آزاد کشمیر عدلیہ کو درکار سفارشات اور خلق کی مجبوریاں؟

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarbad azad kashmir)
آزادکشمیر عدلیہ کو درکار سفارشات اور خلق کی مجبوریاں؟

چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس ابراہیم ضیاء نے سپریم کورٹ ہائی کورٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو عدالتی نظام کے حوالے سے وکلاء کی تجاویز لیکر اپنی سفارشات مرتب کریگی یہ ہدایت بہت پہلے بھی جاری کی گئی مگر بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے پیش رفت نہ ہوئی اب ایک بار پھر اس کا اہتمام کیا گیا ہے اب یہ وکلاء قیادت کا فریضہ ہے وہ عدالتوں کی حرمت اپنے وقار کے تقاضوں کو شایان شان تقاضوں سے ہمکنار کرنے کیلئے پہلی فرصت میں رضا الٰہی کے مقصد کو بنیاد بناتے ہوئے نیک نیتی سے قابل عمل سفارشات دیں جن کی بنیادیں عدالتوں میں انصاف کے حصول کے لیے آنے والے لوگ ہیں ان کو سستا فوری انصاف مہیا ہو اور رب کے حضور اس کے معاون مدد گار ثابت ہونے والوں کو نجات راہ کے مقام نصیب ہوں یہ اللہ رسول قرآن کا فرمان سب خاص عام جانتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی بارگاہ میں پرہیز گار کا مقام بلند ہے اور یہی معیار دنیا میں منصب اختیار مقام کے انتخاب کا حصول ہے یعنی اللہ رسول قرآن کی تعلیمات کے مطابق ناصرف عبادات بلکہ خلق خدا کے حقوق کی پابندی کرنے والا نیک متقی پرہیز گار ہے مگر متقی پرہیز گار سے بھی بلند مقام انصاف کرنے والے کا ہے یہ انصاف کا فریضہ پورا کرنا ہر حال میں منصف یعنی ججز کا امتحان ہے تو ملک کے حکمران حکمرانی میں شامل وزیر‘ مشیر‘ ممبر اسمبلی سے لیکر آفیسرز ملازمین سمیت علماء‘ اساتذہ‘ صحافی‘ وکلاء‘ تاجر ہر ہر سطح اور شعبہ زندگی کے ہر فرد پر اجتماعی‘ انفرادی سطح پر بھی عائد ہوتی ہے مگر یہ المیہ ہے کہ ہر کوئی دوسرے کیلئے اس کے جرم غلطی پر انصاف کا بہت بڑا حامی نظر آتا ہے مگر اپنی غلطی جرم پر انصاف نہیں چاہتا ہے اپنی بوٹی کی حرص میں پوری گائے حرام کرا کر معاشرتی نظر نہ آنے والا عذاب سوار کرنے کا بطور ظالم شریک ظلم کردار بنا ہوا ہے جس کا اثر تمام اداروں‘ شعبہ جات پر فولادی طاقت بن کر سب کو جکڑے ہوئے ہے گو کہ سپریم کورٹ‘ ہائیکورٹ کی سطح پر اصلاحات کے حالیہ عرصے کی کوششوں سے بڑی اُمیدیں روشن ہوچکی ہیں تو جوڈیشل کمپلیکس سمیت دیگر ضروریات کے حوالے سے عملی اقدامات نظر آنا شروع ہو چکے ہیں جس کے بعد عدلیہ کا آخری ماتحت تک انصاف کے حقیقی تقاضوں کے مطابق کارکردگی کا معیار سب سے زیادہ ناگزیر ہے جس کے لیے سب سے زیادہ فعال کردار عدلیہ کے دست بازو وکلاء ادا کر سکتے ہیں ناصرف یہ کہ عام آدمی کو فوری انصاف ملے اور اس کا اگر بہت ہی پیچیدہ سنگین مقدمہ بھی ہو تو 6 سے دس ماہ میں فیصلہ ہو جائے جو بالا عدالتوں میں جا کر سال کے اندر یکسو ہو تو سرکاری نظام سے جڑے مقدمات بھی ریاست کے خزانے کے بطور امانت تقاضے اور عوامی فلاح کے پیش نظر بغیر تاخیر فیصلے کیے جائیں جن میں سستی سرکارکے خزانے سے لیکر عام آدمی کیلئے عذاب بن جاتی ہے جس کی بے شمار مثالیں ہیں لنگر پورہ سٹیلائٹ ٹاؤن 20 فیصد کا مقدمہ جس کے باعث سیکڑوں غریب لوگوں کے گھر تعمیر کرنے کا خواب چکنا چور ہو چکے ہیں کہ مہنگائی کے طوفان سر اٹھانے نہیں دے رہا ہے تو اس کی آڑ میں سرکار اس کے اداروں کے اندر باہر مافیا کے گٹھ جوڑ غریبوں کو انکے پلاٹ فروخت کر کے لوٹ مار مچائے ہوئے ہیں میڈیکل کالج سمیت ترقیاتی منصوبہ جات بھی تاریخوں کی بھینٹ چڑھ کر حرص لالچ کے زمینوں ٹھیکوں سے منسلک مافیا کی چاندی چل رہی ہے تو واک وے جیسے شہر کو کئی بار سیلابوں کی بربادی سے بچانے والے کردار گندگی کا ڈھیر بنا ہے مگر ایک حکم امتناعی اس کی بحالی میں پل صراط بن چکا ہے جھوٹی گواہی سے لیکرمعروف اور سامنے سامنے مافیا کی شہرت یافتہ عناصر غریب کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اجتماعی ترقی فلاح سمیت مجموعی معاشرتی وقار کی راہ میں رکاوٹ ہیں یہی حال احتساب کا ہے کرپشن کرنے والے میرٹ پامال کر کے رٹ پٹیشن کے برقع اوڑھ کر جن بھوتوں کی طرح نظام کو برباد کیے ہوئے ہیں تو بلدیاتی انتخابات سے لیکر اجتماعی وقار احترام فلاح کے ضامن فیصلوں پر بھی کیسوں کا غبار عدالتی وقت کا ضیائع بلکہ اس کی شہرت اتھارٹی پر سوال بن کر گونجتے ہیں جن کی طرف سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے باعمل کردار کو یقینی بنائے ہیں عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان وکلاء حضرات کو متقی پرہیز گار سے بلند مرتبے انصاف کا مدد گار بن کر دینا آخرت کو آسان بنانا چاہیے تو یقینا وہ راحت سکون جو ساری دنیا کی دولت محلات بنا کر نہیں خریدا جا سکتا ہے وہ انصاف کا داعی بن کر رب سے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اب تو دشوار ہوا جاتا ہے زندہ رہنا
بندگان خدا کو دستار انصاف دیا جائے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 2 Articles with 534 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2019 Views: 248

Comments

آپ کی رائے