سمندروں کے پاسبان وطن کے محافظ پاکستان بحریہ

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
پاکستان بحریہ کے حوالے سے ماضی اور حال کی تمام باتیں ذہن میں رکھے ہوئے میں اس پریڈ کی تقریب میں شامل تھا اور فخر محسوس کر رہا تھا کہ وطن کی بیٹوں کے ساتھ ساتھ وطن کے بیٹیاں بھی مادرِ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے جذبے سے سرشار سمندر کے سینے کو چیرتے ہوئے وطن کے دفاع کے لیئے دن رات سرگرم ہیں ۔ اس پریڈ میں بھی شارٹ سروس کمیشن کے98 کیڈٹس پریڈ کا حصہ تھے جن میں 25 خواتین کیڈٹس بھی شامل تھیں۔ کمیشننگ پریڈ میں شامل مڈ شپ مین میں سے 65 کا تعلق پاکستان سے جبکہ 12 مڈ شپ مین کا تعلق دوست ممالک سے تھا۔ پاکستان نیول اکیڈمی میں کئی دوست ممالک بشمول بحرین، اردن، قطر، سعودی عرب اور یمن کے کیڈٹس بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں پاکستان بحریہ کی جانب سے پاکستان نیول اکیڈمی منوڑہ کراچی میں منعقد ہونے والی شپ میں اور شارٹ سروس کمیشن کورس کی کمیشننگ پریڈ میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ جہاں اس پریڈ اور پاکستان بحریہ کے نظم و ضبط کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی وہیں وطن کے ان بیٹوں اور بیٹیوں کے جوش و جذبہ کو دیکھ کرسر فخر سے بلند ہوا۔

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ پاکستان بحریہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی وجود میں آگئی تھی۔ مسلح افواج کی ریکونسٹوشن کمیٹی نے ہندوستانی بحریہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا۔ پاک بحریہ کو 2 سلوپ، 2 فریگیٹس، چار مانیسویپر، دو بحری ٹرالر، چار بندرگاہ لانچز اور 358 اہلکار ملے جن میں 180 ٹیکنیکل افسران اور 34 ریٹنگ اہلکار تھے۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کو 200 آفسرزاور 300 سیلرز ملے۔ جن میں کموڈور ایچ ایم ایس چوہدری سینئر ترین آفسر تھے۔

اس وقت پاکستان بحریہ کو اہلکاروں کی کمی سمیت آپریشنل اڈوں کی کمی اور ٹیکنالوجی اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ کامیابیاں پاکستان نیوی کا مقدر بنتی گئیں اور یہ دنیا کی منظم اور مظبوط افواج میں شامل ہوئی ۔ بین الاقوامی ماحول میں تیزی سے رونما ہونے والے تبدیلیاں ، بحری امور کے شعبہ میں سمندروں کا کنٹرول ، اسٹرٹیجک نقطہ نظر سے نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ وطن عزیز کے دو منصوبے ایسے ہیں جو بحری نقطہ نظر سے ہمارے مستقبل پر گہرے مثبت اثرات کی گواہی دے رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک پاک چین اقتصادی راہداری ہے جو گوادر کو جہاز رانی، علاقائی تجارت اور رابطے کا مرکز بنتے ہوئے شمالی بحیرہ عرب تک براہ راست رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔

دوسرا پاکستانی سمندری حدود میں توسیع ہے جس کی بدولت 200 ناٹیکل مائل تک پھیلے ہمارے خصوصی اقتصادی زون میں 50 ہزار مربع کلو میٹر کونٹینینٹل، شیلف کا اضافہ ہے جس سے پاکستان کی سمندری حدود 200 ناٹیکل مائل سے بڑھ کر 350 ناٹیکل مائل ہو گئی ہے۔ یہ 50 ہزار اضافی کونٹینینٹل شیلف بے پناہ وسائل بشمول آئل اور گیس سے مالا مال ہے جہاں سمندر کی تہہ اور زیر تہہ موجود وسائل کے ہمیں بلا شرکت غیرے حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ ان دونوں منصوبوں کی بدولت ظاہر ہے اس کی حفاظت و نگرانی کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں جو ہماری پاکستان بحریہ نہایت عمدگی سے ادا کر رہی ہے ۔اس کے ساتھ گوادر پورٹ کی حفاظت کی حساس ذمہ داری بھی پاکستان بحریہ کے ہی ذمہ ہے جہاں پاکستان بحریہ کے چاق و چوبند دستے تعینات ہیں ۔ بلاشبہ پاکستان بحریہ نہ صرف ہمارے سمندر کی پاسبان ہے بلکہ پاکستان کی محافظ اور پاکستان کا فخر ہے۔

پاکستان بحریہ کے حوالے سے ماضی اور حال کی تمام باتیں ذہن میں رکھے ہوئے میں اس پریڈ کی تقریب میں شامل تھا اور فخر محسوس کر رہا تھا کہ وطن کی بیٹوں کے ساتھ ساتھ وطن کے بیٹیاں بھی مادرِ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے جذبے سے سرشار سمندر کے سینے کو چیرتے ہوئے وطن کے دفاع کے لیئے دن رات سرگرم ہیں ۔ اس پریڈ میں بھی شارٹ سروس کمیشن کے98 کیڈٹس پریڈ کا حصہ تھے جن میں 25 خواتین کیڈٹس بھی شامل تھیں۔ کمیشننگ پریڈ میں شامل مڈ شپ مین میں سے 65 کا تعلق پاکستان سے جبکہ 12 مڈ شپ مین کا تعلق دوست ممالک سے تھا۔ پاکستان نیول اکیڈمی میں کئی دوست ممالک بشمول بحرین، اردن، قطر، سعودی عرب اور یمن کے کیڈٹس بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

کمانڈر رائل سعودی نیول فورسز وائس ایڈمرل فہد بن عبداللہ الغوفیلی تقریب کے مہمان خصوصی تھے جنہوں کے خود بھی اسی اکیڈمی سے تربیت حاصل کی تھی۔ کمانڈر سعودی نیول فورس کا کہنا تھا سعودی عرب پاکستان کو خطے میں قوت اور استحکام کا ذریعہ سمجھتا ہے، پاکستان اور سعودی عرب عالمی استحکام اور علاقائی امن و امان کے لئے کوشاں ہیں ۔وائس ایڈمرل فہد بن عبداللہ نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے لیے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر لاتعداد قربانیاں دی ہیں۔

تقریب میں شاندار کارکردگی کی بنیاد پر مڈ شپ مین طلحہ مسعود نے اعزازی شمشیر حاصل کی جبکہ مڈ شپ مین فیضان سعید اکیڈمی ڈرک کے حقدار قرار پائے۔لیفٹیننٹ نصراللہ خان کو بہترین کارکردگی کی بنیاد پر قائد اعظم گولڈ میڈل سے نوازا گیا جبکہ آفیسر کیڈٹ نوید احمد نے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی گولڈ میڈل حاصل کیا۔ سلطنت بحرین کے کیڈٹ عبدالرحمٰن علی ابراہیم جاسم المالکی نے چیف آف دی نیول اسٹاف گولڈ میڈل حاصل کیا اور آفیسر کیڈٹ منال عائشہ عامر نے شارٹ سروس کمیشن کورس میں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر کمانڈنٹ گولڈ میڈل حاصل کیا۔ مین ٹاپ اسکواڈرن نے پرافیشنسی بینر اپنے نام کیا۔

کسی بھی ملک کے لیئے یہ بات اعزاز سے کم نہیں کہ اس کے وطن سے تربیت حاصل کرنے والے کسی ملک کی بحریہ کے سربراہ مقرر ہوں۔ پاکستان بحریہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس دن رات وطن کے دفاع میں مصروف ہے۔ ہاکستان بحریہ وطن دشمنوں کے خلاف پاک فوج کے شانہ با شانہ موجود ہے ۔ ہمیں وطن کے ان جانباز بیٹوں اور بیٹیوں پر بلاشبہ فخر ہونا چاہیے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 281 Print Article Print
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 97 Articles with 53522 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Reviews & Comments

Language: