بھارت اور پاکستان نے تنازعات کے باوجود دونوں ممالک کے زیر انتظام کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کا سلسلہ بحال رکھا ہوا تھا۔ دونوں حصوں کی عوام کے درمیان یہ تجارت دو مختلف تجارتی راستوں کے ذریعے ہر ہفتے چار مرتبہ ہوتی تھی۔ یہ تجارت بارٹر سسٹم کے تحت ہوتی رہی ہے جس پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں۔

بھارت کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ حالیہ انٹیلیجنس رپورٹس سے یہ سامنے آیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کو غیر قانونی طور پر رقم، منشیات اور ہتھیاروں کی آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

رواں برس فروری میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ایک خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے 40 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان کو دی گئیں تجارتی مراعات کو ختم کر دیا تھا۔
 


بھارت کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ پاکستان میں موجود عسکریت پسند تنظیم جیش محمد کی کارروائی تھی جس کے بعد فروری کے آخر میں بھارت نے پاکستانی علاقے بالاکوٹ کے قریب ایک فضائی حملے میں اس تنظیم کے ایک مبینہ تربیتی مرکز کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ اس بھارتی کارروائی کے نتیجے میں پاکستان نے بھی بھارتی زیر انتظام کشمیر میں فضائی کارروائی کی اور اس دوران ایک بھارتی طیارہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں مار گرایا تھا۔


Partner Content: DW

Reviews & Comments

Language: