احسانوں تلے دبی ایک بہو

(Mukhtar Ahmad, Islamabad)

خورشید اور صبا کی شادی کو کئی سال ہوگئے تھے اور ان کے دو بچے تھے- شادی سے پہلے خورشید کا صبا سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا اور یہ ان کی محبّت کی شادی نہیں تھی- وہ اس کی ماں کی ایک سہیلی کی بیٹی تھی اور جب چھوٹی تھی تو کبھی کبھی اپنی ماں کے ساتھ ان کے گھر آجایا کرتی تھی-

ماں کی اس سہیلی کا تعلق بھی ایک غریب گھرانے سے تھا- اسی غربت کی وجہ سے صبا نے میٹرک سے زیادہ تعلیم بھی نہیں حاصل کی تھی- اس کی دو بڑی بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی بھی تھا-

دونوں بہنوں کی شادی ہو تو گئی تھی، مگر ان کی شادیوں نے اس کے باپ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور اس کا بال بال قرض میں جکڑ گیا تھا- دونوں بیٹیوں کے سسرال والے اچھے نہ تھے اور انہوں نے منہ سے کہہ کہہ کر جہیز مانگا تھا- صبا نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور باپ کی حالت دیکھ دیکھ کر اس کا دل خون کے آنسو رونے لگتا تھا- بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کے لیے باپ کو رشتے داروں اور جاننے والوں سے قرض لینا پڑ گیا تھا اور جیسے تیسے دونوں کی شادیاں ہوگئیں-

اس کا بھائی ابھی چھوٹا تھا اور اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ محلے کی ایک دکان میں ویلڈنگ کا کام بھی سیکھتا تھا جہاں سے اس کو ہفتہ وار کچھ پیسے بھی مل جایا کرتے تھے- خود صبا نے بہنوں کی شادیوں کے بعد محلے کے ایک اسکول میں بطور ٹیچر نوکری کر لی تھی تاکہ باپ کی کچھ مدد ہوسکے اور وقت پر قرضہ اتر جائے-

صبا کی ماں ایک سگھڑ عورت تھی- اس نے اپنی بیٹی کو بھی گھر سے متعلق ہر امور میں ماہر بنا دیا تھا- آج کل کی لڑکیاں کروشیے کی کڑھائی ، سویٹر بننے اور سینے پرونے کے کاموں سے نا واقف ہوتی ہیں، مگر صبا ان کاموں میں بھی ماہر تھی- طرح طرح کے کھانے پکانے میں اس کا جواب نہیں تھا- اس کا گھر ہر وقت صاف ستھرا رہتا تھا اور ہر چیز قرینے سے رکھی نظر آتی تھی- یہ نہیں کہ کسی مہمان کے آنے کا سنا اور صفائی ستھرائی میں لگ گئے اور مہمانوں کے جانے کے اگلے روز ہی گھر میں پھر بےترتیبی نظر آنے لگی-

خورشید کا باپ ایک سرکاری ملازم تھا اور بطور ڈرائیور کام کرتا تھا- اس نے بڑی مشکلوں سے خورشید کو بارہ جماعت تک پڑھایا تھا- اس کے بعد وہ آگے نہ پڑھ سکا اور ایک کمپنی میں بطور سیلز مین بھرتی ہوگیا-

وہ بہت سیدھا سادہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا نوجوان تھا، اس نے کبھی کسی لڑکی سے دوستی بھی نہیں کی تھی، اس لیے جب ماں نے اس سے کہا کہ وہ صبا سے اس کی شادی طے کرنا چاہتی ہے تو اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا- وہ ماں کی اس سہیلی کو جانتا تھا اور اس نے صبا کو بہت دفعہ دیکھ بھی رکھا تھا جب وہ چھوٹی تھی اور اپنی ماں کے ساتھ ان کے گھر آتی تھی-

شادی ہوگئی اور صبا نئے گھر میں آگئی- اس کی محبّت اور خلوص دیکھ دیکھ خورشید اس بات کا شکر کرتا تھا کہ اسے اتنی اچھی بیوی ملی ہے- شادی سے پہلے جب وہ اپنے دوستوں کے منہ سے ان کی بیویوں کے بارے میں شکوے شکایات سنتا تھا تو فکرمند ہوجاتا تھا کہ جانے اس کی بیوی کیسی ہو مگر جب اس کی شادی صبا سے ہوئی تو اسے بڑا اطمینان ہوا- وہ ایک بہت ہی محبّت اور جان چھڑکنے والی بیوی ثابت ہوئی تھی-وہ خورشید سے دل و جان سے محبّت کرتی تھی-

سال دو سال میں کبھی بخار سے اس کی طبیعت خراب ہوجاتی تو وہ رات رات بھر نہیں سوتی تھی، اسی کے پاس بیٹھ کر اس کا سر دباتی رہتی اور گھڑی دیکھ کر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسے اٹھا اٹھا کر دوائی پلاتی رہتی- خورشید لاکھ اس سے سونے کا کہتا مگر وہ بہانہ بنا دیتی کہ اسے نیند نہیں آ رہی ہے-

ان کی شادی کو کئی سال ہوگئے تھے مگر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ صبا نے کسی بھی بات میں خورشید سے بحث و تکرار کی ہو- بات تو بہت عجیب سی ہے مگر حقیقت یہ ہی تھی کہ وہ کبھی اس کی نافرمانی بھی نہیں کرتی تھی- وہ اس کی ایک ایک بات کا خیال رکھتی تھی، اس نے کبھی اس بات کا گلہ نہیں کیا تھا کہ خورشید کی آمدنی کم ہے اور اسے گھر کا خرچہ چلانے میں دشواری ہوتی ہے-

ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی اور دونوں اسکول جاتے تھے، وہ باقائدگی اور پابندی سے دونوں کو شام کو پڑھاتی تھی- اس طرح ان کے ٹیوشن کے پیسے بھی بچ جاتے تھے اور وہ دونوں پڑھنے لکھنے میں بھی تیز ہوگئے تھے- اس کی کوشش تھی کہ دونوں بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ایک اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں- صبا نے خورشید پر بچوں کو پڑھانے سے لے کر گھر تک کی کوئ بھی ذمہ داری نہیں ڈالی تھی- اس کا خیال تھا کہ وہ اپنے کام سے تھک کر گھر آتا ہے تو اسے خوب آرام اور سکون ملنا چاہیے-

وہ رات کو کام پر سے آتا تو صبا سارے کام چھوڑ دیتی، جتنی دیر میں وہ جوتے اتارتا، وہ اس کی چپلیں اس کے پاس لاکر رکھتی، وہ منہ ہاتھ دھو کر آتا تو اتنی دیر میں وہ دسترخوان بچھا کر کھانا گرم کر کے لگا دیتی- جب تک خورشید کھانا کھاتا وہ بچوں کو اس کے نزدیک بھی نہیں پھٹکنے دیتی تھی تاکہ وہ سکون سے کھانا کھا سکے- اس دوران وہ انھیں دوسرے کمرے میں بٹھا کر یا تو انھیں کچھ پڑھاتی نہیں تو کوئی کہانی سنانے لگتی-

صبا تھی تو اسی زمانے کی مگر سوچ اس کی پرانے زمانے کی عورتوں جیسی تھی جن کے نزدیک ان کے اپنے آرام، کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی اور ان کا جینا صرف اپنے گھر والوں کے لیے ہی ہوتا تھا اور وہ چوبیس گھنٹے اپنے گھر اور ان میں رہنے والوں کی خدمت میں لگی رہتی تھیں-

ایسی عورتیں خاندان کے دوسرے رشتے داروں سے تعلقات کو بہت اہمیت دیتی تھیں- کوئی مہمان آجاتا تو ان کی دل سے مہمانداری کرتیں اور انھیں بہت زیادہ عزت دیتیں- ایسی عورتوں کا ذہن اور ان کی سوچیں بہت اچھی اور مختلف ہوتی تھیں، جس کی وجہ سے خاندان کے لوگ آپس میں جڑے رہتے تھے اور اس سے ایک اچھا اور پیار محبّت والا ماحول بن جاتا تھا اور خاندان کا ہر فرد تمام اخلاقی اقدار اور رشتے نبھاتا تھا-

خورشید کو اس کی بے پناہ محبّت اور خدمت کا احساس ہوگیا تھا اس لیے اس نے آج تک اس سے سخت لہجے میں بات نہیں کی تھی- وہ اس سے نہایت نرم لہجے میں بات کرتا تھا اور اس کی پوری کوشش یہ ہی ہوتی تھی کہ اس کی کسی بات سے صبا کی دل آزاری نہ ہو- وہ اب بھی اس سے پہلے جیسی ہی محبّت کرتا تھا، بلکہ گذرتے دنوں کے ساتھ اس کی محبّت میں اور بھی اضافہ ہوگیا تھا-

خورشید جس جگہ کام کرتا تھا وہ ایک چھوٹی سی کمپنی تھی- یہاں سے اسے لگی بندھی تنخواہ ملا کرتی تھی- اسی تنخواہ سے گھر کے چھ افراد کا مہینے بھر کا خرچہ چلتا تھا- ان چھ افراد میں خورشید کے ماں باپ، ان کے اپنے دو بچے اور دو وہ خود میاں بیوی شامل تھے- اچھے شوہروں کی طرح خورشید میں بھی یہ بات تھی کہ کمپنی سے جو تنخواہ ملا کرتی تھی وہ بیوی کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیتا تھا- وہ گھر کا خرچ بہت سمجھداری اور کفایت شعاری سے چلاتی تھی-

خورشید الله کا شکر ادا کرتا تھا کہ اس کو اتنی اچھی بیوی ملی ہے- مگر ایک روز اچانک اسے احساس ہوا کہ ان تمام باتوں کے باوجود وہ اس سے زیادہ اپنی ساس اور سسر کی دیکھ بھال کرتی ہے- اس کی نسبت ان کی پسند اور نا پسند کا زیادہ خیال کرتی ہے- اس کے دماغ میں یہ بات آئ تو اسے یاد آیا کہ کھانے میں وہ وہ چیزیں پکاتی ہے جو اس کی ماں اور باپ کو زیادہ پسند ہوتی ہیں- وہ اس کی ماں کو گھر کا کوئی کام بھی نہیں کرنے دیتی تھی- جب سے صبا شادی ہو کر اس گھر میں آئ تھی، خورشید نے اپنی ماں کو کبھی کپڑے دھوتے یا کھانا پکاتے نہیں دیکھا تھا، گھر کے تمام افراد کے کپڑے دھونا اور ان پر استری کرنا صبا نے اپنی ذمہ داری بنا لیا تھا-

خورشید کو ایک اور بات بھی یاد آئ- پچھلی سردیوں میں اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ایک نیا گرم کوٹ خریدے، اس کے لیے اس نے کچھ پیسے بھی جمع کرلیے تھے جو اسے اوور ٹائم کی مد میں ملے تھے-

جب اس نے اس بارے میں صبا سے بات کی تو وہ سن کر لمحہ بھر کو تو خاموش ہوگئی پھر کچھ توقف کے بعد بولی- "آج میں سردیوں کے کپڑے دھوپ لگانے کے لیے نکال رہی تھی تو ان میں سے آپ کے دو بڑے اچھے اور نئے سویٹر نکلے تھے- میں نے سرف ڈال کر انھیں دھو دیا ہے- آپ دیکھیں گے تو خوش ہوجائیں گے- ان سردیوں میں تو آپ ان ہی سے کام چلا لیں، اگلی سردیوں میں ہم نیا کوٹ بھی لے لیں گے-"

خورشید کو اپنے وہ سویٹر یاد آگئے- یہ سویٹر صبا کا بھائی سعودی عرب سے لے کر آیا تھا- وہ ویلڈنگ کا کام سیکھ کر وہاں کسی کمپنی میں ملازم ہوگیا تھا-

وہ بولا- "ان سویٹروں کو تو میں بالکل ہی بھول گیا تھا، کوٹ خریدنے کی کیا ضرورت ہے- اب یہ پیسے تم رکھ لو، گھر میں کام آجائیں گے-"

"میں نے بھی کچھ پیسے بچا کر رکھے ہوۓ ہیں- اگر آپ کہیں تو ہم امی ابا کے لیے دو کمبل لے آئیں- ان کے لحاف تو پرانے اور لنج پنج ہوگئے ہیں-"

خورشید کو یاد آیا کہ خود ان کے لحاف بھی بہت خراب ہوگئے تھے- ان میں منہ ڈال کر لیٹو تو جگہ جگہ سے کمرے کا بلب چمکتا نظر آتا تھا- مگر صبا کی بات سن کر اس نے رضامندی ظاہر کردی- اسے اس بات پر حیرت ضرور تھی کہ بجائے اپنا آرام دیکھنے کے وہ اپنی ساس اور سسر کا سوچے جا رہی تھی- اس بات کی اسے خوشی تو تھی، لیکن وہ اس کا سبب جاننے سے قاصر تھا- ساس سسر کو اتنی اہمیت دینا اس کی سمجھ سے بالا تر تھا-

اگلی چھٹی آئ تو دونوں میاں بیوی بازار گئے اور دو کمبل خرید لائے- خورشید نے جب یہ کمبل اپنے ماں باپ کو دیے تو اس کا باپ بےحد ناراض ہوا- "تم ہمارے لیے اتنا کچھ کر رہے ہو، یہ سب تو تمہیں اپنی بیوی بچوں کے لیے کرنا چاہیے-"

خورشید اپنے باپ کا بہت ادب کرتا تھا- آنکھیں جھکا کر بولا- "ابا یہ تو صبا آپ لوگوں کے لیے لائی ہے-"

اس کا باپ خاموش ہوگیا- شام کو جب خورشید اپنے دوستوں کے پاس سے گھر آیا تو اس نے اپنے کمرے میں چار کمبلوں کے بیگ دیکھے- صبا نے اسے بتایا- " یہ کمبل ابا نے لا کر دیے ہیں، ہم چاروں کے لیے- انہوں نے اتنے بہت سے پیسے خواہ مخواہ خرچ کردیے ہیں- ہمارا کام تو چل رہا تھا-"

اسی رات جب دونوں بچے سو گئے، اور خورشید اور صبا بستر میں لیٹے تو خورشید نے اچانک کہا- "صبا- ایک بات سوچ سوچ کر میں بہت حیران ہوتا ہوں- میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم میرے ماں باپ کا اتنا خیال کیوں رکھتی ہو- تم نے کبھی میری امی کی مجھ سے کوئی شکایت نہیں کی، ان کی عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچائی، تم نے کبھی ان سے بد کلامی نہیں کی- جہاں تک مجھے پتہ ہے تم بغیر کہے ان دونوں کا ہر کام کرتی ہو- آخر کیوں، میں نے تو کبھی کسی ایسی بہو کے متعلق نہ دیکھا نہ سنا-"

اس کی بات سن کر صبا مسکرانے لگی- وہ لیٹے لیٹے اس کے قریب کھسک آئ اور بڑے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ بولی- "خورشید- میں آپ سے بے پناہ محبّت کرتی ہوں- دنیا میں مجھے کوئی اور اتنا عزیز نہیں ہے جتنا کہ آپ ہیں- آپ کے لیے اگر میری جان بھی چلی جائے تو مجھے منظور ہوگا- میں تو آپ کی اس بات کا بھی بدلہ نہیں اتار سکتی جب آپ نے جہیز کے نام پر میرے ماں باپ سے کچھ لینا گوارہ نہیں کیا تھا اور اپنی امی کے ذریعے سختی سے منع کروادیا تھا کہ ہمیں کوئی چیز نہیں چاہیے- مجھے آپ کی امی کے الفاظ اب تک اچھی طرح یاد ہیں- انہوں نے میری امی سے کہا تھا "ہمارے لڑکے نے کہلوا کر بھیجا ہے کہ الله کا دیا ہمارے پاس سب کچھ ہے، لڑکی ہمیں صرف تین کپڑوں میں چاہیے-" اور یوں ہماری شادی بڑی سادگی اور اسسانی سے ہوگئی تھی- اگر آپ بھی میرے دولہا بھائیوں کی طرح ہوتے تو میرا بھائی کبھی سعودی عرب نہیں جا سکتا تھا- اس کے سعودی عرب جانے کے تمام پیسے میری شادی پر لگ گئے ہوتے- ہمارے گھر میں وہ ہی غربت کے ڈیرے ہوتے اور میرے بوڑھے ماں باپ پائی پائی کو محتاج ہوتے- آپ کی اس بات کی وجہ سے وہ بغیر کسی پریشانی کے باہر چلا گیا اور ہمارے گھر کے حالات بدل گئے- اب میرے امی ابّا بہت مزے سے رہتے ہیں، انھیں کسی قسم کی کوئی مالی پریشانی نہیں ہوتی- یہ سب آپ کی وجہ سے ہی ممکن ہوا تھا- اس روز ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ آپ کتنے خوددار اور دوسروں کی تکلیفوں کا خیال کرنے والے ہیں- اس وقت ہماری صرف بات ہی پکی ہوئی تھی، شادی نہیں ہوئی تھی، مگر میں اس وقت سے ہی آپ سے بے انتہا محبت کرنے لگی تھی- شادی کے بعد آپ کا رویہ دیکھا تو یہ محبّت مزید بڑھ گئی-" یہ کہتے کہتے اس کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں-

خورشید ہنسنے لگا- اس نے ہلکے سے اس کی ناک پکڑ کر کہا- "میں جانتا ہوں تم مجھ سے کتنی محبّت کرتی ہو- میں بھی تم سے بہت پیار کرتا ہوں- اس بات پر میرا یقین ہے کہ تم مجھے قسمت سے ملی ہو ورنہ میں اس قابل نہیں تھا- لیکن پھر وہ ہی سوال- محبت تم مجھ سے کرتی ہو، دنیا میں میں ہی تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہوں، اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ تم امی ابا کو مجھ پر ترجیح دیتی ہو- گھر میں کھانا ان کی پسند کا بنتا ہے، عید بقرعید پر میرے اور تمہارے نئے کپڑے بنیں یا نہ بنیں، تم ان کے کپڑے ضرور بنواتی ہو- اور ایسی ہی دوسری کئی باتیں، کہو تو بتادوں-"

"مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ چپکے چپکے ان باتوں کو نوٹ کرتے رہتے ہیں-"- صبا کھلکھلا کر ہنس پڑی پھر بولی- "مگر میں اس کو آپ پر ترجیح دینا نہیں کہوں گی- میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ اپنی ساس سسر کی دل و جان سے خدمت کروں اور ان کو کوئی تکلیف نہ ہونے دوں- میرا بس چلے تو جانے ان کے لیے کیا کیا کردوں- جانتے ہیں کیوں؟ جب بھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ جب آپ چھوٹے سے تھے، آپ کے ان ہی ماں باپ نے آپ کو کن تکلیفوں سے پالا تھا- آپ کو سرد گرم موسموں سے بچایا- آپ کے بغیر کہے ہی آپ کی تمام ضروریات وہ دونوں پوری کرتے تھے- انہوں نے آپ کو پڑھایا لکھایا، اتنا بڑا کیا، آپ کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی- خود تکلیفیں اٹھا کر آپ کو راحت پہنچائی- دوسرے بچوں کی طرح آپ بھی کھانا کھانے میں نخرے کرتے ہونگے اور امی آپ کی خوشامد کرتی پھرتی ہونگی- وہ دونوں ہر وقت آپ کے لیے فکرمند رہتے ہونگے- وہ یہ سب کچھ اس شخص کے لیے کرتے تھے جوآج میرے لیے سب کچھ ہے اور مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے- اب آپ مجھے خبطی کہیں یا کچھ اور مگر یہ تمام باتیں سوچ سوچ کر میں خود کو ان کے احسانوں کے بوجھ تلے دبا محسوس کرتی ہوں اور اپنی پوری کوشش کرتی ہوں کہ اپنی محبت، محنت اور خدمت سے ان کے اس احسان کا تھوڑا بہت صلہ دے سکوں-"

اس کی باتیں سن کر خورشید کی آنکھیں نمناک ہو گئیں- اس نے ممنونیت سے صبا کے دونوں ہاتھ پکڑے اور ان میں اپنا منہ چھپا لیا-

(ختم شد)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mukhtar Ahmad

Read More Articles by Mukhtar Ahmad: 69 Articles with 61225 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jun, 2019 Views: 1470

Comments

آپ کی رائے