قرآن کریم : پارہ 5 (وَّ الْمُحْصَنّٰتُ ) خلاصہ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

سورۃ النِّسَاء(4)

وَّ الْمُحْصَنّٰت ُکامطلب ہے’ اور شوہر والی عورتیں (تم پر حرام کی گئی ہیں ) ۔ قرآن کریم کا پانچواں پارہ سورۃ النساء کی آیت 24سے شروع ہوتاہے اوراختتام آیت147پرہوتا ہے ۔ یعنی یہاں سورہ النساء کی 124آیات کا خلاصہ پیش کیا جائے گا ۔ کلام کریم کے پانچویں پارہ میں 8اہم یا بنیادی باتیں بیان ہوئیں ہیں ۔ ان میں خانہ داری کی تدابیر، عدل اور احسان، جہاد کی ترغیب، منافیقین کی مذمت، قتل کی سزائیں ، ہجرت اور صلاۃ الخوف، ایک قصہ اور سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب ۔ یہ تمام موضوعات سورۃ النساء میں آئے ہیں ۔

سابقہ پارے میں سورۃ النساء کی آخری آیت23 میں ان عورتوں کی تفصیل بیان کی گئی تھی جو مردوں پر حرام کردی گئیں یعنی ان سے نکاح جائز نہیں ہے ۔ پارہ پانچ میں پہلی جو سورہ النسا ء کی 24 ویں آیت ہے کا ا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے’وَّالْمُحْصَنّٰت‘،یعنی ’’اور شوہر دار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں ) مگر جو تمہاری ملکیت میں آجائیں (یہ) تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لاسکتے ہو بشرطیکہ نکاح کا مقصد عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو‘‘ ۔ یہاں پھر اللہ تعالیٰ ان خواتین کے بارے میں بتا تا ہے جو جنگ میں قید ہوکر آئیں ان سے نکاح جائز قرار دیا گیا ۔ یہاں بھی انہیں مہر ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ کنیزوں سے بھی نکاح جائز قرار دیا گیاہے ۔ آیت29 میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھانے کو منع کیا گیا ہے ۔ ایسے غلط کام کرنے والوں پر عذاب کی بات کی گئی ہے ۔ آیت 34 میں گھر کی حاکمیت اور ذمہ دارہونے کا درجہ مرد کو سربراہ اور نگہبان بنا کر دیا ۔ عورتوں پر مرد کو اس بنا پر فضیلت دی ہے جیسا کہ اللہ نے بعض کو بعض پرفضیلت دی، کہا گیا کہ’ مرد عورتوں پر قَوام ہیں (قَوام یا قَیِم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد، ادارے ، یا نظم کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو)، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ۔ وہ خرچ کرتے ہیں اپنا مال‘ ۔ کہا گیا کہ نیک عورتیں اطاعت شعار ہوتی ہیں اور حفاظت کرنے والیاں ہوتی ہیں مردوں کی غیر حاضری میں ۔ عورت اگر نافرمان یا سرکش ہو جائے تو اس کو راہ راست پر لانے کے کچھ طریقے اللہ نے بتائے ،کہا گیا کہ پہلے اسے نصیحت کرو یعنی سمجھایا جائے ، اگر نہ مانے تو تنہا کردو یعنی اس کے پاس شوہر نہ جائے ، یا اس کا بستر الگ کردیا جائے ۔ اور اگر پھر بھی وہ نہ مانیں تو انتہائی اقدام کے طور پر لیکن حد میں رہتے ہوئے دست اندازی یعنی پٹائی بھی کر دی جائے ۔ اگر اطاعت کرنے لگیں ، مان جائیں ، فرما بردار ہوجائیں تو ان کے ساتھ پیار محبت سے زندگی بسر کنے کی ہدایت کی گئی ۔ واضح رہے کہ پٹائی انتہائی اقدام قرار دیا گیاہے ، اس سے ہر گز یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اللہ نے شوہر کو اپنی بیوی کی پٹائی یا اس پر ہاتھ اٹھانے کا اختیار دے دیا ہے ۔ ایسا ہر گز نہیں ۔ معمولی معمولی بات پر مرد کا عورت ہر ہاتھ اٹھانا معیوب بات ہے، اس سے مرد کی مردانگی کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ اس کے کمزورہونے اور غیر مہذب ہونے کا اشارہ ملتاہے ۔ میاں بیوی کے تعلقات زیادہ خراب ہوجائیں ، اکثر ایسا ہوتا بھی ہے ا ور کسی بھی طرح باہمی طور پر بہتر نہ ہورہے ہوں تواس صورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثالث مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے ، اس طرح کہ ایک مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے ، اس مقصد کے لیے منتخب کر لیا جائے کہ وہ ان میں صلاح کرادیں ۔ اس طرح معاملے کو حل کیا جاسکتا ہے ۔ فرمایا اللہ نے ’لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کردے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے‘ ۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے، رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، رشتہ دار ہمسایوں ، بیگانہ ہمسایوں ، پاس کے اٹھنے بیٹھنے والوں ، مسافروں نوکروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کو کہا گیاہے ۔ اللہ نہیں پسند کرتا غرور کرنے والوں کو ۔ اللہ بخل اور بخل کرنے والوں کو بھی پسند نہیں کرتا، اللہ کو دکھاوا بھی پسند نہیں ۔ آیت 43 میں نماز بعض حالتو ں میں نہ پڑھنے کی ہدایت کی گئی، ان میں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا گیا ہے، کہا گیا ‘ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہوتو نماز کے قریب نہ جاوَ ۔ نمازاس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو ۔ اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاوَ، جب تک کہ غسل نہ کر لو، اِلا یہ کہ راستے سے گزرتے ہو اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو یا سفر میں ہو ، یا تم میں سے کوئی شخص رفعِ حاجت کر کے آئے، یا تم نے عورتوں سے لَمس کیا ہو اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرلو ، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے‘‘ ۔

آیت48 میں اللہ نے شرک کرنے والوں پر سخت الفاط میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے، ارشاد ربانی ہے ’’بے شک اللہ نہیں معاف کرتا یہ (گناہ) کہ شریک کیا جائے اس کے ساتھ اور معاف کردیتا ہے شرک کے علاوہ باقی گناہ جس کے لیے چاہے اور جس نے شریک ٹھرایا اللہ کا،( کسی کو)اس نے بہتان باندھا اللہ پر اور ارتکاب کیا، بہت بڑے گناہ کا ‘‘ ۔ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرنے کی ہدایت کی گئی، اگر تمہیں لوگوں کے درمیان ثالث کی حیثیت سے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اسلام حق ، عدل اور مساوات کا دین ہے اور مخلوق کے درمیان عدل کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ کافر کے حقوق بھی غصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ منافقین کی دوغلی پالیسی کا ذکر ہے وہ ایمان کے دعویدار ہونے کے باوجودقرآن اور رسول ﷺ کے فیصل سے اعراض کرتے ہیں ۔ جہاد اور اس کی غرض و غایت بیان کی گئی ہے، جہاد سے راہ فرار کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ’’ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، موت اگر لکھی ہے تو ہر حال میں آکر رہے گی، اس لیے جہاد کے لیے نکلو، اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہوگی‘‘ ۔ منافقوں کے بارے میں آیت89 میں کہا گیا کہ یہ منافق دل سے چاہتے ہیں کہ کاش تم بھی منافق ہوجاوَ جیسے کافر یہ ہوگئے ہیں ا س لیے مت بناوَ تم اُ ن میں سے کسی کو اپنا دوست جب تک کہ نہ ہجرت کریں وہ اللہ کی راہ میں ، پھر اگر روگردانی کریں وہ ہجرت سے تو پکڑو اُنہیں اور قتل کر و جہاں کہیں پاوَ تم انہیں ‘ ۔

سورہ النساء کی آیت 100 میں فرمایا گیا کہ ’جواللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہجرت کے لیے گھر سے نکلے گا اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہوچکا ۔ یہ واقعہ کچھ اسطرح سے ہے کہ جب آیت ہجرت نازل ہوئیں تو حضرت حمزہ بن قیس;230; جو کہ سخت علیل تھے وہ پریشان ہوئے چلنے پھر کے قابل بھی نہیں تھے انہوں نے اپنے بیٹوں سے مدینہ جانے کے لیے کہا ، انہیں چارپائی پر ڈال کر مکہ سے مدینہ لے جانے لگے لیکن مکہ سے نکلتے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ ان کی موت کا ثواب اپنے ذمہ لے لیا ۔ حالت جنگ میں نماز چھوڑنے کی اجازت نہیں اس لیے ’’صلوٰۃ الخوف‘‘ اور’’ صلوٰۃِ مسافر‘‘ کا طریقہ بتا یا گیا اور یہ کہ مسافر سفر کی حالت میں نماز قصر کرسکتا ہے ، ۔ ایک مشہور واقعہ آیت 105 اور 106بیان ہوا جس کے مطابق ایک شخص نے چوری کرنے کے بعد ایک یہودی پر بہتان لگادیا، اس نے اور اس کے رشتہ داروں نے اپنی متاثر کن باتوں سے نبی حضرت محمد ﷺ کو متاثر کرلیا، قریب تھا کہ آپ ﷺ اس یہودی کے خلاف فیصلہ فرمادیتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور آپ ﷺ کو ایسے لوگوں کا ساتھ دینے اور ان کی وکالت کرنے سے منع فرمایا ۔ ارشاد ربانی ہے ’’ اور درخواست کرو درگزر کی اللہ سے بے شک اللہ ہے بہت معاف کرمانے والا ، ہر حالت میں رحم کرنے سالا ۔ اور مت وکلالت کرو ان لوگوں کی جو دغا رکھتے ہیں اپنے دلوں میں ۔ بے شک اللہ انہیں پسند کرتا ایسے شخص کو جو ہو دغازا، گناہوں میں ڈوبا ہوا‘‘ ۔

قتل کی سزا ئیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا ہے ۔ اور مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا، مراد یہ کہ اسے جائز سمجھ کر قتل کرنے ولا ہے ۔ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ جب کسی مجلس میں بیٹھیں تو اچھے مشورے ، اچھی باتیں کریں م فتنہ و فساد نہ کریں اور بری سرگوشیوں سے روکا گیا ہے ۔ حضرت ابراہیم ;230; کا تذکرہ ہے،عورتوں کے بارے میں پھر کہا گیا کہ ان پر ظلم اور ان کے حقوق غضب کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ کہ اگر میاں بیوری کے درمیان اختلاف ہوجائے تو انہیں آپس میں صلح کر لینی چاہیے کہ صلح ہی سب سے اچھا راستہ ہے ۔ پانچویں پارے کے آخر میں بتایا گیا کہ ایمان لانے اور شکر ادا کرنے والا کبھی اللہ کے عذاب کا شکار نہیں ہوسکتا، ایمان اور شکر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچاوَ کا ذریعہ ہیں ۔ (5 رمضان المبارک 1440ھ، 11مئی2019ء)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 160 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 600 Articles with 393011 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ