آفتاب احمد کی شاعری :چند تاثرات

(Aziz Malik, Faisalabad)

C.Day Lewisنے "A hope for Poetry''میں شاعری کو جادو کی دختر نیک اخترخیال کیا ہے اور سائنس اور شاعری کا موازنہ کرتے ہوئے انھیں ایک دوسرے کے لیے معاندانہ رویوں کا حامل ٹھہرایا ہے،کیوں کہ جادو اس کائنات کی شخصی ترجمانی ہے اور سائنس غیر شخصی عقلی تشریح ہے۔ایسا زمانہ جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی تیزی سے انسانی زندگی میں داخل ہو رہی ہوں ،وہاں شاعری کے اثرات کمزور پڑجاتے ہیں اور چیزیں احساس سے زیادہ عقل اور منطق کے تابع ہونا شروع ہو جاتی ہیں ،لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا ضروری نہیں ۔ انسان چاہے کسی بھی دور میں زندہ ہو وہ اپنے بنیادی فطری تقاضوں سے رو گردانی نہیں کر سکتا ،احساس اس کا فطری ورثہ ہے اور تخلیقیت اُس کا اظہار ۔ سائنسی افکار ہو ں یا سیاسی نظریات شاعری میں اتنی طاقت موجود ہوتی ہے کہ وہ انھیں خود میں جذب کر کے شعورِ عام کا حصہ بنا دے ۔ دورِ حا ضر جسے سائبر عہد کا نام دیا جا سکتا ہے ،میں ٹیکنالوجی اور ابلاغ کے تیز ترین ذرائع نے جو معجزات دکھائے ہیں، انسان کے طرز فکرو احساس میں بھی اسی رفتارسے تغیرات رونما ہو رہے ہیں ۔اس دور میں شاعر کے حسی ادراکات کا دائرہ اب وہ نہیں رہا جو گزشتہ ادوار میں موجودتھاتخلیق کار کو چاہیے کہ وہ اب گل و بلبل اور لب ورخسار کے استعاراتی نظام سے ایک قدم آگے بڑھ کر انسان کے احساس کو تخلیقیت کا روپ دے جس میں روایت اور جدت کا امتزاج بھی ہو اور نئے دور کے انسان کے احساسات کی ترجمانی بھی ہو ۔

’’ مختلف‘‘آفتاب احمد کا حال ہی میں مثال پبلیشرز،فیصل آباد سے اشاعت پذیر ہونے والا ایسا ہی شعری مجموعہ ہے جو سائبر عہد کے انسان کے احساسی پہلوؤں کی نہ صرف عکاسی کرتا ہے بلکہ شاعری کی اس روایت سے انحراف بھی ہے جو گل و بلبل اورلب ورخسار کے استعاراتی نظام پر مبنی ہے ۔’’ مختلف‘‘کی شاعری میں جہاں ابدی اورآفاقی حقائق تخلیقی تجربے کے پیش منظر کاحصہ بنے ہیں وہاں زمینی حقائق اور اس کے تلازمات اس کے پس منظر میں اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں یوں آفاقی اورمقامی دنیا کے سنگم پر براجمان آفتاب احمد دودنیاؤں کاترجمان ہے ،وہ مقامیت کا حامل ہونے کے باوجود آفاقی ہے اور اس کی آفاقیت میں مقامیت کا رنگ بھی نظر آتا ہے،ٹی ایس ایلیٹ کے تصورِ روایت کے تحت اس کی شاعری روایت سے جڑی ہونے کے باوجود جدت کی آئینہ دار ہے ۔پرانی اور نئی دنیا کے امتزاج میں ہی اس کی شاعری کی انفرادیت کاراز پوشیدہ ہے جس کی بنیاد پر انھیں دیگر شعرا سے مختلف قرار دیا جا سکتا ہے ۔مثلا ً کچھ اشعارملاحظہ ہوں:
جدا آئینہ خانہ ہے کہ پرتو مختلف ہے
یہاں جو عکس ہیں ان سے مری لو مختلف ہے
تری دنیا ئے درینہ بھی ہو گی منفرد سی
مرا تشکیل کردہ عالمِ نو مختلف ہے
نئے پہلو سے کرتا ہوں نظارہ شش جہت کا
برائے فکرو فن میری تگ و دو مختلف ہے
نئے پہلو سے برتا ہے نظام حرف و معنی
مرے ابجد کا احمد جو الف ہے مختلف ہے

یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب کوئی شاعر اندھی تقلید سے دامن بچا تے ہوئے کھوکھلی شان و شوکت اور رعب انگیز اشعار کہنے کی سطحی خواہش کے سامنے سر نگوں نہیں ہوتا ۔ اس کے اصول کار، قوانین اور اس کے ذوق کا سر چشمہ اس کی اپنی طبیعت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ دیگر تخلیق کاروں اور سماجی ماحول سے خود کو من مانے طور پر علاحدہ بھی نہیں کرتا ۔وہ فن سے اپنے خلوص اورخود مختاری کے اظہار میں خاموشی سے ہر شعبہ علم وفن کے مدرسے سے اخذ و استفادہ کرتے ہوئے پامال راستوں پر گامزن ہونے کے بجائے نئے راستے تلاش کرتا ہے،اس میں اگر اس کی کوئی تقلید نہیں کر سکتا تو اسے مختلف کہنے میں کیا حرج ہے۔ آفتاب احمد کی ’’ مختلف‘‘ اسی لیے مختلف ہے کہ اسے ہر وقت اپنے شاعر ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کی فکر دامن گیر نہیں ،وہ اپنے فن کا صبر و تحمل اور عجز و انکسار سے مطالعہ کرتا ہے اور فن کی شعبدہ بازیوں سے رو گردانی کرتے ہوئے یہ منوانے کی کوشش نہیں کرتا کہ میں کوئی جادو گر یا ماورائے حقیقت صلاحیتوں کا مالک ہوں۔ اس کی شاعرانہ از خود رفتگی کی کیفیتیں انسانی فطرت کے قوانین کے تابع ہیں اور اشعار کی بدولت قارئین کے دلوں میں مانوس کیفیات کا احسا س پیدا کرتی ہیں ۔ وہ اپنے تخیل کو صداقت شعار رکھتا ہے اور خلائے محض سے عنقا تخلیق نہیں کرتا۔جو چیز یں عالمِ ادراک سے ماورا ہیں ان کی رمز کشائی کا وہ دعویدار نہیں۔آفتاب کی شاعری ان چیزوں کا اظہارہے جو انسانی تجربے کا حصہ ہیں اور عالمِ اسباب سے باہر نہیں ۔
مجھے کتنا اپاہج کر گیا ہے
ملا جو عالم ِ اسباب مجھ کو
ساکن اسے سمجھی تھی مری آنکھ کی کائی
ٹھہرے ہوئے پانی کو جو دیکھا تو رواں تھا
چہار سمت مرے رو برو تھے آئینے
میں ایک ہو کے یہاں بے شمار ہونے لگا
میں گھومتا ہوں اور ہی گردش میں آفتاب
Sمجھ کو یہ صبح و شام کا چکر بھی کچھ نہیں

عقلیت ہمیشہ صداقت کی تلاش میں سر گرم رہتی ہے لیکن علم کی بعض اقسام ایسی ہیں جو شعوری ہونے کے باوجود اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتیں کہ انھیں عقل کے دائرے میں لایا جا سکے،مثلا جذبات و احساسات،محبت ،غصہ ،غم اور ذائقہ وغیرہ جن کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن بیان نہیں ۔یہ کام انسان کا ذوقِ سلیم سر انجام دیتا ہے جو عقل کے بجائے احساس کی سطح پر علم کے ابلاغ کا فریضہ سر انجام دیتا ہے۔یہاں قطعاً عقل کو شاعری سے منہا کرنا مقصد نہیں بلکہ منطقی عقل کے بجائے وجدانی عقل کی کارفرمائی پر زور دینا مقصود ہے ۔ان سے ہٹ کر حسِ اعتدال بھی موجود ہوتی ہے جو انتہاؤں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے،یہ اخلاقی حس سے اتنا قریب تر ہے کہ ارسطو نے اِس کے لطیف اعمال کو اخلاقی محاسن میں شمار کیا ہے۔ انتہاؤں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا عمل قوتِ متخیلہ کی کار فرمائی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ایس ٹی کالرج کے خیالات کی روشنی میں دیکھا جائے تو تخیل واقعیت کو مخصوص طریقے سے اولیٰ اور ثانوی تمثالوں میں بدل دیتا ہے کہ تجربے کے متضاد یا مختلف عناصرفن کار کی تخلیق کردہ نظم میں باہم مربوط ہو جاتے ہیں۔اس موقع پر معروف سر رئیلسٹ آندرے بریتوں کے نظریے کوجس میں شاعری کا قدرتی طریقہ اظہار خالص نفسیاتی خود عملی ہے اور اس کا منطقی ضمیمہ اضطراری تحریر تھا، بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ کہ سکتے ہیں کہ خود عملی اور اضطراری کارروائی آزادی کی ضمانت نہیں دیتی بلکہ اس کا نتیجہ انتشار اور بد عملی کی صورت بر آمد ہوتا ہے۔آفتاب احمد کی قوتِ متخیلہ نے ’’مختلف‘‘ کی شاعری میں حسن کو مجسم کیا ہے اور ایسے تمثال یا پیکر تخلیق کیے ہیں جو اشیائے عالم کی حقیقت اور وجودی داخلیت دونوں کو محیط ہیں :
روز اک نقش بناتا ہوں مٹا دیتا ہوں
ذوقِ تعمیر میں تخریب بھی پالی ہوئی ہے
آفتاب اپنی چمک چاند کو سونپی میں نے
بجھ کے بھی رات بہر حال اجالی ہوئی ہے
یہ جو ہر سمت خدو خال نظر آتے ہیں
یہ سراسر کسی آئینے کی عریانی ہے
اشک برسیں گے تو کچھ خواب بھی اگ آئیں گے
کیا کروں آنکھ کا خطہ مرا بارانی ہے

C.D Lewisنے The Poetic Images میں تمثال کو شاعری کا مستقل عنصر خیال کیا ہے۔سولہویں اور سترہویں صدی کی انگریزی شاعری میں نقاد تمثال کو شاعری کے لیے سطحی آرائش سے زیادہ وقعت نہیں دیتے تھے لیکن جب ادب میں رومانویت نے فروغ پایا تو تمثال ،شاعری کی روح تصور کی جانے لگی۔چوں کہ ہر شاعرانہ تمثال کسی نہ کسی حد تک استعارے کی خصوصیت رکھتی ہے اور استعارہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس میں شاعر اشیا ء اور محسوسات کے باہمی تعلق کو قاری کے ذہن تک منتقل کرتا ہے ،اسی لیے جاندار اور وقیع تمثال کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ندرت، ایجاز اور جذبہ انگیزی کا عنصر شامل ہو ،مزید براں ہمیں رابرٹ گریوز کی رائے کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا ہو گا جس میں وہ کہتا ہے کہ انگریزی شاعری کے سب سے نمایاں پیکر وہ ہیں جو لامسہ ،ذائقہ اور شامہ کو متحرک کردیں ۔ اردو شاعری میں زیادہ تر تمثال نگاری کا رجحان بصری اور صوتی رہا ہے ۔آفتاب احمد کے ہاں پیکر اور استعارے کا امتزاج اس طرح سامنے آیا ہے کہ ایک ہی لفظ بیک وقت استعارہ بھی ہے اور پیکر بھی جو اس کے تخلیقی عمل کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے ۔جدید شاعروں میں ن۔م راشد کے ہاں استعاراتی نظام فیض کی نسبت زیادہ مضبوط اور جاندار ہے جب کہ فیض کے ہاں پیکر تراشی کا عنصر نمایاں ہے جو داخلی منظر کو ابھارنے میں مہارت رکھتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں بصری تمثالیں زیادہ موجود ہیں ،میرا جی اردو شاعری میں واحد شاعر ہیں جو پیکر تراشی میں پانچوں حواس پر قدرت رکھتے ہیں۔آفتاب احمد کے ہاں بھی پیکر تراشی مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوئی ہے اور وہ بھی متعدد حواس سے تمثال مہارت سے برتتے ہیں ،جس کے باعث ان کی شاعری رمزیت، جاذبیت اور اثر آفرینی ایسی خصوصیات کی حامل ٹھہرتی ہے ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں :
نہیں ہے مجھ سے ہی خوشبو کا سلسلہ قائم
یہاں کے پھول بھی سینے پہ گھاؤ رکھتے ہیں
یہ پیڑ مجھ سے اگرچہ گریز پا ہیں مگر
ادھر نہیں ہیں ،جدھر کو جھکاؤ رکھتے ہیں
یہ بات آج کناروں نے مجھ کو بتلائی
جو سست ہیں وہی دریا کٹاؤ رکھتے ہیں

درج بالا پہلے شعر میں خوش بُو اور پھول حسِ شامہ سے متعلق ہیں دوسرے شعر میں پیڑ ، گریز پائی اور پیڑوں کے جھکاو ٔ کااندازہ بصارت کے بغیر ممکن نہیں،تیسرے شعر میں بات بتانا ،حسِ سماعت سے متعلق ہے یوں آفتاب احمد نے شامہ ، بصارت اور سماعت کے حواس سے حسی ادراکات تخلیق کیے ہیں جو کسی کمزور تخلیقی قوت کے حامل تخلیق کار کے ہاں خال خال موجود ہوتے ہیں اور اگریہ حسی ادراکات موجود ہوں بھی تو تو اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ تخلیقی سطح سے نیچے گر جاتے ہیں ۔تخلیق کارکے ہاں تمثالیں جتنی نادر،فطری ،مؤثر اور دلچسپ ہوں گی اتنی ہی اس کی شاعری دل آویز،حیرت زا،مسرت بخش اور جمالیاتی حس کی تسکین کا باعث ہو گی۔تمثال کاری سے عاری شاعری میں نہ صرف تاثیر معدوم ہوجاتی ہے بلکہ دریافت کے عمل کی فرحت بخش حیرت کا خاتمہ بھی ہو جاتا ہے اور شاعری نثر کے قریب چلی جاتی ہے۔ آفتاب احمد نے بھی اپنی شاعری میں الفاظ کی مدد سے ایسی تصاویر ابھارنے کی کوشش کی ہے جس سے ان کے کلام میں معنوی تہہ داری کے ساتھ ساتھ تاثیر ، ندرت اور دل آویزی پیدا ہوئی ہے جو قاری کے جذبوں کو برانگیخت کرتی ہے۔آفتاب احمد کی تمثال نگاری تجربے کی ایک سے زیاد سطحوں کو روشن کرتی ہے اور شعر میں تصویریت و معنویت کا اختلاط زندگی کی پیچیدگیوں کو خوب صورتی کے ساتھ منعکس کرتی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ آفتاب احمد لفظوں کا مجسمہ ساز ہے،اسے الفاظ سے پیکر تراشنے میں خاص مہارت ہے تو غلط نہ ہو گا ۔

آفتاب احمد کی شاعری میں لفظ محض لفظ نہیں بلکہ وہ ایک درجہ آگے بڑھ کر وجود کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں ۔۱۹۶۰ء کی دہائی کے بعد سے لے کر اب تک اردو شعرا کے ہاں لفظوں کی اسی حقیقت کا ادراک نمایاں ہوا ہے کہ شاعری میں الفاظ محض ترسیلی فریضہ سرانجام نہیں دیتے بلکہ خود شے کا درجہ اختیار کر کے جمالیاتی تفاعل سر انجام دینے لگتے ہیں۔یہی وجہ ہے گزشتہ نصف صدی میں لفظ اور معنی کے تعلق کے مباحث ناقدین کے ہاں زیادہ اہم رہے ہیں۔وہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کچھ الفاظ اور استعارات تخلیق کار کے ہاں مرکزی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔کلیدی اور مرکزی اہمیت کے حامل ان الفاظ کی پہچان اور تفہیم درحقیقت تخلیق کار کی شاعری کی تعبیر و تفہیم میں معاون ہوتی ہے۔شاعر کسی خاص مقصد کے تحت ایک لفظ کو استعمال کرتا ہے اور استعمال کی متنوع نوعیتوں سے اس لفظ میں استعاراتی روح داخل کر دیتا ہے۔مثلاً اقبال کے ہاں خودی ، بے خودی اور عشق کے الفاظ کلیدی اور مرکزی اہمیت کے حامل ہیں اسی طرح آفتاب احمد کے ہاں بھی کچھ لفظ ،استعارہ ،علامت اور پیکر کی صورت میں خاص معنوں میں استعمال ہوئے ہیں مثلاً آگ،شعلہ ،چراغ ،دریا ،پانی ،آنکھ ،آئینہ ،خال و خد ،عدم اوروجود وغیرہ ۔ان میں سب سے نمایاں آگ کا استعارہ ہے ۔ آگ جو حرارت اور حرکت کی بنیاد ہے ، یونانی فلسفے میں تو کائنات کی تخلیق میں آگ کلیدی عنصر کے طور پر موجود ہے ،ایس کائی لس کا معروف کردار’پرومی تھیوس‘ جس نے خداؤں کے خدا ’زیوس‘ کا راز چوری کیا،وہ راز دراصل عوام کو آگ کا استعمال سکھانا تھا جس پر وہ’ زیوس ‘کے عتاب کو شکار ہواور اسے پہاڑ کی چوٹی پر باندھ کر گدھ مسلط کر دیے گئے۔ہندوستان میں ویدک عہد کی مذہبی رسوم میں آگ اور سوختہ قربانی کی روایت خاصی مضبوط رہی ہے ،لوگ اگنی دیوتا کی صورت میں آگ کی پوجا کرتے آئے ہیں ۔ایران کی سر زمین پر آگ کے تقدس اور پاکیزگی کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ تصوف میں بھی آگ کا استعارہ بکثرت استعمال ہوتا ہے ۔رومی نے محبت کو آگ کا شعلہ قرار دیا ہے جوبھڑکتا ہے تو سوائے خدا کی ذات کے باقی کچھ بھی نہیں بچتا ۔کبیر داس سچ کی تلاش کو آگ میں جلنے کے مترداف خیال کرتے ہو ئے کہتا ہے کہ اگر تم مخلص ہو تو اس آگ میں جل کر کندن ہو جاو ٔگے نہیں تو راکھ ،با با فرید نے بھی تو کہا ہے کہ سچا عاشق وہ ہے جو خود کو موم بتی کی طرح جلاتا ہے اور روشنی پاتا ہے،آگ ہی سے تو روشنی پھوٹتی ہے اور آگ کا منبع آفتاب ہے ،جو نہ صرف حرارت مہیا کرتا ہے بلکہ روشنی سے زمینی دنیا کو منور بھی کرتا ہے ۔حیرت کی بات کہ ’’مختلف‘‘کے شاعر کا تخلص بھی آفتاب ہے شاید یہی وجہ ہے اس کی شاعری میں آگ، روشنی ، راکھ اور شعلہ کے الفاظ بار بار آتے ہیں ،جو زندگی کی حرارت اورحرکت کی جانب اشارہ کرتے ہیں :
بھڑک اٹھی ہے ایسی آگ مجھ میں
کہ میں جل کر دھواں ہوں بھی ، نہیں بھی
میں شب کی کوکھ سے نکلا تھا روشنی بن کر
اب آفتاب دمِ واپسیں ،بجھا ہوا ہوں
آگ تو ہو جاتی ہے ٹھنڈی
راکھ میں شعلہ رہ جاتا ہے
بے یقینی ہے یقیں میں شامل
آگ کے ساتھ دھواں آتا ہے

یونانی دیومالا کے مانندہندی دیو مالا میں بھی آفتاب کوکلیدی حیثیت حاصل رہی ہے،جسے ’سریا‘ اور ’ساوتری‘ کے ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔رگ وید میں آفتاب کو تمام دیوتاؤں کی آنکھ خیال کیا گیا ہے۔اسی طرح ویدوں کے مقدس ترین منتر’’گائتری‘‘ کا ورد طلوعِ آفتاب کے وقت ہی کیا جاتا ہے جس میں سورج کو مخاطب کر کے روحانی معجزات کے حصول کی دعا مانگی جاتی ہے کیوں آفتاب کے عروج سے تما م جانداروں کے جسم میں قوت اور نشوو نما کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔زرعی پیداوار بھی سورج کی روشنی کی رہینِ منت ہے ،ضیائی تالیف کا عمل روشنی کے بغیر وقوع پذیر ہونا ناممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ قدیم ترین تہذیبوں سے لے کر دورِحاضر تک آفتاب انسانی زندگی میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ چاند، ستارے ،روشنی سبھی اس کے تابع ہیں
میرابدل نہیں ہیں ستارے،قمر ،چراغ
میں آفتاب ہوں مرا ثانی تو ہے نہیں
روشنی کے لیے سورج بھی کہیں سے لاؤ
دن نکلتا ہے کہاں رات کے چھٹ جانے سے
میں گھومتا ہوں اور ہی گردش میں آفتاب
مجھ کو صبح و شام کا چکر بھی کچھ نہیں

ن م راشد ،میراجی ، علی سردار جعفری اور رابندر ناتھ ٹیگور کی شاعری میں سورج ،چاند اور روشنی کے استعاروں کو اپنے اپنے مخصوص اندااز میں برتا گیاہے ،آفتاب احمد نے اس تسلسل کو آگے بڑھایا ہے ۔سورج سے متعلق ہزاروں قصے کہانیاں مذہبی کتب ، داستانوں ، ناولوں ،افسانوں اور ڈراموں کے توسط سے ہم تک پہنچتے ہیں ،جب تخلیق کار سورج ، آگ ،شعلہ ، راکھ ،روشنی ،چاند ،ستاروں ، رات ، چاندنی اور خوابوں کے الفاظ تخلیقات میں کرتا ہے تو اس سے قاری کا اجتماعی لاشعور بیدار ہو جاتا ہے اور وہ خودکوقوتِ متخیلہ کے زور پر ایسی فضا میں محسوس کرتا ہے جو اس کے ماضی کی دنیا ہے۔

آفتاب احمد کی شاعری میں استعارے اور علامتیں خاص توجہ کی طالب ہیں کیوں کہ یہی وہ الفاظ ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر اپنی ڈکشن میں کیا معنی رکھتا ہے،یہ الفاظ کیا ہیں ، کیا کام کرتے ہیں ان کا معاصر تہذیب سے کیا رشتہ ہے اور شاعر کے ہاں کن معنوں میں مستعمل ہیں یہ وہ سوالات ہیں جو آفتاب احمد کی شاعری کی تفہیم میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔جیسے اقبال کے ہاں زمانہ ، شاہین ، ستارہ ، آسمان ،شیطان ، خدا اور مومن کے الفاظ بار بار استعمال ہوئے ہیں اور یہ معنی کامخصوص نظام تشکیل دیتے ہیں ۔آفتاب احمد کے ہاں بھی مخصوص الفاظ کا استعمال ہوا ہے اب نقاد کا فریضہ ہے کہ وہ ان مخصوص الفاظ کی اہمیت اور معنویت پر غور کرے اور یہ بھی دیکھے کہ شاعر مخصوص تراکیب اور الفاظ شعوری طور پر استعمال کرتا ہے یا لاشعوری طور پر ۔آفتاب احمد نے جو استعاراتی اور علامتی نظام تشکیل دینے کی سعی کی ہے اس میں آگ،شعلہ ،چراغ ،دریا ،پانی ،آنکھ ،آئینہ،خال و خد ،عدم اوروجود وغیرہ کے الفاظ بار بار آئے ہیں لیکن پوری شاعری میں مے اور مے خانے کے تلازمات کو کہیں ایک جگہ بھی بطور استعارہ استعمال نہیں کیا ، حالاں کہ شاعر شراب اور مے خانے کی تراکیب کو شاعری میں استعمال کرنا پسند کرتے ہیں لیکن آفتاب احمد نے لگتا ہے اس سے شعوری اجتناب کیا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 317 Print Article Print
About the Author: Aziz Malik

Read More Articles by Aziz Malik: 4 Articles with 1813 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: