سچ تو یہ ہے چوتھا حصہ

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

 منظر۳۴ ایک کھلے میدان میں اردگردایک سوکے قریب کرسیاں نیم گول چکرکی شکل میں پڑی ہوئی ہیں۔ایک طرف سٹیج کے طورپردس کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔درمیان میں سامان پڑاہواہے۔جس میں کھانے پینے کے سامان کے پیکج ہیں۔رضائیاں ہیں۔ زنانے مردانے بغیرسلے ہوئے کپڑے ہیں۔کھادکی بوریاں اوردوسراسامان بھی ہے ۔سب لوگ خاموش بیٹھے ہیں۔ تقریب کاآغازقرآن پاک کی تلاوت سے ہوتاہے۔اس کے بعدمحمدعلی ظہوری رحمۃ اﷲ علیہ کانعتیہ کلام سنایاجاتاہے۔
اخترحسین۔۔۔اپنی کرسی سے کھڑے ہوکر۔۔۔۔دائیں بائیں دیکھ کر۔۔۔سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کودیکھ کر۔۔۔۔پھرسرنیچے جھکالیا اورکہا۔۔۔۔پہلے آپ سب ۔لوگوں کاخصوصی شکریہ۔آپ نے ہماری بات پرعمل کیا۔ہمارے مشورے پر۔مشکل آسان فنڈ میں فند جمع کرائے۔اسی فنڈ سے ہم نے۔یہ سامان خریداہے۔جوآپ سب لوگوں۔کے سامنے پڑاہے۔ہم چاہتے تویہ سامان۔تقسیم کرسکتے تھے۔اس سے ہوسکتاتھا کہ۔فنڈدینے والوں میں سے۔کسی کوشک ہوجاتاکہ۔ہم نے سامان خریدابھی ہے۔یانہیں ۔اس لیے جوفنڈ جمع ہواتھا۔ اس میں سے ایک لاکھ روپے کا۔یہ سامان خریداہے۔اب اس کوتقسیم کیسے کرناہے۔ یہ ہم آپ کے مشورہ کے مطابق ہی کریں گے۔آپ اپنااپنامشورہ دیں۔ پھراس کے مطابق اعلان ۔کریں گے کہ۔یہ سامان کیسے تقسیم کرناہے۔
عبدالغفور۔۔۔۔ہمیں ایک جلسہ کرناچاہیے۔اس میں ممبران اسمبلی کوبلاکر۔یہ سامان ان کے ہاتھوں سے۔غریبوں میں تقسیم کرناچاہیے
ناصراقبال۔۔۔۔جلسہ کرنے کی کیاضرورت ہے۔اوریہ سامان ممبران اسمبلی۔کے ہاتھوں کیوں۔تقسیم کرائیں
ظفراقبال۔۔۔ہمیں ایف ایم اوراخباروں میں تاریخ مقررکے اعلان کراناچاہیے کہ غریب لوگ۔یہ امدادی سامان ۔اس جگہ سے لے جائیں۔
رشیداحمد۔۔۔۔اس سے جواس امدادی سامان۔کے مستحق ہیں۔وہ آئیں نہ آئیں ۔ایسے لوگ آجائیں گے جومستحق نہیں۔لالچی ہوں گے
ارشدجمال۔۔۔۔ہمیں لوگوں کوبلاکرقرعہ اندازی کرنی چاہیے۔
اخترحسین۔۔۔۔تم نے خودہی مشورے دیے۔اورخودہی۔مستردکردیے۔اب ایک مشورہ میں بھی دیناچاہتاہوں ۔اجازت ہوتو۔میں بھی اپنامشورہ دے دوں۔
تمام شرکاء مل کر۔۔۔۔جی ہاں۔آپ اپنامشورہ ضروردیں
اخترحسین۔۔۔۔تھوڑی دیرخاموش رہنے کے بعد۔۔۔۔میرامشورہ یہ ہے کہ۔ہمیں یہ سامان لے کر۔دیہاتوں میں جاناچاہیے اور۔مستحق لوگوں کوخودجاکر۔یہ سامان تقسیم کرناچاہیے
تمام شرکاء مل کر۔۔۔۔یہ مشورہ ٹھیک ہے۔ آپ جس کوکہیں گے۔ وہی آپ کے ساتھ جائے گا
اخترحسین۔۔۔ہم چارچارافرادکے گروپ بنائیں گے ۔جومختلف علاقوں میں جاکر۔یہ سامان تقسیم کریں گے۔
اس کے بعدشرکاء اجلاس میں بندڈبے تقسیم کیے جاتے ہیں
منظر۳۵
سعیداحمداوربشریٰ ایک ساتھ بیٹھے ہیں
بشریٰ۔۔۔سعیداحمدسے۔۔۔آپ نے عارف سے بات کی
سعیداحمد۔۔۔ہاں۔میں نے عارف سے بات کی تھی
بشریٰ۔ کیاکہا اس نے
سعیداحمد۔۔۔عارف نے مجھے الجھن میں ڈال دیاہے
بشریٰ۔۔۔۔بیٹے سے بات کرکے۔آپ الجھن میں پڑگئے۔ایسی کیابات ہوئی ۔باپ بیٹے میں
سعیداحمد۔۔۔۔میں کچھ اورسوچتاہون۔عارف کچھ اورسوچتاہے
بشریٰ۔۔۔۔باپ کی سوچ۔اوربیٹے کی سوچ۔کیسے مختلف ہوسکتی ہے
سعیداحمد۔۔۔۔ہوسکتی ہے ۔کیوں نہیں ہوسکتی
بشریٰ۔۔۔کیابات ہوئی
سعیداحمد۔۔۔۔بات کیاہونی تھی۔جومیں نے کہا ۔اس کوسمجھ نہیں آئی اور۔جواس نے کہا۔وہ مجھے سمجھ نہیں آیا
بشریٰ۔۔۔آپ نے ایسی کون سی۔مشکل بات کردی ۔جوعارف کوسمجھ نہیں آئی
سعیداحمد۔۔۔بات تومشکل نہیں تھی
بشریٰ۔۔۔۔کیاعارف نے۔شادی سے انکارکردیاہے
سعیداحمد۔۔۔وہ توپوچھ رہاتھا۔ کہ اس کی شادی۔کب کررہے ہیں
بشریٰ۔۔۔آپ کہتے ہیں۔جوآپ نے کہا۔اسے سمجھ نہیں آئی۔ اس کوسمجھ نہیں آئی تو۔اس نے یہ کیوں پوچھ لیا کہ ۔اس کی شادی کب کررہے ہیں ۔اس نے جوکہا وہ بھی اتنامشکل نہیں کہ۔آپ کی سمجھ میں نہ آئے
سعیداحمد۔۔۔۔جوبات اسے سمجھ نہیں آئی ۔وہ بات اورہے
بشریٰ۔۔۔۔وہ کون سی بات ہے۔وہی بات میں آپ سے پوچھ رہی ہوں۔
سعیداحمد۔۔۔۔میں نے اسے کہا کہ۔اپنے کسی روزگارکاانتظام کرے
بشریٰ۔۔۔۔عارف کیاکہتاہے
سعیداحمد۔۔۔۔کہتاہے ۔روزگارتواس کے پاس ہے۔وہ رکشہ چلاتاہے
بشریٰ۔۔۔رکشہ چلانے والے کوکون رشتہ دے گا
سعیداحمد۔۔۔۔یہی بات تومیں۔نے اسے کہی ۔جواسے سمجھ نہیں آئی
بشریٰ۔۔۔۔وہ کیسے
سعیداحمد۔۔۔۔عارف نے کہا ہے کہ۔مسئلہ روزگارکانہیں یقین کاہے۔اسے میری بات ۔سمجھ آجاتی تو۔یہ جواب نہ دیتا
بشریٰ ۔۔۔۔اسے توبات سمجھ آگئی ہے۔البتہ آپ کو۔اس کی سمجھ نہیں آئی۔عاف ٹھیک کہتاہے۔ مسئلہ روزگارکانہیں یقین کاہے۔
سعیداحمد۔۔۔۔اب کیاکریں
بشریٰ۔۔۔۔میں اسے۔سمجھانے کی ۔کوشش کرتی ہوں
منظر ۳۶
کریم بخش لکڑی کی بندرمیں چارہ اوربھوسہ مکس کررہاہے۔ساتھ ہی چارگائیں اوردوبچھڑیاں کھڑی ہیں۔محمدطارق مویشیوں کی جگہ پرصفائی کررہاہے۔
کریم بخش۔۔۔ چارہ مکس کرتے ہوئے رک کر۔۔۔۔طارق سے ۔طارق بیٹے۔تم نے کیاسوچاہے
طارق۔کس بارے میں ابوجی
کریم بخش۔وہی بات جومیں نے اورتیری ماں نے تجھ سے کہی تھی
طارق۔۔۔اچھاوہ بات۔میں توسمجھاتھاکہ ۔آپ مجھے چیک کررہے ہیں۔میں کوئی کام بھی کرناچاہتاہوں یا۔مفت میں روٹیاں توڑتارہوں گا
کریم بخش۔اس کامطلب ہے تو۔شادی کرنے میں سنجیدہ نہیں
طارق ۔شادی کرنے کے لیے تو۔میں بہت سنجیدہ ہوں۔میں توچاہتاہوں۔کل ہی میری شادی ہوجائے
کریم بخش۔شادی کے لیے جتنے بے تاب ہواتنے۔سنجیدہ نہیں ہو
طارق ۔ابھی توعرض کیاہے
کریم بخش۔طارق بیٹا۔یہ بے تابی ہے ۔سنجیدگی نہیں
طارق۔ابوجی۔یہ سنجیدگی نہیں تو۔اورسنجیدگی کیاہوتی ہے
کریم بخش۔سنجیدگی یہ ہے کہ۔تم جوکام کرناچاہتے ہو۔اس کام میں مگن ہوجاؤ۔ اس کام کے تقاضوں کوپوراکرو۔
طارق۔ابو۔شادی کے بارے میں سنجیدگی کیاہوتی ہے
کریم بخش۔شادی کے بارے میں سنجیدگی یہ ہے کہ ۔شادی سے پہلے۔ اپنے لیے اچھے روزگارکا۔اتنظام کرو۔شادی سے پہلے۔مکان تعمیرکرو۔ایک گھرتعمیرکرو۔ جس میں تم۔تمہاری بیوی، تمہارے بچے،تمہارے مویشی اورتمہاراقیمتی اورضروری سامان عزت اورتحفظ سے۔رہ سکیں۔
طارق۔۔۔۔گھرتوہمارے پاس ہے۔
کریم بخش۔۔۔اس میں تمہارے لیے ایک کمرہ تعمیرکرنابہت ضروری ہے
طارق۔۔۔کمرہ بنانے کے لیے ۔توبہت سے پیسوں کی ۔ضرورت ہوگی
کریم بخش۔۔۔اسی لیے تجھے کہا ہے کہ۔اپنے لیے روزگارکاانتظام کرو۔پیسے اکٹھے کرو۔کمرہ تعمیرکرناہے۔ شادی پراخراجات ہوں گے
طارق۔۔۔شادیوں پراخراجات تو۔والدین کرتے ہیں
کریم بخش ۔۔۔اتنے زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔بہتریہ ہے کہ ۔تم یہ اخراجات۔خودکرو
طارق۔۔۔اس کامطلب ہے مجھے۔کام ضرورکرناپڑے گا
کریم بخش۔۔۔کام توکرناپڑے گا
طارق۔۔۔ابو۔چنددن میں ۔میں بتادوں گاکہ۔مجھے کیاکام کرناہے
کریم بخش۔۔پھرنہ کہناکہ میں سمجھا
طارق ۔۔۔یہ نہیں کہوں گا۔یہ بتاؤں گا کہ۔مجھے کیاکام کرناہے
منظر۳۷
عبدالمجید،راشدہ، عبدالرحیم، سلطانہ، احمدبخش چارپائیوں پربیٹھ کرکھاناکھارہے ہیں۔
سلطانہ۔۔۔آج پھرآلوپکائے ہوئے ہیں۔کتنے دن ہوگئے۔روزانہ آلوہی۔کھانے پڑتے ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔گھرمیں جوپکایاجائے۔اسے خاموشی سے کھالیاکرو۔کھانے پراعتراض نہ کیاکرو
عبدالرحیم۔۔۔۔روزانہ ایک ہی سالن کھانے سے۔طبیعت اکتاجاتی ہے۔میں بھی یہی۔کہنے والاتھاکہ۔کتنے دن ہوگئے۔روزانہ آلوکاسالن ۔کھاناپڑتاہے
عبدالمجید۔۔۔۔بھائی بھی بہن کی ۔حمایت کررہاہے۔کھانے پراعتراض کرنا۔اچھی بات نہیں ہوتی۔ہم جوچاہیں گے۔وہی سالن پکائیں گے۔تم خاموشی سے کھالیاکرو
عبدالمجید۔۔۔راشدہ سے۔بچے کھانے پراعتراض کررہے ہیں۔اورتوخاموشی سے ۔سن رہی ہے۔انہیں سمجھاتی کیوں نہیں کہ۔کھانے پراعتراض نہیں کرتے
راشدہ۔۔۔۔بچے ہیں۔میں کیاسمجھاؤں ۔آپ کودوبارکہاہے۔دال اورسبزی لے آؤ۔تم ہوکہ بات ہی نہیں سنتے
عبدالمجید۔۔۔لگتاہے ۔ماں اوربیٹے، بیٹی نے ۔میرے خلاف محاذ کھڑا۔کردیاہے۔
احمدبخش۔۔۔عبدالرحیم اورسلطانہ نے۔اتناہی توکہا ہے۔آج پھرآلوکاسالن۔پکاہواہے
عبدالمجید۔۔۔غصے میں۔میں جوبات کررہاہوں۔وہ کسی کوسمجھ نہیں آرہی۔باربارکہہ رہاہوں۔کھانے پراعتراضنہیں کرتے۔بچوں کوسمجھانے کے بجائے۔ان کی طرف داری ہورہی ہے
راشدہ۔۔۔کیاہم بھی آپ کی طرح۔بچوں کادل دکھائیں
عبدالمجید۔۔۔اس میں دل دکھانے والی۔کون سی بات ہے۔میں نے تویہ کہاہے۔کھانے پراعتراض کرنا۔اچھی بات نہیں ہے
احمدبخش۔توکیاروزانہ آلو۔پکانااچھی بات ہے
عبدالمجید۔۔۔توپھربحث کرنے لگ گیاہے
راشدہ۔۔۔بچے آج کوئی اور۔سالن کھاناچاہتے تھے۔ اس لیے کہہ دیا۔آج پھرآلوپکائے ہوئے ہیں۔کیابچے یہ بات بھی نہیں کہہ سکتے
عبدالمجید۔۔۔نہیں کہہ سکتے
احمدبخش ۔۔۔یہ توکوئی بات نہ ہوئی
عبدالمجیدجوتااٹھانے لگتاہے توراشدہ اس کاہاتھ پکڑلیتی ہے
عبدالمجید۔۔راشدہ سے۔۔تونے اسے بگاڑاہواہے
راشدہ۔۔۔میں نے نہیں تونے بگاڑاہے
عبدالمجید۔۔۔توبڑی زبان درازہے۔ شوہرکے سامنے بولتی ہے
راشدہ۔۔۔کہاں لکھا ہے۔شوہرکے سامنے۔بیوی نہیں۔بول سکتی
عبدالمجید۔۔اب بولی تو
راشدہ کھانے کے برتن اکٹھے کرکے چلی جاتی ہے
منظر۳۸
سمیراکمرے میں جھاڑوسے صفائی کررہی ہے۔
اریبہ۔۔۔کمرے میں داخل ہوکر۔۔۔سمیرا
سمیرا۔۔جھاڑودیتے ہوئے رک کرسرنیچے جھکائے ہوئے۔جی امی
اریبہ۔برتن ابھی تک ویسے پڑے ہیں۔برتن تونے ابھی تک۔نہیں دھوئے
سمیرا۔۔۔امی جان۔کمرے کی صفائی کرے برتن۔بھی دھودیتی ہوں
اریبہ۔۔۔تجھے کئی بار۔کہاہے پہلے برتن۔دھویاکر۔پھرصفائی کیاکر۔تجھے میری بات۔سمجھ میں نہیں آتی کیا
سمیرا۔۔۔امی۔ناراض کیوں ہورہی ہیں۔کمرے کی صفائی کرکے۔برتن بھی دھودیتی ہوں
اریبہ۔میرے کہنے کے مطابق تو۔۔۔۔توکام کرتی ہی نہیں۔اپنی مرضی کے مطابق ۔کام کرتی ہے
سمیرا۔۔۔امی آپ بلاوجہ ۔ناراض ہورہی ہیں ۔
اریبہ۔۔۔میں بلاوجہ ناراض ہوہی ہوں؟جیسے میں کہتی ہوں۔ویسے کام کیوں نہیں کرتی
سمیرا۔۔۔امی۔میں گھرکے سارے کام کرتی ہوں۔ ترتیب وہ نہیں رہتی ۔جوآپ بتاتی ہیں۔
اریبہ۔۔۔اسی ترتیب سے۔کام کیوں نہیں کرتی۔جس ترتیب سے۔میں کہتی ہوں
سمیرا۔۔۔آئندہ کوشش کروں گی۔جس ترتیب سے آپ۔کہتی ہیں۔اسی ترتیب سے کام کروں
اریبہ۔۔۔اٹھاؤ۔۔برتن ۔پہلے برتن دھو۔بعدمیں کمرے کی ۔صفائی کرنا
سمیرا۔۔۔امی ۔کمرے کی صفائی۔نامکمل چھوڑدوں
اریبہ۔۔۔ہاں۔۔نامکمل چھوڑدے۔برتن دھونے کے بعد۔مکمل کرلینا
سمیرا۔۔۔امی ۔آپ خودہی تو۔کہتی ہیں ۔جوکام شروع کرو۔ اسے مکمل کرو۔درمیان میں چھوڑنہ دو۔اب آپ خودکہہ رہی ہیں۔کمرے کی صفائی درمیان میں۔چھوڑدوں
اریبہ۔۔۔میرے ساتھ ۔بحث نہ کرو۔اٹھاؤبرتن۔جاکردھو
سمیرااپنی جگہ سے اٹھتی ہے۔کمرے سے باہرجارہی ہوتی ہے توبشیراحمدآجاتا ہے
سمیرا۔۔۔السلام علیکم
بشیراحمد۔۔وعلیکم السلام۔اس دوران بشیراحمددیکھتاہے کہ کمرے میں جھاڑوپڑاہواہے۔ایک چوتھائی کمرے کی صفائی ہوئی پڑی ہے۔اریبہ جھاڑوکے پاس بیٹھی ہے
بشیراحمد۔۔۔سمیراسے۔۔۔کمرے کی صفائی۔تونے نہیں کی ۔جوتیری ماں کررہی ہے
سمیرا۔۔۔کمرے کی صفائی۔ابو۔میں کررہی تھی
بشیراحمد۔۔۔درمیان میں۔کیوں چھوڑدی۔اب کہاں جارہی ہو
سمیرا۔۔ابو۔برتن دھونے جارہی ہوں
بشیراحمد۔۔۔کمرے کی صفائی۔مکمل کرلو۔بعدمیں برتن دھولینا
سمیرا۔۔۔امی کہتی ہیں۔میں پہلے برتن دھولوں۔پھرکمرے کی صفائی کروں
بشیراحمدسمیراکوکمرے میں لے آتاہے ،جھاڑواٹھاکراس کے ہاتھ میں دے کرکہتاہے پہلے کمرے کی صفائی کرلوبرتن بعدمیں دھودینا
سمیرا۔۔۔ابو۔میں نے بھی امی سے۔یہی کہاتھا کہ ۔کمرے کی صفائی کرکے۔برتن دھودوں گی۔ مگرامی نے
اریبہ۔۔۔جس ترتیب سے میں۔کہتی ہوں یہ اس ۔ترتیب سے کام کیوں نہیں کرتی
بشیراحمد۔۔۔سمیرا۔گھرکے سارے کام کرتی ہے۔ اورتو ہے کہ اس پر۔رعب جمانے کاکوئی نہ کوئی۔جوازڈھونڈلیتی ہے ۔اسے کامکرنے دے ۔رعب نہ جما
اریبہ منہ بناتی ہوئی کمرے سے باہرچلی جاتی ہے
منظر۳۹
صابراں اورجاویدایک ہی چارپائی پربیٹھے ہیں۔جاویدکے ہاتھ میں کتاب ہے۔ جاویداس کتاب کوغورسے پڑھ رہاہے۔صابراں تھوڑی دیرخاموش رہتی ہے۔پھرآوازدیتی ہے ابو۔جاویدکوئی جواب نہیں دیتا۔کچھ دیر کے بعدصابراں پھرآوازدیتی ہے ۔ابو۔ جاویداب بھی خاموش رہتا ہے کوئی جواب نہیں دیتا ۔اس کے بعدصابراں چلی جاتی ہے۔جاویدکتاب کاورق الٹاتاہے۔ ادھرادھردیکھتاہے پھرکتاب پڑھنے میں مگن ہوجاتاہے۔رحمتاں خاموشی سے چارپائی پرآکربیٹھ جاتی ہے۔جاویدابھی بھی کتاب پڑھ رہاہے۔رحمتاں آوازدیتی ہے صابراں کے ابو۔جاویدکوئی جواب نہیں دیتا۔رحمتاں پھرکہتی ہے صابراں کے ابو ۔جاویدسراٹھاتاہے۔اورپوچھتا ہے ۔صابراں کی ماں تونے مجھے بلایا ہے کیا۔
رحمتاں۔۔۔۔میں کب سے آوازیں دے رہی ہوں ۔آپ ہیں کہ ۔اب بھی پوچھ رہے ہیں۔میں نے بلایا ہے کیا
جاوید۔۔۔میں کتاب پڑھ رہاتھا ۔اب بتاؤ کیاکہناہے۔
رحمتاں ۔۔۔۔کہناکیا ہے ۔آپ مولوی صاحب کے پاس گئے تھے۔ دعاکرائی تھی
جاوید۔۔۔۔مولوی صاحبب کہتے ہیں۔پہلے بیٹیوں سے پوچھ لو
رحمتاں۔۔۔۔بیٹیوں سے کیاپوچھیں
جاوید۔۔۔۔مولوی صاحب کہتے ہیں۔بیٹیوں سے پوچھ لیں۔ وہ کس سے شادی کرناچاہتی ہیں
رحمتاں۔۔۔۔بیٹیوں سے کیوں پوچھیں۔ہم والدین ہیں۔ جہاں چاہیں ان کی شادی کردیں
جاوید۔۔۔میں نے بھی مولوی صاحب۔سے یہی کہاتھا
رحمتاں۔۔۔۔پھرمولوی صاحب نے کیاکہا
جاوید۔۔۔۔مولوی صاحب نے کہا ۔یہ بیٹیوں کاحق ہوتاہے۔وہ جہاں چاہیں ۔ان کی شادی وہاں کردیں
رحمتاں۔۔۔اب بیٹیوں سے پوچھیں ۔گے یانہیں
جاوید۔۔۔۔مولوی صاحب نے کہا ہے۔اب پوچھناتو ہے
رحمتاں۔۔۔۔کیسے پوچھیں گے
جاوید۔۔۔۔تم ان کی ماں ہو
رحمتاں۔۔۔تم بھی توان کے باپ ہو۔تم پوچھ لو
جاوید۔۔۔یوں کرتے ہیں۔دونوں پوچھتے ہیں۔ رحمتاں۔یہ ٹھیک رہے گا
منظر۴۰
اخترحسین، عمیرنوازاورعبدالغفوردورکشوں میں امدادی سامان لادکرعبدالمجیدکے پاس آتے ہیں۔ اپناتعارف کراتے ہیں
اخترحسین۔۔۔۔میرانام اخترحسین ہے۔ اوریہ عمیرنوازاورعبدالغفورہیں ۔ہم نے چندماہ پہلے مشکل آسان فنڈقائم کیاہے ۔اس فنڈمیں بہت سے لوگوں نے فنڈزجمع کرائے ہیں۔
عبدالمجید۔۔۔۔آپ نے یہ فنڈکس لیے قائم کیاہے
عبدالغفور۔۔۔۔اس معاشرہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں ۔جنہیں کسی نہ کسی ۔کی مددکی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں۔جواپنی محدودآمدنی کی وجہ سے اپنی ضروریات ۔پوری نہیں کرسکتے۔
عمیرنواز۔۔۔بہت سے ایسے لوگ ہیں۔جواپنی ضروریات زندگی ۔قرض لے کرپوری کرتے ہیں۔ یوں وہ ساری زندگی قرض اٹھانے اور۔قرض واپس کرنے میں۔گزاردیتے ہیں
عبدالمجید۔۔۔توکیامجھے بھی۔آپ کے فنڈمیں فنڈزدیناہوں گے
اخترحسین۔۔۔نہیں ہم آپ سے۔فنڈلینے نہیں۔آئے
عبدالمجید۔۔۔۔پھرکس لیے آئے ہیں
عبدالغفور۔۔۔۔ہمیں معلوم ہواہے۔ آپ کاشت کاری کرتے ہیں۔ آپ نقدسامان نہیں خریدسکتے۔ تم کھاد،ڈیزل وغیرہ ادھارپر۔لیتے رہتے ہو۔اس لیے ہم آپ کی۔مشکل آسان فنڈسے امدادکرنے آئے ہیں ۔اس میں دوکھادکی بوریاں ۔کچھ راشن کاسامان۔ تمہارے اورتمہارے گھروالوں کے لیے ۔ایک ایک سوٹ ہے ۔یہ سامان اتارو۔ اس کے بعدہم واپس جائیں گے
عبدالمجید۔۔۔کھاناتیارہوگیاہے۔ پہلے کھاناکھالیں
عمیرنواز۔۔۔اس کی ضرورت نہیں تھی۔
عبدالمجید۔۔۔اس میں ضرورت کی کیابات ہے۔ آپ میرے مہمان ہیں۔ مہمان نوازی ہمیں۔بہت پسندہے
عبدالغفور۔۔۔نہیں۔ہم کھانانہیں۔کھائیں گے
عبدالمجید۔۔۔اب کھاناتیارہوگیا ہے۔ آپ کھاناکھائیں
عبدالمجیدتینوں مہمانوں کوکمرے میں لے جاتا ہے ۔چاروں ایک ساتھ کھاناکھارہے ہیں۔ چاروں ایک ساتھ کھاناکھارہے ہیں۔
عبدالمجید۔۔۔آپ تشریف لائے۔آپ کابہت بہت شکریہ۔آپ نے ضرورت مندوں کی مددکے لیے فنڈ۔قائم کیاہے۔اس کے لیے آپ کا۔جذبہ قابل تحسین ہے۔مجھے اس سامان کی ضرورت نہیں۔ میراگزربسراچھاہورہاہے۔اس معاشرے میں۔بہت سے ایسے لوگ ہیں۔ جنہیں واقعی اس سامان کی۔ضرورت ہے۔ یہ سامان ان میں سے کسی کودے دیں۔میں یہ سامان نہیں لے سکتا۔
اخترحسین۔ہم نے پہلے سے اس بات کی تحقیق کی ہے۔ جس کے مطابق آپ اس سامان۔کے مستحق ہیں۔
عبدالمجید۔۔نہیں ہم کسی کی ۔امدادنہیں لیتے۔ آپ یہ سامان واپس لے جائیں
منظر۴۱
سعیداحمداورمحمدعارف کرسیوں پربیٹھے ہیں۔ درمیان میں میزرکھی ہوئی ہے۔دوکرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ بشریٰ تین کپ چائے لے آتی ہے۔ چائے میزپررکھ کرایک کرسی پربیٹھ جاتی ہے۔
سعیداحمد۔چائے کاکپ اٹھاکر۔تین چسکی چائے لینے کے بعدچائے کاکپ رکھ کر۔عبدالحق کی ماں۔تم نے اپنے بیٹے سے بات کی
بشریٰ۔ہاں میں نے بیٹے سے بات کی تھی
سعیداحمد۔پھراس نے کیاکہا
بشریٰ۔مجھے بھی یہی کہتاہے مسئلہ روزگارکانہیں یقین کاہے
سعیداحمد۔کون ہے ایساشخص ۔یاایساگھرجوکسی ایسے نوجوان کورشتہ دے دے گاجس کے پاس روزگارنہ ہو
بشریٰ۔اس دورمیں توایساگھرنظرنہیں آتا
سعیداحمد۔یہ بات عارف کوسمجھ کیوں نہیں آتی
بشریٰ۔سامنے بیٹھا ہے پوچھ لواس سے
سعیداحمد۔عارف تمہیں ہماری بات سمجھ کیوں نہیں آتی
عارف۔میراپیاراابا۔میری پیاری امی مجھے آپ دونوں کی بات اچھی طرح سمجھ آچکی ہے۔ مگرمیری بات آپ کوسمجھ نہیں آرہی
سعیداحمد۔یہ لو۔اب اولادوالدین سے کہتی ہے آپ کومیری بات سمجھ نہیں آئی اب اولادوالدین کوسمجھائے گی
عارف۔میں نے کون سی غلط بات کہہ دی جوآپ یوں ناراض ہورہے ہیں
سعیداحمد۔ہم تیرے ماں باپ ہیں تیرابھلاچاہتے ہیں اس لیے تیرے لیے ضروری ہے ہم جوکہیں توویساکرہمیں یہ نہ سمجھا
عارف۔جوآپ کہہ رہے ہیں وہ بھی درست ہے اورجومیں کہہ رہاہوں وہ بھی غلط نہیں ہے
بشریٰ ۔یہ کیسے ہوسکتاہے۔ہماری بات بھی درست ہے اورتیری بات بھی درست ہے
عارف۔جوآپ کہہ رہے ہیں وہ موجودہ دورمیں لوگوں کے حالات وواقعات کی وجہ سے درست ہے
سعیداحمداورجوتم کہہ رہے ہو۔وہ کس وجہ سے درست ہے۔
عارف۔جومیں کہہ رہاہوں وہ حقیقت کے طورپردرست ہے
بشریٰ۔ہمیں لوگوں کے حالات وواقعات کے مطابق معامالات کوچلاناہوگا حقیقت کیاہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتا
عارف۔اس سے معلوم ہوتاہے آپ بھی حقیقت پرتوجہ نہیں دے رہے
سعیداحمد۔ہم توجہ دے بھی دیں توکیافرق پڑے گالوگ جوتوجہ نہیں دیتے
عارف۔میری گزارش ہے آپ کولوگوں کی طرف نہیں حقیقت کی طرف توجہ دینی چاہیے
سعیداحمد۔پہلے یہ بات تھی مسئلہ روزگارکانہیں یقین کاہے اب یہ بات ہے لوگوں کی طرف نہیں حقیقت کی طرف توجہ دیں
عارف ۔بات ایک ہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی عارف اٹھ کرچلاجاتا ہے ۔اس کے بعدبشریٰ بھی چلی جاتی ہے
منظر۴۲
کریانہ کی دکان ہے۔ کاؤنٹرپرتین افرادبیٹھے ہیں۔ایک شخص گاہک کاسامان پرچی پرلکھ رہاہے۔ گاہک اسے سامان بتارہاہے۔ اس کے ساتھ ایک اورشخص بیٹھا ہے۔ اس کے ہاتھ میں پرچی ہے۔ ایک لڑکا سامان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جس کے ہاتھ میں پرچی ہے وہ سامان کانام لے رہاہے ۔لڑکاساتھ ساتھ سامان چیک کررہاہے۔دکاندارآرام سے بیٹھا ہے کریم بخش اپنے بیٹے طارق کے ساتھ دکاندارکودونوں ہاتھوں سے سلام کرتاہے۔ دکانداردکان میں پڑی ہوئی کرسیوں کی طرف اشارہ کرکے کریم بخش سے کہتا ہے آپ تشریف رکھیں ۔ کریم بخش اورطارق کرسیوں پربیٹھ جاتے ہیں ۔ تھوڑی دیرکے بعددکان کاایک لڑکا آتا ہے اورپوچھتاہے بتایئے آپ کوکیاچاہیے
کریم بخش۔بیٹا ہمیں کچھ نہیں چاہیے
وہ لڑکا چلاجاتاہے
دکاندار۔بتایئے کیسے آناہوا میرے لیے کوئی حکم ہے
کریم بخش ۔حکم توکوئی نہیں ہے ایک گزارش ہے
دکاندار۔کیاحکم ہے بتائیں
کریم بخش ۔یہ میرابیٹاطارق ہے اس کے پاس روزگارنہیں ہے
دکاندار۔میں کیاخدمت کرسکتاہوں
کریم بخش۔طارق کوآپ کی دکان میں کام مل جائے تومہربانی ہوگی
دکاندار۔پہلے یہ کس دکان میں کام کرتاتھا
کریم بخش ۔پہلے یہ کسی دکان میں کام نہیں کرتا تھا
دکاندار۔کیایہ پہلی مرتبہ کام کرنے آیاہے
کریم بخش۔جی یہ پہلی مرتبہ کام کرنے آیاہے
دکاندار۔اسے اسی دکان میں کام مل جائے گا
کریم بخش ۔معاوضہ کیاملے گا
دکاندار۔دومہینے اسے صرف روٹی ملے گی کیوں کہ اسے کام سکھاناپڑے گا۔تیسرے مہینے اسے ہرجمعرات کوصرف جیب خرچ ملے گا۔چوتھے مہینے اسے تین ہزارروپے ملیں گے۔پانچ ماہ بعداس کی تنخواہ پانچ ہزارروپے کردیں گے۔ اس کے بعدجتنی محنت اورتوجہ سے کام کرے گا ۔ہرسال اسی تناسب سے اس کی تنخواہ بڑھائیں گے۔اس کے علاوہ رہائش فری ملے گی ۔روزانہ گھرسے آناچاہے توکرایہ بھی دیں گے۔
کریم بخش۔طارق سے ۔کیاپروگرام ہے
طارق ۔ٹھیک ہے
دکاندار۔ٹھیک ہے۔پھریہ اگلے ہفتہ سے دکان پرآجائے
منظر۴۳
محمدعرفان، محمداشرف اوراحمدبخش سائیکلوں پرآرہے ہیں۔
اشرف ۔احمدبخش ۔ہم تیرے دوست ہیں اورتوہمارادوست ہے کیاتواس دوستی سے متفق ہے
احمدبخش۔تم کیسی بات کررہے ہو۔ہم آپس میں دوست ہیں اب سے نہیں جب سے سکول جارہے ہیں تب سے دوست ہیں
عرفان۔ تجھے اس دوستی سے کوئی اعتراض تونہیں ہے
احمدبخش۔آج تم عجیب وغریب سوال کیوں کررہے ہو
اشرف ۔آج تم سے چندباتیں کرنی ہیں
احمدبخش ۔اس کے لیے عجیب وغریب سوال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی
عرفان۔اس لیے کہ ہم یہ اطمینان کرناچاہتے ہیں کہ ہماری دوستی کمزورتونہیں
احمدبخش ۔ہماری دوستی کمزورنہیں ہے
اشرف۔ہم تجھ سے کوئی بات کریں توناراض تونہیں ہوگا
احمدبخش۔نہیں۔میں ناراض نہیں ہوں گا تم کہو جوبات کہنی ہے
عرفان۔مولوی صاحب نے ہمیں بلوایاتھا
احمدبخش ۔کوئی خاص بات تھی کیا
اشرف۔ہاں خاص بات تھی وہ بھی تیرے حوالے سے
اسی دوران راستے میں چائے کاہوٹل آجاتاہے ۔تینوں دوست چائے کے ہوٹل میں بیٹھ جاتے ہیں
احمدبخش۔مولوی صاحب نے میرے حوالے سے کیابات کی تھی
عرفان۔تیرے ابومولوی صاحب کے پاس گئے تھے
احمدبخش۔میرے ابومولوی صاحب سے ملنے کس لیے گئے تھے
اشرف۔تیرے ابونے مولوی صاحب سے کہا کہ میرابیٹا احمدبخش نافرمان ہے۔میراکہنانہیں مانتا
احمدبخش ۔مولوی صاحب نے تمہیں کیاکہا
اشرف۔مولوی صاحب نے ہمیں کہا کہ تم احمدبخش کے دوست ہواسے سمجھاؤ۔باپ کاکہنامانے باپ کی نافرمانی کرناچھوڑ دے
احمدبخش۔تم توجانتے ہو میں سکول سے گھرجانے کے بعدابوکے ساتھ کام کرتاہوں مجھے توتمہارے ساتھ کھیلنے کابھی مشکل سے وقت ملتاہے ۔میں تمہارے ساتھ کھیل بھی نہیں سکتا
اسی دوران چائے آجاتی ہے
عرفان۔وہ توہم بھی جانتے ہیں
احمدبخش۔ابونے میری شکایت مولوی صاحب سے کیوں لگائی حالانکہ میں ان کے ساتھ کام بھی کراتاہوں ان کی کام کرنے میں مددکرتاہوں
اشرف ۔تجھے مولوی صاحب نے بلایاہے ۔اس نے ہمیں منع کیاتھا کہ ہم تجھے اپنی اورمولوی صاحب کی اس بات چیت کے بارے میں بتائیں تومولوی صاحب کے پاس جانااورانہیں یہ پتہ نہ چلے کہ ہم نے تجھے سب کچھ بتادیاہے
احمدبخش۔ ٹھیک ہے میں مولوی صاحب کے پاس جاؤں گااورایساہی کروں گا
عرفان ۔آج دیرہوگئی۔ چلوگھرچلتے ہیں
منظر۴۴
بشیراحمداپنی گدھا گاڑی لے کرگھرواپس آتا ہے،گدھے کوریڑھی سے آزادکرتاہے۔ سمیراگدھالے کرچلی جاتی ہے۔بشیراحمدچارپائی پربیٹھ جاتاہے دو،تین گہری سانسیں لیتا ہے سرسے پگڑی اتارکررکھ دیتا ہے
بشیراحمد۔آوازدے کر۔ سمیراکی ماں پانی کاگلاس دے دو سخت پیاس لگی ہے
اریبہ۔ تھوڑی دیرسانس لے لو میں پانی لے آتی ہوں
بشیراحمد۔مجھے سخت پیاس لگی ہے
اریبہ۔ تھکاوٹ میں پانی پیناصحت کے لیے اچھانہیں ہوتا
بشیراحمد ۔مجھے نصیحتیں نہ کر پانی لے آ
اریبہ۔میں توآپ کابھلا کررہی ہوں
بشیراحمد۔پانی مانگا ہے وہ تونہیں لے آئی یہ میراکون سابھلا ہے
اریبہ ۔میں نے کہا ہے پانی لے آتی ہوں
بشیراحمد۔کب لے آؤگی
اریبہ۔ ابھی لارہی ہوں
اریبہ نلکے سے گلاس میں پانی بھرتی ہے۔ بشیراحمدکودیتی ہے ۔بشیراحمدپانی پی رہاہے
اریبہ۔ لگتا ہے آج زیادہ تھکاوٹ ہوگئی ہے سمیراکے ابا آپ کو
بشیراحمد۔ہاں آج معمول سے زیادہ تھکاوٹ ہورہی ہے
اریبہ۔ تھکاوٹ زیادہ ہے توآج کام بھی زیادہ ملاہوگا
تھکاوٹ دیکھ کرلگتا ہے آج سانس لینے کاوقت بھی نہیں ملا
بشیراحمد۔کام توزیادہ نہیں تھا
اریبہ۔ جس طرح آپ نے پانی مانگا ہے ۔تمہاری پیاس کی شدت تویہ بتارہی ہے آج پانی پینے کاوقت بھی نہیں ملا
بشیراحمد۔کام بھی پہلے سے زیادہ نہیں تھا ۔دو،تین بارپانی بھی پی لیاتھا
اریبہ۔کام زیادہ نہیں تھا تواتنی زیادہ تھکاوٹ کیوں ہے
بشیراحمد۔کبھی کبھی تھکاوٹ ہوجاتی ہے۔پریشانی والی کوئی بات نہیں
اریبہ۔ پریشانی والی بات توہے آپ سارادن ہمارے لیے محنت کرتے ہیں آپ کواس طرح زیادہ تھکاہوادیکھ کرمیں پریشان ہوجاتی ہوں
بشیراحمد۔توپریشان نہ ہو۔یہ تھکاوٹ ہی تو ہے
اریبہ۔ آپ کوآرام کی ضرورت ہے
بشیراحمد رات کوآرام ہی توکروں گا
اریبہ ۔ایک رات کاآرام آپ کے لیے کافی نہیں ہے
بشیراحمد۔نہیں آرام کے لیے ایک رات کافی ہے
اریبہ۔کل آپ کام پرنہ جائیں۔خودبھی آرام کریں اورگدھے کوبھی آرام کرنے دیں
بشیراحمد۔میں کام سے چھٹی نہیں کرسکتا۔رزق کمانے کے لیے محنت مزدوری ضروری ہے
اریبہ۔رزق اﷲ دیتاہے۔ محنت مزدوری ضروری نہیں
بشیراحمد۔رزق اﷲ ہی دیتاہے مگردیتاکسی نہ کسی وسیلے سے ہے اورہمیں محنت مزدوری کے وسیلے سے رزق دیتا ہے
اریبہ۔اﷲ نے نصیب میں جولکھا ہے مل کررہے گا کل آپ کام پرنہیں جاؤگے
بشیراحمد۔سمیراکی ماں توباربارکل کام پرنہ جانے کاکیوں کہہ رہی ہے
اریبہ۔انسانی جسم کوبھی سکون کی آرام کی ضرورت ہوتی ہے کہیں ایسانہ ہوکہ ۔۔۔۔۔۔۔
بشیراحمد۔وہم کرنے کی ضرورت نہیں
اریبہ۔ تمہیں آرام کرنے کی ضرورت ہے ۔دودن نہیں توایک دن ضرورآرام کریں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 155055 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jul, 2019 Views: 539

Comments

آپ کی رائے