انسانی تمدّن کا ارتقاء اور ہمارے مسائل

(Mehboob Alam, )

 تعصبات اور معتقدات کی تا ریکی و تیرگی خواہ کتنی ہی پر سکون کیوں نہ ہو ۔ فکر ی صداقت کی روشنی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ انسان عقائد جو اسے ورثے میں ملیں یا تہذیب و تمدن کا نتیجہ ہوں بے سوچے قبول کرتا ہے۔ انسان فکری لحاظ سے سہل پسند اور غوروفکر سے عاری ثابت ہوا ہے۔ یہ جامد رسوم و فکر ہمارے مزاج عقلی میں اس قدر نفوذ پذیر ہیں کہ انسان سوچ کے ان جالوں کی قیدبا خوشی قبول کرتا ہے ۔ وہ ہمہ وقت اسی کھٹکے کا شکار ہے کہ جدید طرز فکر اور اس کے تمدن میں تبدیلی اذیت نا ک اور آباء اجداد کی طرز زندگی سے منحرف کرنے کی وجہ ہوگی۔ طرز ِفکر کی حدت کے عمل سے شکوک وشبہات جو اہمال و ابہام کے نہاں پر اسرار دھندلکوں میں ہیں عیا ں ہو کر اسے پریشا ن و پشماں کریں گے۔ ایک نئے جہاں کی تلاش ہے۔ نیا جہا ں کہاں ہے۔ روشن مستقبل کہاں ہے۔ یہ روایت پسندوں اور مقلدّین ہاتھوں صورت پذیر نہیں ہوگاؤ ۔ بلکہ جدید سائنسی طرز و فکر اور مصلحین اس خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے ۔وہ طرزِ کہْن کے باغی اور ان کے پا س واضح لائحہ عمل ہوگا۔ ان کے خیالات نئے۔ فکر عالمگیراور دلیل روشن ہوگی۔

اولین انسانی تمدن فکری بر بریت پر مبنی تھا ۔ اس مادی معاشرے میں عورت قبیلے کا محور و مرکز تھی۔ اولاد اس کے نام سے پہچانی جاتی تھی اور مرد کی حیثیت فروعی اور ضمنی تھی۔ خانہ بدوشی، شکار اور ماحولیاتی تحفظ اس کے تمدن کا واحد مرکز تھی۔ مادری زبان کی سرخیل (عورت) نے کھیتی باڑی کو ایجاد کیا۔ خانہ بدوش زرخیز زمینوں اور دریاوں کے گرد آبسے ۔اس معاشرتی پڑاؤ کے نتیجے میں مرد کے طرز فکر میں تبدیلی واقع ہوئی اور اس نے طاقت کی بنیاد پر زرعی نظام (پدری معاشرہ) قائم کیا۔ اور عورت مادی نظام کے مقام رفیع سے گرگئی۔

اس معاشرے کی بنیاد طاقت اور حکومت کے فکری اصول پر تھی۔ بادشاہت کا نظام طرز حکمرانی بنا۔ بادشاہت اورمذہب کا اتحا د عمل میں آیا۔ اس انسانی تمدن کی سب سے خوفناک یہ روایت ہے کے شاہی اور مذہبی نسل کو ہمیشہ کے لیے عوام الناس کا مالک اور صاحب اطاعت کا درجہ حاصل ہوا۔ انسانی وحدت کے مقابل خود غرض ،تنگ نظر ، اور مفاد پرست شاہی خاندان اور ہمیشہ سے ان کے حلیف مذہبی پیشوا رہے۔ اجداد پرستی، قبر پرستی ، اثار پرستی ، بیاہ، طلاق، مذہبی رسوم ، طبقات معاشرہ ، تہوار، بردہ فروشی، وضع قطع ، زیبائش، توہم پرستی ، عصمت فروشی، صابیت ، قربانی، وغیرہ زرعی تمدن کے ابتدائی ادوار میں وقو ع پذیر ہوئی۔ لوگ فکر ی قوانین سے ناواقف تھے۔ قدرتی مظا ہر کی تو جہیہ عقلی فکر سے نہیں تخیل سے کیا کرتے تھے۔ تخیل کی اس بے عقل فکرکی وجہ سے انسان زرعی تمدن میں ہمیشہ خو ف و وہشت اور اوہام و خدشات سے بچنے کے لیے روحوں کی پوجا کرتے اور ان سے مدد مانگتے ۔ دیوتاؤؤں کو خوش کرنے کے لیے مندروں پر چڑھاوے چڑھاتے۔ جا دو ٹونے سے کائنات کو مسخر کرنے کی سعیِ لاحاصل اور موت پہ قابو پانے کی کوشش کرتے۔

مسرورِزمانہ سے روح کی بقا ء اورحیات بعد ازموت کے تصورات پر مذہب کی عمارت اٹھائی گئی۔ جنگ میں فتح، دفع بلیاّت، دھرتی کی بارآوری ، بارش برسانے اور او لاد کے حصول کے لیے خونی قربانی دی جاتی۔پہلے پہل نر بلی (مرد کے لیے قربانی) اور بعد از عورت کو بے دریغ قربان کیا گیا۔ فکرونظر کے ارتقا کے بعد انسان کے دوسروں کی قربانی دینے کے بجائے لذات دینوی کے لیے تجرد اور ریاضت کی صورت دینے لگا۔ زرعی تمدن دس ہزار سال تک قائم رہا۔ مذہب ، فنون لطیفہ اور سائنسی طرز فکر کی تاسیس اسی دور میں عمل میں آئی۔سائنسی طرز فکر کے انکشافات کے طفیل قدرتی مظاہر سے دہشت زدہ ہونے کے بجائے انسان ان سے نبردآزماہونے کے منصوبے بنانے لگا۔ سائنسی طرز فکر نے اعتما د نفس کو تقویت دی اور قدیم اوہام و خرافات سے نجات دلائی۔ انسان فطرت کے عناصراور اجرام سماوی کی پوجا کے بجائے ان کی تسخیر پر آمادہ ہوگیا۔ سائنسی طرز فکر سے صنعتی دور کا آغاز ہوا ۔ انگلستان میں مشین کی ایجاد کے چند سال بعد شیوع تمام مغربی ممالک میں پہنچ گیا۔ کارخانوں کے لیے خام مال کے پیش نظر افریقہ ایشیا کے مختلف ممالک کو قبضے میں لیا گیا۔ زرعی تمدن سے وابستہ قومیں صنعتی تمدّن کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ اس ملوکیت نے تجارت کو فروغ دیا۔ اور تجارت کی توسیع نے تجارتی اور اقتصادی ملوکیت کو جنم دیا۔ اس نئی طرز ملوکیت اور نوآبادیات کی تقسیم پر چپقلش کے دور کا آغاز دو عظیم جنگوں پر منہتی ہوئی۔ جس قوم نے تمدن اور احیائے معاشرہ کو جدید سائنسی انکشافات کی روشنی میں از سر نو مرتب نہیں کیا۔ وہاں آج بھی زرعی طرز فکر کی پیدا شدہ رسوم وروایات کے دورکے جبر جاری ہیں ۔ بلاشبہ ان کے ہاں سائنس نے ترقی بھی کی مگر سائنس کا انداز تحقیق ان کے مزاج کے اندرنفوذپذیر نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کے وہ قومیں آج بھی چند خاندانوں اور مذہبی پیشواؤں کی قید میں ہیں۔

سائنسی طرز فکر انسانوں میں اس احساس کو قوی کر رہا ہے کہ رنگ ونسل ، لسان وزبان، ذات پات، صوبایئت و وطنیت کے اختلافات سطحی و فروعی ہیں۔ اور انسانوں میں بحثیت انسان ہونے کی کوئی تفریق نہیں، سائنسی طرز فکر انسانی وحدت کو فروغ دے کرایک نئے عالمگیرتمدّن کی بنیا دڈال رہا ہے۔اور یہ ہی انسانیت کا تمدّن ہوگا جو کہ مقلدّین کے ہاتھوں نہیں بلکہ جدید سائنسی طرزِ فکرکے مشعل برداروں کے ہا تھوں ہی وقوع پذیر ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Alam
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jul, 2019 Views: 428

Comments

آپ کی رائے