کرپٹ مافیاز جیتےگا یا نیب؟ عوام نتیجے کے منتظر

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

پچھلے دنوں آصف علی زرداری نے نیب پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے کہا تھا کہ اگلی پیشی پر نیب نہیں ھوگی اور اس کے بعد اچانک چیئرمین نیب کیخلاف منظم طریقے سے ایک خاتون سے بات چیت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کراکے باقاعدہ پراپیگنڈہ شروع کردیاگیا اور ساتھ ہی مطالبہ کردیاگیاکہ اس واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے۔ آصف زرداری کے بیان کے بعد ایسے واقعے کا نمودار ھونا مشکوک ثابت ھوتاھے اور جاری ویڈیو اور وائس گفتگو سے یقین کرنا مشکل ھے کہ یہ واقعی چیئرمین نیب جاوید اقبال ہی کی ویڈیو یا آواز ھے قبل ازیں ایک وائس کلپ سوشل میڈیا پر مشہور صحافی ضیاء شاھد کی بھی چلائی گئی تھی اور ماھرین نے اسے جعلی قرار دیاتھا اور آج ایک بار پھر نیب چیئرمین جاوید اقبال بارے ویڈیو اور وائس کا منظر عام لانے کا مقصد کہ انہیں فوری طور پر استعفے پر مجبور کرنا معلوم ھوتاھے تاکہ اھم ترین مقدمات جو بڑے سیاستدانوں کے ہیں انہیں کھڈے لائن لگایا جا سکے۔ اس واقعہ کو بلاول بھٹو زرداری کی افطاری کے اثرات بھی کہاجارھاھے جس کا نشانہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال بنے ہیں۔ واضح نظر آتاھے کہ حزب اختلاف کا ’شاہی خاندان‘ نیب کو متنازعہ بناکر اسے ختم کرانا چاہتا ھے تاکہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری‘ نہ رہے گا ادارہ اور نہ ہی کوئی استغاثہ، جب شکایت کرنے والا ہی نہیں ہوگا تو پھر کون سا مقدمہ اور کون سی عدالت’ یہ ہے وہ منصوبہ جس پر کرپشن کے مقدمات کی دلدل میں دھنسے قائدین عمل پیرا ہیں۔ اب حکومت گرانے کا غلغہ بلند ہے جس کیلئے استعمال ہونیوالے ایندھن کیلئے معصوم بچوں کا ٹھیکہ پہلے ہی حضرت مولانا سے ہوچکا ہے۔مسلم لیگ (ن) نے مفاہمت کا گیئر بدل کر اب جارحانہ انداز اپنانے کی جو نئی حکمت عملی اپنائی ہے، اس میں نئی شست اس انٹرویو کو بنیاد بناکر باندھی گئی ہے جس کی سترہ مئی کو اگرچہ نیب کی طرف سے وضاحت تو کی گئی ہے لیکن تاحال مسلم لیگ (ن) اسے قبول کرنے کیلئے بوجوہ تیار نہیں۔ وہ اس معاملے کو اتنا متنازعہ بنانے پر تلی ہے جس میں پورے نیب کے ادارے کے بال و پر ہی جھڑ جائیں اور وہ شتر مرغ سے ایسا ’مریل‘ چوزہ بن جائے جو خوف اور بے یقینی کے عالم میں اپنی عقل وخرد سے ہی جاتا رہے۔

سیاست دفاع اور مخالفت کے جوہر کا نام بن کر رہ گئی ہے۔ آپ جس کے ساتھ ہیں اسکی ہر منفی بات بھی مثبت بنا کر پیش کرنا اور جس کے مخالف ہیں اس کی ہر اچھی بات بھی ’ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘ ثابت کرنا، ہی فی الوقت سیاست ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے کپڑے تار تار کرنے کی پوری مہم عروج پر ہے۔ جس کالم سے یہ بھوت پریت نکلنا شروع ہوئے وہ کالم نگار کی 14مئی 2019ء کو ہونیوالی ملاقات کے نتیجے میں لکھا گیا ہے۔ ان سے منسوب کیاگیا ہے کہ انہوں نے کالم نگار کو شہبازشریف کی پیشکش کے بارے میں بتایا کہ وہ سیاست کو خیرباد کہنے اور رقم دینے پر تیار تھے۔ انکی تین شرائط تھیں۔ سمجھوتہ کی صورت میں رقم کوئی بیرونی ملک پاکستانی خزانے میں جمع کرادیگا، ان کو کلین چٹ دی جائے، اور تیسری شرط یہ تھی کہ حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنادیا جائے۔ میاں نوازشریف اور ان کا خاندان بھی اسی نوعیت کے انتظام کیلئے آمادہ تھا۔دو اقساط میں چھپنے والے انٹرویو نما کالم میں جو کچھ شائع ہوا ہے، وہ نیب کا جوابی بیانیہ ہے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور انکے ساتھ شامل باجہ دیگر احباب نے ایک ہی راگ الاپنا شروع کیا ہے کہ نیب برا ہے، غیرجانبدار نہیں اور اسے ختم ہوجانا چاہئے کیونکہ یہ ایک کالا اور اندھا قانون ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال میڈیا میں ہونیوالی شبانہ روز کی اس چاندماری میں جوابی تیر تو چلابیٹھے ہیں لیکن ان پر حملوں کی رفتار مزید بڑھ گئی ہے۔ چیئرمین نیب پہلے ہی اپنے گھر میں رہ نہیں سکتے، سکیورٹی کے نکتہ نگاہ سے وزراء کالونی میں جو گھر ملا، وہ بحریہ ٹائون میں ان کے ذاتی گھر سے بھی زیادہ غیر محفوظ ثابت ہوا اور چوری کی صورت میں انہیں جو ’وارننگ‘ ملی، اسکے بعد وہ ہر روز مسافر بن کر کبھی کسی اور کبھی کسی عزیز رشتہ دار کے ہاں قیام فرمانے پر مجبور ہیں۔وہ یہ بھی فرماچکے ہیں کہ آئندہ چند روز میں پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور حکمران پاکستان تحریک انصاف نیب کیخلاف سب ایک ہی ’پیج‘ پر ہونگے۔ یعنی نیب کیخلاف تمام جماعتیں اور انکے افراد آپس میں ہاتھ ملا چکے ہیں۔ بظاہر دیکھا جائے تو مافیاز ایک طرف اور دوسری جانب وہ لوگ نظر آرہے ہیں جو ان مافیاز کو گرفت میں لانا چاہتے ہیں۔ پراپرٹی اور کاروباری طبقات دولت اور افرادی قوت کے لحاظ سے کتنے طاقتور ہیں، یہ کوئی راز نہیں۔ پاکستان میں پلاٹ کا قبضہ لینا کتنا مشکل ہے، کسی بھی شخص سے کچہری میں جاکر پوچھ لیں، وہ آپ کو پاکستان میں انصاف، عدل اور حکومتی مشینری کا پورا کچا چٹھہ کھول کر بتا دیگا۔ جس ملک میںیہ ضرب المثل ہوکہ ’کچہری کی دیواریں بھی پیسے مانگتی ہیں‘، وہاں تصور کیاجاسکتا ہے کہ انصاف اور عدل کی قیمت ایک عام آدمی کیلئے کیا ہے؟ جیل میں اچھے دنوں کے منتظر نوازشریف نے بھی برملا اظہار کیا کہ انصاف کتنا مہنگا ہے؟ وہ ’فرماتے‘ ہیں مجھے اگر پتہ ہوتا تو میں ضرور اس مسئلے کے حل کیلئے کام کرتا۔ ماشاء اللہ برس ہا برس وزیراعظم رہنے والے کو اگر عوام کو انصاف کے بنیادی تقاضے کا بھی علم نہیں تھا، وہ یا تو جھوٹا ہے یا پھر نالائق ترین شخص ہے۔ یہی تو وہ اعمال تھے جن کا نتیجہ آج جیل کی صورت نکلا ہے۔

مسئلہ ایک چیئرمین نیب کا نہیں۔ جو بھی چیئرمین نیب آئیگا، اسکے ساتھ ایسا ہی ہوگا، یہ مفادات کے ٹکراؤ کا کھیل ہے۔ ایک طرف دولت سمیٹنے والے وہ مافیاز ہیں، جو گروہ میں اپنے مفادات کی پاسبانی اور نگہبانی میں مصروف عمل ہیں، دوسری جانب اس ملک اور عوام کا درد رکھنے والے ’سرپھرے‘ ہیں، جو ان مافیاز کے سامنے سرجھکانے کو تیار نہیں، وہ اس کی کوئی بھی قیمت دینے پر تو آمادہ ہیں لیکن معاشرے کے ناسوروں سے سمجھوتہ کرنے پر مرجانے کو ترجیح دینے کاایمان رکھتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کرکے چیئرمین نیب کو صلواتیں سنائیں، اس سے جیل اورلندن میں موجود ان کے ’قائدین‘ کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی ہوگی۔

شاہد خاقان عباسی نےاس حوالے سے جو کہا، وہ اصل کالم پڑھنے کے بعد واضح طورپر محسوس کیاجاسکتا ہے اور جس پس منظر میں یاسیاق وسباق میں چیئرمین نیب نے گفتگو کی تھی، غیرجانبدارانہ تجزیہ کریں تو واضح طورپر اس کو سمجھا جاسکتا ہے لیکن سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اس میں صرف مفادات ہوتے ہیں۔ یہ ایک موقع مل گیا ہے جس میں ایک طرف ایک کالم نگار جاوید چوھدری کو جھوٹا قرار دیاجارہا ہے تو دوسری جانب چیئرمین نیب کو دروغ گو پکار کر نیب کے ادارے کی مٹی پلید کی جارہی ہے تاکہ اسے عوام کی نظر میں اتنا متنازعہ بنادیا جائے کہ اسے سرکس کا شیر بنادیا جائے۔

جب چیئرمین نیب پر تابڑ توڑ حملے ہورہے تھے اور شاہد خاقان عباسی پوری تندہی اور توجہ کے ساتھ تاک تاک کر تیر پھینک رہے تھے، تو ذہن میں وہ وقت گھوم رہا تھا جب زرداری صاحب کے گھر میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مدعو کرکے ان سے چیئرمین نیب بننے کے لئے کہاگیا تھا۔ اس سمری پر دستخط کرنے والے اور کوئی نہیں بلکہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف زور کلام دکھانے والے شاہد خاقان عباسی صاحب ہی تھے۔ سوال اٹھا کہ یہ پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ہیں۔ آئینی تقاضے کے تحت وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب کا تقرر کیاجاتا ہے۔ اگر جسٹس (ر) جاوید اقبال اتنے ہی نامناسب شخص تھے تو اس وقت کے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نے آئینی منصب سے غداری کی، قوم سے غداری کی اور ایسے شخص کو چیئرمین کے عہدے پر براجمان کردیا جو اسکا اہل نہ تھا؟ اور اگر انہوں نے یہ کام نیک نیتی اور ایمانداری سے انجام دیا تھا تو پھر ان کو آج اس پر اتنا اعتراض کیوں؟ اگرآپ نے کچھ نہیں کیا، آپکے ہاتھ صاف ہیں، توپھر کیا مسئلہ ہے۔ سیانوں نے کہا تھا کہ ’ہاتھ کنگن کو آر سی کیا‘۔ پاپڑ والے، قلفی والے، عام لوگوں کے اکاو نٹس سے اربوں، کروڑوں کی رقم کیوں نکل رہی ہے؟ اس کا جواب کون دے گا؟ اور اب کرپٹ مافیاز جیتےگا یا نیب؟ عوام نتیجے کے منتظر ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 333 Articles with 180853 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
25 May, 2019 Views: 336

Comments

آپ کی رائے