سیدنا علی ؓ کے فضائل ومناقب

(Rahmat Ullah Shaikh, )

مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی ؓ کا پورا نام علی بن ابی طالب تھا۔ ابوالحسن اور ابو تراب آپؓ کی کنیت تھی۔ حیدر، اسداﷲ اور المرتضیٰ آپؓ کے مختلف القاب ہیں۔ آپؓ کے والد کا نام ابوطالب عبدمناف بن عبدالمطلب تھا اور آپؓ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد تھا۔ آپؓ عرب کے مشہور و معزز قبیلے بنوہاشم سے تعلق رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے جب اعلانِ نبوت فرمایا تو بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے آپؓ تھے۔ سن 2ھ میں سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ آپؓ کا نکاح ہوا۔

آپ ؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپؓ کی عظمت و فضیلت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ آپ کا شمار ان دس خوشنصیب صحابہ کرام (عشرہ مبشرہ) میں ہوتا ہے جن کو نبی کریم ﷺ کی طرف سے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ آپؓ نبی کریم صہ کے ساتھ متعدد غزوات میں شریک رہے۔ آپؓ نہایت بہادر، جری اور نڈر مجاہد تھے۔ جنگِ خیبر کے موقعہ پر کئی دن محاصرہ کرنے کے بعد بھی جب قلعہ قموص فتح نہیں ہورہا تھا تو رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اﷲ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اﷲ اور اس کا رسول بھی اس کو پسند کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر قلعہ فتح فرمائیں گے۔ یہ سعادت آپؓ کو نصیب ہوئی۔ دوسرے دن رسول اﷲ صہ نے آپؓ کو جھنڈا عطا فرمایا اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب فرمائی۔ اس جنگ میں آپؓ نے یہودیوں کے مشہور جنگجو پہلوان مرحب کو بھی جہنم رسید کیا۔

آپؓ نہایت متقی اور پرہیزگار شخص تھے۔ آپ حصولِ رزقِ حلال کے لیے محنت ومزدوری کرنے سے بلکل بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ آپؓ ایثار و قربانی جیسی عظیم صفات کے حامل تھے۔ مہمانوں کی خدمت کرنا، اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا اور روزہ رکھنا آپ کو نہایت پسند تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے آپؓ کو کئی غیرمعمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ نبی کریمﷺ کی دعا کی برکت سے اﷲ تعالیٰ نے آپؓ کو فتویٰ دینے اور فیصلہ کرنے کی اعلیٰ صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ اسی وجہ سے حضرت عمر فاروقؓ و دیگر صحابہ کرامؓ فرمایا کرتے تھے کہ علی بن ابی طالب ؓمدینہ میں سب سے زیادہ قضا کے مناسب ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ حضرت علیؓ اعلیٰ قاضی اور حضرت ابی بن کعبؓ اعلیٰ قاری ہیں۔ عہدِ نبوی میں بھی آپ ؓ سمیت چاروں خلفائے راشدین مفتی تصور کیے جاتے تھے۔

آپؓ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت کرتے گزاری۔ آپؓ نے ہمیشہ حق بات کہی اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیا۔ بزدلوں اور منافقوں کی طرح آپؓ نے نہ کبھی حق کو چھپایا اور نہ ہی زندگی کے کسی موڑ پر جھوٹ کا سہارا لیا۔ بلکہ ہمیشہ ببانگ دہل آپؓ اپنے قول و فعل کے ساتھ حق کا اظہار کرتے رہے۔ بالآخر 17 رمضان المبارک سن 40ھ کو صبح کے وقت ابن ملجم نامی ایک خارجی شخص نے آپؓ پر حملہ کیا۔ جس کے چند دن بعد 21 رمضان المبارک سن 40 ھ کو آپؓ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ آپؓ کی خلافت کی مدت چار سال نو ماہ ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 125 Print Article Print
About the Author: Rahmat Ullah Shaikh

Read More Articles by Rahmat Ullah Shaikh: 24 Articles with 9377 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: