سیکھنا شرط ہے

(Tahira Afzaal, Rawalpindi)

علم کتابوں میں نہیں ہوتا۔میری طرح آپکو بھی حیرت بھرا جھٹکا لگا نا،ارے اگر علم کتابوں میں نہیں تو پھر کتابوں میں کیا ہے،اور پھر ان ننھے منے بجوں کا کیا قصور ہے جن پر ان کے اپنے وزن سے دگنے وزن کی کتابیں دن میں دو بار لادی جاتی ہیں،پیدا ہوتے ہی انہیں حصول علم کے لیے ہی تو گھر بدر کر دیا جاتا ہے انہی کتابوں کے ساتھ،اور پھر یہ کہا جا رہا ہے کہ علم کتابوں میں نہیں انسانوں میں ہوتا ہے ۔ایک عمر گزرنے کے بعد اس بات کی سمجھ آئی۔

ہم انسان پیدا ہوتے ہی علم حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں،یہ بنا کتابوں کا علم ہوتا ہے جو زندگی دیتی ہے،بچہ اپنی ماں اور ارد گرد کے ماحول سے سیکھنا شروع کر دیتا ہے ،یہ ایسا سلیبس ہے جسے رٹنا نہیں پڑتا جس کے پیپر نہیں دینا پڑتے ،بس ہر لمحہ سیکھتے چلے جاتے ہیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے میں شاید دس سال کی ہوں گی،امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ماسی جی جو ہماری قرآن کی استاد تھیں مدد کے لیے آئ ہوئ تھیں،کچھ مہمان آۓ بیٹھے تھے ان کی چاۓ کے لیے کہا گیا،ماسی جی نے قہوہ تیار کر رکھا تھا میں نے جھٹ سے قہوے والی دیگچی چولہے پر چڑہائ اور جونہی دودھ والے برتن کی طرف ہاتھ بڑھایا ماسی جی نے شفقت بھری آواز میں روکا ،ٹھرو بیٹا کیا کر رہی ہو ،میں نے کہا ماسی جی چاۓ بنا رہی ہوں۔انہوں نے مسکراتے ہوۓ مجھے دیکھا اور قہوے کی دیگچی اتار کر نیچے رکھ دی اور بولیں، بیٹا صرف دو لوگوں کے لیے چاۓ بنانی ہے،چھوٹے برتن میں اتنا قہوہ نکالو کہ دودھ ڈالنے کے بعد دو کپ چاۓ بنے اسطرح قہوہ اور دودھ دونوں ضائع ہونے سے بچ جایں گے ۔ماسی جی جنہوں نے سکول کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی کتنی علمی گفتگو کر رہی تھیں،انہی دنوں میرا گلا بہت خراب تھا کھاںسی بھی بہت زیادہ تھی میری دوا کا وقت ہو رہا تھا میں نے سیرپ اٹھایا اور جلدی سے ڈھکن میں ڈال کر پینے لگی اکثر کچن سے چمچ اٹھانے میں سستی کرتے ہوۓ اس مقصد کے لیے ڈھکن استعمال کر لیا جاتا ہے سو میں بہی یہی کرنے والی تھی کہ ماسی جی نے دوبارہ مبھے نرمی سے ٹوک دیا، بیٹا دوا چمچ میں ڈال کر لو، میں نے کہا ماسی جی مبھے اندازہ ہے کتنی لینی ہے ایسے ہی ٹھیک ہے ،ماسی جی مدبرانہ انداز میں بولیں مجھے پتہ ہے تمہیں اندازہ ہے لیکن بیٹا دیکھنے میں بھی برا لگتا ہے اور بوتل بھی گندی ہوجاتی ہے ہر دفعہ دھوتی ہو نا اسے کیونکہ ہاتھ چپچپانے لگتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ بوتل کا ڈھکن جراثیم زدہ ہو جاتا ہے اگر کسی اور کو دوا دینی پڑ جاۓ تو بجاۓ افاقے کے اسے مزید جراثیم لگ جایں گے۔میں حیرت سے ماسی جی کو دیکھ رہی تھی وہ کہیں سے بھی ان پڑھ نہیں لگ رہی تھیں ابھی چند لمحوں میں انہوں نے دنیا کے دو مشکل مضامین اکنامکس اور بائو سے متعلق شناسائ کا مظاہرہ میرے سامنے کیا تھا،انہوں نے بھی یہ علم انسانوں سے ہی سیکھا ہوگا جیسے میں نے ان سے سیکھا،آج اتنے سالوں بعد بھی چاۓ بناتے ہوۓ اور سیرپ چمچ پر ڈالتے ہوۓ مجھے ماسی جی کی یاد آجاتی ہے ،واقعی علم کتابوں میں نہیں انسانوں میں ہوتا ہے۔

یہ تو بچپن کی بات تھی،کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ،بچوں کے لنچ کے لیے آلو ابالنے تھے میں نے چار پانچ آلو دھوۓ اور پانی نمک ڈال کر چولہے پر چڑہا دیے،بریک میں ٹایم کم تھا میں بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی نظر یہی آ رہا تھا کہ لیٹ ہو جاؤں گی،اچانک میری کام والی نے برتن دھونے چھوڑے ہاتھ دھو کر چھری اٹھائ اور آلوؤں کو لمبائ کے رخ درمیانے سائز کے ٹکڑوں میں کاٹا،دیگچی میں ذالا اور ڈھکن لگا دیا اور کہنے لگی ،باجی اسطرح آلو جلدی گل جایں گے۔واقعی ایسا ہی ہوا،سونیا بھی ایک انپڑھ لڑکی تھی،میں اور میری گریجویشن کی ڈگری ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے،اور سونیا مجھے ایک قابل استاد کی طرح لگ رہی تھی۔ماضی میں جھانکا تو معلوم ہوا کہ زندگی کا علم کہاں کہاں سے سیکھا،کتابوں نے تو چند الفاظ ہی لکھنے پڑھنے سکھاۓ جس کے باعث آج آپ سے ہمکلام ہوں زندگی کا علم تو انہی لوگوں سے سیکھا جیسے روٹی کے لیے پیڑہ بنانا تندور والی ماسی جیراں سے سیکھا،کپڑے استری کرنا کام والی سے سیکھا اور یہ سب وہ لوگ تھے جنھوں نے کتاب کو صرف اس وقت ہاتھ لگایا جب وہ ہمارے گھروں میں کام کرنے آتے اور ہماری بکھری چیزوں کو سمیٹتے،ہماری پھلی ہوئ کتابوں کو ترتیب سے رکھتے انھیں کھول کر دیکھتے بہی نہیں،لیکن زندگی گزارنے کا سارا علم انہی کے پاس تھا،ہم تو بس مصروف رہے روزانہ خود پر کتابوں کو لاد کر ایک گدھے کی طرح گھر سے سکول اور سکول سے گھر،گھر والے اور ہم اسی خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ہم علم حاصل کر رہے ہیں،ہم تو پیسہ اور وقت ضائع کر کے جاہل بننے میں مصروف تھے کیوںکہ اصل علم تو تھا ماسی جی ،سونیا اور ماسی جیراں کے پاس۔کتابوں سے تو ہم بھاری بھاری فیسیں دینے کے بعد کچھ الفاظ خرید لیتے ہیں جو ہماری زبان اور قلم کے کام آتے ہیں ،زندگی کا علم آپ کہیں سے اور کبھی بھی سیکھ سکتے ہیں بس سیکھنا شرط ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 350 Print Article Print
About the Author: Tahira Afzaal

Read More Articles by Tahira Afzaal: 13 Articles with 3939 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: