امام اور امامت

(Farhan shah, Karach)
امام اور امامت کواہمیت دیں۔

امام اورامامت

آج بازار سے جُوتا خرِیدنے گیا.

دُکان میں داخل ہُوا تو ایک بارِیش نوجوان نے خوش آمدِید کہتے ہُوئے مختلف ڈیزائن دکھائے۔

میں نے جوان سے پوچھا: آپ کا نام کیا ہے؟

میرا نام تصدق حسین ہے۔

آپ کی تَعلِیم؟

دِینی تَعلِیم دَرسِ نِظامی، اور دُنیوی تَعلِیم بی اے تک۔

کتنا عرصہ ہوا یہاں کام کرتے؟

تین ماہ ہونے کو ہیں۔

آپ کو کوئی اور کام نہیں مِلا؟

اس کے جواب میں تصدق حسین نے صرف وہی بات کہی جس کو میں نے سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی سعادت حاصل کی ہے :

*کہ مسجد میں امامت کرواتا تھا
بس لوگوں کے غلط رویے سے تنگ آکر اس طرف رخ کیا *

آپ کی تَنخواہ کِتنی ہے؟

ماہانہ 14 ہزار مِلتے ہیں، روزانہ کا سَو روپیہ، اور کمِیشن الگ ہے۔

*مسجد میں تنخواہ کتنی تھی؟ *

*تصدق حسین افسردگی کے عالم میں روتے ہوئے بتانے لگے آٹھ ہزار *

میں خاموش ہوگیا، میرے پاس الفاظ ختم ہوگئے.

مجھ سے صرف اتنا ہو سکا کہ جوتوں کا ڈبہ ان کے ہاتھ سے لے لیا. وہ اصرار کرتے رہے کہ میں پہنا کر چیک کرواتا ہوں، میری ڈیوٹی ہے، لیکن میں نے ایسا نہیں کرنے دِیا.

میرا ضَمِیر مُجهے بار بار کہہ رہا تها:

اِن ہاتهوں کو بَوسہ دے، کِسی وقت یہ مُقَدَّس کِتابیں اُٹهایا کرتے تهے.

ہائے اَفسوس!

جاہِل پِیر، بے عَمَل واعِظ، خُوشامدی خَطِیب، فاسِق نَعت خَواں، دَرباری قَوّال؛ ہمارے مال سے تِجوریاں بَهر کے لے گئے… صِرف ”تصدق حُسین“ بے چارہ چَودہ پَندرہ ہزار نہ لے سکا.

مر جائیں ڈوب کر مرنے کا وقت ہے ورنہ اللہ تمہیں ایسی موت مارے گا سارا زمانہ دیکھے گا

مَیں بُلبُلِ نالاں ہُوں اِک اُجڑے گُلِستاں کا،
تاثِیر کا سائِل ہُوں، مُحتاج کو، داتا دے!

(ڈاكٹر عَلّامہ مُحَمَّد اِقبؔال)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farhan shah
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jul, 2019 Views: 343

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ