خفیہ امریکی ایجنسیاں پاکستانی وزیراعظم سے ناخوش

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکہ کے دوران پرتعیش ہوٹلوں کے بھاری اخراجات سے بچنے کے لیے واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفارتخانے میں سفیر کی سرکاری رہائش گاہ میں ہی قیام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے-
 


21 جولائی 2019 سے شروع ہونے والے اس تین روزہ دورہ میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا بھی امکان ہے-

تاہم امریکی انتظامیہ پاکستانی وزیراعظم کی اس کفایت شعاری سے ناخوش دکھائی دے رہی ہے- امریکی شہری انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیاں عمران خان کے اس خیال سے متفق نہیں ہیں کہ وہ دورہ امریکہ کے دوران پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر قیام کریں کیونکہ اس سے شہری ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے-

نقل و حمل اور سیکورٹی خدشات
امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب ہی دیگر ممالک کے سفارتخانے بھی موجود ہیں اور پاکستانی سفارتخانے میں ہونے والی میٹنگز کے باعث شہری ٹریفک متاثر ہوسکتی ہے جس سے دیگر سفارت خانوں کے حکام کو بھی آمد و رفت میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے-
 


اس کے علاوہ ان مقامات کئی اعلیٰ شخصیات کی رہائش گاہیں موجود ہیں جس کی وجہ سے سیکورٹی ایجنسیاں عمران خان کے اس فیصلے کے حق میں نہیں ہیں-

اس کے برعکس عمران خان اور ان کا وفد اگر امریکہ میں ان وی وی آئی پی ہوٹل میں قیام کرتا ہے جو بالخصوص ایسے ہی معاملات کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں تو سیکورٹی ٹیموں کے لیے ان کی زندگی کی حفاظت کرنا بھی آسان ہوگا-

Reviews & Comments

I think Americans want to install spy bugs in hotel rooms which they can not install in ambassador's house. careful that is America.
By: Sheikh Saeed Ahmed, Calgary, Canada on Jul, 10 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    
Setting an example, while following his initiative of austerity drive, Prime Minister Imran Khan has expressed desire to stay at the ambassador’s official residence in Washington’s diplomatic enclave to avoid expenses on luxury hotels.