وہ بگولے کتنے گلشن کھا گئے!

(Prof Muhammad Khursheed Akhtar, Islamabad)

کیا ھماری زبانیں گنگ ہوگئیں، ضمیر مر چکے،قانون خود پابند سلاسل ھو گیا۔منصف کی منصفی زنگ آلود ھے۔حاکم مصلحتوں کا شکار ھو گیا۔سماج کسی اجتماعی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔سانحات در سانحات نے ھمیں مجرمانہ بےحسی میں مبتلا کردیا ہے۔؟ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چھ سال ھو گئے مگر ریاست،حکومت،عدالت اور انسانیت خاموش۔دن دیہاڑے 14 معصوم افراد کا قتل اور ظلم کی تصویر بنے بچے اور بچیاں آ ج بھی انصاف کے لئے ترس رہے ہیں،کتنے عمران خانوں،زرداریوں،سراجوں اور شیخ رشیدوں نے انصاف دلانے کی قسمیں کھائیں۔مدعی بھی خاموش۔حاکم بھی چپ اور منصف بھی بے بس،قوم تو اب یہ سوال کرنے نکلنے والی ھے کہ قومی چوروں کو ابھی تک سزا کیوں نہیں ملی؟ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا مقدمہ سیاست سے ھو تا ھوا قانون کی کتابوں میں گم ہو گیا۔موچھوں والے ھوں یا فیلٹ ھیٹ والے سب آ زاد،کہا جاتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ مسلم لیگ ن کے خلاف سازش تھا۔ایک منٹ کے لئے یہ بات مان لیتے ھیں صرف چند سوالوں کے جواب نواز شریف نہ سہی،شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ دے دیں۔16 گھنٹے براہ راست دیکھایا جانے والا واقعہ آپ کی نظروں سے نہیں گزرا،ویسے تو کسی بچی کے ساتھ زیادتی ھو جائے تو آپ ھیٹ پہن کر فوراً میڈیا کے سامنے انصاف کی تھیلی لے کر پہنچ جاتے اور اس کی باقی زندگی بھی لوگوں کی نظروں میں گرا دیتے اس دن کہاں خاموش تھے یا لائیو نشر ہونے والے واقعہ پر ایکشن لے کر روکا کیوں نہیں؟ کس نے آ پ کو روکا تھا۔جب آ پ کو پتہ تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب آ رہےہیں تو اسی دن بیرئیر ھٹانے کیوں ضروری تھے؟ بار بار جے آ ئی ٹی کی کارروائی میں رکاوٹ کیوں ڈالی جاتی ہے۔؟ موجودہ حکومت یا مدعیان نے ابھی تک اپیل کیوں نہیں کی؟ موجودہ حکومت نے کیا کیا کاروائی کی؟ ان سوالوں کے جواب نہیں دیں گے تو انصاف کو کس نظر سے دیکھا جائے گا؟ یہ ایک واقعہ نہیں ہے سانحہ ساہیوال آ ج تک آ پ کی قطر سے واپسی کا منتظر ھے۔ایک فوکل پرسن مقرر کر کے مکمل آ ج تک کے اقدامات کو عوام کے سامنے لانے کی ضرورت تھی۔ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔کی پالیسی ترک فرمائیں ان کو مالی سپورٹ دینا اور وہ بھی اتنی دیر بعد انصاف کا تقاضا ہے کیا؟ آ پ کی یہ تاریخ تو نہیں ہے جناب زینب کے کیس میں کتنے علی محمد اور مراد سعید آگے تھے آج آپ کے بغل میں ھونے والا معصوم بچی فرشتہ کا سانحہ کہاں ھیں آ پ کے وزیر،مشیر؟ درندوں کو راولپنڈی پھر اسلام آباد میں بھی روکنے یا کیفر کردار تک پہنچانے میں آ پ کو کیا رکاوٹ ہے؟ سماج نے اسے خاندانی بنیاد پر تقسیم کر کہ انسانیت کی بھی دھجیاں اڑا دیں۔اس سماج کو بھی آپ ھی نے بدلنا ھے 58 فیصد لوگ آ ج بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیکورٹی ادارے آ پ کے ساتھ ھیی اس سماج کو انصاف نہیں دیں گے تو یہ لاتعلق ہو جائے گا۔تقسیم در تقسیم ظلم ھی جنم دے گا۔فرشتہ نہیں سب بچے منتشر معاشرے کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔قانون اور انصاف کو جگائیں۔جس سحر کا لوگوں کو انتظار ھے اس کا آ غا ز سماج سے کرنا ھو گا۔ایسے کئی واقعات ملک کو دنیا بھر میں بدنام کر رہے ہیں۔کئی فرشتہ،تنزیلہ اور معصوم حشر اٹھانے کی منتظر ھیں آ پ کو تو پریشر میں کھیلنا آ تا ھے۔ یہ نہ ہو کہ کہا جائے کہ!
جن کو سمجھے تھے ھم ابر بہار۔۔۔۔۔وہ بگولے کتنے گلشن کھاگئے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 137 Print Article Print
About the Author: Prof Muhammad Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Muhammad Khursheed Akhtar: 19 Articles with 4748 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: