باجی کی آنکھیں

(Prof Muhammad Khursheed Akhtar, Islamabad)

مشہور رپورٹر صدیق جان نے کہا کہ ایم کیو ایم میں چند اسمبلی ممبران کو خفیہ طور پر رکھا ھوتا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کے ممبران پر نظر رکھیں جو بھی گڑ بڑ کرتا ھے آس کی خبر بھائی تک پہنچا دی جاتی پھر بھائی سر عام اس کو بے عزت کرتا تھا۔ایسے ھی مریم نواز نے بھی پنجاب میں اپنے وفادار ممبران اسمبلی پر نظر رکھنے کے لیے کچھ لوگ رکھے ھیں ایم کیو ایم میں انہیں بھائی کی آ نکھیں کہا جاتا تھا مسلم لیگ ن میں انہیں "باجی کی آنکھیں"کہا جاتا ھے۔جب سے اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت کے اتحادیوں پر نظر رکھنی شروع کی اور رابطے کیے جہانگیر ترین بھی سر گرم ھو گئے اور باجی کی آنکھیں اور زیادہ تیز ہوگئیں۔کہیں فارورڈ بلاک ھی نہ بن جائے دوسری طرف چچا ۔بھتیجی کا الگ الگ بیانیے نے مسلم لیگ ن کے ممبران کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔دو بیانیے اور تیسرا بلاک بھی بنا دے گا۔اپوزیشن کے اجزائے ترکیبی کا جائزہ لیا جائے تو مولانا فضل الرحمان صاحب کا دکھ صرف حکومتی غلام گردشوں سے دوری اور نیب کا خوف ھے۔وہ کسی قیمت پر کم از کم کے پی کی حد تک کسی دوسری طاقت کو برداشت نہیں کر سکتے۔تاکہ پریشر گروپ برقرار رکھا جائے۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا دکھ اس وقت سانجھا ھے وہ احتساب،منی لانڈرنگ۔اور اس کی بنیاد پر مقدموں اور گرفتاریاں ھیں۔بھلا ھو حکومت کا کہ اس نے مہنگائی جیسا طوفان لاد کر مردہ سیاست کو زندہ کر دیا۔ حکومت اگر مسائل پر قابو پا لیتی ہے تو یہ سیاست جس میں کرپشن کی آمیزش ھو ھمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔اتنے مشکل حالات کے باوجود صرف لاہور جو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ھے وہاں 56 فیصد لوگ عمران خان کی حمایت میں کھڑے ہیں۔اور 40 فیصد لوگ مہنگائی ڈالر کی اڑان سے پریشان ھیں۔اس پر حکومت کی فوری توجہ اپوزیشن کو عوامی حمایت سے محروم کر سکتی ھے۔پپلز پارٹی سندھ کارڈ اور اختر مینگل صاحب اپنے مطالبات کا دباؤ استعمال کر رہے ہیں پیپلز پارٹی کے شہداء کی فہرست میں ایک بندے نے میر مرتضیٰ بھٹو کا نام نہ ھونے کی نشان دہی کر کہ زرداری صاحب کو پریشان کر دیا ہے۔سندھی عوام اپنی روایتوں کے آمین ھیں انہیں زرداری صاحب سے کچھ لینا دینا نہیں۔بھائی کی ایم کیو ایم اور سندھ میں زرداری صاحب کا کردار ملتا جلتا ھے عوام کو جس دن آزادی ملی وہ لیڈر شپ بدل دیں گئے۔ابھی وہاں کام کی ضرورت ہے۔ایوانوں میں سلیکڈڈ کا نام بڑا گردش کر رہا ہے دیکھا جائے تو 1985 سے لے کر 2013 تک میاں نواز شریف اس نام کے سب سے زیادہ بنیفشری ھیں ضیاء الحق سے پرویز کیانی صاحب تک میاں نواز شریف کے بلکہ افتخار چودھری سمیت آزاد عدلیہ،ازاد قانون،انتظامیہ سرمایہ دار۔مافیاز اور دوسرے کئی ادارے میاں صاحب کے لیے سر تسلیم خم رہے ھیں عمران خان کے پی سویپ ساؤتھ پنجاب اور شمالی پنجاب میں واضح اکثریت ۔کراچی میں اور بلوچستان میں پہلی دفعہ عوامی قوت اور نظریاتی قوت رکھتے ھوئے سلیکڈڈ کیسے ھوا وہ فارمولا ھمیں بھی سمجھائیں جو آپ پر کی گئی عنایتوں سے زیادہ ھو۔ہاں البتہ اسکے نظریات اور غلطیوں پر آ پ گرفت ضرور کریں۔میاں صاحب بیمار ھیں مجھے کم از کم بہت ھمدردی ھے۔لیکن تیسری قوت کو برداشت کریں اپنی جماعتوں میں جمہوریت لائیں یہاں اگر بھتیجی چچا کو برداشت نہیں کرے گی تو اور کون کرے گا۔میاں صاحب کا بلا تخصیص علاج ھونا چاھئے ملک میں معروف ڈاکٹر ز موجود ہیں۔وہ الزامات کو غلط ثابت کریں اور قانون کو اھمیت دیں۔نیب کو بنانے والے آپ۔چئیرمین لگانے والے آپ آ خر نیب کی مخالفت اور بجٹ کی رکاوٹ کیوں ضرورت پیش آئی۔اپوزیشن ضرور اے پی سی کرے تحریک چلائے لیکن عوام کو بھی بتائیں آپ کیا ایسا نیا کریں گے جو آپ 35 سال نہیں کر سکے۔؟ میثاق معشیت کی تجویز آپ کی تھی اب خود ھی مخالفت اور بیان بدلنا کیا معنی رکھتا ہے۔عوام کو کیا متبادل راستہ دے رہے ہیں۔کوئی ایجنڈا بتائیں ورنہ اب عوام کسی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گئے۔با توں سے عوام کے دل کب تک بہلائیں گے۔باجی کی آنکھیں کہیں جہانگیر ترین کے کرشمے سے چندیا نہ جائیں آخر کار وہ بادشاہ گر ھیں۔اے پی سی مریم اور بلاول تب کامیاب ھوں گئے۔جب وہ 64 فیصد نوجوانوں کی نفسیات سمجھیں گے ابھی تو وہ عمران خان کی مٹھی میں ھیں۔باجی کی آ نکھیں خوف کی قید میں اور بلاول کا بیانیہ زرداری صاحب کے قبضے میں ھے۔۔۔۔!

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 219 Print Article Print
About the Author: Prof Muhammad Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Muhammad Khursheed Akhtar: 30 Articles with 7633 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: