پھر پھنس گئے

(Ilyas Mohammad Hussain, )

کہاوت ہے سنتاجا شرماتا جا لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ شرم سننے والے کو آتی ہے بے شرموں کونہیں جن کے شرسے عام پاکستانی مہنگائی ،بیروزگاری اور مسائل میں زندہ درگورہوگیاہے برطانوی اخبار ڈیلی میل نے یہ دعویٰ کرکے پاکستان میں تھرتھلی مچادی ہے کہ خادم ِ اعلی کہلوانے والے شہباز شریف نے برطانیہ کی جانب سے پنجاب کو دی گئی 50 کروڑ پاؤنڈز کی امداد میں سے کئی ملین پاؤنڈ رقم غبن کی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ پہنچائی۔ ڈیلی میل سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے انکشاف کیاہے کہ شہباز شریف نے کچھ رقم ڈی ایف آئی ڈی کے پروگرام سے چرائی اورایک برطانوی شہری آفتاب محمود نے شہباز شریف کیلئے منی لانڈرنگ کرنے کا اعتراف بھی کرلیاہے کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران کو متاثرین کیلئے 10لاکھ پاؤنڈز دیئے گئے امدادی رقم سے چوری کئے گئے لاکھوں پاؤنڈز برمنگھم منتقل کئے گئے، برمنگھم سے پیسے شہبازشریف کے برطانوی اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ برطانوی اخبار نے پورا کچھ چٹھہ بیان کرتے ہوئے کہاہے کہ 2003 ء میں شریف خاندان کے اثاثے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز تھے، 2018 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثے 20 کروڑ پاؤنڈز تک پہنچ گئے جبکہ رقم شہباز شریف کی اہلیہ، بچوں اور داماد کو منتقل ہوئی۔ دوسری جانب برطانیہ نے شہباز شریف دور میں کروڑوں پاؤنڈز کی امداد کی تحقیقات کا فیصلہ کرلیاہے سابق سیکریٹری آئی ڈی ایف ڈی کاردِ عمل تھا امداد کا منی لانڈرنگ میں استعمال ہونا تشویشناک ہے، برطانیہ اینٹی کرپشن پر سالانہ کروڑووں پاؤنڈز خرچ کر رہا ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ڈیلی میل کی رپورٹ میں جس پیسے کا ذکر ہے یہ وہی پیسہ ہے جو شہباز شریف کے خاندان نے منی لانڈرنگ کرکے باہر بھیجا۔ شریف خاندان کے خلاف زلزلہ اور سیلاب زدگان کے فنڈز میں غبن کا کیس پہلے ہی نیب میں زیر تفتیش ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں جس اکرم کا ذکر ہے، وہ نیب سے پلی بارگین کرچکا ہے اور اکرم نے اقبالی بیان میں فنڈز کی رقم شہباز شریف کے داماد کو دینے کا اعتراف کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سلیمان شہباز اور علی عمران اسی کیس میں مفرور ہیں، یہ کیس بیرونی قرضوں اور امداد کے کمیشن کو بھی بھیجا جائے گا۔ شہبازشریف کی منی لانڈرنگ کے سنگین انکشاف کے بعد (ن) لیگ کا ردعمل ہر لحاظ سے پاناما لیکس کے ردعمل جیسا ہے، پاناما لیکس کی تحقیقات ہوئیں تو قوم نے سچ کو جھوٹ سے یکسر الگ ہوتے دیکھا شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی اولاد میں سے جسے شوق ہے عدالت سے رجوع کرلے، سچ سامنے آجائے گا، میرا چیلنج ہے کہ یہ بالکل ایسا نہیں کریں گے۔ شہزاد اکبر کادعویٰ ہے یہ 26 ملین ڈالر سے زیادہ منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔ میں برطانوی عدالت میں ثابت کردکھاؤں گا شہباز شریف لندن میں مقدمہ تو کریں پھرمزا آئے گا جب میں مزدوروں کے نام پرفراڈ کے ذریعے بھیجی گئی ٹی ٹی عدالت میں پیش کرونگا۔ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ بے بنیاد خبر سے ساکھ کونقصان پہنچایا گیا، پگڑیاں اچھالنے والوں کوقانون کے کٹہرے میں جواب دینا ہوگا۔ جھوٹی خبر دینے پر برطانوی اخبارکے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح مریم اورنگزیب نے اخبار کی خبر میں ذکر کردہ 2005ء سے 2012ء کی مدت پراہم سوال اٹھا دیا ہے۔ 2005ء سے2007ء تک شہبازشریف ملک بدر تھے۔ اس دوران پرویزمشرف کی حکومت تھی۔ 2008ء میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے، وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ ایرا وفاق کے ماتحت تھا۔ زلزلہ کشمیراور کے پی میں آیا تو پیسے پنجاب میں شہبازشریف کیسے کھا رہا تھا؟ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ڈیلی میل کی رپورٹ کے ردعمل میں کہنا تھا کہ ایک خاندان نے پاکستان کو بدنام کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، اس خاندان نے پاکستان کی توقیر کو بھی تار تار کیا۔ شریف خاندان کی کارستانیاں اسٹوری میں سامنے آگئی ہیں، یہ مافیا پہلے کرپشن سے پیسے بناتا ہے، پھر بلیک ملینگ کرکے اداروں کو بدنام کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خادم اعلیٰ شہباز شریف انگلی ہلا ہلا کر خود کو کرپشن سے پاک بیان کرتے تھے، ووٹ کو عزت دینے والوں نے نوٹ کو عزت دو پر کام کیا اور جو امداد ایرا کو دی گئی وہ یہ خاندان خوردبرد کرگیا۔تاہم برطانوی حکومت نے اس رپورٹ پر وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ڈیلی میل نے اپنی اسٹوری کو سچ ثابت کرنے کیلئے کم ثبوت پیش کیے۔ 2005 کے زلزلے کے بعد برطانیہ کی جانب سے حکومت پنجاب کے ارتھ کوئک ریلیف اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ایرا) کو اسکولوں کی تعمیر کیلئے امداد دی گئی جو تعمیر ہوئے اور ان کا آڈٹ بھی کیا گیا۔بہرحال مسلم لیگ ن اور حکومت کے درمیان بیان بازی جاری ہے لیکن ایک بات بڑی اہم ہے برطانیہ میں خبرکے بارے بڑے سخت قوانین ہے پاکستان کی طرح کسی عام شخص کی بھی پگڑی نہیں اچھالی جا سکتی رپورٹرکو لینے کے دینے بھی پڑسکتے ہیں اس لئے اخبارات میں بڑے سوچ سمجھ کر خبریں بریک کی جاتی ہیں اور ہتک ِ عزت کافیصلہ سالوں میں نہیں مہینوں میں ہوتاہے اس خبرپرسابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کی خبر کو من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اس کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں میاں شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ یہ من گھڑت خبر وزیراعظم عمران خان اور ان کے مشیر شہزاد اکبر کی ایماء پر چھاپی گئی، ہم ان دونوں کیخلاف بھی قانونی چارہ جوئی کرینگے لیکن یہ سنسنی خیز خبربریک کرنے والے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روز اپنی خبرکی سچائی پرڈٹے ہوئے ہیں کہ میرے پاس ناقابل تردید ثبوت موجودہیں اور منی لانڈرنگ کرنے والا برطانوی شہری آفتاب محمود ۔۔ شہباز شریف کیلئے منی لانڈرنگ کرنے کا اعتراف بھی کر چکاہے اس تناظرمیں کہاجاسکتاہے کہ مشکلات میں گھرے شہبازشریف خاندان کی دن بہ دن مشکلات بڑھ رہی ہیں اور اگر زلزلہ زدگان کی فنڈزکے حوالے سے ڈیوڈ روزکی خبر سوفیصد سچ ہوئی تو مسلم لیگ ن سے وابستہ لاکھوں کارکنوں کے دل کو دھچکا لگے گا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 316 Articles with 111853 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2019 Views: 276

Comments

آپ کی رائے