مینارہ رشد وہدایت الحاج سید لعل حسین شاہ بادشاہ الگیلانی القادری الرازاقی

تبلیغ اسلام کیلئے انکی روشن کی گئی قندیلیں تا قیامت مسلما نانِ عالم کو سیراب کرتی رہیں گی ۔

حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی غوث اعظم ؓنے ارشاد فرمایا کہا اﷲ کے حکم سے اپنے آپ کو مخلوق سے ذکر لو ، اپنی خواہشوں کو اس کے امراور اراروں کو اس فعل کے بالا کر لو اس طرح تم میں صلاحیت و اہلیت پیدا ہو جائے گی اور تم علم الہی کا ظرف بن جاؤ گے ۔ اﷲ جل شانہ کا فرمان ہے کہ میں ان کے قریب ہو ں جن کے دل میری وجہ سے خواہشات کے غلام نہیں ہیں اور یاد رکھو خیرو شر سب اﷲ ہی کی قدرت میں ہیں ۔ اولیا ء اﷲ اور ابدال عظام ارادہ اور خواہش نفس سے محفوظ ہو تے ہیں ۔ اﷲ والے جب محفل سجاتے ہیں توفرشتے اس قدر جمع ہو جاتے ہیں کہ آسمان دنیا تک انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور پھر فرشتے جب اﷲ کے پاس جاتے ہیں ۔ اﷲ ان سے سوال کرتے ہیں میرے بندوں کو کیسے پایا ؟تو فرشتے کہتے ہیں اے اﷲ وہ تیرے ذکر میں تیری تسبیح پڑھنے میں مشغول تھے ۔ پھر اﷲ تعالی کہتا ہے کہ انہوں نے مجھے دیکھا ہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں اے اﷲ تیری قسم انہوں نے تجھے تہیں دیکھا پھر اﷲ کہتا ہے کہ کیا وہ کچھ مانگتے تھے تو فرشتوں نے کہا وہ جنت مانگتے ہیں ۔ اﷲ کہے گا کہ کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں ۔اﷲ نے فرمایا، کیا کیا نہوں نے دوزخ دیکھی ہے فرشتے عرض کرتے ہیں کہ نہیں خدا کی قسم نہیں دیکھی ۔ اﷲ تعالی فرماتے ہیں اگر وہ دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ۔ فرشتے عرض کرتے ہیں تو پھر وہ دوزخ سے بہت ڈرتے ۔ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اﷲ نے پھر فرشتوں سے فرمایا :
ترجمعہ :میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ۔
اﷲ والے علم بھی سکھاتے ہیں اور ، زندگی بھی دیتے ہیں اور سلیقہ بھی ، ابتاع سنت بھی، عمل کرتے اور کرواتے ہیں ۔ ان کی محفل میں بیٹھنے والا بھی ولی بن جاتا ہے اور بخش دیا جاتا ہے ۔ کسی اﷲ والے سے اپنا تعلق و نسبت قائم کرکے اس کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لو تا کہ تمہیں راہ ہدایت میسر آجائے ۔ سید لعل حسین شاہ بادشاہ گیلانی مد ظلہ العالی :
اسم گرامی ، سید لعل حسین شاہ بادشاہ گیلانی مد ظلہ العالی
آپ کے آباد واجداد موضع سونک کلاں گجرات میں رہائش پذیر تھے بعد ازاں موضع سبن شریف سیداں ضلع اسلام آباد تشریف لے گئے اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کے آباواجداد موضع سبن سیداں شریف علاقہ بہارہ کہو میں جو کہ راولپنڈی سے 20کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔
ابتدائی تعلیم
ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی بعد ازاں موضع بسالی شریف میں جہاں اب بھی آپ کے خاندان کے لوگ آباد ہیں ہائی سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔ آپ بہت ذہین اور اساتذہ کا احترام کرنے والے تھے اور آپ کے اساتذہ بھی آپ پر ناز کرتے تھے آپ کو دوران تعلیم نیوی میں ملازمت مل گئی۔1929ء میں آپ نیوی میں ملازم ہوئے آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے چیف پیٹی افیسر کے عہدے پر پہنچے آپ شروع سے ہی خدا سے لو لگائے ہوئے تھے ۔
ترک ملازمت:
1936ء میں جب اﷲ تعالی کا حکم صادر ہو ا کہ دنیا کی ملازمت ترک کرو اور ہماری ملازمت میں آجاؤ تو آپ نے حسن الحکم ملازمت ترک کر دی اور اپنے گاؤں سبن شریف تشریف لائے دوران ملازمت آپ سے کئی کرمات ظاہر ہوئیں ۔ آپ کی مشہور کرامت جس کے بعد آپ نے ملازمت ترک کر دی وہ یہ ہے کہ لوگ آپ کی سچائی، آپ کی عبادت گزاری کو دیکھ کر آپ سے اپنے مسئلے بیان کرتے اور آپ ان کیلئے دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتے تو ان کی مشکل آسان ہو جاتی تھی ۔ جو شخص بھی آپ کے پاس خالی جھولی لیکر آتا ہزاروں مرادیں بھر کر جاتا ۔ ہزاروں افراد فیض یاب ہوئے ۔ آپ کی بیعت حضرت غوث پاک سے ہے ۔ اس کے بعدغوث آباد شریف ، راولپنڈی تشریف لائے اور یہاں دربارِ غوثیہ کی بنیاد رکھی ۔ آپ نے وہاں پر رہائش رکھی اور 1949ء کو حسب الحکمِ غوث پاک حج کیلئے گئے ۔ دوران سفر آپ کے چند مرید بھی آپ کے ساتھ تھے آپ سب سے پہلے بغداد میں روضہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے روضہ اطہر پر تشریف لے گئے ۔ آپ وہاں کچھ دن قیام پزیر رہے ،پھر ایک دن بغداد شریف میں آپ کو سجادہ نشین دربارعالیہ نے آپ کو بلایا ۔ حسب الحکم آپ حاضر ہوئے اور مجلس میں بیٹھ گئے ۔ شیخ سیّداحمد شرف الدّین قادری سجادہ نشین نے فرمایا ادھر آؤ ہمارے ساتھ ہمارے برابر سجادہ پر بیٹھو لیکن آپ نے انکساری سے عرض کیا حضور میں آپ کا غلام ہوں آپ کی برابری نہیں کر سکتا تو سجادہ نشین نے دوبارہ حکم دیا اور پھر وہی جواب دیا تیسری دفعہ کے حکم سے آپ نے سجادہ نشین کو کہا الامرفرق الادب اورکہا تم ہمارے بھائی ہو ہمیں غوث پاک نے آپ کے بارے میں حکم فرمایا ہے اور پھر حسب الحکم آپ کیلئے یہ سجادہ بچھایا گیا ہے اس لیے آؤ اور اس پر بیٹھو اور حکم ہے کہ آپ کو میں بیعت کروں اور اپنا خلیفہ بناؤں اور اس کی سندعطا کروں ۔ چنانچہ آپ یہ حکم سن کر سجادہ پر بیٹھے اور بیعت کی اور خلافت اور سند عطا ہوئی ۔اب الحاج حضرت سیّد سخی چن پیربادشاہ سرکار آپ کے سجادہ نشین ہیں اور دربار غوثیہ قادریہ لوگوں کیلئے ملجاو ماوی کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ آپ بغدادشریف دربارِ غوث پاک گئے ۔ تیسری مرتبہ بغداد شریف سے واپسی پر بحکم غوث اعظم راولپنڈی کو چھوڑا اور لاہورتشریف لے گئے اور وہیں قیام فرمایاالحاج الشیخ حضرت سید سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزاقی سرکار آنگین ولایت میں جلوہ نما ہوئے آپ کی مہک سے گلستان قادریہ میں خوشبودار بہار آگئی ۔ محبوب سجانی قطب ربانی غوث صمدانی قندیلِ نورانی شہباز لامکانی سید ناالشیخ عبدلقادر جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ نے آج سے آٹھ صدیاں قبل اسلامی دنیا کے مرکز اور گہوارہ تہذیب و تمدن کے حامل تاریخی شہر بغداد میں علم ومعر فت اور فیضان رشد وہدایت کی جو قندیل روشن کی ۔ اس کی صوفشانیاں تا قیامت مسلمانان عالم کو سیراب کر تی رہیں گی ۔ قدرۃ اولیاء شمس العارفین حجتہ الکاملین مرشدِ کریم الحاج حضرت سیّد سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزقی اسی گلستانِ غوثیہ کے پھول ہیں آپ کی ولادتِ باسعادت 1965ء میں غوث آبادشریف، ڈھوک کھبہ، راولپنڈی میں ہوئی آپ ماور زادولی کامل ہیں ۔ آپ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہو ا، آپ سرکار نے دینی تعلیم گھر پر حاصل کی ۔ شروع سے ہی آپ کی طبیعت روحانیت کی طرف مائل تھی ۔ آپ نے مرشد کی بارگاہ میں باادب وقت گزار کر روحانی منازل طے کیں ۔ آپ نے مرشد کی جانب کبھی پیٹھ نہی کی مرشد کریم نے باقاعدہ بیعت کی روحانی منازل طے کروا کر کے خلافت قادریہ کی سندو اجازت اور وظائف عطا کرکے فرمایا کہ بیٹا میں آج حضور سید نا غوث اعظم کے حکم سے امانت آپ کے سپرد کر دی ہے اور انشاء اﷲ آپ کے فیضان ولایت سے گلستانِ قادریہ میں قیامت تک بہار قائم رہے گی اور لوگ آپ سے فیض حاصل کرتے رہیں گے اور وہ وقت دور نہیں جب آپ اولیاء کی بزم میں بدر الاولیا بن کر چھا جائیں گے آج آپ اس دعا کے صحیح حقدرا ثابت ہوئے آپ کی نگاہ سے ہزاروں فیض پارہے ہیں اورآپ کاملین کی صف میں جلوہ افروز ہو رہے ہیں ۔ آپ قاسم ولایت بن کر حضور غوث پاک سرکارکا فیض تقسیم کر رہے ہیں ۔ آپ حسنی حسینی نجیب الطرفین سید پاک ہیں ۔ آپ کے والد ماجد الحاج حضرت سیدسخی لعل حسین شاہ بادشاہ الگیلانی الرزاقی القادری بلند پایہ کے صوفی سالک اور پچھلی صدی کے عظیم روحانی مرد قلندر درویش ولی کامل تھے ۔ آپ کی روحانی بیعت جناب پیر ان پیر روشن ضمیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی سے تھی آپ نے حضور غوث پاک سرکار کے حکم پر سر کاری ملازمت کو خیر آباد کہا اور جناب پیر ان پیر کے روضہ مقدس کی طرف عازم سفر ہوئے؂؂؂؂؂؂ بغداد شریف آپ حضور پاک کے روضہ اطہر پر حاضر ہوئے تو جناب پیران پیر نے سجادہ نشین کلید بر ادر روضہ کو حکم دیا کہ میرا بیٹا لعل حسین آیا ہے اس کو اپنے ساتھ نشست پر بٹھاؤ اور ان کو میرے تمام خصوصی تبر کات عنایت کرو اور دستار خلافت قادریہ اور وظائف واسناد کے ساتھ اجازت دو ۔ چنانچہ آپکو بحکم غوث پاک رحمتہ اﷲ علیہ وہ تمام تبرکات عطا کئے گئے آپ نے کچھ دن وہاں قیام کیا اور روحانی منازل طے کیں پھر آپ کربلاء معلی اور مدینہ منورہ بیت اﷲ شریف حج کی سعادت کیلئے تشریف لے گئے آپ نے وہاں سے غوث آبادشریف، ڈھوک کھبہ،راولپنڈی کو رونق بخشی یہاں پر لوگوں کو درس و ہدایت دینے میں مصروف رہے پھر آپ بحکم غوث پاک سرکار لاہور سند رتشریف لے گئے اوریہاں دربار عالی مقام پر ولایت کی گود میں پرورش پانے والی اس عظیم ہستی مرشدِ کریم الحاج حضرت سیّد سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزقی کے سپرد کرکے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سندر شریف کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ حضور مرشد کریم اپنے والد ماجد اورمرشد کامل کی نگاہ اور دعا سے ایسے فیض یاب ہوئے کہ آپ نے مرشد کے سلسلے کو وہ کمال و عروج بخشا کہ مرشد بھی جمال الدین ہانسوی کی طرح آپ کے عاشق ہو گئے اور جو بھی سندر شریف لاہو ر جاتا اس سے پوچھتے میرے چن پیر کی زیارت کی ہے ۔ آپ حکم دیتے کہ جاؤ سخی چن پیر بادشاہ کی زیارت کرو ۔ اسی طرح حضور سید نا سیّدسخی چن پیر بادشاہ سرکار الگیلانی القادری الرزاقی سرکار نے جس طرح عشق و محبت میں ڈوب کر مرشد کی ڈیوٹی دی ایسی عشق بھری داستان ،عشق کی داستانوں میں اپنی مثال آپ ہے۔ حضور سید سخی چن پیر بادشاہ سرکار کے ساتھ میری صحبت محبت عقیدت کا عرصہ برسوں پر محیط ہے میں نے اپنی اس صحبت اور قربت میں مرشد بر حق کامل کو ذات گرامی میں بے شمار خوبیاں دیکھیں اور حقیقت نمایاں طور پر جھلک رہی ہے کہ وہ اپنے مرشد کے ساتھ عشق ہیں فنا ہیں، جب مرشد کا ذکرِ خیر کرتے تو آبدیدہ ہو جاتے اور آنکھیں تر ہو جاتیں اور فرماتے کہ ابھی آکے ہم نے بیٹھے کہ وہ اٹھ گئے جہاں سے مرشد کے ذکر سے کیوں نہ آنکھیں تر ہوتی جس طرح اقبال یہ کہتاہے :عطا کن ’’شورومی ‘‘’’سوزخسرو‘‘اس طرح سخی چن پیر بادشاہ سرکار کی نگاہیں بھی ان سلطان الاولیاء کی ذات میں گم ہو گئیں جن کی ہر ہر بات میں علم و عرفان کی حلاوت تھی جن کی ہر ادا میں شان قلندری جلوہ گر جن کے ہر عمل میں اخلاص اور احسن کاری کا با نکپن ، الغرض حضرت سیّدسخی لعل حسین ؓ بادشاہ سرکار کی حیات طیبہ ، ایمان ویقین۔۔۔ علم و عرفان ، مجاہد ات و مراقبات واردات و مشاہدات ، عشق و مستی خلو ص و ہفا اور خدمت خلق کا ایسا حسین مرقع تھی کہ دل بے اختیار مائل ہوتا، احترام و عقیدت کے جذبات خود بخود ابھرتے اور اس مقام پر ایک لمحے کی جدائی بھی شاق گزرتی ہے مرشدِ کریم الحاج حضرت سیّد سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزقی حضور غوث الثقلین کی اولاد اطہر سے ہیں آپ جناب پیرانِ پیر غوث اعظم کے بیٹے حضرت شیخ عبدالرزاق رحمتہ اﷲ علیہ کی اولاد سے ہیں اس لئے رزاقی کہلائے شہزاد ہ غوث الوری میں بے شمار خوبیاں دیکھیں وہاں جو حقیقت نمایاں طور پر پر جھلک رہی ہے وہ اپنے مرشد کے ساتھ عشق ہے آپ اپنے مرشد پاک کا ذکر انور کرتے وقت آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور ادب کے ساتھ ہمیشہ ذکر خیر فرماتے ہیں اور جب بھی کوئی والی سند ر شریف سرکار کا ذکر کرتا تو اس کی حوصلہ افزائی فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ مرشد پاک کی ظاہری صحبت سے محروم ہو گئے ورنہ ایک لمحہ بھی ان کی جدائی نہ ہوتی آنکھ بند کرتے ہیں تو ان کی بارگاہ میں حاضری ہو جاتی ہے ۔ آپ کے مریدین تو فقط اپنے مرشدِ کریم الحاج حضرت سیّد سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزقی کی محبت اور حسنِ اخلاق کے جوہر سے اپنی ویران زند گیوں کو باغ و بہار بنا رہے ہیں تمام اولیاء کرام کی سیرات پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ متاثر جو پہلو ہے وہ اؤلیاء کا حسن اخلاق ہے جس نے اغیار کے دل موہ لئے، روحانیت میں حسن اخلاق سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ مرشدِ کریم الحاج حضرت سیّد سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزقی کی زندگی کے شب و روز کا مطالعہ کیا جائے تو اخلاق کی اعلی منازل اور دریا دلی کا متاثر کن نمونہ دکھائی پڑے گا ۔

حضرت سیّد سخی چن پیر بادشاہ سرکار کے منظورِ نظر حضرت صاحبزادہ پیر سیّد سخی عازب لعل گیلانی بادشاہ سرکار کو مرشدِ کریم الحاج حضرت سیّد سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزقی نے دربارِ غوثیہ، غوث آباد شریف، راولپنڈی میں سجادہ نشین مقرّر فرما یا ہے۔ جو کہ مادر ذات اﷲ کے ولی ہونے کے ساتھ ساتھ واقفِ امور طریقت ،علمِ لدنی کا پیکر ،ممتاز عالمِ دین اور ممبہء جود و سخا و فیضانِ غوث اعظم کا پیکر ہیں۔ آپ کے احسن اندازِ بیان سے ہزاروں لوگ فیض پا رہے ہیں۔ حضرت صاحبزادہ پیر سیّد سخی عازب لعل گیلانی بادشاہ سرکار پچھلے کئی سالوں سے دربارِ غوثیہ، غوث آباد شریف، راولپنڈی کی جامع مسجد میں خطبہء جمعہ و نمازِ جمعہ کے اہم امور سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نہ صرف ملکِ پاکستان بلکہ دنیا بھر میں آپ سرکار کے روحانی و اصلاحی دورے سارا سال ہی جاری و ساری رہتے ہیں۔ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھیبسلسلہ سالانہ عرس غوث اعظم زیر صدارت پیر طریقت حضرت سید سخی چن پیر بادشاہ الگیلانی القادری الرزقی تین روزہ سالانہ عرس21مئی بروز جمعہ کو شروع ہوگا جو ہفتہ22اور23مئی بروز اتوار 2019 دربار عالیہ غوثیہ غوث آباد شریف ڈھوک کھبہ راولپنڈی میں منعقد ہو گا عرس کی تیاریاں جاری ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zaheer Ahmed
About the Author: Zaheer Ahmed Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.