کاش ملاقات کے وقت کو‌ ساکت کیا جا سکتا

(Zulqurnain Ahmed, )

وقت کا ظالم پہیہ کسی کیلئے کب رکتا ہے۔ وقت کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے عہد طفل کو یاد کرتا ہے، کہ کس طرح سے وہ اپنے بچپن میں کھیل کود میں مست رہتا تھا۔ دن بھر اپنے پسند کے مشغلے سیر سپاٹے دوستوں کے ساتھ مستیاں کرنا نہ کوئی قید ہوتی تھی، نہ کسی چیز کی کمی نہ کل کی کوئی فکر، نہ رنج وغم، کمانے کی فکر نہ کوئی ذمہ داری، تمام فکروں سے بے خبر اپنی ہی دھن میں مگن رہنا ، یہ بچپن کتنا خوبصورت ہوتا تھا۔ لیکن وقت ایک جگہ کہاں رکتا ہے۔لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھنے کے بعد دل پر قابو رکھنا کتنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ جوانی انسان کو مجنوں بنا دیتی ہے۔ بھلے ہی کبھی عشق اوروں پر عیاں نہیں ہوتا، خاموش دو دلوں کے بیچ پروان چڑھتا رہتا ہے۔ اور پھر دو جسم ایک جان و دل کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ لیکن حالات کبھی انسا‌ن کے مخالف میں ہوتے ہیں۔ محبت کی تکمیل ہونا نا ممکن ہوجاتا ہے۔ ہر طرف سے مخالفت ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ انسان وقت حالات کے سامنے بے بس ہوکر رہ جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا موڑ ہوتا ہے جہاں بغاوت کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ وہاں عزتیں ،پگڑیاں، معیار، محبت سے بڑھ کر اونچی دیکھائی دیتی ہے۔ جسے پھلانگ کر جانا کسی طرح ممکن نہیں ہوتا ہے۔ انسان ایک ایسی قید میں ہوتا ہے، جو حصار بے در و دیوار کی مانند ہوتی ہے۔ نا محبت سے باہر نکل سکتا ہے نہ بغاوت کر سکتا ہے۔

ایسے حالات میں جب عاشق و معشوق کسی سمجھوتہ کیلئے آخری ملاقات کرتے ہیں۔ تب دل کی دھڑکنیں بے لگام گھوڑے کی طرح ہوجاتی ہے۔ دماغ سوچنے کی قوت کھو دیتا ہے۔ زبان پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔ اور بس آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں ہوتی ہیں۔ بے ساختہ بہنے والے آنسوں روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک طرف وقت تیزی سے گزرنے کا ڈر ستانے لگتا ہے۔

کیونکہ ملاقات میں تو عاشق چاہتا ہے کہ وقت کو روک دیا جائے کتنی بھی دیر ہو تھوڑی دیر اور ٹھہرنے کی گزارش کرتا ہے۔ اس کا دل کرتا ہے کہ وقت کے ظالم پہیہ کو روک دوں، کرہ ارض کی حرکت بند ہوجائے اور وہ ایک جگہ ٹھہر جائے تاکہ وقت کے گزرنے کا، سورج کے ڈھلنے کا خوف ہی نہ رہے۔ جس سے عاشق و معشوق کے ملاقات میں خلل پیدا ہو۔ آنکھیں چار ہونے کے بعد پلکیں حرکت ہی نہ کریں۔ دنیا کا سارا نظام ساقط ہوجائے۔ اور عاشق معشوق کی ملاقات چلتی رہے۔ جس میں وقت کی قید ہی نہ ہو۔ کیونکہ عشق ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو معراج کی رات عرش پر پھر صدراۃلمنتہی پر ملاقات کیلئے راز و نیاز کی باتیں کرنے کیلے بلایا ، تو زمین و آسمان اور ساری کائنات کے نظام کی حرکت کو حکم دیا کے رک جائے ساری کائنات کو ساقط کردیا۔ اور اپنے محبوب کو براق کے زریعے آسمانوں کی بلندیوں سے اوپر عرش سے صدراۃلمنتہی پر ملاقات فرمائیں اور بیچ میں حائل تمام پردے ہٹا دیے اور نور کا نور سے سامنا ہوا۔ اور پتہ نہیں کتنی مدت تک وہاں رزا و نیاز کی باتیں ہوتی رہیں کتنے عرصے تک ملاقات چلتی رہی اسکا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ کیونکہ اللہ نے وقت کو ہی ساقط کردیا تھا۔ تو وہاں وقت کو ناپنے کا کوئی پیمانہ ہی نہیں بچتا ہے۔ کیونکہ یہ ملاقات تو دنیا کے تمام عشق سے بالاتر اعلیٰ و ارفع اللہ اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات تھی۔ اس محبت کو کون لفظوں میں سمیت سکتا ہے۔

بات تو صرف یہ ہے کہ ملاقات جب آخری ہو تو وقت کی کمی ملاقات کو محدود کردیتی ہے۔ دل ہیجان میں مبتلا ہوتا ہے۔ تمام باتیں دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ جو انسان بولنا تو چاہتا ہے۔ لیکن زبان حرکت نہیں کرپاتی ہے۔ الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 444 Print Article Print
About the Author: ZULQARNAIN AHMAD

Read More Articles by ZULQARNAIN AHMAD : 9 Articles with 10559 views »
Freelance journalist.. View More

Reviews & Comments

Language: