بہادر وزیر زادی

(Feryal Qadeer, Karachi)
ایک وزیر زادی کی ہمّت اور بہادری کی داستان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کے ایک ملک کا بادشاہ اپنے سارے ملکی معاملات میں اپنے وزیر کی راۓ کو ذیادہ ابمیت دیتا تھا اور ملکہ کو یہ بات بلکل پسند نہیں تھی کہ بادشاہ ملکہ کی راۓ سے ذیادہ وزیر کے مشوروں پے عمل کرتا ہے اسلیے ملکہ نے وزیر کو حسد کی وجہ سے محل سے نکلوانے کے لئے بیماری کا بہانہ بنایا اور حکیم کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کو کہے کہ ملکہ کو کچھ ایسی بیماری ہے جس کے علاج کے لئے دوائی دوسرے ملک کے ایک بادشاہ سے ملےگی جو لانا لازمی ہے ورنہ ملکہ کی بیماری بڑھنے کی وجہ سے جان جانے کا خطرہ ہے یہ سنتے ہی بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ وہ جاۓ اور وہ دوائی لے کے جاۓ ورنہ اگر وہ دوائی نہیں لایا تو اسکو قتل کروا دیا جاۓ گا یہ سن کے وزیر پریشان ہو گیا اسی پریشانی میں وزیر گھر پہنچا اور خاموش سا چارپائی پے لیٹ گیا بیٹی کھانے کا پوچھنے آئ لیکن جب وزیر نے کوئی جواب نہ دیا تو بیٹی نے پوچھا بابا کیا بات ہے آپ پریشان ہیں تو وزیر نے بات ٹال دی کہا بیٹا کوئی بات نہیں بیٹی نے کہا بابا بتایں کیا ہوا ہے آپ محل سے آئے ہیں تو پریشان ہیں آخر بابا نے کہا بیٹی ملکہ بیمار ہے اور دوائی جس کا نام کھلے ہوئے پان اور لونگ سپاری ہے وہ لانی ہے لیکن وہ دوائی دوسرے ملک کے بادشاہ سے ملتی ہے اور وہ بادشاہ ہر کسی کی مہمان نوازی نہیں کرتا جس کی مہمان نوازی کی اسکی بات سنتا ہے میں بوڑھا ہو گیا ہوں سفر لمبا ہے اور خطروں سے بھرا ہوا کیسے جاؤں میں اگر نہیں گیا تو بادشاہ مجھے قتل کروا دیگا بیٹی نے کہا بابا آپ پریشان نہ ہوں آپ بادشاہ سے کہیں کہ وہ ایک گھوڑا لباس اور تلوار دے تو میں جاؤں گی آپ کی جگہ وہ دوائی لینے اور کامیاب ہو کے آؤں گی وزیر نے بیٹی کی بات بڑی مشکل سے مانی اور بادشاہ کو وہ سب دینے کو کہا جو بیٹی نے کہا تھا اب بیٹی نےوہ لباس پہنا اور بلکل لڑکے کی طرح دکھنے لگی اب وہ گھوڑے پے روانہ ہوئی اور اپنا طوطا ساتھ لیا اور تلوار بھی اب سفر کرتے ہوئے رات ہو گئی تو وزیر زادی جنگل میں تھی تھکن سے برا حال تھا اب آرام کرنے کے لیے رکی اور طوطے کو خیال رکھنے کے لیے کہا طوطا بولنے والا تھا وزیر زادی سو گئی اور اچانک سے سانپ آگیا طوطا چلایا سانپ لڑکی اٹھ گئی اور سانپ کو مار دیا اسی طرح صبح ہو گئی اور شہزادی نے پھر سفر شروع کیا اور چلتے چلتے آخر وہ اس بادشاہی میں پہنچی جہاں اسکو جانا تھا اب مسئلہ یہ تھا کہ مہمان نوازی کیسے کروائی جاۓ لڑکی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور راستہ بھولنے کا بہانہ بنایا اور اسلیے کہ وہاں پہنچتے پھر رات ہو گئی تھی اسلیے بادشاہ نے آخر اسکو محل میں آنے کا کہا اور مہمان نوازی کی لیکن بادشاہ کو اس پے شک ہوا کہ وہ لڑکی ہے اسلیے وہ اپنی ماں کے پاس گیا اور کہا اماں اسکے ہاتھ لڑکی والے پیر لڑکی والے لیکن لباس لڑکوں والا اسکا مطلب کیا سمجھوں ماں نے کہا بیٹا کھانے میں اچار مرغی مچھلی رکھواؤ اگر وہ اچار کھاۓ اور مچھلی تو لڑکی ہے ورنہ اگر مرغی ذیادہ کھاۓ تو لڑکا لڑکی نے طوطے کو پہلے ہی سب سننے کے لیے بھیج دیا تھا طوطا جلدی سے آیا اور کہا اچار مچھلی مت کھانا اچار مچھلی مت کھانا اسنے یہ دونوں نہیں کھاۓ اب آئ سونے کی باری تو بھی وہ ماں کے پاس گیا پھر کہا اماں اسکے ہاتھ لڑکی والے پیر لڑکی والے لیکن لباس لڑکوں والا اسکا مطلب کیا سمجھوں ماں نے کہا بیٹا اب ایسا کرو پلنگ پے پھول بچھا دو اگر پھول مرجھا گئے تو لڑکی ہے ورنہ لڑکا طوطا سب سن کے لڑکی کو بتا چکا تھا اب لڑکی نیچے سوئی اور صبح بادشاہ نے دیکھا تو پھول تازہ تھے اب پھر پریشان سا وہ ماں کے پاس گیا اور کہا اماں اسکے ہاتھ لڑکی والے پیر لڑکی والے لیکن لباس لڑکوں والا اسکا مطلب کیا سمجھوں ماں نے کہا اسکو اپنے ساتھ باہر نہر میں نہلانے لے جاؤ وہ نہائے تو لڑکا نہیں تو لڑکی اب طوطے نے سب سنا اور لڑکی کو بتایا لڑکی نے نہ نہانے کے لیے اپنے گھوڑے پے بھنورا بٹھایا اور بادشاہ کو وہاں بہانے سے بھیج دیا اور خود نہا کے باہر نکل آئی اب بادشاہ کو پانی میں نشہ ملا کے دیا اور اسکی آدھی داڑھی اور مونچھ کاٹ دی اور دوائی لے کے جو اس نے پہلے ہی بادشاہ سے لے لی تھی اپنے ملک روانہ ہو گئی اور بادشاہ کے لیے ایک خط چھوڑا جس میں لکھا تھا میں ایک وزیر زادی ہوں اور اپنی آنے کی وجہ بتائی اب لڑکی نے دوائی اپنے بابا کو دی اور وزیر نے بادشاہ کو لڑکی نے اپنے بابا کو سب بتایا اور کہا ایک گڑیا بنوانے کو جو بلکل اسکے جیسی ہو اور گوشت اور شہد کی بنی ہو دوسرے ملک کا بادشاہ غصّے میں اسکے گھر کا پتا کرتا ہوا آیا اور آتے ہی اس لڑکی کے مجسمے پہ نظر پڑی وہ سمجھا لڑکی ہے اس نے غصّے میں بدلہ لینے کے لیے تلوار چلائی تو اسکی تلوار پہ شہد لگ گئی بادشاہ بولا کاش میں تمہیں نہ مارتا تم کتنی میٹھی تھی لڑکی ہنستے ہوئے پلنگ کے نیچے سے نکل آئی اور کہا لو میں یہاں ہوں تم نے مجھے نہیں مجسمے کو مارا ہے میں اپنی غلطی پے شرمندہ ہوں اور معافی چاہتی ہوں بادشاہ نے لڑکی کو معاف کر دیا اور دونوں کی شادی ہو گئی اور ہنسی خوشی رہنے لگے اسلیے کہتے ہیں حسد اور غصّہ کچھ کام کا نہیں بس بہادری اور ہمّت ہمیں اپنی منزل تک لے جاتی ہے چاہے منزل کتنی مشکل ہی کیوں نہ ہو.
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 707 Print Article Print
About the Author: Feryal Qadeer

Read More Articles by Feryal Qadeer: 6 Articles with 2123 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

wowww i just love this story
By: iqra nazeer, karachi on Jul, 17 2019
Reply Reply
1 Like
Language: