حیا کیا ہے اور ہم دور کیوں ؟

(Babar Alyas, Chichawatni)

‏محبت انسان کو ہو ہی جاتی ہے
لیکن محبت کی منزل پارک ہوٹل یا صرف ہوس نہیں بلکہ ، نکاح ، عزت اور گھر کی چار دیواری ہے
مختصر بات اتنی ہے کہ حیا اور فحاشی آپ کی اپنی آنکھ سے شروع ہوتی ہے،
جاہلانہ حرکات آپکو انسان کبھی نہی بنا سکتی.بڑھتی ہوئی فحاشی اور فحاش فلموں کی بھر مار نے ایسی چیزوں کو جنم دیا کہ انسان کے اعمال سے شیطان بھی شرما جائے میاں بیوی کی حقیقت اسلام میں ایک دوسرے کے لباس کی طرح بیان کی گئی ہے ۔ان دونوں کے تعلق کے بہت سارے پہلوؤں میں سے سب سے اہم پہلو ان کا جنسی تعلق ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے شادی کے موقعے پر اس بارے مین رہنمائی مفقود نظر آتی ہے ۔
شرم و حیا کے سبب کوئی بھی بزرگ نوبیاہتا جوڑے کو اس حوالے سے کسی بھی رہنمائی سے گریز کرتا ہے
قرآن نے عورت کو مرد کی کھیتی اس لیے قرار دیا ہے کہ مباشرت کا یہ عمل نئی نسل کی پیدائش کا وسیلہ ہوتا ہے لہذا اس موقع پر احکام خداوندی کو مد نظر رہنا مقصود ہونا چاہ ہے تاکہ پیدا ہونے والی نسل بہترین انسان کی صورت میں پیدا ہو اسی سبب جماع کے وقت گفتگو سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ اگر اس دوران بات چیت کی جاتی تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے توتلے ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ۔اسی طرح جماع کے وقت شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے کیوںکہ اس صورت میں پیدا ہونے والے بچے کے پیدائشی اندھے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسی طرح اگرچے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے مگر ایک دوسرے کے سامنے مکمل برہنہ ہونے سے بھی اجتناب برتنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔برہنگی کی حالت میں مباشرت کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا بچہ بھی بے حیا ہو گا ۔احکام الہی کی بجا آوری ہم سب پر واجب ہے اور جب معاملہ اگلی نسل کی پیدائش کا ہو تو اس کی نزاکت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا اس بات کا اہتمام لازمی کرنا چاہیے کہ اس بارے میں تعلیم عام کی جاتی۔اور میاں بیوی کو اس امر سے آگاہ کیا جاتا کہ مباشرت کے عمل کے قواعد و ضوابط کیا ہیں.
اسلام میں اخلاقیات کا بہت بڑا مقام ہے اور ارکان اسلام میں سے تیسرا رکن شمار ہوتا ہے اور انتہائی اہمیت ؤ ضرورت کا حامل ہے .
حیا کا موضوع اسلامی تعلیمات میں کم ہی بیان کرتے ہیں حالانکہ انسان ساز اخلاقی مو ضوعات میں اساس ترین موضوع ہے ۔
میری مختلف کتب کی روشنی میں اس موضوع کو مرحلہ وار اجاگر کرنے کی کوشش ہے.
ارباب لغت کے درمیان حیاء ریشہ اور مصدر ہے مادے اور ریشے کے بارے میں تین نظریے پائے جاتے ہیں چونکہ حیاء مصدر ہے اس کا ریشہ اور مادہ جب تک معلوم نہ کیا جائے اس کے معنی روشن اور واضح نہیں ہوتے۔
پہلا نظریہ :
بعض علماء لغت نے فرمایا ہے کہ حیاء کا ریشہ [حیو] ہے۔خلیل بن احمد فراھیدی کہتا ہے :حیاء کا ریشہ و مادہ [ح ی و] ہے اور اس سے دو معانی اخذ ہوتے ہیں ایک معنی اسکا شرم ہے جس کے مقابلے میں بے شرمی آتی ہے
اوردوسرا معنی زندگی ہے جو کہ موت اور مرگ کے مقابلے میں ہے۔١
دوسرا نظریہ:
بعض علماء ادب فرماتے ہیں کہ حیاء کا مادہ اور ریشہ [ح،ی،ی] ہے ۔ابن فارس کہتے ہیں حیاء مصدر ہے [ح،ی،ی] کا اور اس سے دو معنی اخذ کئے گئے ہیں ۔حیاء کا پہلا معنی زندگی کے معنی میں ہے جس کے مقابلے میں موت کا معنی آتا ہے ۔دوسرا معنی،شرم اخذ ہوا ہے جس کے مقابلے میں بی شرمی کا معنی ہے۔٢
تیسرا نظریہ:
فرماتے ہیں کہ حیاء کا ایک مادہ ہے جو حیات ہے اور دوسرا معنی بارش ہے اور اس کی علت اس طرح بیان کی گئی ہے اگر مد کے ساتھ 'حیاء' استعمال ہو تو اس کا معنی شرم ہے اور اگرمد کے بغیر ہو تو بارش کے معنی میں ہے حیاء اورشرم انسان کے قلب اور روح کو زندہ کرتا ہے جس طرح سے بارش بنجر زمین کو زندگی بخشتی ہے اس لئے دونوںمعانی کا ریشہ اور مادہ حیات یعنی زندگی ہے ۔٣
علماء حق نے اخلاق کی متعدد تعریفیں بیان کی ہیں۔
علامہ محمد مہدی نراقی نے یوں تعریف بیان فرمائی ہے [و ھو انحصار النفس و انفعالحا من ارتکاب المحرمات الشرعیةاو العقلیة او العادیة حزرا من الذم و اللوم ،و ھو اعم من التقوی]٤
اپنے نفس کو شرعی ،عقلی اور عادی اور عرفی محرمات سے بچانے کا نام حیاء ہے تاکہ لوگوں کی مذمت اور ملامتوں سے بچا جائے اور یہ فضیلت دائرے کے اعتبار سے تقوا سے بھی عام ہے ۔
زمحشری نے حیاء کی یوں تعریف کی ہے: [و ھو التحیر و الاضطراب من الحیاء]٥ حقیقت میں انہوں نے حیاء کے سبب کو بیان کیا ہے اور مسبب کا ارادہ کیا ہے چونکہ حیا کو پریشانی اور خوف سے تعبیر کیا ہے حالانکہ حیا کی وجہ سے پریشانی اوراضطراب حاصل ہوتا ہے ۔
جب ہم احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف توجہ کرتے ہیں تو حیا کا معنی واضح اور روشن ہو جاتا ہے۔
حضرت رسول اکر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:[ان لکل دین خلقا وخلق السلام الحیاء]۔٦
یقینا ہر دین کے لئے اخلاق ہوتا ہے اسلام کا اخلاق و ضابطہ حیات ،حیا اورشرم ہے ۔ایک اور مقام پر حیاء کو اسلام کا پردہ اور اس کے لباس سے تعبیر کیا ہے ان تعابیر سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حیاء ایک بہت بڑی فضیلت ہے جو انسان کو کمال تک پہنچاتی ہے
حیا ایمان کا حصہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ: "جب تمہارے اندر حیا باقی نہ رہے تو پھر جو چاہے کرتے پھرو۔" سب سے پہلے تو والدین کو خود اس لفظ کا معنوی و حقیقی، اخلاقی و مذہبی لحاظ سے شعور ہونا چاہیے۔ شرم و حیا سے عاری گفتگو، انداز و اطوار، حرکات و سکنات اور لب و لہجہ باقی تمام محاسن پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اگر اس باب میں احتیاط اور شائستگی نہیں اختیار کی جاتی تو پھر بڑی دین داری اور عبادت گزاری کا بھی بچے پر کوئی تاثر نہیں جم سکتا۔۔۔۔۔
تمہاری خدمت کرنے والا شخص تم میں سب سے عظیم انسان ہے۔ خود کو دوسروں سے اعلی و ارفع سمجھنے والے کو جھکا دیا جائے گا اور عجز و انکسار والے کو باعزت بنا دیا جائے گا۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام
لڑکے اور لڑکیوں کو عمر کے ساتھ ساتھ لباس کا احساس دلایا جائے۔ اگرچہ سالگرہ منانا اسلامی تہذیب کا رواج نہیں ہے، تاہم سالگرہ کا دن بچے میں خود احتسابی کے تصور کے ساتھ متعارف کروا دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ چھوٹے بچے کو سالگرہ کے دن اخلاقی نصاب کا کوئی ایک قرینہ سکھایا جائے۔ یہ نصاب کتاب و سنت نے مقرر کر دیا ہے۔ ہمارے معاشروں نے مغرب کی تقلید میں سالگرہ منانے کا رواج تو اپنا لیا، لیکن اب اس کو اپنے انداز فکر سے کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔
اس کے ذریعے بچے میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جا سکتا ہے کہ عمر کا ایک سال بڑھا نہیں، بلکہ کم ہو گیا ہے۔ اچھے کام کرنے کی مدت اور تھوڑی رہ گئی ہے۔ قد بڑا ہو گیا ہے، لباس پہلے سے زیادہ بڑا آنے لگا ہے تو اس کے ساتھ اچھی باتوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ بتدریج ساتر لباس کی طرف ذہن راسخ کیا جائے۔
حیا ایمان کا حصہ ہے۔ جہاں پر گفتگو سے لے کر اعمال تک میں حیا نہ ہو، وہاں پر بچوں کے ناپختہ ذہنوں میں شرم و حیا کا تصور کیسے جڑ پکڑ سکتا ہے؟ جس معاشرے میں بچے، جوان اور بوڑھے ایک ہی جیسے فحش و عریاں ماحول میں سانس لیں اور حیا سے عاری ہو جائیں تو انہیں ذلت و رسوائی سے کون بچا سکتا ہے؟
محرم اور غیر محرم کا وہ شعور جو قرآن و سنت میں بتایا گیا ہے اس کو بتدریج اجاگر کیا جائے۔ بیماری کا خطرہ جس قدر بڑھ جاتا ہے، پرہیز اتنا ہی زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ عریانی، فحاشی، مرد و زن کا اختلاط، حیا سے عاری گفتگو، ستر سے بے نیاز لباس، بدکاری کو فیشن کے طور پر اپنانا ایسی بیماریوں کا ایک طومار ہے جس کی کوئی انتہا نہیں رہی۔ ان بیماریوں کے خلاف جہاد کرنے کے لئے اپنے بچوں کو ایک اسلامی اسپرٹ کے ساتھ پرورش کرنا ہوگا۔ اس کو ایک مہم کے طور پر جاری رکھنا پڑے گا۔ معاشرہ ان برائیوں کا عادی ہوتا چلا جائے تو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔
کسی دینی مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک طالب علم کو عملی زندگی میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ جدید ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والا کوئی شخص اگر دین کی طرف مائل ہو جائے تو اس پر کیا گزرتی ہے؟ دین دار افراد کو اپنے معاشی مسائل کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔
گھروں میں نوعمری کے دوران ہی لڑکے لڑکیوں کی نشست و برخاست کا انتظام علیحدہ ہونا چاہیے۔ نرسری اور پرائمری اسکول عام طور پر مخلوط ہی ہوتے ہیں۔ انتہائی چھوٹی عمر میں بھی مخلوط تعلیم کے رواج کو ختم کیا جائے یا وہاں پر بچوں کو نہ بھیجا جائے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اسی عمر میں بچوں کو مخلوط اداروں میں بھیجنے سے پہلے یہ شعور دیا جائے کہ آنکھ اور دل کے بارے میں سخت حساب لیا جائے گا اور بدکاری کے سب کھلے اور چھپے کام اللہ تعالی نے حرام قرار دیے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی نے بدی کی شروعات کو بھی بدکاری ہی قرار دیا ہے۔
وہ بچے جن کو ابتدا ہی سے عمر کے ساتھ ساتھ فرائض کی پابندی کا سبق ملتا رہا ہو، ان کے لئے یہ پابندیاں بالکل دشوار نہیں ہوتیں۔ بچی کو تین سال کی عمر سے ساتر لباس اور پھر گھر میں اور گھر سے باہر محرم اور غیر محرم کی تمیز سکھائی جاتی رہے تو چودہ پندرہ سال کی عمر میں وہ گاؤن، اسکارف یا پردہ و حجاب کی کسی بھی شکل کو اپنی عمر کا تقاضا سمجھ کر قبول کر لے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: [الحیاء شعبة من الایمان،ولا ایمان لمن لا حیاء لہ] ٧ حیاء ایمان کا حصہ ہے جو شخص شرم اور حیاء نہیں رکھتا وہ شخص بی دین ہے ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی روشنی میں ایک دیندار انسان کے لئے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ،بچہ ہو یا جوان حیاء کی ضرورت ہے اور حیاء کی انسانی زندگی میں اہمیت ہے ۔چونکہ حیاء نہ ہو تو انسان اپنے وظیفے کو انجام دینے سے بھی قاصر رہتاہے ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ؛ انسان میں اگر حیاء نہ ہو تو حقوق والدین ادا نہیں کر سکتا ،مہمان کا احترام نہیں کر سکتا ۔
انسان شناسی کی بحث میں ہے کہ حیاء انسان سازی میں بہت بڑا کردار رکھتاہے اور اخلاقیات کے اولین درجے پر فائز ہے ، حیاء بھی فضائل اخلاقی میں سے بہت بڑی فضیلت ہے۔احادیث کی روشنی میں حیا اور شرم کو تمام خوبیوں کی چابی سے تعبیر کیا گیا ہے۔اسی طرح بی شرمی تمام برائیوں کی چابی ہے۔لہذا دنیا میں جو بھی برائیاں ہو رہی ہیں شرم و حیاء کے فقدان کی وجہ سے ہیں ۔یقینا بی دین لوگ بی شرم ہوتے ہین اور بی شرم لوگوں سے قتل،غارت ،لوٹ مار ،چوری،ظلم و استبداد۔۔۔۔کا انجام پانا حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق ناممکن نہیں ہے۔تاریخ اسلام گواہ ہے اور دنیا کی حا لت آج کل ایسی ہی بنی ہوئی ہے یہ فضائل کی کمی یا فقدان حیاء کی وجہ سے ہے۔
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :[السلام عریان فلباسہ الحیاء]٨ اسلام عریان انسان کی مانند ہے اور اسلام کا لباس حیاء ہے ۔حدیث شریف کی روشنی میں جب تک انسان حیاء کا لباس زیب تن نہ کرے اس سے ہر قسم کی برائیوں کا سرزد ہونا ممکن ہے ۔حضرت علی رضی اللہ فرماتے ہیں:[من کساہ الحیہ ثوبہ خفی عن الناس عیبہ]٩جس شخص کا شرم اسکا لباس بن جائے اسکے عیوب لوگوں پر پوشیدہ رہ جائیں گے۔اورحیاء کے بارے میں کسی اور مقام پر حضرت علی رضی اللہ فرماتے ہیں :[احسن ملابس الدین الحیاء]١٠ شرم و حیاء دین کی بہترین پوششوں اور لباس میں سے ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :[قلتہ الحیاء کفر]حیا اور شرم میں کمی کفر و بی دینی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ فرماتے ہیں :[کثرة حیاء الرجل دلیل ایمانہ] ١١ مرد میں حیاء اور شرم کا زیادہ ہونا اسکے ایمان دار ہونے کی دلیل ہے۔ احادیث کی روشنی میں شرم و حیاء کی اہمیت اور ضرورت واضح اور روشن ہوئی کہ انسان کو دنیا میں آنے سے لے کر مرتے دم تک حیا کی ضرورت ہے اور یہ فضیلت انسان کودیندار بنانے کے علاوہ انسان کے عیوب کو ڈھانپتے ہوئے کمال تک پہنچاتی ہے اور شرم و حیا نہ ہو تو پھر انسان کفر کی منزل تک پہنچتاہے۔ امام صادق فرماتے ہیں:[الوفا ء صدر النفاق ، و صدر النفاق الکفر]۔١٢ بے حیائی اور بے شرمی نفاق کی بنیاد ہے اور نفاق کفر کی بنیاد ہے۔
۔
آپ ﷺ فرماتے ہیں ۔شرم و حیاء صرف بھلائی لے کر آتی ہے ۔(۱)صحیح الجامع الصغیر البانی ۔
ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شرم وحیاء مکمل بھلائی ہے ۔(۲) صحیح مسلم۔
امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں امام واعدی فرماتے ہیں کہ اہل نے کہا ہے کہ حیاء اور استحیاء دونوں حیات سے نکلے ہیں اور حیاء انسان کی قوت حیات ہے تو جس شخص کااحساس لطیف ہے اور حیات قوی ہے اسی کو حیاء ہوتی ہے ۔جنید بغدادی کہتے ہیں کہ حیاء نعمتوں کادیکھنا اور اپنے قصوروں پر نظر رکھنا ہے یعنی اللہ کے احسانات اور اپنی تقصیرات پر غور کرنا اس سے ایک حالت پیدا ہوتی ہے جس کو حیا کہتے ہیں قاضی عیاض کہتے ہیں حیاء تو ایک خلقی صفت ہے پھر اس کو ایمان میں داخل کیا اس لئے کہ کبھی حیاء پیداہوتی ہے ریاضت اور کسب سے جیسے اخلاق حسنہ ریاضت سے حاصل ہوتے ہیں اور کبھی خلقی ہوتی ہے ۔
لیکن حیاء کااستعمال قانون شرع کے موافق محتاج ہوتاہے کب اور نیت اور علم کی طرف تووہ ایمان میں ہے اور دوسرے یہ کہ حیاء نیک کام کراتی ہے اور گناہوں سے باز رکھتی ہے ۔(۱)صحیح مسلم مع شرح نووی ترجمہ علامہ وحید الزمان ص ۱۱۴ ج۱ تخریج احمد احمد۔ مکتبہ اسلامیۃ۔
محبوب بیوی وہ ہوتی ہے جو شرماتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سال دوسال سے ہے لیکن پھر بھی امور خانہ داری نہیں سیکھ سکی ہے۔ ایسی بیوی جب شرماتی ہے جب اس کاشوہر صبح کو بغیر ناشتہ کئے آفس کے لئے نکل جاتا ہے جب شرماتی ہے جب اس کا شوہر آفس سے واپس آتا ہے اور وہ سورہی ہوتی ہے اگر وہ ضرورت سے زیادہ فرمائشیں کردیتی ہے توشرماتی ہے گھر صاف ستھر ا نہ ہو گندا مندا پڑا ہو توشرماتی ہے وہ شوہر کے حقوق و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے سے شرماتی ہے ۔
شوہر کی محبوب بیوی وہ ہوتی ہے جس کی آواز بحث و مباحثے میں اس کے شوہر سے اونچی نہیں ہوئی اور نہ وہ شوہر کی گالی کاجواب گالی سے دیتی ہے اور نہ اور کوئی ایسا کام کرتی ہے جو شرم و حیاء کے منافی ہو۔
لیکن شوہر کے سامنے بننے سنورنے سے گریز کرنا یااس کے سامنے کپڑے اتارنے سے اجتناب کرنا یا اس سے پیار محبت سے ملنے میں شرمانا وغیرہ۔ایسی باتوں کاشرم وحیاء سے دور کابھی تعلق نہیں ہے ۔
تم حیا اور شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو
ہم نے ننگے جسموں کو ملبوس حیا دیکھا ہے
ہم نے دیکھے ہیں احرام میں لپٹے کئی ابلیس
ہم نے کئی بار مے خانے میں خدا دیکھا ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 312 Articles with 104421 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
22 Jun, 2019 Views: 731

Comments

آپ کی رائے