حزب اختلاف کی اے پی سی ۔ بلاول کا دلیرانہ کردار

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

آخر کار مولانا فضل الرحمٰن صاحب حزب اختلاف کی اے پی سی بلانے میں کامیاب ہوگئے ۔ حزب اختلاف کا کام ہی حکوم کو ٹف ٹائم دینا ہے، اس کی کوتاہیوں ، خامیوں اور غلط پالیسیوں پر تنقید کرنا ، اصلاح کی تجاویز دینا ہے ۔ مضبوط حزب اختلاف حکومت کے لیے مشکلات کا باعث ضرور ہوتی ہے لیکن وہ ملک و قوم کے لیے مثبت اور مفید ثابت ہوتی ہے ۔ یہ حکومتِ وقت کی من مانی کے آگے بند باندھنے کا کام کرتی ہے ۔ حزب اختلاف کی جماعت یا اتحاد کو آئندہ کی حکمرانی کرنے والی جماعت یا اتحادتصور کیا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک کا دستور ہی نرالا رہا ہے، روایت ہی مختلف رہی ہے، حزب مخالف کا مطلب حکومت ِ وقت کو کسی بھی طرح گرا دینے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ حزب اختلاف کی تحریکوں کا ایک نکاتی ایجنڈہ ’ حکومت ِ وقت کو گرانا ہوتا ہے‘ ۔ موجودہ حزب اختلاف کی اے پی سی کی جو باتیں سامنے آئیں ان کا جائزہ لیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ اے پی سی دو دھڑوں میں تقسیم تھی، ظاہر ی طور پر نہیں بلکہ اندرونی طور پر ، بظاہر وہ مولانا صاحب کو خوش کرنے ، یا مصلحت کے تحت کی خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی، مولانا صاحب در اصل صرف ایک نکاتی ایجنڈہ منظور کرانے کی خواہش رکھتے تھے ، ان کی اس خواہش میں بی بی مریم نواز کی دلی خواہش بھی تھی کہ صرف حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے، حکومت کو گرایا دیا جائے ۔

اے پی سی کے دو گروپ کون سے تھے ;238; ایک وہ جو اس وقت منتخب ایوانوں میں موجود ہیں دو سرا وہ جو انتخابات میں شکست کھا چکا یا نا ہل ہوکر منتخب ایوانوں میں نہیں پہنچ سکے یعنی غیر منتخب لوگ ۔ دوسرے گروہ کی پوری خواہش یہ تھی کہ اے پی سی میں طے کیا جائے کہ حکومت کو گرانے کی تحریک شروع کی جائے، جب کہ وہ احباب جو ایوا ن کے رکن ہیں وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تو تیار تھے لیکن حکومت کو گرانے ، یا کوئی غیر جمہوری عمل کرنے جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے کے حق میں نہیں تھے ۔ اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ جب مولانا صاحب نے ایوانوں سے استعفے دینے کی بات کی تو اس تجویز کو پزیرائی حاصل نہیں ہوئی بلکہ شہباز شریف نے کہا کہ ’’مولانا صاحب آپ تو اسمبلی کے رکن نہیں ہماری رکنیت بھی ختم کرانا چاہتے ہیں ‘‘ ۔ یہ بات مولانا صاحب کو ہی نہیں بلکہ مریم نواز کو بھی پسند نہیں آئی ۔ جیسا کہ رپورٹ ہوا ، اندر کی کہانی کے طور پر مریم نواز نے واپس جاتے ہوئے کہا کہ ’’یہی کچھ ہونا تھا تو اس کی کیا ضرورت تھی‘‘ ۔ اندر کی اصل کہانی کسی نہ کسی طرح باہر آہی جاتی ہے چاہیے کچھ بڑھا چڑھا کر ہی سہی لیکن اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتی ہی ہے ۔ فیس بک کی ایک نوجوان شخصیت سید رضا شاہ جیلانی کی ہے جو پیشے کے اعتبار سے وکیل لیکن صحافت کے میدان میں میں بھی اپنے جوہر دکھاتے رہتے ہیں ، ان کا کالم تو میری نظر سے نہیں گزرا البتہ مختصر تبصرے، چٹکلے، لطیفے، شگوفے اور ظرافت کی باتیں ، سنجیدہ موضوعات پر اپنا مختصر تجزیہ دیتے رہتے ہیں ۔ اے پی سی کے اندر کی بات انہوں نے ’’بلاول زندہ باد‘‘ کے عنوان سے تحریرکی جس سے بلاول کی سیاسی سوچ، جمہوریت کے بارے میں اس کی ذہنی فکر اور اس کی دلیری کا اندازہ ہوتا ہے ۔ گو وہ اس سے قبل بہت سی باتیں بلاول ایسی کرچکا ہے جنہیں پسند نہیں کیا گیا ، ان پر تنقید بھی ہوئی، جو بات اچھی ہو اس کو اچھا ہی کہنا چاہیے، جو غلط ہو اسے غلط بر ملا کہنا چاہیے ۔ میں کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کا حمایتی ان معنوں میں نہیں رہا کہ اس کی بلاوجہ تعریف و توسیف لکھی ہو، نہ ہی بلاوجہ اس پارٹی اور ان کے لیڈروں میں کیڑے نکالے ہیں ۔ بات رضا شاہ جیلانی کی کرنا تھی بلاول کے بارے میں لکھا ہے ۔ یہ پوسٹ فیس بک پر قبلہ جیلانی کی ٹائم لائن پر موجود ہے جو 27جولائی 2019کو وائرل کی گئی ۔ لکھتے ہیں موصوف:

بلاول کئی لوگوں کی نظر میں سیاسی ناپختہ ہوگا ۔

مگر اس کی سیاسی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے جب اس نے مولانا کو بھری محفل میں دو بار کچھ یوں ٹوکا ۔ ۔

مولانا فضل الرحمٰن : ہم استعفوں کا مطالبہ کرتے ہیں ، اور اس حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے پوری طرح سے اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے ۔ جمہوریت جاتی ہے تو جائے ۔

بلاول : ٹہرئیے مولانا صاحب، ہم کسی بھی طرح سے جمہوری عمل کو ڈی ریل ہونے نہیں دیں گے ۔ ہم جمہو ریت کی حمایِت کرتے ہیں ۔ ہم نے جمہوریت کے لیے کافی قربانیاں دی ہیں ہم جانتے ہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے سے ملک میں غیر جمہوری قوتوں کو طاقت ملے گی اور آمریت کا راستہ صاف ہوگا ۔ ۔ ۔

مولانا: تپتے ہوئے دوسری بات کرتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔

عمران خان نے صحابہ کی توہین کی ہے اس پر احتجاج کیا جائے گا ، عمران کو گھر بھیج کر ہی دم لیں گے ۔ ۔

بلاول: مولانا صاحب ٹہرئیے ۔ ۔ ۔

پیپلز پارٹی کبھی بھی سیاست میں مذھب کی آڑ نہیں لیتی ، مولانا صاحب پیپلز پارٹی مذھب پر سیاست نہیں کرتی کیونکہ ہر کسی کا اپنا مذہب ہے ہم کسی کے خلاف مذہبی آڑ نہیں لیں گے اور نہ ہی یہ پیپلز پارٹی کی سیاست کا انداز ہے ۔ ۔ ۔

ٖزندہ باد جمہوریت ، زندہ باد بلاول، انسانیت سے بڑ ا کوئی مذھب نہیں ہوتا اور ہم بھی ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر انسان اپنے مذہب اور سیاسی نظریے پر قائم رہ کر ملک و ملت کے لیے کچھ کرسکے ۔ ۔

بلاول سب سے کم عمر ترین سیاستدان تھا مگر اس نے ثابت کیا کہ اے پی سی میں بلاول سب سے زہین اور اعلیٰ ترین سیاسی تربیت یافتہ کا مالک ہے، کم سے کم آج کے بعد بلاول بھٹو زرداری سے بہت سے امیدیں وابستہ ہوگئیں ہیں ‘‘ ۔

یہ رپورٹ اے پی سی کے اندر ہونے والی گفتگو کی ہے ، اسے بعض اخبارات نے بھی رپورٹ کیا ہے ۔ اس سے اختلاف یقینا کیا جاسکتا ہے ۔ جیسے کہ کل ہی بجٹ منظور ہونے کے بعد بلاول کی گفتگو کا انداز مناسب نہیں تھا، جذباتیت غالب تھی، غصہ سر کے بالوں سے پاؤں کے تلووَں کو چھو رہا تھا، بجٹ تو پاس ہونا ہی تھا، 30ووٹ کی اکثریت حکومت کو حاصل تھی اگر دو اراکین ایوان میں آبھی جاتے تو کیا بجٹ منظور نہیں ہوسکتا تھا، ایسا نہیں ہے، بلاول کو اپنی سیاست کرنی چاہیے ،مثبت ، ملک و قوم، جمہوریت کے حق کی جانے والی بلاول کی سرگرمیوں سے ا س کا وقار بلند ہوگا اوے پذیرائی ملے گی، دوسروں کی ساست سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ، اب جب کے اس کے ابا جان قبلہ آصف علی زرداری صاحب نے صائب اور بروقت فیصلہ یہ کیا ہے کہ وہ سیاست سے توبہ کرنے جارہے ہیں تو بلاول کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑے گی ۔ عمر کم سہی لیکن کم عمری میں بھی شائستگی،بردباری، پختگی، سوجھ بوجھ اور سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں تک اے پی سی کے فیصلو ں کا تعلق ہے ان پر عمل اسی صورت ممکن ہے کہ تمام مخالف جماعتیں ایک ہوں ، متحدہوں ، لیکن ایسی صورت دکھائی نہیں دے رہی، ماضی میں بھی احتجاج ہوتے رہیں ہیں ، حکومت قائم رہے گی ۔ اس وقت حکومت کی پوزیشن زیادہ مستحکم دکھائی دے رہی ہے ۔ خاص طور پر جب کہ سول اور عسکری قوتیں ایک پیج پر نظر آرہی ہیں تو مخالفین بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ملک بہت مشکل اور خطر ناک معاشی حالات کی لپیٹ میں ہے، اس وقت سب کو معاشی مشکلات سے نکلنے میں معاونت کرنی چاہیے ، آرمی چیف کی رائے صائب ہے کہ ’’معاشی خود مختاری کے بغیر آزادی کا تصور نہیں ، مشکل فیصلے نہ کرنے سے مسائل بڑھے ۔ مشکل حکومتی فیصلے کامیاب بنانا سب کی ذمہ داری ہے ۔ کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، یہ وقت ایک قوم بننے کا ہے ، حکومت نے طویل مدتی فوائد کے حصول کے لیے مشکل فیصلے کئے ہیں ‘‘ ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 753 Articles with 640215 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
01 Jul, 2019 Views: 286

Comments

آپ کی رائے