کسی صدمہ سے باہر کیسے نکلیں؟

(Mian Jamshed, Rahimyarkhan)

جو تکالیف اچانک ملتی یا جن کے ہونے کا تصور بھی نہیں ہوتا ، ان میں واقعی بہت درد ہوتا ہے ۔ عجیب سی بے یقینی کی کفیت ہوتی ، بار بار ٹوٹنا و تڑپنا پڑتا ہے۔ خود پر بس نہیں چل رہا ہوتا، دلی جذبات و احساسات پر قابو نہیں ہو رہا ہوتا ۔ تبھی پھر رونا، خاموشی ، اداسی، الگ تھلگ رہنا، دل نہ لگنا والی حالتیں ہمارے اندر بسیرا کر لیتی ہیں ۔

اس صورت میں بھرپور کوشش کریں کہ اپنے آپ کو شعوری طور پر تین بنیادی باتوں کا بار بار "احساس" دلوائیں۔

پہلی بات : کہ سنبھلنے میں اگرچہ تھوڑا وقت لگتا ہی ہے مگر" وقت گزر ہی جائے گا" اور آہستہ آہستہ دلی و ذہنی کیفیت میں مضبوطی آتی جائے گی ۔

دوسری بات: کہ " صرف آپ خود ہی اپنے آپ کو بہتر حالت میں دوبارہ لا سکتے ہیں نا کہ کوئی اور۔ آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کو اپنی باتوں سے حوصلہ و سہارا تو دے سکتے ہیں مگر اس حالت سے خود آپ نے ہی نکلنا ہے۔

تیسری بات : کہ اس میں ضرور رب کی کوئی مصلحت ہے ۔ بحثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ جو ہوتا رب کی طرف سے ہوتا ہے تو پھر موجودہ صدمہ کا اللّه تعالیٰ بہترین بدل بھی عطا فرماے گا ۔

حرفِ آخر یہ ہے دوستو، کہ آپ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار رکھا کریں ۔ اپنے دل کی مضبوطی کو بڑھائیں۔ جیسے ہم روزانہ یا ماہانہ تھوڑی تھوڑی بچت کرتے کہ کہیں مستقبل میں کام آ جائے اسی طرح اپنے مضبوط جذبوں و احساسات کو بھی حوصلے کے گٙلے میں جمع کرتے رہیں۔ روزانہ رب سے ہمت و حوصلہ کی دعا مانگا کریں کہ بعض دکھ و حادثات ہمیں مضبوط بنانے اور ایسا سبق سکھانے آتے جو آگے زندگی میں کام آنے ہوتے ہیں.
 

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 659 Print Article Print
About the Author: Mian Jamshed

Read More Articles by Mian Jamshed: 100 Articles with 67466 views »
اس تحریر کے لکھاری ایک ٹرینر ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ کردار سازی ، ذہنی اصلاح اور مثبت طرز زندگی کے موضوعات پر حوصلہ افزاء و رہنم.. View More

Reviews & Comments

Language: