اپوزیشن کی اے پی سی ناکام ہوگئی ۔۔؟

(Umer Farooq, )

حکومتی ترجمانوں نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس شروع ہونے سے قبل ہی ڈھنڈورہ پیٹناشروع کردیاتھا کہ اے پی سی ناکام ہوگئی ،حالانکہ اپوزیشن جماعتوں نے کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ رات نوبجے جاری کیاجس میں کٹھ پتلی حکومت اورعوام کے لیے بہت کچھ تھا اگرحکومت سمجھتی ہے کہ جماعت اسلامی کی عدم شرکت کی وجہ سے یہ ناکام ہوئی ہے توحکومت کایہ خام خیال ہے کیوں کہ جماعت اسلامی اس وقت خود مخمصے کاشکارہے جماعت اسلامی نہ کھل کرحکومت کے ساتھ کھڑی ہے اورنہ ہی اپوزیشن کی صفوں میں بیٹھ رہی ہے بلکہ اس وقت توجماعت اسلامی اپنے آپ کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہے اس حوالے سے مستقل کالم میں تفصیل لکھوں گا ۔

جہاں تک حکومت کی حامی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اخترمینگل کامسئلہ ہے توان کے اپنے مسائل ہیں وہ مسائل ایسے ہیں جوانہیں اپوزیشن میں شامل ہونے سے روک رہے ہیں انہیں امیدہے کہ وہ مسائل حکومت کے درسے ہی حل ہوں گے یہی وجہ ہے کہ بدھ کوجب اپوزیشن جماعتوں کی کانفرنس ہورہی تھی تواخترمینگل وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کے لیے نئی تاریخ لے رہے تھے ۔

حکومت کادعوی اس اعتبارسے بھی غلط ہے کہ جس دن اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس منعقدہورہی تھی توڈالرنے پانچ روپے بلندی کی چھلانگ لگائی جس سے واضح ہورہاہے کہ سرمایہ کارحکومت پراعتبارکرنے کوتیارنہیں ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج سے ملک کی ابترمعاشی صورتحال مزیدبگڑسکتی ہے اگرچہ اپوزیشن نے فوری طورپرکسی بڑی احتجاجی تحریک کااعلان نہیں کیاہے اگراپوزیشن نے احتجاج شروع کیاتوحکومت کے لیے حالات کنٹرول کرنے مشکل ہوجائے گیں تنکوں کے سہاروں پرحکومت چل رہی ہے اسی لیے بعض اپوزیشن جماعتوں کاخیال ہے کہ ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں حکومت خود اپنے بوجھ تلے دب جائے گی ۔

متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس کی کوریج کے لیے جب میں مقامی ہوٹل کے ہال میں داخل ہواتوہوٹل کے اندراورباہرمختلف جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعدادجمع تھی کانفرنس سے زیادہ جلسہ گاہ کامنظرلگ رہاتھا ،پارلیمانی سیاست میں شامل گیارہ سے زائدجماعتوں کے قائدین کانفرنس میں شریک تھے ۔میں علامہ نویدمسعود ہاشمی ،جمعیت علما ء اسلام کے رہنماء مولاناسعیدالرحمن سروراورجمعیت علما ء اسلام کے ترجمان میگزین الجمعیۃ کے ایڈیٹرمفتی زاہدشاہ ڈیروی ایک کونے پربیٹھ کرحالات حاضرہ اورمستقبل کے منظرنامے پرتبصرہ کرنے لگے ہماراخیال تھا کہ دن بارہ بجے شروع ہونے والی یہ کانفرنس تین چاربجے ختم ہوجائے گی مگرکانفرنس رات نوبجے تک چلی جس نے سب کوتھکادیا مولاناسعیدالرحمن سرورکی مٹن کڑاہی نے ہمیں نئی توانائی بخشی۔ہمارااس بات پراتفاق تھا کہ حکومت نے جس طریقے سے ملکی حالات خراب ہورہے ہیں اگراپوزیشن صرف احتجاجی تحریک کااعلان کردے تواس سے بھی حکومت لرزجائے گی۔

متحدہ اپوزیشن نے طویل مشاورت کے بعد چیئرمین سینٹ کوآئینی اورقانونی طریقے سے ہٹاکرنیاچیئرمین لانے کے لیے رہبرکمیٹی قائم کرنے ،25 جولائی 2019 کو دھاندلی زدہ انتخابات کیخلاف متفقہ طور پریوم سیاہ بنانے ،بجٹ کے خلاف پارلیمنٹ کے اندراورباہراحتجاج کرنے،اپوزیشن کے تمام ممبران الیکشن 2018 میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے فی الفور مستعفی ہونے کافیصلہ کیااور سابقہ قبائلی علاقوں پولنگ سٹیشنوں کے اندرفوج کی تعیناتی اورسمری ٹرائل کانوٹیفکیشن فوری واپس لینے، 2000 سے لے کر اب تک تمام گرانٹس اور قرضہ جات کے حصول اور اس کے استعمال کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی بنانے ، مجوزہ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل(NDC) ختم کرنے ، اعلی عدلیہ کے ججزکے خلاف ریفرینسز کو فورا واپس لینے، وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ممبران قومی اسمبلی کے پروڈیکشن آرڈرجاری کرنے ،لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے قانون سازی کرنے کے سمیت مختلف مطالبات بھی کیے ۔یہاں یہ سوال بنتاہے کہ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں حکومت کوغیرآئینی کہتی ہیں تودوسری طرف مطالبات بھی کررہی ہیں ؟چہ معنی دارد۔

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس کی تجویزمسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف اورپاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکی تھی بلاول بھٹونے رمضان میں اپوزیشن جماعتوں کااکٹھ کیا تواس میں یہ تجویزسامنے آئی کہ عیدکے بعد آل پارٹیزکانفرنس مولانافضل الرحمن کی نگران میں ہوگی مولانافضل الرحمن نے وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل آل پارٹیزکانفرنس طلب کی تومسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی نے بہانے بازی شروع کردی کہ بجٹ کے بعد اے پی سی بلائی جائے کیوں کہ اس دن وہ بجٹ میں کٹوتی کی تحریکیں پیش کریں گے مگرمولاناڈٹ گئے ،وہ سمجھ گئے دونوں جماعتوں کے قائدین کاکہیں کنکشن مل گیاہے ورنہ بجٹ منظوری کوروکناہی اپوزیشن کاسب سے بڑاہدف ہوناچاہیے تھا ایک طرف اپوزیشن کہتی ہے کہ عوام دشمن بجٹ ہے تودوسری طرف اس کوروکنے کے لیے ڈنڈے سے ڈرتی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے فوری طورپراحتجاجی تحریک یااسلام آبادلاک ڈاؤن کی کال کیوں نہیں دی تواے پی سی میں مولانافضل الرحمن کی احتجاجی تحریک اوراسلام آبادچڑھائی کی تجویزکی مسلم لیگ ن سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے حمایت کی مسلم لیگ ن کے عبدالقادربلوچ نے کہاکہ مولاناآپ اسلام آبادکب آناچاہتے ہیں تومولانانے کہاکہ اگرآپ لوگ ساتھ دینے کوتیارہیں تومیں کل اسلام آبادآنے کی کال دے سکتاہوں البتہ بلاول بھٹونے اس کی مخالفت یوں کی کہ میں نانا، دو ماموں اور والدہ گنوا چکا ہوں، قوم کا بوجھ میرے کندھوں پر ہے، پارلیمنٹ کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دوں گا۔جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن کی طرف جائیں گے، مارشل لا لگ گیا تو اس کا مقابلہ کریں گے۔مولانافضل الرحمن نے شرکاء کوبتایاکہ آپ ساتھ دیں یانہ دیں میں اسلام آبادہرصورت آؤں گا میں نے پہلے دن آ پ کوکہاتھا کہ حلف نہ اٹھائیں مگرمیری تجویزنہیں مانی جس کی وجہ سے آج ان حالات کاسامناہے اب بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ حکومت کوچلتاکریں ۔

مسلم لیگ ن کے متعلق یہ تاثرتھا کہ ان کی ڈیل چل رہی ہے مگراے پی سی میں یہ تاثرزائل ہوگیا ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ میاں نوازشریف فوری طورپر اسلام آباد پر چڑھائی کے حق میں ہیں؟ دوسری طرف اب پی پی پی کے متعلق یہ تاثرزورپکڑرہاہے کہ زرداری کی ضمانت پرا ن کی ڈیل ہوسکتی ہے۔ فریال تالپور کی ضمانت پر بھی ڈیل ممکن ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اس سے قبل متعددبارمولاناسے ہاتھ کرچکی ہے ،2002میں مولاناکے وزیراعظم بننے میں پی پی رکاوٹ بنی ،2018میں صدارتی الیکشن میں پی پی نے مولاناکاساتھ نہیں دیا اوراعتزازاحسن کواپناامیدواربنالیا حالانکہ پیپلزپارٹی مولاناکاساتھ دیتی توعارف علوی کے لیے صدربننامشکل ہوجاتامگرمولاناوسیع الظرف ہیں انہوں نے ان زیادتیوں کے باوجود پیپلزپارٹی سے دوستی کارشتہ نہیں توڑا۔پیپلزپارٹی کی اپنی مجبوری ہے ان کویہ بھی خطرہ ہے کہ کہیں وہ احتجاجی تحریک شروع کریں تون لیگ ڈیل نہ کرجائے ؟

یہ مولاناکی بہت بڑی کامیابی تھی کہ جوجماعتیں ان کوووٹ نہیں دیتیں یاایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کوتیارنہیں ہیں مولاناانہیں ایک چھت تلے جمع کرتے ہیں ،اپوزیشن جماعتوں کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ گیارہ ماہ کے حکومتی اقدامات نے انہیں مل بیٹھنے پرمجبورکردیاہے ،اس اے پی سی میں تمام جماعتوں نے کھل کراپنے خیالات کااظہارکیا اورایک دوسرے کی بات سنی ،ملکی حالات مزیدخراب ہوئے تواپوزیشن کے درمیان جوتال میل پیداہواہے تومستقبل میں یہ مزیدمؤثرثابت ہوگا اپوزیشن جماعتو ں کااتحادہی حکومت کوٹف ٹائم دے سکے گا ۔

اے پی سی میں سینٹ میں اجنبی شخص کوچیئرمین سینٹ کے عہدے سے ہٹانے کااعلان کیا اورپیپلزپارٹی کو یہ کڑوی گولی بالآخرنگلناپڑی ،سینیٹ میں تبدیلی پی پی پی کے لیے آسان فیصلہ نہیں ہے۔ اس تعاون کے عوض ہی سندھ کی حکومت ملی تھی۔چیئرمین سینٹ کی تبدیلی کافیصلہ اے پی سی کابڑافیصلہ ہے اوریہ چوردروازے سے اقتدارمیں آنے والوں کے خلاف نقطہ آغازہوگااپوزیشن اس میں کامیاب ہوجاتی ہے توپھروزیراعظم اورسپیکرکے خلاف بھی عدم اعتمادلانے کااعلان ہوسکتاہے جس سے عمران خان اپنے اتحادیوں کے دباؤمیں آئیں گے اورانہیں ان کے مزیدنخرے اٹھانے پڑیں گے۔اسی لیے مولانافضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ چیئرمین سینٹ کی تبدیلی نقطہ آغازہے یہ حکومت کے خاتمے پرمنتج ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 105 Articles with 28214 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jun, 2019 Views: 285

Comments

آپ کی رائے