گٹکا اور ماوا غریبوں کے لیے زہر قاتل ۔

(Mehmood Molvi, )

آجکل پان، گٹکا ، ماوا اورمین پوری ایک ایسا سستا ترین زہر بن چکاہے جو ہمار ے معاشرے میں تیزی کے ساتھ سرائیت کرتاجارہاہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے غریب لوگوں کو مزید تباہ کیا جارہاہے کراچی کے چھوٹے چھوٹے علاقے جس میں کھارادر،لیاری،اورنگی کورنگی ،لیاقت آباد،لسبیلہ،گولی ماراور شہر قائد کے دیگر بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں یہ گٹکا مختلف ناموں سے فروخت کیا جارہاہے یہ ان غریب خاندانوں کے لیے زہر قاتل بن چکاہے، جو نوکری پیشہ ہیں یاپھر روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگ ہیں پان،گٹکااور ماوے کااستعمال ان تمام غریبوں کی صحت تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید غریب تر بنارہا ہے اس کے عادی لوگ جب گٹکے کے استعمال سے کینسر یا کسی اور بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو اس ان کا پورا خاندان ہی تباہ ہوجاتا ہے غریب لوگوں میں یہ گٹکا ،ماوامین پوری کی عادت وہ لوگ دے رہے ہیں جو ان غریبوں کومزید غربت کی دلدل میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ اس گٹکے اور ماوے سے جن خاندانوں کے گھر تباہ ہوئے ان کی زندہ مثالیں آپ کو ان تمام علاقوں میں مل جائیں جہاں گٹکا،ماوااور مین پوری کی عادت شدت اختیارکرچکی ہے ۔جہاں یہ زہر لوگوں کی رگوں میں مکمل سرائیت کرچکا ہے یہ وہ لوگ ہیں پہلے سے ہی غربت اور پریشانیوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہ ان خاندانوں کو مزید مشکلات اور غربت میں دھکیلنے کی سازش ہے جو لوگ پہلے سے ہی مجبور اور پریشانی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ایک عام آدمی جو کہ ماوا یا گٹکا کھانے کا عادی ہو وہ ایک دن میں چھ سے آٹھ گٹکایا ماو ا کے کھا جاتا ہے، اس وقت مارکیٹ میں ملنے والاسب سے کم قیمت گٹکا 30 روپے کا ہے یعنی ایک آدمی ایک دن میں تقریبا 200سے 300روپے کے گٹکے کھا جاتا ہے جو کہ مہینہ کا حساب لگایا جائے تو تقریبا 8 سے 9 ہزارروپے بنتے ہیں ،ایسا شخص اپنے پیسے خرچ کر کے اپنی ہی صحت کو نقصان دے رہا ہوتاہے ،جبکہ یہی پیسے وہ اپنے بچے کی اسکول فیس یا اپنے علاج معالجے پر خرچ کرسکتا ہے۔اس میں اب کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں ماوا، گٹکاپان اور مین پوری کی تیاری، فروخت اور استعمال میں کسی بھی لحاظ سے پیچھے نہیں ہے ،لوگ جب ایک دوسرے سے لڑتے ہیں تو اینٹ کا جواب پتھر سے دے دیتے ہیں مگر یہ ہی لوگ جولڑائی جھگڑوں میں خود کا بچاؤ کرنے میں اپناثانی نہیں رکھتے وہ اکثر اپنے ہاتھ سے ہی منہ میں کینسر کا مرض ڈال رہے ہوتے ہیں، یہ اس قدر غلیظ نشہ ہے کہ بعض ایسے مریضوں کا بھی مشاہدہ ہواہے کہ تشخیص کے باوجود بھی مریض اس نشے کو چھوڑنے کو تیارنہیں ہوتا، گٹکاپان اور مین پوری ان تمام چیزوں میں کتھا ،چونا، تمباکواور دیگر کیمیکل کو ڈالا جاتاہے ،جبکہ گٹکے کا وزن زیادہ کرنے کے لیے اسمیں ملتانی مٹی اورکلف پاوڈر کا استعمال کیا جاتاہے اور اسے لیس دار بنانے کے لیے اس میں گائے کاخون اور تیزاب تک ڈالا جاتاہے ۔ جس کی وجہ سے ان ماوااور گٹکے میں اکثر کیڑے پڑجاتے ہیں جو یقیناکھانے والے کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں،بعض لوگ جو اس قسم کے کاروبار میں ملوث رہے ہیں ان میں سے خود بہت سے لوگوں کا یہ مانناہے کہ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے اور اس کاروبار کو بڑھانے کے لیے کچھ ،مشہور ماوا،گٹکا بنانے والے کارخانے اس میں ہیروئین اور کوکین نامی منشیات ڈالتے ہیں جس کے ایک یا دودن کے استعمال کے بعد اسے کھانے والااس کا مکمل عادی بن جاتاہے ، ایسے لوگوں کا یا یہ بھی مانناہے کہ اس کی فروخت زیادہ غریب آبادی والے علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے۔جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ اس میں کتھا چونااور تمباکوسمیت ایسے کیمیکل ملے ہوتے ہیں جس کے استعمال سے گٹکاکھانے والا انسان منہ کا کینسر یا کسی نہ کسی بیماری میں لازمی گرفتارہو جاتاہے ،ابھی حال ہی میں ٹھٹھہ سے ایک خبر نظروں سے گزری تھی جس میں بتایاگیاکہ ٹھٹھہ میں گٹکے کے باعث 117کینسر کے کیسزظاہر ہوئے ہیں،یہ انکشاف جنوری 2019سے جون2019تک کے بتائے جاتے ہیں جسے میڈیا پر بھی باقاعدہ نشر کیاگیاٹھٹہ کے سول اسپتال کے ڈینٹل وارڈ میں تشخیص کے دوران گٹکاکھانے سے منہ اور گلے کے کینسر کے یہ تمام کیسز سامنے آئے ہیں ،عالمی ادارہ صحت کے مطابق گٹکے کا استعمال ایک کم عمر نوجوان میں دوسال اور بڑی عمر کے آدمی کو دس سال میں جاکر کینسر کامرض پیداکرتا ہے مگر اس سے قبل اسے کھانے والا دیگر بیماریوں کی لپیٹ میں آنا شروع ہوجاتاہے، ہم دیکھتے ہیں کہ کراچی میں اس طرح کے کیسزکا اسپتالوں میں آنا اب تقریباًمعمول سا بن چکاہے منہ اورگلے کی اس خطرناک بیماری کی تعداد اب بڑھتی ہی چلی جارہی ہے جو نوجوان نسل کو بری سے اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہے، طبی ماہرین کے مطابق ایک اندازے کے مطابق کراچی میں روزانہ درجنوں لوگ منہ اور گلے کے امراض کو لیکر اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ، گٹکے کے بے جا استعمال سے منہ کے اند ر موجود نرم جلدزبان ،مسوڑھے اور گلا متاثر ہوتاہے ،اس سے جلد ،دمہ ،سانس کی تکلیف ،غشی یعنی غنودگی سمیت کینسر کا مرض گٹکا کھانے والوں کا مقدر بناجاتاہے اس سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ گٹکے کے خلاف عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے مگر اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کا بھی فرض بنتاہے کہ وہ اس نشے کو بیچنے والے اور اس کے بنانے والوں کے خلاف کارروائی کرے یہ لوگ سرعام ،سڑکوں بازاروں اور گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے کھوکھے بناکر اسے پیچ رہے ہوتے ہیں،افسوس اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان گٹکا مافیا کی ایک اپنی ایسوسی ایشن بھی ہے جو غالباًآل سندھ گٹکا ایسوسی ایشن کے نام سے ہے ،جن کے مطابق سندھ بھر میں گٹکا ،ماوابنانے والی بہت سی فیکٹریاں ہیں جہاں لاکھوں کی تعداد سے روزانہ مال تیار کیاجاتاہے اس کے علاوہ جہاں اس قسم کا کاروبار کیا جاتاہے وہ جگہیں زیادہ تر کچی آ بادیوں میں موجود ہوتی ہے ایسے کچے مکانات جو تنگ گلیوں میں ہوتے ہیں جہاں صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام نہیں ہوتابلکہ نہایت ہی گندی جگہوں پر بیٹھ کر اس کاخمیر تیار کیا جاتاہے اور پھر پیکٹوں میں بھرکر دکانوں پر موٹر سائیکلوں کے زریعے شہر بھر میں پھیلا دیاجاتاہے اور اب تو اس کی فروخت صرف سگریٹ پان چھالیہ کی دکانوں پر ہی نہیں ہے بلکہ اب تواکثر تو دودھ اور دیگر اسٹورز پرکی دکانوں پر بھی ٹیبل کے نیچے کرکے کچھ دکان داروں نے پیکٹ رکھے ہوتے ہیں اور صرف جان پہچان والے لوگوں کو ہی فروخت کرتے ہیں۔ تمباکو کے عادی لوگ اس نشے کی لت لگ جانے کے بعد یہ پروانہیں کرتے کہ گٹکابنانے والی مافیااس میں کیا ملارہی ہے وہ توبس اپنی عادت سے مجبورہوتے ہیں اور جب خود ان کے پاس نہیں ہوتاتوپھر ایک دوسرے مانگ کر بھی کھالیتے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ نے بھی گٹکاماوا کی فروخت پر پابندی لگائی ہے اور کئی بار تو سندھ پولیس نے بھی اس کا بھرپور ایکشن لیا ہے اور کئی بار میڈیا پر گرفتاریاں بھی دکھائی گئی ہیں مگر افسوس جن لوگوں کو میڈیاپر دکھایاجاتاہے انہیں بعد میں چھوڑ بھی دیاجاتاہے جس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگ بغیر کسی خوف کے پھر سے یہ ہی دھندہ شروع کردیتے ہیں جبکہ جن چھوٹے چھوٹے کارخانوں کا زکر اس تحریر میں کیا گیاہے اس کے بارے میں یہ ہی کہا جاسکتاہے کہ مقامی پولیس کو ایسے کاروبار کرنے والوں کا پتہ نہ ہوایسا ہونہیں سکتا، لہذ اس سلسلے میں ہماری صاحب اقتدار اور صاحب اختیار دونوں سی ہی اپیل ہے کہ وہ اس زہر کی مکمل روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ ان لوگوں کا بھلا ہوسکے جن کے گھروں کے واحل کفیل اس نشے کے عادی بن چکے ہیں۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehmood Molvi

Read More Articles by Mehmood Molvi: 5 Articles with 2704 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jul, 2019 Views: 857

Comments

آپ کی رائے