صفدر سلیم سیال :پھر میں نے کوئی خواب نہ دیکھا اُسے کہنا

(Ghulam Ibnesultan, Jhang)

 ڈاکٹر غلام شبیر رانا
جھنگ میں مقیم اردو زبان کے ممتاز شاعرصفدر سلیم سیال نے بزم ادب کو چھوڑ کرداعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔صر صر ِ اجل کے بگولوں سے پنجابی تہذیب و ثقافت کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی زمیں بوس ہو گئی ۔ ادبیات ِعالم ، سماجی علوم ،فنون لطیفہ،سیاسیات،علم بشریات،فلسفہ،تاریخ اور عمرانیات کا وہ آفتاب جو سال 1936میں احمد پور سیال ( جھنگ ) سے طلوع ہواوہ جمعہ 23۔نومبر 2018کی شام عدم کی بے کراں وادیوں میں غروب ہو گیا ۔ تحصیل احمد پور سیال(ضلع جھنگ ) کے نواح میں واقع گاؤں گدار ا کی زمین نے جدید اردو شاعری کے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھپا لیا۔ اجل کے بے رحم ہاتھوں نے زندگی بھر خواب تبدیل کرنے کی تمنا کو پیش نظر رکھنے والے حریت فکر کے اس مجاہد سے وابستہ متعدد حقائق کو خیال و خواب بنا دیا۔ فضا میں پھیلی بچھڑے ہوئے لوگوں کی حزیں صداسن کر دل تھام لینے والے اس حساس تخلیق کارکے افق ادب سے غروب ہوتے ہی ادب کا سار امنظر نامہ ہی گہنا گیا ۔رہ نوردانِ شوق کو ہوا کی سرگوشیوں سے متنبہ کرنے والا دُور اندیش فلسفی دائمی مفارقت دے گیا ۔جبر کے ماحول میں اعصاب پر پہرے بٹھانے والی استبدادی قوتوں کے خلاف قلم بہ کف مجاہد کا کردار ادا کرنے والا بے باک ادیب رخصت ہو گیا ۔ سلطانی ٔ جمہور کی خاطر صبر آزما جد و جہد کرنے والا نڈر سیاسی کارکن فروغ ِ گلشن و صوت ہزار کا موسم دیکھنے کی تمنا دل میں لیے چل بسا۔ پس نو آبادیاتی دور میں تیسری دنیا کے ممالک میں غیر نمائندہ اور غیر جمہوری حکومتوں کے مسلط کردہ جبر کے ماحول میں انسانیت کے وقار اور سر بلندی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والا بے باک سیاسی کارکن اب ہم میں نہیں رہا۔ حریت ضمیر سے جینے کے لیے سدا اسوۂ حسینؑ کو زادِ راہ بنانے والا ایسایگانۂ روزگار فاضل،محنتی محقق ،بے باک نقاد اور جفا کش کسان اب ملکوں ملکوں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔سیاسی ،سماجی اور معاشرتی زندگی میں ہر مر حلۂ زیست پر انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو مطمح نظر ٹھہرانے والے زیرک ،فعال ،مستعد اور با کمال ادیب کے بعد اب دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے ۔خلوص ،مروّت ،رواداری اور انسانی ہمدردی کا ایسا پیکر اب کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ صفدر سلیم سیال نیلرزہ خیز جبر و استبداد اور اعصاب شکن حالات میں بھی صبر و تحمل ،برداشت اور بھائی چارے کی ایسی مثال قائم کی جو ہر عہد میں لائق تقلید ر ہے گی۔
اردو زبان کے مقبول شاعر تنویر پھولؔنے صفدر سلیم سیال کے ہجری اور عیسوی سال کے مطابق قطعات تاریخ وفات لکھے :
با غ سخن سے پھول ! وہ خوشبو چلی گئی
دم سے جو تھی سیال کے ، اب وہ ہے بے ثبات
دا نش ورانِ دہر میں شا مل تھا اس کا نام
’’ صفدر سلیم شاعر دا نش ‘‘ سن وفات (1440 ہجری )
اے پھول ! اب سیال بھی سوئے عدم گئے
رخصت ہوئے جہان سے وہ صفدر سلیم
علم و ادب کی راہ میں راہبر تھی ان کی ذات
ــ’’جاہ ِ سیال بدرقہ و شاعر عظیم‘‘ (2018 عیسوی)

صفدر سلیم سیال نے شہر ِ سدا رنگ جھنگ کی علمی و ادبی روایت کو پروان چڑھانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔صفدر سلیم سیال کے معتمد رفیق اورممتاز ماہر نفسیات پروفیسر حاجی حافظ محمد حیات(مرحوم) نے جھنگ کی علمی وادبی روایت کے جن امتیازی پہلوؤں کو متاعِ کارواں قراردیا ان میں علم دوستی،ادب پروری، انسانیت کا وقار اور سر بلندی ،بنیادی انسانی حقوق ،تانیثیت ،بے لوث محبت ،بے باک صداقت،قناعت و استغنا ،انا و خودداری،حریت ضمیر کی مظہر معرفت،روشن خیالی و خود آ گاہی،نگاہِ فقر ،خلوص و مروّت ،جذبۂ انسانیت نوازی اورتاریخ کے پیہم رواں عمل سے آ گاہی شامل ہیں۔ اپنے معاصرین کے ساتھ مِل کر صفدر سلیم سیال نے جھنگ کی علمی وادبی روایت کو جس ابد آشنا وقار اور استحکام سے متمتع کیا وہ تاریخ ادب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دوستوں کے انتخاب میں صفدر سلیم سیال ایک وضع احتیاط کا قائل تھا مگر جب وہ کسی حبیب کے ساتھ دردمندی اور خلوص کی اساس پر پیمانِ وفا استوار کر لیتا تو اسی کو علاج گردشِ لیل و نہار قرار دیتا اور صدق دل کے ساتھ یہ ربط باہم برقرار رکھتا ۔ صفدر سلیم سیال ایک کثیر الاحباب شخص تھا اور ملک کے طول و عرض میں مقیم ادیبوں کے ساتھ اس کے قریبی مراسم تھے ۔ صفدر سلیم سیال کے ممتاز معاصرین اور معتمد رفقائے کار میں آصف خان، احمد بخش ناصر ،احمد تنویر ، ارشاد گرامی ،اسحاق مظہر ، اقتدار واجد ،اقبال زخمی ، اکمل بخاری ، اطہر ناسک ،امیر اختر بھٹی ،احمد ندیم قاسمی ،انتظار حسین،انور سدید، انعام الحق کوثر ، افضل احسن،اقبال ساجد ، بشارت خان،بشیر سیفی،بلال زبیری،بیدل پانی پتی، تنویر سپرا،حکمت ادیب،حاجی حافظ محمد حیات ، حاجی محمد یوسف ، حبیب جالب، حفیظ ہوشیار پوری ،حیات خان سیال ، خادم مگھیانوی ، خاطر غزنوی ، خضر حیات ٹونیا ، خیر الدین انصاری، دانیال طریر ، دیوان احمد الیاس نصیب،رام ریاض ( ریاض احمد شگفتہ)، راجا رسالو، سجاد حسین ،سمیع اﷲ قریشی ،سلیم آغا قزلباش، سیف زلفی، شفقت تنویر مرزا، شہزاداحمد ،شہرت بخاری ، شریف خان ،شفیع بلوچ،شفیع ہمدم، شفیق الرحمٰن ، شوکت علی قمر ، شیر افضل جعفری ،صابر آفاقی ،صابر کلوروی، صدیق سالک ،صہبا اختر،طحیٰ خان،ظفر ترمذی، ظفر علی رانا ،ظفر سعید ، ظہور احمد شائق ،عاشق حسین فائق ،عبداﷲ حسین، عطا شاد ،عظیم خان ،عمر حیات بالی، غلام رسول ملک، عترت حسین،غلام محمد قاصر ، فیض محمد خان ، فیروز شاہ ،قدیر قیس، کبیر انور جعفری ، کلب عباس خان،گدا حسین افضل ،مجید امجد ، محسن احسان ،محسن بھوپالی، مظفر علی ظفر ،مرتضیٰ شاکر ترک ،محمد کبیر خان ، مظہر اختر ،معین تابش،نثار احمد قریشی، نور احمد ثاقب اوروزیر آغاشامل ہیں ۔حیف صد حیف کہ علم وا دب کی کہکشاں کے یہ تابندہ ستارے اب غروب ہو چکے ہیں اور ان کی ضیا پاشیوں کے سب سلسلے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اپنے ان مخلص احباب کا نام سن کر صفدر سلیم سیال کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں اور وہ بر ملا کہتا کہ علم و ادب کے ایسے درخشاں ستارے دنیا میں کم کم پیدا ہوتے ہیں ۔ان نابغۂ روزگار ادیبوں کی تخلیقی کامرانیوں کے بارِ احسان سے ادب کے ذوقِ سلیم سے متمتع قارئین کی گردنیں ہمیشہ خم رہیں گی۔صفدر سلیم سیال نے بہت کم لکھا لیکن معیار پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔ صفدر سلیم سیال کے دو شعری مجموعے شائع ہوئے :
۱۔ پیشِ نظر
۲۔ خواب تبدیل کریں
عصر ی آ گہی کی مظہر صفدر سلیم سیال کی شاعری قلب اور روح کی اتھا ہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثر آفرینی سے لبریز ہے ۔اپنی شاعری میں صفدر سلیم سیال نے واضح کیا ہے کہ ہر مر حلۂ زیست پر خوابوں کی خیاباں سازیاں انسان کو مسحور کر دیتی ہیں ۔ انسان جس حال اور جس خیال میں بھی ہو وہ اپنے روشن مستقبل کے خواب ضرور دیکھتا ہے ۔ایام گزشتہ کی کتاب میں مرقوم اندیشہ ہائے دُور دراز در اصل زمانہ حال کی یاداشتوں کے احوال پر محیط مرقع ہے۔انسان اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے جو مستحسن لائحۂ عمل مرتب کرتا ہے اپنی نو عیت کے اعتبار سے وہ لمحۂ موجود میں اس کے خوابوں کی مسحور کن کیفیات کاایک دھنک رنگ منظر نامہ سامنے لاتا ہے ۔ہر پُر عزم انسان اپنی زندگی کو سُود و زیاں کے اندیشے سے بر تر خیال کرتا ہے ۔اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہجوم ِ یاس میں اپنی بے طاقتی ،ناکامی و نامرادی اور حسرت و عقوبت کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتار ہے ۔ اپنی زندگی کے بھیانک خوابوں کو حسین خوابوں سے تبدیل کرنا نفسیاتی اعتبار سے مثبت انداز فکر کی دلیل ہے ۔ایسی سوچ انسان کو یاس و قنوطیت کے مسموم ماحول سے نکال کر سعی پیہم پر مائل کرتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سمے کے سم کے مہلک ثمر سے بچ کر انسان نیا زمانہ اور نئے صبح و شام کی تخلیق کے بارے میں کواب دیکھنے لگتا ہے۔ گردشِ مدام سے گھبرا کر اپنے خوابوں کی تعبیر کی جستجو میں دستیاب وسائل کو رو بہ عمل لاتے ہوئے ،خون پسینہ ایک کر کے وہ پورے انہماک سے سہانے خوابوں سے مسر ت کشید کرنے کی مقدور بھر سعی کرتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ انسان جوخواب آج دیکھتے ہیں مستقبل میں ان کی تعبیر دیکھنے کے لیے دل سے ہی صدا آتی ہے کہ انتظارِ ساغر کھینچ۔ زمانہ حال کے خوابوں کی تعبیر کٹھن اور صبر آزما انتظار کے بعد نہا ں خانہ ٔ دِل پر دستک دیتی ہے تو انسان طمانیت اور حیرت کے خوش گوار احساس سے سر شار ہو تاہے ۔ قحط الرجال کے موجودہ دور میں خیالی پلاؤ پکانے والوں اور ہوا میں گرہ لگانے کے عادی سہل پسندوں کی روش پر صفدر سلیم سیال نے ہمیشہ گرفت کی ۔اس قماش کے مسخرے سفاک ظلمتوں اور مہیب سناٹوں میں محض ستارو ں کے ٹمٹمانے پر انحصار کرتے ہوئے موہوم منزلوں کی جستجو میں سرابوں کے عذابوں میں الجھے بے مقصد ہاتھ پاؤں مارنے پر اصرار کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خود فریبی کے روگ میں مبتلایہ کرگس زادے عقابوں کی بلند پروازی سے شپرانہ چشم پوشی کرتے ہوئے آندھی کو گھٹا سمجھ کر صبح کاذب کو طلوع صبح بہاراں کی علامت پر محمو ل کرتے ہیں ۔خواب تبدیل کرنے کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے صفدر سلیم سیال نے اس جانب متوجہ کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو گا کہ یہ خود انسا ن ہی ہے جو اپنے روشن مستقبل کے خوابوں کی تکمیل کی راہ میں سد سکندری کی صورت میں حائل ہو جاتاہے ۔ اپنی شاعری میں صفدر سلیم سیال نے رُتیں بے ثمر ،کلیاں شر اور آ ہیں بے اثر کر دینے والوں پر واضح کر دیا کہ مظلوموں کی فریاد کے نتیجے میں ظلم کی معیاد ختم ہو جاتی ہے ۔ایک رجائیت پسند ادیب کی حیثیت سے صفدر سلیم سیال نے دُکھی انسانیت کے ساتھ جو عہدِ وفا استوار کیا زندگی بھر اس پر عمل کیا ۔اس نے یقین دلایا کہ اس عالمِ آب و گِل میں رنگ ،خوشبو ،حسن و خوابی ،نصرت و شادمانی اور راحت و آ سودگی کے سوتے خوابوں کی سر سبز و شاداب اور حسین و جمیل وادی ہی سے پھوٹتے ہیں ۔
ضلع جھنگ میں کاشت کاری کو جدید انداز میں ترقی دینا زندگی بھرصفدر سلیم سیال کا مطمح نظررہا ۔ایک کاشت کار کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی میں صفدر سلیم سیال نے زرعی فارم ،لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ پر بھر پورتوجہ دی ۔وہ کچھ عرصہ فارمر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی رہے ۔ اپنی سیاسی زندگی میں صفدر سلیم سیال نے بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے منشور کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا اوراستحصالی قوتوں کے جبر واستبداد پر گرفت کی ۔پس نو آبادیاتی دورمیں تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں آمریت اور غیر نمائندہ حکومتوں کے قیام پر اسے سخت تشویش تھی۔ سلطانیٔ جمہور کے پرجوش حامی کی حیثیت سے اسے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں ۔ عید کے موقع پر زندان میں لکھی گئی اس کی نظم ’’ اس سے بڑا دُکھ کیا ہو گا‘‘ پڑھ کر قاری کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں۔ حکومت کے انتظام و انصرام میں صفدر سلیم سیال نے غیر جمہوری اور غیر نمائندہ قوتوں کے کردار کو ہمیشہ ہدفِ تنقید بنایا۔کئی علامتی کردار مثلاً ’’ کوتوال‘‘ اور ’’ داروغہ ‘‘ ان کی اختراع ہیں۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں وہ زیر عتا ب رہا مگر جبر کے سامنے سپر انداز ہونا اس کے مسلک کے خلاف تھا۔ ضیا الحق کے عہد حکومت میں چار اپریل 1979کو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیر مین ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پھانسی دی گئی ۔اس موقع پر صفدر سلیم سیال نے کہا:
تجھ کو مرنا تھا تجھے موت توآنی تھی
دکھ تو یہ ہے تیرا قاتل تیرا درباری تھا
ترقی پسند تحریک اور حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ ادیبوں کے ساتھ صفدر سلیم سیال کے قریبی مراسم تھے۔غلام علی خان چین یہ بات زور دے کر کہا کرتے تھے کہ صفدر سلیم سیال ایسا رانجھا ہے جو سب کا سانجھا ہے ۔ صفدر سلیم سیال کی شاعری قاری کی روح اور قلب کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترجاتی ہے ۔انسانیت کے ساتھ قلبی وابستگی اور والہانہ محبت صفدر سلیم سیال کی شاعری کا امتیازی وصف سمجھا جاتا ہے ۔ایک زیرک ،فعال،روشن خیال اور مستعد تخلیق کار کی حیثیت سے صفدر سلیم سیال نے اپنے تجربات،مشاہدات،جذبات اور احساسات کو جس قرینے ،سلیقے اور فنی مہارت کے ساتھ پیرایۂ اظہار عطا کیا ہے وہ اس کی انفرادیت کی دلیل ہے۔صفدر سلیم سیال کی شاعری دھنک رنگ منظر نامہ پیش کرتی ہے۔اس میں رنج،راحت ،کرب،مسرت،صبر و تحمل،ضبط ،غم و غصہ،احتیاط،بے ساختگی،یاس ،رجائیت،حسرت،عرضِ تمنا،وصل ،فرقت،پیمانِ وفا ،پیماں شکنی اور جفا کے افسانے اس خلوص اور حقیقت پسندی کے ساتھ جلو ہ گر ہیں کہ قاری اسلوب کے سحر میں کھو جاتا ہے ۔
رستوں پہ نہ بیٹھوکہ ہوا تنگ کرے گی
بچھڑے ہوئے لوگوں کی صدا تنگ کر ے گی
اعصاب پہ پہرے نہ بٹھا صبح سفر ہے
ٹوٹے گا بدن اور قبا تنگ کر ے گی
مت ٹوٹ کے چاہو اْسے آغاز ِ سفر میں
بچھڑے گا تو اک ایک ادا تنگ کرے گی
اتنا بھی اسے یاد نہ کر شامِ غریباں
مہکے گی فضا بوئے حنا تنگ کر ے گی
خوابوں کے جزیرے سے نکلنا ہی پڑے گا
جس سمت گئے بوئے قبا تنگ کرے گی
پُر حبس شبوں میں ابھی نیند یں نہیں اتریں
نیند آئی تو پھر باد صبا تنگ کر ے گی
خود سر ہے اگر وہ تو مراسم نہ بڑھاؤ
خود دار اگر ہو تو انا تنگ کرے گی
اپنے منفرد اسلوب کے ذریعے صفدر سلیم سیال نے حقائق کی تکذیب اور صداقتوں کی تمسیخ کرنے والے عادی دروغ گو عناصرکے قبیح کرادار کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ صفدر سلیم سیال کو اس بات کا ملال تھا کہ جذباتی استحصال کرنے و الے ہوس پرستوں نے خلوص و مروت اور بے لوث محبت کو قصۂ پارینہ بنادیا ہے ۔ وہ اکثر یہ بات دہراتا کہ معاشرہ مجموعی طور پر بے حسی کا شکار ہو چکا ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے ہرگھر میں حزن و ملال کی قندیلیں فروزاں ہو گئی ہیں ان لرزہ خیز حالات میں درد کے مارے اپنے جگر کے زخموں پر مرہم رکھنے کی تمنا لے کر کس کی دہلیز پر جائیں ۔ صفدر سلیم سیال کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اس کے لا شعوری محرکات کے بارے میں ممتاز ماہر نفسیات حاجی حافظ محمد حیات نے کہا تھا کہ اِس شاعری کے سوتے کہیں تو مسرت و شادمانی کی ارفع ترین صورتوں سے پُھوٹتے ہیں اور کہیں اس کے پس پردہ ہجوم ِیاس کے لرزہ خیز اور اعصاب شکن مسموم اثرات دکھائی دیتے ہیں۔اس شاعری میں جذبات،احساسات اور نادر خیالات کے دل کش رنگ متکلم ہو کر قارئین کے دلوں کی دھڑکنوں سے ہم آ ہنگ ہو جاتے ہیں۔ مقصدیت سے لبریزپیرایۂ اظہار کی تمازت پتھروں کو بھی موم کر دیتی ہے ۔یہ شاعری تخلیق کار کی داخلی کیفیات کی ایسی تصویر پیش کرتی ہے جوقاری کے دل میں سما جاتی ہے۔تخلیق کار کادبنگ لہجہ حبس کے ماحول میں تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند ہے ۔اپنی شاعری میں صفدر سلیم سیال نے افکار تازہ کی جو شمع فروزاں کی ہے وہ جہانِ تازہ تک رسائی کی منزل میں خضرِ راہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ اپنی شاعری میں صفدر سلیم سیال نے ہر قسم کی مصلحت اندیشی کو ترک کر نے اور نتائج سے بے پروا رہتے ہوئے فسطائی جبر کے خلاف بھر پور مزاحمت کوشعاربنانے پر اصرار کیا ہے ۔حریت ِضمیر سے زندگی بسر کرنا صفدر سلیم سیال کا شیوہ رہا۔
اپنی سانسیں میری سانسوں میں ملا کر رونا
جب بھی رونا مجھے سینے سے ملا کر رونا
اتنا سفاک نہ تھا گھر کا یہ منظر پہلے
تری یادوں کے چراغوں کو بُجھا کے رونا
کتنے بے درد ہیں اس دیس میں رہنے والے
اپنے ہاتھوں تجھے سُولی پہ چڑھا کے رونا
ہجر و فراق ،پیمانِ وفا اورپیار و محبت کے مضامین کو اپنی شاعری کے ذریعے صفدر سلیم سیال نے ایک نیا انداز عطا کیا۔بلاکشانِ محبت پر گزرنے والے صدموں کے بارے میں اس کے اشعارگہری معنویت کے حامل ہیں۔ محبت کے سوختہ سامانوں کا حالِ زبوں بیان کرتے وقت وہ جہاں ان کے ساتھ ظہار ہمدردی کرتاہے وہاں اُن کی عزت ِ نفس کو بھی ملحوظ رکھتاہے ۔تحلیل نفسی کے ماہر کی حیثیت سے شاعرنے اس جانب متوجہ کیا ہے کہ جس طرح نباتات کی روئیدگی کے لیے خورشید ِ جہاں تاب کی ضیا پاشیوں کی ا حتیاج ہے اسی طرح جذبۂ محبت کو پروان چڑھانے میں خلوص ،دردمندی اور ایثار نا گزیر ہیں۔
سْونے ہی رہے ہجر کے صحرا اْسے کہنا
سْوکھے نہ کبھی پیار کے دریا اْسے کہنا
اک خواب سا دیکھا تھا تو میں کانپ اٹھا تھا
پھر میں نے کوئی خواب نہ دیکھا اسے کہنا
بر باد کیا ہم کو تیری کم نظری نے
یوں ہو تے نہ ور نہ کبھی رْسوا اْسے کہنا
اجھنگ میں مقیم اردو اور پنجابی زبان کے تخلیق کاروں کے ساتھ صفدر سلیم کے گہرے تعلقات تھے ۔وہ سب ادیبوں کا مونس و غم خوار بن کر ان کے دکھ سُکھ میں شرکت کرتا ۔ نئے لکھنے والوں میں اقتضائے وقت کے مطابق عصری آ گہی پروان چڑھانے میں ان کی مساعی ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ عبدالغفور د رشن نے ایک بار یہ بات زور دے کر کہی کہ پنجابی تہذیب و ثقافت کے فروغ کے سلسلے میں صفدر سلیم سیال کی خدمات تاریخ کے اوراق میں آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ صفدر سلیم سیال کی شاعری زندگی کی حرکت و حرارت کی مظہر ہے جو غفلت ،بے حسی اور جمود کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس کی شاعری ایک جامِ جہاں نما ہے جس میں زندگی کے تمام رنگ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلو گر ہیں۔وہ اس توقع پر خواب دیکھنے کی تمنا کرتاہے کہ وہ دِن دُور نہیں جب ان خوابوں کی تعبیر بھی مِل جائے گی۔اس کاخیال ہے کہ ہزارخوف میں بھی زبان کودِل کا ساتھ دینا چاہیے۔وہ سمجھتا ہے حیات جاوداں کا راز ستیز میں پنہاں ہے اسی لیے اپنی شاعری میں وہ سعی ٔ پیہم پر اصرار کرتاہے ۔اس کے خیالات سے یہ تاثر قوی ہو جاتا ہے کہ فریب ِ سُود و زیاں پر مبنی اندیشہ ہائے دُور دراز،مزاحمتوں ،رکاوٹوں،ہجومِ یاس و ہراس اور پے درپے ناکامیوں کے باوجود بلند ہمت انسان اپنے من کی غواصی کر کے سراغ ِ زندگی پا لیتے ہیں۔ساحلِ عافیت پر پہنچنے کا خواب دیکھنے والے جواں ہمت لوگ تلاطم خیز موجوں سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔ان کی محنت رنگ لاتی ہے اور ان کے خوابوں کی تعبیر ان کو مِل جاتی ہے ۔ جہد للبقا کے موجودہ دور میں جو بلند ہمت انسان زمانہ حال میں اپنی زندگی کو سنوارنے کی خاطر کٹھن حالات کا خند ہ پیشانی سے سامنا کرتے ہیں اور اپنی قسمت بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں مستقبل قریب میں فقید المثال کامرانیاں ان کامقدر بن جاتی ہیں۔ وسعت ِ افلاک کاجائزہ لیتے وقت انسان کو اپنی نگاہ بلند رکھنی چاہیے اور ماہتاب کے حصول کا خواب دیکھنا چاہیے ۔اگرچاند کے حصول میں کامیابی نہیں ہوتی تو کوئی ستارہ تو یقیناً مِل ہی جائے گا۔خوابوں کو تبدیل کرنے کی خواہش کے پس پردہ یہی سوچ کارفرما ہے۔
اور کچھ بھی نہیں ممکن تو بقا کی خاطر
آؤ اک دوسرے سے خواب ہی تبدیل کریں
کسی کا کچھ بگاڑاہی نہیں ہم نے زمانے میں
ہمیں تو خواب لکھنے کی سزا ملتی رہی ہے
والدہ کو صفدر سلیم سیال نے بے لوث محبت اور ایثار کا ایسا عدیم النظیر معدن قراردیاہے جو زندگی بھراپنی اولاد کو دعائیں دیتی رہتی ہے ۔یہ آغوش ِ مادر ہی جس میں نومولودبچہ زندگی کا پہلا درس لیتاہے ۔ماہرین عمرانیات اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا بھر کی مائیں اسی آرزو میں جیتی ہیں کہ اُن کی اولاد آلامِ روزگار کی تمازت سے سدا محفوظ رہے۔اگر عالمی سطح پر ماؤں کے اتحاد کی کوئی صورت پید ا ہو جائے تو دنیا بھر سے دہشت گردی ،خونریزی اور جنگ و جدال کو بیخ و بن سے اُکھاڑ پھینکنے میں کوئی امر مانع نہ ہو گا۔ماں کی بے لوث محبت وہ متاعِ بے بہا ہے جو انسان کوزندگی میں خود اپنی نظروں میں معزز و مفتخر کر دیتی ہے ۔ ماں کی دعا جب خضر راہ بن جائے تو خار زار ِ زیست میں سرابوں کے عذابوں سے نجات مِل جاتی ہے۔
ہجوم ِ یاس میں ماں کی دعا مِلتی رہی ہے
یہ دولت زندگی میں بارہا مِلتی رہی ہے
ایک وسیع المطالعہ ادیب کی حیثیت سے صفدر سلیم سیال نے معاصر عالمی ادب اور عالمی کلاسیک کا عمیق مطالعہ کیا۔ ساختیات ،پس ِ ساختیات ،جدیدیت ،مابعد جدیدیت،ورائے واقعیت ، اور ردِ تشکیل جیسے موضوعات پر اسے عبور حاصل تھا۔ فکشن میں فطرت نگاری، حقیقت نگاری اورطلسمی حقیقت نگاری کو وہ ایک منفرد تجربہ قرار دیتا اوراپنے قریبی احباب اور جدید ادب کے طالب علموں کو یہ مشورہ دیتا کہ وہ کولمبیا سے تعلق رکھنے والے ممتاز ناول نگار گبریل گارسیا مارکیز (Gabriel Garcia Marquez:1927-2014)کی تصانیف کا ضرور مطالعہ کریں ۔ ممتاز ترجمہ نگار اور محقق احمد بخش ناصر نے اس ادیب کی معرکہ آرا تصنیف (Chronicle of a Death Foretold) کے اردو ترجمہ پر کام کا آغاز کیا مگر اجل نے اس فطین مترجم سے قلم چھین لیا ۔صفدر سلیم سیال نے اس سانحہ پر دلی رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب اس شہر نا پرساں میں ترجمہ نگاری کی حقیقت بھی خیال و خواب ہو گئی ہے ۔کچھ عرصہ بعد پنجابی زبان کے مایہ ناز ادیب افضل احسن رندھاوا (1937-2017)نے گبریل گارسیا مارکیز کی اس تصنیف کا پنجابی زبان میں’’ پہلاں دس دتی گئی موت دا روزنامچہ ‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا ۔ صفدر سلیم سیال نے واضح کیا کہ اس ترجمے سے پنجابی ادب کی ثروت میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ ان دنوں اکلوتے بیٹے خرم کی ناگہانی موت اور کچھ عرصہ بعد اہلیہ پروفیسر عائشہ رندھاوا کی وفات کے صدمے نے افضل احسن رندھاوا کو جانگسل تنہائیوں کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔سجاد حسین نے اس ترجمے کو افضل احسن رندھاوا کی ’’ چھیکڑلی چیخ‘‘ یعنی آخری چیخ سے تعبیر کیا۔ اس زمانے میں افضل احسن رندھاوا کی رزمیہ نظم ’’ چھیکڑلی چیخ ‘‘ کی ہر طرف دُھوم تھی ۔یہ سن کر سب حاضرین کی آ نکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برسنے لگیں۔تقدیر ہر لحظہ ہر گام انسانی تدبیر کی دھجیاں اُڑ ا دیتی ہے۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعدیہ جان کر سب لوگوں کا دل بیٹھ گیا کہ افضل احسن رندھاوا اس جہاں سے اُٹھ گیا۔صفدر سلیم سیال کوروحانیت ،تصوف پیرا سائیکالوجی اور مابعد الطبیعات سے گہر ا دلچسپی تھی ۔صفدر سلیم سیال اس بات سے متفق تھا کہ ادیبوں کے لاشعوری جذبات جب صفحۂ قرطاس پر منتقل ہوتے ہیں توبعض اوقات وہ نوشتۂ تقدیر بن جاتے ہیں۔جیسے اردو زبان کے مزاح نگار، کالم نگار،بچوں کے ادیب ، شاعر،سفرنامہ نگاراور ادیب ابن انشا(شیر محمد خان :1927-1978) کی اس غزل کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ اس غزل کے بعد اس نے عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب کُوچ کا فیصلہ کر لیا تھا:
انشا جی اُٹھو اب کُوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب ،جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
صفدر سلیم سیال کی وفات سے پاکستانی زبانوں کے ادب کے فروغ کی مساعی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔پاکستانی زبانوں کاا دب اس با کمال تخلیق کار سے محروم ہو گیا ہے جس نے پوری دنیامیں اپنی تخلیقی کامرانیوں کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ کئی پاکستانی زبانوں میں صفدر سلیم سیال کی شاعری کے تراجم بھی کیے گئے ۔بشارت خان ،امیر اختر بھٹی ،گدا حسین افضل ،دیوان احمد الیاس نصیب اور فیض محمد خان نے صفدر سلیم سیال کی کچھ نظموں کوانگریزی زبان کے قالب میں ڈھالا ۔شریف خان ، عظیم خان اور اقتدار واجد نے صفدر سلیم سیال کی نظموں کے منظوم پنجابی ترجمے کیے ۔ڈاکٹر عبدالحق خان حسرت کاس گنجوی کی مساعی سے صفدر سلیم سیال کی مقبول نظموں کے سندھی زبان میں ترجمے کیے گئے ۔ صفدر سلیم سیال کی کچھ نظموں کا سرائیکی ترجمہ شبیر احمد اختر نے ،پشتو ترجمہ پروفیسر صابر کلوروی نے ،ذکیہ بدر نے ہندکومیں جب کہ عربی زبان میں ان نظموں کا ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد قریشی نے کیا ۔ حیف صد حیف کہ یہ تراجم ابھی تدوین و تہذیب کے مراحل میں تھے کہ اجل کے بے رحم ہاتھوں نے ان سب مترجمین سے قلم چھین لیا اور سب حقائق خیال و خواب بن کر رہ گئے۔ محنت کش طبقے کے اس پر جوش حامی نے زندگی بھر جبر و استحصال کے خاتمے کے لیے جد و جہد کی۔صبح کی سیر صفدر سلیم سیال کا معمول تھا، وہ منھ اندھیرے گھر سے نکلتا اور غزالی کالج جھنگ کے پاس سے گزرتا ہوا گوجرہ روڈپر دُور تک پیدل چلتا ۔یہاں سے کچھ دُور جھنگ کے نئے شہر کا پُراناشہر خموشاں ہے یہاں پہنچ کر وہ اپنے دیرینہ رفقا احمد بخش ناصر ، شفیع ہمدم اورگدا حسین افضل کی آخری آرام گاہ پر فاتحہ پڑھتا ۔وہ آ ہ بھر کر کہتا ہماری بزم وفا کے گنج ہائے گراں مایہ یہاں پیوند ِخاک ہو گئے۔چاند چہرے دائمی مفارقت کی بھینٹ چڑھ گئے اور آفتاب و ماہتاب قبروں میں اُتار دئیے گئے۔ اس وقت ہر طرف ہُو کا عالم ہوتا تھا ۔ جدید اردو نظم کے کوہ پیکر شاعر مجید امجد(1914-1974) کی شاعری صفدر سلیم سیال کو بہت پسند تھی۔مجیدامجد کا بہت سا کلام صفدر سلیم کو زبانی یاد تھا۔ وہ مجید امجد کی یہ نظم پڑھتا ہوا واپس گھر روانہ ہوتا تھا۔
جو دن کبھی نہیں بِیتا وہ دِن کب آئے گا
اِنہی دِنوں میں اِ س اِک دِن کو کون دیکھے گا
اُس ایک دِن کو جو سُورج کی راکھ میں غلطاں
اِنہی دِنوں کی تہوں میں ہے کون دیکھے گا
اُس ایک دِن کو جو ہے عمر کے زوال کا دِن
اِنھیں دِنوں میں نمو یاب کون دیکھے گا
یہ ایک سانس جھمیلوں بھری جُگوں میں رَچی
اِس اپنی سانس میں کون اپنااَنت دیکھے گا
اس اپنی مٹی میں جو کچھ اَمِٹ ہے مٹی ہے
جو دن ان آ نکھوں نے دیکھا ہے کون دیکھے گا
میں روز اِدھر سے گُزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب اِدھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
دو رویہ ساحل ِدیوار اور پسِ دیوار
اِک آئینوں کا سمندر ہے کون دیکھے گا
ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گا
میرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا
تڑخ کے گرد کی تہہ سے اگر کہیں کچھ پھول
کِھلے بھی کوئی تو دیکھے گا کون دیکھے گا
محمدشیر افضل جعفری(1909-1989) ،سید جعفر طاہر (1917-1977) اور مختار مسعود ( 1926-2017)کے اسلوب کو صفدر سلیم سیال نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ۔وہ یہ بات زور دے کر کہتاکہ ہر با ضمیر انسان کو اپنے محسن کی سپاس گزاری میں کبھی تامل نہیں کرنا چاہیے۔ صفدر سلیم سیال نے بگلا بھگت ، طالع آزما،مہم جُواور مرغانِ باد نما کے مکر کی چالوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ احسان فراموشی اور محسن کشی بے کمال اور ہیچ لوگوں کا وتیرہ رہا ہے ۔جس معاشرے میں دروغ کو فروغ حاصل ہو نے لگے اور نا شکر گزاری کو سکۂ رائج الوقت کی حیثیت حاصل ہو جائے وہاں ایسی بے حسی پید اہو جاتی ہے جس میں منافقت پروان چڑھنے لگتی ہے ۔ایسی صورت حال کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی بُرا شگون ہے۔ اس کے نتیجے میں اشراف اور اہلِ کمال کا کوئی پرسان ِ حال نہیں ہوتا۔ قحط الرجال اور منافقت کے دور میں شعر و ادب ،علم و دانش اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں نام پیدا کرنے و الے در بہ در اور خاک بہ سر پھرتے ہیں مگر ان کی جستجو ،دل جوئی اورداد رسی کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔جس معاشرے میں اہلِ کمال اس قدر خستہ حال ہوں وہاں بے کمال مسخروں کی پانچوں گھی میں ہوتی ہیں۔جاہل کو اس کی جہالت کا انعام ملنے لگتا ہے اور کم ظرف سفہا ہرطرف ہنہناتے پھرتے ہیں۔ہوائے جورو ستم میں بھی شمع ِ وفا کو فروزاں رکھنا ،حریت ِ ضمیر سے جینا اور حریتِ فکر کا علم بلند رکھنا زندگی بھر صفدر سلیم سیال کا شیوہ رہا ۔صفدر سلیم سیال شمار اپنے عہد کے ان جری تخلیق کاروں میں ہوتا تھا جنھوں نے حق گوئی و بے باکی کو سدا اپنا شعار بنایا ۔جرأت ِ اظہار کے موضوع پر صفدر سلیم سیال نے اس امر کی بارہا صراحت کی کہ حریتِ ضمیر سے جینے کے لیے اسوۂ حسینؑ پر عمل پیرا ہونا لازم ہے۔ جس سے یہ سبق ملتاہے کہ حریتِ ضمیر سے زندگی بسر کرنے کے لیے قربانی نا گزیر ہے ۔ایک جری تخلیق کارجب قلم تھام کر مائل بہ تخلیق ہوتاہے تووہ جہد للبقا کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مقدور بھر سعی کرتا ہے ۔صفدر سلیم سیال نے اپنے احباب کے جذبات و احساسات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھااور کسی کی دل آزاری نہ کی۔
خیال خاطر احباب کو وہ دل و جاں سے عزیزرکھتا تھا۔وہ اس امر کی احتیاط کرتا کہ کہیں کسی آبگینے کو ٹھیس نہ لگ جائے۔اس نے مخلص احباب کی خاطر کسی قربانی سے کبھی دریغ نہ کیا۔مطالعۂ احوال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صفدر سلیم سیال کو اس بات کا شدید قلق تھا کہ معاشرے میں محسن کشی کی وہی قبیح صور ت نمو پا رہی ہے جو بروٹس اور جولیس سیزر کے زمانے میں تھی ۔جب محسن کش اور نمک حرام بروٹس سنگِ ملامت لیے اہلِ درد کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں تو ہر حساس تخلیق کار کو دلی صدمہ ہوتا ہے ۔اپنے محسن کے ٹکڑوں پر پلنے والے وہ بروٹس جن کے بارے میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ آزمائش و ابتلا کی گھڑی میں مرہم بہ دست آ ئیں گے ،انہی کو جب اپنے کرم فرما پر خنجر آزما ہوتے دیکھتا ہے تو اس کا جی گھبرا جاتا ہے اور اُس کے دِلِ صد چاک سے آ ہ نکلتی ہے کہ یہ آستین کے سانپ کہاں سے نمو دار ہوئے۔زیست کی راہوں میں اگر ہرطرف خارِ مغیلاں بچھے ہو ں اس کے باوجود دوستی نبھانے کے لیے عازم سفر ہونا وفاداری کی دلیل ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ دوستی کاحق ادا کرنے کے لیے چناب جیسے دریا کی مہیب طوفانی لہروں میں کچا گھڑا تھا م کر بے خطر کودنے اور بھنور سے آنکھ مچولی کھیلنے کا حوصلہ درکار ہے ۔صفدر سلیم سیال کی شاعری کی تشریح و توضیح کاسلسلہ جاری رہے گا اور ہر عہد کی شاعری میں اس کا نام احترام سے لیا جائے گا۔ایک عظیم انسان اور صاحب طرزادیب کی حیثیت سے اس نے جو شہرت حاصل کی وہ اپنی مثال آ پ ہے ۔رخشِ حیات پیہم رو میں ہے قدرتِ کاملہ نے اختیار ِ بشر پہ پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ ا س عالمِ آب و گِل میں موت سے کسی کو رستگاری نہیں یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ کوہ ِندا کی پُکار سن کر کون ساتواں در کھول کر کب عازمِ اقلیم عدم ہو جائے۔ صفدر سلیم سیال دیکھتے ہی دیکھتے زینۂ ہستی سے اُتر گیا اور دنیا دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی ۔دنیا دائم آباد رہے گی مگر آج اپنے گرد و نواح کی جانب دیکھتاہوں تو کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جسے صفدر سلیم سیال جیسا کہا جا سکے۔
تمھارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمھارا جواب لائے گا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 259 Print Article Print
About the Author: Ghulam Ibnesultan

Read More Articles by Ghulam Ibnesultan: 210 Articles with 165253 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: