خود کی خوشی اور فرار

(A Rehman Khan, Sargodha)
سڑک پہ بیٹھ گئے دیکھتے ہوئے دنیا،
اور ایسے ترک ہوئی ایک خودکشی ہم سے.......

موت کے درندے میں ایک کشش تو ہے ثروت،
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں، خودکشی کے بارے میں.....

چلو۔۔۔۔۔۔قبریں بنائیں ہم۔۔۔۔یا کسی شمشان گھاٹ کو تیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔دنیا کی ریت پہ چلتے ہوئے خود کو دفنانا تو آسان نہیں۔۔۔۔جلایا تو ویسے بھی مسلمان کو نہیں جایا کرتا۔۔۔۔۔ہاں مگر اپنی محبت، کو ملال کے تابوت میں ڈال کے دفن کیا جا سکتا ہے...."خاموشی" کی مٹی کا آخری بیلچہ ڈالنے کے ساتھ ہی انسان کو زوال اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے....زوال بھی کیا کمال چیز ہے غیر تو غیر اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں....
منہ زور محبت، بار بار سر اٹھاتی ہے....اسے بار بار کچلنا بھی الگ ہی حوصلے کا کام ہے..........
"محبت یافتہ" انسان بھی کیا چاہتا ہے.....بس نظرِ عنایت..... دو بول محبت کے....کچھ بھروسہ....چند یادیں جن کو بیساکھی بنا کر زندگی کی بقیہ دوڑ میں شامل ہو سکیں....... پر جواباً ملتا ہے.....ایک ارادہ، کہ اب اس بھکاری پہ نظر عنایت بھی نہیں ہو گی کیونکہ یہ قابل نہیں رہا....محبت کے بول، نفرت کے نشتر میں ڈھل جاتے ہیں....اور بھروسے کی جگہ شکوک وشبہات لے لیتے ہیں.....یادوں کی بیساکھی کی جگہ، "انا" کا نیزہ مارا جاتا ہے، جس سے زندگی کی دوڑ میں قدموں تلے روندا جانا ہی مقدر بن جاتا ہے..... خیر یہی ہے ریت دنیا کی.....محبت کے ماروں کا یہی رونا، یہی مقدر اور یہی انجام ہے......
بات حسن و جمال کی نہیں ہے......بات ذہین و فطین ہونے کی بھی نہیں ہے.......دنیا کی بھیڑ میں وہ بھی ایک عام سا شخص ہی ہوتا ہے.....لیکن اسکو خاص یہ "محبت" کرتی ہے......پھر کچھ بدلاؤ آتا ہے......ایک عام شخص بہت ہے خاص ہو جاتا ہے......جس کو کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا جاتا تھا، نظر پھر اسی کو ڈھونڈنے کے بہانے تلاش کرتی ہے.......صحرا میں سرابوں کی جگہ "وہ" ہی نظر آنے لگ جاتا ہے.....
جس کا نام بھی نہیں پتہ ہوتا تھا، وہی شخص رگوں میں خون کی مانند سرایت کر رہا ہوتا ہے......اور یہ بھی غلط فہمی ہے....کہ نبض کاٹ دی جائے تو خون کے ساتھ وہ شخص بھی نکل جاتا ہے.........بھلا یہ کہاں ممکن کہ جسم سے خون نچوڑ دیا جائے.....بدن کا ریشہ ریشہ الگ کر دیا جائے اور اس شخص کو بھولا جا سکتا ہے.......کچھ تجربات زندگی خود ہی سکھاتی ہے اور کچھ تجربات کرنے بھی پڑتے ہیں......آجکل تو
" سمندر، نبض، پنکھا، زہر، پٹری،
نجانے میں بھی کیا کیا سوچتا ہوں....."
سوچنے اور کر دیکھانے میں فرق ہوتا ہے.....چلو ان میں سے ایک تو کر گزرا ہی ہوں..... پانچوں کاموں کا نتیجہ تو ایک ہی ہے ناں.....گہرے گھاؤ لگائے، خون نکالا....کیا وہ بھی نکلا، یا اسکی محبت نکلی؟؟؟ نہیں ناں.....ممکن نہیں ہوا....پر مر گئے تو کیا ہو گا؟؟؟ ایک انسان کے لیے موت کو ایک بار ہی گلے لگا لینا آسان ہو گا یا روز روز مر مر کے جینا آسان ہے....؟؟؟ اور جو "اذیت" کا ہی قائل ہو اسکو کہاں خون نکالنے سے یا پنکھے سے جھولنے سے آزادی ملنی ہے، اس نے تو ابھی بہت کچھ اور بھی جھیلنا ہے......ابھی تو نظرانداز ہونے کی اذیت بھی جھیلنی ہے.....ابھی تو مزید ٹھکرائے جانا ہے....ابھی تو مزید مشکوک ہونا ہے ''اسکی'' نظر میں.......ابھی تو الوداع بھی کہنا ہے........ابھی تو راستے بھی الگ کرنے ہیں.....ابھی تو جینا ہے ناں اسکے بغیر......
اور اس سب کے بعد میں جانا ہوں کہ واقعی ہی،
"سوزِ فراقِ یار میں مرنا نہیں کمال
مر مر کے ہجرِ یار میں جینا کمال ہے"
موت کے درندے میں ایک کشش تو ہے ثروت،
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں، خودکشی کے بارے میں.....

چلو۔۔۔۔۔۔قبریں بنائیں ہم۔۔۔۔یا کسی شمشان گھاٹ کو تیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔دنیا کی ریت پہ چلتے ہوئے خود کو دفنانا تو آسان نہیں۔۔۔۔جلایا تو ویسے بھی مسلمان کو نہیں جایا کرتا۔۔۔۔۔ہاں مگر اپنی محبت، کو ملال کے تابوت میں ڈال کے دفن کیا جا سکتا ہے...."خاموشی" کی مٹی کا آخری بیلچہ ڈالنے کے ساتھ ہی انسان کو زوال اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے....زوال بھی کیا کمال چیز ہے غیر تو غیر اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں....
منہ زور محبت، بار بار سر اٹھاتی ہے....اسے بار بار کچلنا بھی الگ ہی حوصلے کا کام ہے..........
"محبت یافتہ" انسان بھی کیا چاہتا ہے.....بس نظرِ عنایت..... دو بول محبت کے....کچھ بھروسہ....چند یادیں جن کو بیساکھی بنا کر زندگی کی بقیہ دوڑ میں شامل ہو سکیں....... پر جواباً ملتا ہے.....ایک ارادہ، کہ اب اس بھکاری پہ نظر عنایت بھی نہیں ہو گی کیونکہ یہ قابل نہیں رہا....محبت کے بول، نفرت کے نشتر میں ڈھل جاتے ہیں....اور بھروسے کی جگہ شکوک وشبہات لے لیتے ہیں.....یادوں کی بیساکھی کی جگہ، "انا" کا نیزہ مارا جاتا ہے، جس سے زندگی کی دوڑ میں قدموں تلے روندا جانا ہی مقدر بن جاتا ہے..... خیر یہی ہے ریت دنیا کی.....محبت کے ماروں کا یہی رونا، یہی مقدر اور یہی انجام ہے......
بات حسن و جمال کی نہیں ہے......بات ذہین و فطین ہونے کی بھی نہیں ہے.......دنیا کی بھیڑ میں وہ بھی ایک عام سا شخص ہی ہوتا ہے.....لیکن اسکو خاص یہ "محبت" کرتی ہے......پھر کچھ بدلاؤ آتا ہے......ایک عام شخص بہت ہے خاص ہو جاتا ہے......جس کو کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا جاتا تھا، نظر پھر اسی کو ڈھونڈنے کے بہانے تلاش کرتی ہے.......صحرا میں سرابوں کی جگہ "وہ" ہی نظر آنے لگ جاتا ہے.....
جس کا نام بھی نہیں پتہ ہوتا تھا، وہی شخص رگوں میں خون کی مانند سرایت کر رہا ہوتا ہے......اور یہ بھی غلط فہمی ہے....کہ نبض کاٹ دی جائے تو خون کے ساتھ وہ شخص بھی نکل جاتا ہے.........بھلا یہ کہاں ممکن کہ جسم سے خون نچوڑ دیا جائے.....بدن کا ریشہ ریشہ الگ کر دیا جائے اور اس شخص کو بھولا جا سکتا ہے.......کچھ تجربات زندگی خود ہی سکھاتی ہے اور کچھ تجربات کرنے بھی پڑتے ہیں......آجکل تو
" سمندر، نبض، پنکھا، زہر، پٹری،
نجانے میں بھی کیا کیا سوچتا ہوں....."
سوچنے اور کر دیکھانے میں فرق ہوتا ہے.....چلو ان میں سے ایک تو کر گزرا ہی ہوں..... پانچوں کاموں کا نتیجہ تو ایک ہی ہے ناں.....گہرے گھاؤ لگائے، خون نکالا....کیا وہ بھی نکلا، یا اسکی محبت نکلی؟؟؟ نہیں ناں.....ممکن نہیں ہوا....پر مر گئے تو کیا ہو گا؟؟؟ ایک انسان کے لیے موت کو ایک بار ہی گلے لگا لینا آسان ہو گا یا روز روز مر مر کے جینا آسان ہے....؟؟؟ اور جو "اذیت" کا ہی قائل ہو اسکو کہاں خون نکالنے سے یا پنکھے سے جھولنے سے آزادی ملنی ہے، اس نے تو ابھی بہت کچھ اور بھی جھیلنا ہے......ابھی تو نظرانداز ہونے کی اذیت بھی جھیلنی ہے.....ابھی تو مزید ٹھکرائے جانا ہے....ابھی تو مزید مشکوک ہونا ہے ''اسکی'' نظر میں.......ابھی تو الوداع بھی کہنا ہے........ابھی تو راستے بھی الگ کرنے ہیں.....ابھی تو جینا ہے ناں اسکے بغیر......
اور اس سب کے بعد میں جانا ہوں کہ واقعی ہی،
"سوزِ فراقِ یار میں مرنا نہیں کمال
مر مر کے ہجرِ یار میں جینا کمال ہے"

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A Rehman Khan

Read More Articles by A Rehman Khan: 5 Articles with 4305 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jul, 2019 Views: 373

Comments

آپ کی رائے