راز داران ادب

(Rashid Mehmood, Al Khobar)
عالمی مرکز اردو فرع ریاض سعودی عرب میں منعقد ایک ادبی نشست کی روداد جس میں معروف شعرا اکرام ادیب اور نقاد شامل ہوئے،

دشت ادب میں چھپے خزانوں کی تلاش ہمیشہ جاری رہتی ہے اور اکثر نہایت بیش قیمت ادبی لعل و گوہر ملتے ہیں جن کی علمی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور انکی ادبی سبیل سے ہم سوں کی تشنگی سیراب ہوتی ہے اسی تلاش کی کوشش میں عالمی اردو مرکز فرع ریاض کی زیر اہتمام ہونے والی ایک ادبی نشست میں معروف شاعر شوکت جمال کے در دولت پر جا پہنچے جہاں کئی معروف صاحب کتاب شعراء اور ادیب جمع تھے، یہ ادبی نشست دو پرتوں پر مشتمل تھی جس کی پہلی پرت نثر سے متعلق اور دوسری شعری ادب، اس مقالے میں کوشش ہو گی کہ ہر دو نشستوں پر سیر حاصل گفتگو ہو پائے، اس نشست میں نامور شعراء اکرام شوکت جمال، یوسف علی یوسف، اسد کمال، منصور چوہدری، شاہد خیالوی، محمد صابر، سیلم کاوش، صدف فریدی شامل تھے ان کے علاوہ ہندوستان کے معروف شاعر سہیل اقبال جو صاحب کتاب بھی ہیں وہ بطور خاص مدعو تھے، نثری میدان کے شاہسواروں میں ہندوستان کے ہی نامور مصنف اور مضمون نگار نعیم جاوید اور پاکستان سے خصوصی طور پر تشریف لائے معروف مزاح نگار ابو الفرح ہمایوں نے گویا محفل کو چار چاند لگا دئے اور نثری نشست کشت زعفران میں بدل گئی، نثری نشست کے آغاز میں یوسف علی یوسف نے مجھے امتحان سے دو چار کر دیا کہ میں ان شناوروں کے بیچ بیٹھ پر اپنا مقالہ پیش کروں جو ظاہر ہے سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش ہوتی بہت کہا کہ کہ حضور جانے دیجئے لیکن ان کے سامنے ایک نہ چلی، اب سامنے نعیم جاوید اور ابو الفرح ہمایوں اور دوسری جانب کانپتے لبوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ راقم اور صورت ایسی کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن، خیر خدا خدا کر کے اپنے گذشتہ مقالے ”شیشہ گر“ سے کچھ اقتباسات پیش کئے اور خوف دامن گیر تھا کہ کہ میرے حروف پر خط تنسیخ نہ کھینچ دیا جائے، لیکن بھلا ہو کہ شرکاء نے شرف قبولیت سے نوازا۔ نشست کے بعد سیلم کاوش جو منفرد لب و لہجے کے کہنہ مشق شاعر ہیں انہوں نے یوں حیران کیا کہ اپنا ایک مقالہ ”استانیاں“ پیش کیا جو نثر میں ان کی ”استادی“ کا غماز تھا، اس مقالے میں جہاں انہوں نے استانیوں کی کارستانیاں پیش کی وہیں ان کی اہمیت اور ان کو پیش مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے، ہلکے پھلے انداز میں لکھا گیا مقالہ اپنے آپ میں نہایت وسعت کا حامل ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، مشہور شاعر شاہد خیالوی اب کہاں پیچھے رہنے والے تھے، جھٹ سے اپنا ایک مضمون جس کا عنوان پنجابی زبان میں ”کچھو کما“ رکھا گیا تھا وہ نکالا اور محفل کو ایک نئے رنگ میں رنگ دیا، شاہد خیالوی کے بارے پہلے بھی عرض کر چکا کہ انتہائی حساس دل کے مالک ہیں اور معاشرتی رویوں پر نوحہ کناں بھی، اس مقالے میں بھی انہوں نے بحیثیت قوم ہمارے روئیے پر خوب ماتم کیا ہے اور کئی مسائل کی بنیاد انسانی رویوں کر قرار دیا ہے، شاہد کے مقالے نے ماحول کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ کر دیا تھا کہ ابو الفرح نے اپنی کتاب سے چند مضامین پیش کئے اور محفل میں مسکراہٹوں کی پھلجھڑیاں بکھرنے لگیں اور گاہے قہقہوں کی بہار امڈ آئی، بیشتر واقعات حقیقی تھے جن میں ایک واقعے کا ذکر نہ کرنا نہ انصافی ہو گی، انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ دمام سے چند شعراء کو دعوت نامہ ارسال کیا اور ان کوتاکید کی کہ ریاض پہنچ کر کسی سے بھی ریاض بنک کا پتہ پوچھ لیں اور وہاں تشریف لے آئیں، مذکورہ شعراء جب ریاض وارد ہوئے تو پتہ پوچھنے کو ایک پولیس والا ڈھونڈ نکالا اور اس سے پوچھا کہ ریاض بنک فلاں برانچ کہاں واقع ہے، پولیس والا ضرورت سے زیادہ خوش اخلاق تھا ور مکمل تفصیل کے ساتھ مہمانوں کو ریاض بنک کا پتہ سمجھا دیا اور ساتھ ہی غیر ضروری فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس تھانے میں بھی اطلاع بھی کر دی کہ چار مشکوک لوگ ریاض بنک کی فلاں شاخ کی تلاش میں ہیں یوں وہ شعراء اکرام مشاعرے میں تو نہ پہنچے البتہ رات حوالات میں تفتیشی نشست گزار کر واپس عازم دمام ہوئے۔

شعری نشست کی ابتدا یوسف علی یوسف جو محفل کی نظامت بھی فرما رے تھے ان کے کلام سے ہوئی، یوسف کی شاعری کے بارے اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ جیسے حسن یوسف کے سحر میں گم ہو کر دربار میں حاضرین دست فگار ہوئے اسی طرح یوسف علی کے حسن کلام سے سامعین لب فگار ہو تے ہیں، شاعری میں نغمگی کا ایک تاثر ہے، بیان یوسف سے جو شخصی تصور ابھرتا ہے وہ یوں ہے کہ یوسف کی کل متاع حیات اس کا عشق ہے اور اس عشق میں پائے ہوئے ہجر و فراق کے لمحات جس کو وہ اپنا خزانہ گرادانتا ہے، اس کی کوشش ہے کہ ان لمحات میں کوئی بھی دوسرا شریک نہ ہونے پائے اپنی ذات کے اس پہلو کو وہ شعر میں چھپانے کا فن جانتا ہے یوسف کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ اگر کسی کی رسائی اس کی سوچ تک ہو جائے کوئی اس کے ہجر کے معانی کا راز پا لے تو تمام عمر کی کمائی لٹ جائے گی شاید، شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے کہا کہ
عمر کی کمائی ہوئی یوں رائگاں نہ کر دینا
حال غم وہ پوچھے گا تم بیاں نہ کر دینا
اک پل کی مہلت پہ بہر فکر فردا ہے
اس کو نذرقصہ رفتگاں کہ کر دینا

یوسف کی شاعری ایک اور بات کا بھی پتہ دیتی ہے کہ وہ اپنی محبت ہجر و وصال اور نارسائی کے قصے تو اپنے دل میں مخفی رکھنا چاہتا ہے لیکن محبوب سے ضد ہے کہ وہ اپنے من کا حال ضرور آشکار کرے اور اس کا خیال ہے کہ اگر محبوب کے دل کے نہاں خانوں میں محبت کا شعلہ جاگزیں ہے تو اس کا اظہار بھی ناگزیر ہے وگرنہ یوسف کو اس کی بات کا بھروسہ نہیں اسی اثر کے تحت ہی شاید یوسف نے کہا کہ:
کیا التفات یار کا تم سے بیاں کریں بھلا
لب پر تو ذکر تک نہیں، دل میں خیال ہو، تو ہو

یوسف کے بعد باری تھی منصور چوہدری کی، منصور عمر کے جس حصے میں ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ شاعری میں لکھنوی رنگ ہو، محبوب کی سیاہ چشمی کی باتیں ہوں کچھ کاجل کا قصہ ہو کچھ کمر و قمر کے سلسلے ہوں، چاند چہرے کی باتیں ہوں، زلف اسیری کی وارداتیں ہوں، ہجر و فراق کی الم انگیزی ہو، وصال رتوں کے شرر بیانئے ہوں، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں گویا منصور کوئی صرف شاعر نہیں بلکہ ادب کی دنیا کا منصور حلاج ہے، منصور کی شاعری مجاز کے رنگ کی بجائے حقیقت کے ساگر میں ڈوبی ہوئی ہے، ایک تصوف کا عنکبوت ہے جس نے الفاظ اور خیالات کو اپنے اند ر جکڑ رکھا ہے، ایک فلسفہ حیات ہے جوکبھی صرف دبستان دہلی کا خاصہ تھا اور اب کسی حد تک معدوم ہوتا جا رہا ہے، اپنی ذات کی نفی اور قربانی وہ بنیاد ہے جس کی خشت پر منصور کی شاعری پروان چڑھی اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے اس نے کہا کہ:
سب حسابات دے کہ آگیا میں
اپنی ہی ذات دے کہ آ گیا میں
مجھ کو بھیجا گیا تھا لینے، پر
سب مراعات دے کہ آگیا میں

اس کے بعد دعوت کلام تھی شاہد خیالوی کو، شاید خیالوی کا فلسفہ حیات امیر مینائی کے اس شعر پر ہے کہ ”خنجر چلے کسی پر تڑپتے ہیں ہم امیر، سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے“ تو اسی طرح شاہد نے تما م جہان کا درد اپنے جگر میں سمو لیا ہے، دل اس قدر حساس ہے کہ معاشرے کا ہر مسئلہ اس کو اپنا مسئلہ لگتا ہے، دلگرفتگی کہ یہ عالم ہے کہ الفاظ اس کے دل فگار کا ماتم کرتے ہیں، امت مسلمہ کے ماضی اور حال پر کچھ اس طرح نوحہ کناں ہوئے کہ:
بڑی پر شکوہ تھیں بستیاں جو کھنڈر ہوئیں
یہ جو ننگ ہے وہ جو نام تھا سر عام تھا

اس ایک شعر کے پہلے مصرعے میں شاہد نے تاریخ کے ہزار سالہ عروج اور بعد ازاں زوال پر بات کی ہے، یہ مصرعہ ایک مصرعہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے وجود پر لگے ان گنت زخموں کے درد کی شدت سے نکلی ہوئی آہ فغاں ہے، یہ قصہ ہے سقوط بغداد کا، یہ کہانی ہے زوال غرناطہ کی، یہ سلسلہ ہے ڈھاکہ کی تباہی کا، اور دوسرے مصرعے وہ دور حاضر میں امت کی بے حمیتی اور جدید دنیا کی نظر میں کم وقعتی کا رونا رو رہا ہے۔

جیسے گزشتہ کالم میں کہا تھا کہ دل تھام کہ بیٹھو ہماری باری ہے، یعنی اب صابر کو دعوت اظہار فکر دی گئی، میں پہلے بھی عرض کر چکا کہ صابر نے اپنی شاعری میں اپنے صبر کی انتہا بیان کی ہوئی ہے، دبستان دہلی کے رنگ میں رنگا یہ معروف شاعر جس کی کوئی بات بھی محض بات نہیں ہوتی بلکہ اپنے اند ر ایک الگ داستان لئے ہوتی ہے، ہر ہر حرف اپنے آپ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، اس دفعہ جوغزل صابر نے پیش کی وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسداری کا سبق ہے وہ سبق جو ہمیں آقائے دو جہاں سے ملا وہ پیغام جو ہمارے دین کی بنیاد ہے اور صابر نے اسی پیغام کی آبیاری یوں کی:
یا تو تنگ دست کو تم پاس بٹھا کر کھا لو
ورنہ یہ رزق پڑوسی سے چھپا کر کھا لو

اسی کلام میں ایک شعر نے انسانیت کی معراج بیان کی ہے اور اس سے صحابی رسولﷺ سیدنا ابو طلحہؓ کا وہ واقعہ بھی یاد آ گیا جب ایک مہمان کی مہمانداری کی ذمہ داری ان کو سونپی گئی اور گھر میں اتنا کھانا نہیں تھا کہ مہمان اور میزبان ملکر تناول فرماتے تو سیدنا ابو طلحہ ؓ نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ جب کھانا شروع ہو توچراغ گل کر دینا کہ مہمان کو کسی دقت کا سامنا نہ ہو، اس واقعے کو صابر نے کیا خوبصورت انداز میں پیش کیا اور کہا کہ:
جو پکایا ہے وہی دوست کے آگے رکھ دو
اور محبت سے چراغوں کو بجھا کر کھا لو
اب بات آئی کلام کاوش کی یعنی دعوت سخن تھی سلیم کاوش کو، کاوش نے اپنی غزل میں یہ پتہ دیا کہ وہ محبوب کی راہ گزر میں گم ہو کر بیٹھا ہے اور اپنی ذات کوئی ذات نہیں جو بھی ہے محبوب ہی ہے جو بھی ظاہر ہے محبوب سے ہی ظاہر ہے، سلیم کاوش کی یہ غزل لکھنوی انداز تکلم کی غماز رہی اور ہر تان محبوب پر آ کر ٹوٹی، حتیٰ کہ اپنی ذات کا پتہ بھی محبوب سے پوچھتے ہوئے کاوش نے کہا کہ:
گم ہوا ہوں تمہاری آنکھوں میں
میں کہاں ہوں میرا پتہ دو نا!!
کاوش محبوب کی جنبش ابرو کا منتظر بھی ہے اور چشم یار سے پیام یار تک کی رسائی چاہتا ہے اسی لئے کہتا ہے کہ:
کون لفظوں کا انتظار کرے
اپنی پلکیں ہی بس گرا دو نا
اسی محفل میں شریک محسن ثمر نے اپنے کلام سے حاضرین کے دل کچھ یوں موہ لئے، عشروں پہلے اقبال نے کہا تھا کہ ”ہے تقدیر کے قاضی کا فتویٰ یہ ازل سے، ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“ اس میں جو معنی پنہاں ہیں وہ یہی ہیں کہ جب تک انسان اپنے ضعف کا مداوا نہیں کرتا وہ دوسروں کا دست نگر رہتا ہے لہذا سب سے ضروری یہ ہے کہ اپنی خودی کو بیدار کیا جائے، اسی آفاقی پیغام کو ثمر نے یوں کہا کہ:
یوں تیرے زعم خدائی کو نکالا جائے
تو کہے اور تیری بات کو ٹالا جائے

اس شعر میں ثمر نے ارباب اختیار کی جانب روئے سخن کیا ہے کہ طاقت اور اقتدار کے نشے میں جس طرح ایک عامی کے خواب پامال کئے جاتے ہیں جیسے عام انسان کی خواہشات کا قتل ہوتا ہے اس کا حل یہ ہے کہ اہل اقتدار کے حکم سے انکار کر دیا جائے اور اپنے حق کی جنگ اپنے زور بازو سے لڑ کر طاقتور کو یہ بتا یا جائے کہ:
یا تو کردار میں شامل ہو مرے رقص جنوں
یا مرا نام تماشے میں نہ ڈالا جائے

اب باری تھی صدف فریدی کی، صدف نے ایک نئے پیرائے میں فیض کے فلسفے اور جالب کی بغاوت کو اپنے کلام میں یکجا کر کے ایک ادبی کارنامہ انجام دیا ہے، بہت ہی لطیف رنگ میں ملکی حالات کا ماتم کیا ہے ایک ایک لفظ ملک پاکستان کے مجموعی حالات کا پیش منظر ہیں، مطلع میں ہی کمال کر دیا اور اہل اقتدار کو آئینہ دکھاتے ہوئے فرمایا کہ:
مقابل آئینہ ہے اور کیا ہے
فریب مبتلا ہے اور کیا ہے

فریب مبتلا کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے صدف نے ایوان اقتدار میں برپا اس زلزلے کی جانب اشارہ کیا ہے جو عوامی شعور اور آگہی کا نتیجہ ہے اہل اقتدار اپنی خو میں نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر ہیں اور ابھی تک اپنی طاقت کے خمار فریب میں مبتلا ہیں، اسی غزل کے ایک شعر میں وہ محراب و منبر پر قابض اور راہبروں کے بھیس میں راہزنوں کے چہرے پر چھائے ہو ئے خوف کو بیان کرتے ہیں کہ:
ہوائے شب کے چہرے پر دھواں کیوں ہے
دیا روشن ہوا ہے، اور کیا ہے!!!

دیا روشن ہونے سے یہاں مراد ہے کہ اب ایک عام انسان شعور اور آگہی کے سفر پر ہے اور جوں جوں یہ اپنی ذات کا شعور اور معاشرت کی آگہی بڑھے گی قوم پر چھائی ہوئی تیرگی چھٹتی چلی جائے گی۔

اسی بزم میں ایک ادبی گوہر سہیل اقبال جن کا تعلق بھارت سے ہے اور صاحب کتاب شاعر ہیں، طبعیت شرمیلی گویا لکھنو کی تہذیب میں گندھے ہوئے، کلام میں وہ چاشنی اور روانی کہ الفاظ نہ ہوئے بلکہ ساز پر بکھرتی موسیقی، ایک طرف رومان کلام میں بسیرا کئے ہوئے اور دوسری طرف آفاقی پیغام سے مرصع، رومانوی صبر کی انتہا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
کھڑے تھے ہم بھی ترے جشن تاج پوشی میں
دریدہ اپنے گریبان و آستین کے ساتھ

ہمارے ہاں تصوف کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ خدا سے لو لگانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ یہ وہ نعمت ہے جو منتخب لوگوں کو قدرت کی جانب سے خود عطا ہوتی ہے اور جب کسی منتخب انسان پر قدرت اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو وہ سر بسجود ہو نے کو ہی اپنی ذات کی معراج مانتا ہے، اسی فلسفے کو سہیل نے بیان کیا کہ:
پھر آسمان کی نظر اس پہ پڑ گئی شاید
جبیں کا رابطہ ہونے لگا زمین کے ساتھ

سہیل نے اپنی ذات کو غالب کے ایک تجربے سے بھی گزارا ہے اور کم و بیش انہی حالات کا سامنا کیا ہے جن حالات سے غالب کا بھی گزر ہوا، غالب نے کہا تھا کہ ”جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا، کریدتے ہو راکھ اب جستجو کیا ہے“ اسی الم انگیزی کا بیان سہیل نے اپنے الفاظ یوں کیا کہ:
ہمارے پیار کی بس اتنی سی داستاں ہے سہیل
مکان دل بھی جلا ڈالا ہے مکین سے ساتھ

آخر میں بھارت ہی کے ایک معروف شاعر نعیم جاوید نے اپنا کلام پیش کیا، ان کے کلام سے مجھے یہ یقین کامل ہوا کہ واقعی وہ ادب میں ”نعیم“ اور کلام میں ”جاوید“ہیں، شخصیت میں دکن کا بانکپن ہے، لہجے میں لکھنو کی شائستگی اور کلام میں دہلی کا فلسفہ اپنی ذات میں وہ حالی سے اقبال تک کی داستان، اقبال کے ایک سچے شاگرد، ایک محب وطن بھارتی ناگرگ لیکن دل کے پاکستانی، امت مسلمہ پر ہونے والے مظالم پر نوحہ کناں اور اپنے ملک میں اہل اسلام پر جاری ستم و جور پر چشم پرنم، جیسے اقبال نے کہا تھا کہ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی، بس اسی فلسفے پر یقین رکھتے ہوئے وہ اپنے من میں یوں ڈوبے کہ کہا:
تھکن بدن کی، نگار فن کی، لگن بھی سچی ہو پورے من کی
یہ سب پڑاؤ ہیں منزلوں کے، دعا کے حرف اثر سے پہلے

گجرات ہو یا ایودھیا، ظلم و جور کے واقعات نے ان پر اتنا اثر ڈالا کہ اپنی دلگرفتگی کے عالم میں اپنے آنسؤں کو الفاظ میں ڈھالتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
میں خوشبؤں کی تلاش میں ہوں جو مرے شہروں سے کھو گئیں
بہار صدیاں، نگار موسم تھا، عہد نو کے شرر سے پہلے

بات یہیں ختم نہیں ہوئی، وہ کشمیر ہو یا عراق، افغانستان ہو یا سرزمین فلسطین، شام ہو یا یمن کے حالات، وہ ان تمام حالات پر شام غریباں کا انقعاد کرتے ہیں اور جدید دنیا کے عالم وحشت اور خون آشامی کی جراحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
نہتے شہری بدن بریدہ جدید مقتل میں سج چکے ہیں
نئے ہلاکو نے کر لیا ہے نظر پہ قبضہ خبر سے پہلے:

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 109 Print Article Print
About the Author: Rashid Mehmood

Read More Articles by Rashid Mehmood: 11 Articles with 4207 views »
I am a qualified CPA and professional Financial and Audit Manager with over 12 years of experience in a variety of industries in key roles at national.. View More

Reviews & Comments

Language: