جواب تو ہر ایک نے دینا ہے

(Babar Alyas, Chichawatni)

انسان کی ترقی کا انتقال خود انسان نے ہی کیا ہے مادے کی تلوار سے...
اج کے ترقی یافتہ انسان کی افکار میں سے اخلاق کی کردار کو ورطہ ہلاکت تک پہنچانے والے کوئی اور نہی انسان خود ہی ہیں, جو انسان کو ایک کروڑ پتی کی طرح سوچنے کی تجاویز تو بتاتا رہتا ھے
لیکن انسان کو انسان کی طرح سوچنے کی , اسلیے آج انسان مادی ترقی کے بلند پایہ پہاڑوں پر براجمان ھے
لیکن اخلاق کی گرتی دیواروں کے نیچے خود ہی دبتہ چلا جا رہا ہے۔
‏جو سائنسدان اور ترقی یافتہ ممالک چاند اور مریخ پر زندگی کی تلاش پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں
وھی سائنسدان اور ترقی یافتہ ممالک زمین پر انسان کی ہلاکت ؤ بربادی, فحاشی ؤ بے دینی پر بھی کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں
آج ترقی کے نام پر جمہوریت کے نفاز کی بدولت شخصی آزادی کے تحت ہر ایک شخص کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ شراب سے محظوظ ہویا خنزیر سے۔
اگر دو بالغ حضرات (consenting adults)اپنی خواہش سے شادی کے بغیر جنسی تعلق استوار کرنا چاہیں تو ایسا کرنا ہر گز معیوب نہ سمجھا جائے بلکہ ریاست پر شخصی آزادی کے تحت انہیں تحفظ مہیا کرنا لازمی ہوگا۔نیز مرد وزن کس طرح کا لباس زیب تن کریںیہ بھی ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔
چنانچہ معاشرے کے باسیوں کو عریانی یا فحاشی کو اس کفریہ فکر کے تحت قبول کرنا پڑے گا۔ یہ شخصی آزادی کے اس مغربی نظریہ کو قبول کرنے کے بعد ایک باپ کو اپنی بیٹی کے بوائے فرنڈ سے ملنے میں کوئی عار نہیں رہے گا نہ ہی ایک ہم جنس پرست کے خلاف تادیبی کاروائی کی جاسکتی ہے۔
اسی آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنرل مشرف نے نیکر پہنے بھاگتی عورتوں کو روکنے کے بجائے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ جس کو یہ پسند نہیں وہ اپنی آنکھیں بند کرلے۔
اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان شخصی آزادی کا نعرہ لگا کر اپنے ارد گرد ہونے والی برائی سے برأت کا اظہار نہیں کرسکتا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
﴿کل کم راع و کل کم مسؤول عن رعیتہ﴿بخاری﴾
’’تم میں سے ہر ایک راعی ﴿ذمہ دار﴾ ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھ ہو گی‘‘۔
﴿والذی نفسی بیدہ لتأمرنَّ بالمعروف، ولتنہونَّ عن المنکر، أو لیوشکنَّ اﷲ أن یبعث علیکم عقاباً من عندہ، ثمّ لتدعنّہ فلا یستجب لکم ﴿احمد﴾
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم ضرور بالضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ورنہ اﷲ تم پر عذاب نازل کر سکتا ہے۔ پھر تم اس سے دعا مانگو گے اور وہ اسے قبول نہ کریگا‘‘
اس امر پر بھی مرکوز کروانی ہوگی کہ اگر ایک عورت جسم پر دو چیتھڑے پہننے کے قانون کی پابند ہے، جیسا کہ امریکہ میں ہے، تو پھر یہ حد بذات خود اس عورت کی آزادی کو سلب کرتی ہے۔ اور اگر عورت، انسان کی لگائی ہوئی حد کی پابندی کر سکتی ہے تو پھر لباس میں اﷲ کی لگائی ہوئی حد کو قبول کرنے میں کیا مذائقہ ہے؟
امریکہ میں ایک خاتون اپنی اٹھارویں سال گرہ سے ایک دن قبل تک ایک بالغ مرد کے ساتھ اپنی مرضی کے باوجود جنسی تعلق استوار کرنے میں قانوناً آزاد نہیں۔ تو اگر ایک خاتون اپنی شخصی آزادی میں انسان کے بنائے ہوئی قوانین کے تحت قدغن برداشت کر سکتی ہے تو پھر مرد و زن کے تعلقات کو استوار کرنے والے خالق کے قوانین کو کیوں قبول نہیں کیا جاسکتا؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نہیں اسلام میں آزادیاں تو موجود ہیں لیکن اﷲ کے احکامات کے دائرے کے اندر ہمیں اس تضادات پر مبنی اصطلاح(Oxymoron) سے ہر گز اتفاق نہیں ۔
جب بھی اسلامی احکامات کے تحت انسانی اعمال پر پاندیاں اور حدود و قیود لگادی جائیں تو پھر آزادیاں کہاں رہ جاتی ہیں؟
دوئم یہ کہ قرآن اور سنت میں کہیں پر بھی انسان کو آزاد نہیں کہا گیا اور نہ ہی آزادیوں کو مقدس گردانا گیا۔
بلکہ قرآن اور سنت بار بار انسان کو’’عباد الرحمن‘‘ اور ’’یا عبادی‘‘ ﴿اے میرے غلام﴾ کے القابات سے پکارتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اﷲ تعالیٰ بڑے واضح انداز میں ہمیں مطلع کرتا ہے کہ ہماری جان اور مال ہماری نہیں بلکہ یہ خریدی جاچکی ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿انَّ اﷲ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِےْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُْ الْجَنَّۃَ﴾ ﴿التوبۃ:111﴾
’’بے شک اﷲ نے خریدلی ہیں مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس کے بدلہ میں کہ ملے گی ان کو جنت‘‘۔ پس جب جان اور مال ہمارا ہے ہی نہیں تو اس کے استعمال و تصرف میں ہم کس طرح آزاد اور خود مختار ہوئے؟
چنانچہ مسلمانو کے پاس سوائے اﷲ کے احکامات کی اتباع کے کوئی چارہ اور اختیار نہیں رہتا
جمہوریت در حقیقت الله عزوجل کے احکامات سے بغاوت ہے اور حکم اللہی کا کھلم کھلا انکار ہے .. جبکہ اسلام مسلمانوں کو شریعت کے نفاز اور خلافت کے قیام کا پابند کرتا ہے
ہماری تو تاریخ یہ تھی کہ
ملکہ زبیدہ کی خدمت کے لئے ایک سو نوکرانیاں تھیں جن کو قرآن کریم یاد تھا اور وہ ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتی تھیں۔ ان کے محل میں سے قرات کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آتی رہتی تھی اور آج دیکھ لیں نہ مالک کے دل, قول, فعل میں اسلام کی دولت اور نہ انکی اولاد میں تو نوکر میں کس طرح پیدا ہو سکتی ہے.
جب تک مجموعی طور پر خدا خوفی کے کلچر کو فروغ نہ دیا جاے ,
جب تک حیا اور اعلی معاشرتی اقدار , اخلاقیات کو پروان چڑھنے،پھلنے اور پھولنے کیلے خوش گوار ماحول فراہم نہ کیا جاے,
جب تک بے حیای اور فحاشی کی سرکوبی اور تدارک کیلے قانون حرکت میں نہ آے ,
جب تک سستےاور فوری انصاف کو یقینی نہ بنایا جاے ,تو پھر بہیمانہ، سفاکانہ ,بے دینی, بے حیائی, فحاشی, بے وجہ قتل اور انسان کو انسان کہنے پر شرمندگی محسوس کرنے والے واقعات سر اٹھاتے ہیں.

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 312 Articles with 104631 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
22 Jun, 2019 Views: 320

Comments

آپ کی رائے