زبان کا خیر و شر

(Niaz Fatima, )

ہمارے منہ میں ایک گلابی رنگ کا لوتھڑا جسے حرف عام میں زبان کہتے ہیں اس لوتھڑے کا غلط استعمال ہمیں بے شمار نقصان پہنچا سکتا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ زبان میں نہیں ہڈی ہوتی مگر یہ کسی کی ہڈیاں تڑوا سکتی ہے قرآن و حدیث میں یعنی زبان کے غلط استعمال کی ممانعت آ ئ ہے ایک آ یت کے کم وبیش الفاظ ہیں کے لوگوں سے اچھی بات کہوں ورنہ خاموش رہو مفہوم حدیث ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے شرم گاہ اور زبان کی حفاظت دے دو میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں زبان ہی کے غلط استعمال کی وجہ سے بہت سی بچیاں اپنے گھر تڑوا لیتی ہیں بہت سے بزنس مین اپنے بزنس تباہ کر لیتے ہیں اور لوگ رشتےداریاں خراب کر لیتے ہیں یہ تو زبان کے استعمال کے دنیاوی نقصان ہیں زبان کے اخروی نقصان بھی ہیں اسی زبان سے شرک کا کلمہ نکلتا ہے یہی زبان کفر کی مرتکب ٹہرتی ہے اسی زبان سے ہم غیبتیں چغلیاں اور لوگوں کے نام رکھتے ہیں حالانکہ سورہ الحجرات میں ان کاموں سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے بد زبان انسان سے لوگ نفرت کرتے ہیں اور جب زبان کا غلط استعللانسان کی عادت بن جائے تو یہ بد زبانی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور بد زبان بندے سے ہر کوئی گھبرا تا ہے بد زبان انسان اپنی عادت کی وجہ سے اپنے والدین اور بزرگوں کو غلط بات کہ جاتا ہے جو کہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں بربادی کا سبب ہیں مگر جہاں اس زبان کے بے شمار نقصان ہیں اگر اس زبان کو ہم سمجھداری اور احساس ذمے داری کے ساتھ استعمال کرے تو ہمیں اس کے بہت سے فوائد حاصل ہونگے وہ بھی بغیر کسی پیسے کے بہت سی بیٹیاں اپنی زبان کو قابو میں رکھتے ہوئے اپنے سسرال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتی ہے اور ہر دل عزیز بن جاتی ہیں اور ان کے دل جیت لیتی ہیں کیونکہ لہجے میں اگر رس ہو تو دو بول بہت ہیں
انساں کو رہتی ہے محبت کی زباں یاد

زباں کے صحیح استعمال کی وجہ سے بزنس مین ایسے کسٹمرز کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں اور اپنے کاروبار کو دن دگنی رات چگنی پھلتا دیکھتے ہیں زبان کے صحیح استعمال کی وجہ سے لوگ اپنے رشتے داروں میں ہر دلعزیز بن جاتے ہیں مفہوم حدیث ہے تم میں بہتر وہ ہے جس کا تم میں سے اخلاق بہتر ہو مگر صد افسوس آ ج ہم بحیثیت قوم ہی زبان کے غلط استعمال کے عادی ہو چکے ہیں جو کہ ہماری دنیاو آخرت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں آ ج ہمیں ذرا سی تکلیف پہنچے جیسا کہ ہمارے ہاں لوڈ شیڈنگ کا رواج ہے جیسے ہی لائٹ جاتی ہے ہم مغلظات بکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں حالانکہ مفہوم حدیث ہے کہ کسی انسان کو ذرا سی بھی تکلیف پہنچے تو اسے چاہیے کہ کہے انااللہ واناالیہ راجعون اس کی بدولت ہم غیبت سے بچتے ہیں بلکہ اس کی بدولت ہم ثواب کماتے ہیں اور دوسرا یہ انگریزی نے بھی ہم سب کی مت ماردی آ ج کل ایسے بہت سے فقرے جو خاص کر ہماری نوجوان نسل استز بان کا خیروشرعمال کرتی ہے وہ ہماری دنیاو آخرت کے لیے نقصان دہ ہیں یا پھر ان فقروں کو کہنے کا کوئی فایدہ نہیں بلکہ دین نے جو ہمیں الفاظ سکھائے ہیں وہ ہماری دنیاو آخرت دونوں کے لئے سود مند ہیں جیسا کہ الحمدللہ جزاکاللہ تبارک اللہ ماشااللہ انشاللہ یارحمک اللہ

یہ وہ کلمات ہیں جنہیں ہمیں اپنے معاشرے میں رائج کرنے کی ضرورت ہے اللہ ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niaz Fatima

Read More Articles by Niaz Fatima: 6 Articles with 2165 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jul, 2019 Views: 394

Comments

آپ کی رائے