ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کی اوقات

(Idrees Jaami, )

کالم کا آغاز آج کے دن کی مناسبت سے مزدور کی فریاد سے کرتاہوں
ہاتھ اور پاؤں بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبو س بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں
فخر کرتا ہوں کہ کھاتا ہوں فقط رزق حلال
اپنے اس وصف قلندر پہ تو مغرور ہوں میں
سال تو سارا ہی گمنامی میں کٹ جاتا ہے
بس یکم مئی کو یہ لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
بات سنتا نہیں میری کوئی ایوانوں میں
سب کے منشور میں گو صاحب منشور ہوں میں
اپنے بچوں کو بچاسکتا نہیں فاقوں سے
ان کو تعلیم دلانے سے بھی معذور ہوں میں
یوم مزدور ہے ، چھٹی ہے ، مرا فاقہ ہے
پھر بھی یہ دن تو مناؤں گا کہ مزدور ہوں میں
مجھ کو پردیس لئے پھرتی ہے روزی واصف ـؔ
اپنے بچوں سے بہت دور بہت دور ہوں میں
یہ درست ہے کہ شعر و ادب کے سماجی سروکار بھی بہت واضح رہے ہیں اور شاعروں نے ابتداء ہی سے اپنے آس پاس کے مسائل کو شاعری کا حصہ بنایا ہے البتہ ایک دور ایسا نمودار ہوا جب شاعری کو سماجی انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا اور سماج کے نچلے ، گرے پڑے اور مزدور ، محبت کش مجبور فقہور بے بس بے کس طبقے کے مسائل کا اظہار شاعری کا بنیادی موضوع بن گیا ۔ پنچائیت کے قارئین کرام آپ ان شعروں میں دیکھیں گے کہ مزدور طبقہ زندگی بسر کرنے کے عمل میں کس کرب اذیت اور دکھ درد سے گزرتا ہے اور اس کی سماجی حیثیت کیا ہے؟مزدوروں پر کی جانے والی شاعری کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب یوم مئی 2019کے حوالے سے پڑھیے
آج بھی سپرا اس کی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
میں لوہے کی نا ف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں ( تنویر سپر ا)
اب تک مرے اعصاب یہ محنت ہے مسلط
اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے (تنویر سپرا )
اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آوا ز مت کرنا
بہت تھک ہار کرفٹ پاتھ پر مزدور ہوئے ہیں ۔ (نفیس انبالوی)
بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے
رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہوجاتے ہیں (منور رانا )
دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر
مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے (نشور واحدی )
دنیا میری زندگی کے دن کم کرتی جاتی ہے کیوں
خون پسینہ ایک کیا ہے ، یہ میری مزدوری ہے (منموہن تلخ)
بلاتے ہیں ہمیں محنت کشوں کے ہاتھ کے چھالے
چلو محتاج کے منہ میں نوالہ رکھ دیا جائے (رضا مورانوی)

مزدور کے ہاتھوں کے چھالوں سے مفسر قرآن شیخ الحدیث مولانا عبید اﷲ سندھی کا قول یاد آگیا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ مزدور کے ہاتھوں پہ پڑے چھالے ، ملاں کی پیشانی پہ پڑے سجدوں کے نشان سے زیادہ مقدس ہیں مزدور کے چھالوں کا تذکرہ خیرا ہوا تو سرور کائنات ﷺ کا عمل یاد آگیا ۔ ایک بار ای کشخص آپ ﷺ کے پاس آیا اس کے ہاتھ کھردرے اور سخت تھے ۔ آُ ﷺ نے اس شخص سے دریافت کیا کہ محنت کش ہو؟ کیا کرتے ہو ؟ اس شخص یعنی محنت کش نے جواب میں عرض کیا اے رسول خدا پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کر گزر بسر کرتا ہوں ۔ ہ سن کر سرور کائنات نے اس محنت کش مزدور کے ہاتھ چوم لیے ۔ اب شاعری سلسلے کی طرف چلتے ہیں ۔
خون مزدور کا ملتا جو ننہ تعمیروں میں
نہ حویلی نہ محل اور نہ کئی گھر ہوتا (حیدر علی جعفری)
کچل کچل کہ نہ فٹ پاتھ کو چلواتنا
یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں (احمد سلمان )
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی (افضل خان)
تو قادرو عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کی اوقات (علامہ اقبال )
علامہ اقبال بھی کتنا بڑا دانشور تھا کہ جبر کے ہاتھوں مجبور کو مذکورہ بالا الفاظ لینن کو خدا کے حضور پیش کرکے کہلوائے مگر یہ اس کی شاعری بصیرت تھی وگرنہ وہ تو جبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار تھا وہ مغرب کے استعماری اور سرمایہ دارانہ نظام کو انسانیت کے لیے ایک لعنت تصور کرتے تھے اور سرمایہ کی ضد کارل مارکس اپنے انقلابی تصوارات کی وجہ سے وہ دنیا بھر کے محنت کشوں ، مزدوروں ، غریبوں کے حقوق کے لیے ایک ایسی موثر اور توانا آواز بن کر ابھر ا کہ بے ساختہ علامہ اقبال نے اس کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’نسیت و پیغمبرو لیکن در بغل دار د کتاب ‘‘

اقبال کارل مارکس کے بارے میں کیوں نہ لکھتا کیونکہ مارکس ان آفاقی شخصیات میں سے ایک ہے جس نے وقت کا رخ پھیرا ۔ تاریخ کا دھارا بدلا۔ خیالات کی دنیا ، دانش کی دنیا میں ہلچل بپا کردی ۔ اقطائے عالم کو امیر غریب کے دوحصوں میں تقسیم کردیا ۔ ڈاون نے اگر مرد اور عورت پر روشنی ڈالی تو مارکس نے سرمایہ دار اور محنت کش طبقہ کی بات کی ۔ علامہ اقبال مارکس کے نظریات کی سپورٹ کیسے نہ کرتا کیونکہ مارکس کی 1867میں لکھی ہوئی کتاب ’’داس کیپٹل ‘‘ دنیا بھر کے محنت کشوں ، دہقانوں ، مزدوروں اور مظلوم طبقات کے لیے انجیل مقدس بن گئی ۔ مارکس نے نئے تصورات روشناس کئے ۔ طبقاتی کشمکش ، افراط ِ زر کا نظریہ ، استحصال کی تھیوری ، پرولتاریہ کی حکومت ، ریاست کی تحلیل مارکس نے نہ صرف انیسویں صدی بلکہ بیسیوں کو اپنی فکر و فلسفہ سے متاثر کیا ۔ شاعر مشرق علامہ اقبال روس کے انقلاب سے بہت متاثر ہوئے علامہ اقبال نے 1917کے روشی انقلاب پرتپاک خیر مقدم فرمایا ۔
آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا
آسمان ٹوٹے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک
ایک اور جگہ کہتے ہیں
یہ وحی و ہریت روس پر ہوئی نازل
کہ توڑ ڈال کلیسائیوں کے لات و منات
اقبال ایک طاقت ورلفظ وحی استعمال کررہے ہیں جو منجانب خدا نازل ہوتی ہے ۔ اقبال لات و منات جیسے بتوں کی مثال بھی دے رہے ہیں کہہ رہے ہے کہ انہیں پاش پاش کر دو جس طرح اسلامی تاریخ میں مکہ کے انقلاب یعنی فتح مکہ کے بعد رسول اکرم ﷺ نے حرم سے تین سو ساٹھ بتوں بشمول لات و منات کو ہٹا ڈالا ۔ یہی روس کی روح انقلاب ہے ۔ اقبال اپنی ایک نظم اشتراکیت میں واضح طور پر فرماتے ہیں کہ جو بات خدائے تعالی نے حرف قل العفومیں ارشاد فرمائی ہے ۔ اس کی عملی صورت گری روس میں آشکار ہونے لگی ہے ۔ یعنی سماجی مساوات و عدل و انصاف ، سیاسی اقتصادی ، سماجی و مذہبی استحصال سے انسانیت کو نجات ، علامہ اقبال کے روح پرور اشعار کا دیدار کیجیے
قوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے معلوم
بے سود نہیں روس کی یہ گرمئی گفتار
اندیشہ ہوا شوخی افکار یہ مجبور
فرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا بیزار
انساں کی ہوس نے جنہیں رکھا تھا چھپا کر
کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج و اسرار
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اﷲ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
جو صرف قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار
اقبال کے اشعار آتش و شرارے اگلنے لگتے ہیں ۔ ان میں ایک عتاب و جلال پیدا ہوجاتا ہے ۔ اقبال اپنے خیالات خدا کی زبان شاعری تصور سے کہلواتے ہیں اس انقلابی نظم کا عنوان ہے فرمان خدا فرشتوں سے
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخ امراء کے درو دیوار ہلادو
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
میں نا خوش بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لئے مٹی کا حرم اور بنادو
علامہ اقبال تو یہاں تک کہتے ہوئے نہیں چوکتے
بہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھادو
ایک آتش فشاں لاواہے جو ابل رہا ہے
چاہتا ہے کہ امیروں کو قصر و ایواں کو جلاکر بھسم کردے فرسودہ و کہن نظام کو جلاکر خاکستر کردے
سرمایہ دارارانہ نظام بوسیدہ ہوچکا آج دنیا عالمی معاشی بحران کا شکار ہے ۔ یہ فرسودہ نظام دنیائے انسانیت کو تیسری عالمی جنگ کی طر ف دھکیل رہا ہے ۔ ایک نئے عادلانہ نظام نو کی تخلیق کی جائے ، جہاں محنت کش کیا ہر فرد بشر کو روٹی کپڑا،مکان دستیاب ہو ۔ ہر چہرے پر تبسم ہو ، ہر آنکھ میں خوشی کے چراغ ہوں ۔ سوسائٹی ہر نوع کے ظلم و ستم اور استحصال سے محفوظ رہے ۔ بد قسمتی کہ پاکستان اس کسوٹی پر اترا اور نہ ہی ہندوستان و افغانستان بن کر آئیڈیل سٹیٹ یہ ایک تصور ہی رہ گیا ۔

یو ں تو علامہ اقبال کی شاعری کے ہر دور میں ہمیں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور بندہ مزدور کے حق میں بہت سی نظمیں ملتی ہیں لیکن ان کی طویل نظم ’’خضرراہ ‘‘، میں ’’سرمایہ و محنت ‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت لکھے گئے سو یہ چند اختتامی اشعار یکم مئی 2019کی نذر ۔
بندہ مزدور کو جاکر میرا پیغام دے
خضر کیا پیغام کیا ہے یہ پیام کائنات
دے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
دست دولت آفریں کو مزدیوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں ترے دور کا آغاز ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Idrees Jaami

Read More Articles by Idrees Jaami: 24 Articles with 7861 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 May, 2019 Views: 273

Comments

آپ کی رائے