کیا تعزیت پر بار بار ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے؟

(Manhaj As Salaf, Peshawar)
جو اہل شرک اور کافر ہیں انہیں صرف دلاسہ دے سکتے ہیں ،ان کےمیت کے لئے استفغار نہیں کرسکتے ہیں اور مسلمانوں کی تعزیت کرنا مسنون اوربڑے اجر کا کام ہے ۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے :

ما من مؤمنٍ يعزِّي أخاهُ بِمُصيبةٍ إلَّا كساهُ اللَّهُ سبحانَهُ من حُلَلِ الكرامةِ يومَ القيامَةِ(صحيح ابن ماجه:1311)

ترجمہ: جو مومن اپنے بھائی کی مصیبت کے وقت اس کی تعزیت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت وشرف کا لباس پہنائیں گے۔

میت کے رشتہ داروں کا غم ہلکا کرنے کے لئے انہیں تسلی دینا، صبر دلانا، اظہارہمدردی کرنا ، تعاون کی ضرورت ہوتو ان کا تعاون کرنااور میت کے لئے دعاءواستغفار کرنا تعزیت کہلاتی ہے۔ تعزیت کے طور پریہ دعا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے:

إنَّ لله ما أخذَ وله ما أعطى . وكلُّ شيء ٍعنده بأجلٍ مسمى(صحيح مسلم:923)

ترجمہ: لی ہوئی چیز بھی اسی کی ہے اور دی ہوئی چیز بھی اسی کی تھی اور ہر چیز اس ذات کے پاس وقت مقررہ کے مطابق لکھی ہوئی ہے۔

سوگ کے دن متعین ہیں جیساکہ اوپر معلوم ہوا مگر تعزیت کے واسطے زیارت کرنے کادن مدت متعین نہیں ہے جب کسی کے یہاں وفات کی خبر ملے اس کی تعزیت کرسکتا ہے خواہ تین دن بعد ہی ہو مگر تعزیت کے لئے خیمہ نصب کرنا، کسی جگہ لوگوں کا جمع ہونا، رسمین انجام دینا ،اجتماعی شکل میں دعوت کا اہتمام کرنا ، اجتماعی دعائیں، دعا میں ہاتھ اٹھانا، باربار تعزیت کے لئے جانا یہ سب امور ثابت نہیں ہیں لہذا ان سے بچا جائے ۔ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة(صحيح ابن ماجه:1318)

ترجمہ: ہم اہل میت کیلئے اکٹھا ہونا ، اور دفن کرنے کے بعد کھانا بنانا نوحہ گری میں شمار کرتے تھے۔

محترم ساتھیو، ہمارا دین اسلام ہے اور مکمل ہے. اسلام توقیفی ہے یعنی جو کچھ جس وقت، جس مقام اور جس کیفیت میں دليلا کہا گیا ہو وہی کرنا دین ہے. اسلام میں دو چیزیں بہت اہم ہیں ۔ عبادات اور دنیاوی معاملات.

عبادات میں ہم دیکھیں گے کوئ عمل کہاں کہا گیا ہےاور کس وقت کرنے کے لیے کہا گیا اور کس کیفیت میں کہا گیا؟ اسکی تین مثالیں پیش ہیں.

1. اگر ایک شخص کہے میں طاقتور ہوں اور سات وقت فرض نماز پڑھ سکتا ہوں اسلیے میں ہر روز پانچ وقت نماز سے زیادہ فرض پڑھوں گا. اسکا جواب یہ ہے بھائ ٹھیک ہے کہ آپ طاقت ور ہو مگر اللہ نے ہم پر اور آپ پر نماز ہی پانچ وقت فرض کی ہے. اسلیے اسے زیادہ یا اس سے کم پڑھنا ثابت نہیں ہے. اگر چہ منع نہیں ہے مگر ثابت ہی پانچ وقت پڑھنا ہے اسلیے پانچ سے زیادہ پڑھنا باطل عمل ہوگا.

2. اسی طرح عید کی نماز اور نماز جنازہ کے لیے اذان نہیں دی جاتی. اب ایک شخص کہ سکتا ہے میں تو اذان دوں گا. اسکا جواب ہے بھای اللہ کے رسول نے اذان دی ہی نہیں اسلیے وہاں آذان نہیں دی جائے گی. اگر وہ کہے کہ منع تو نہیں ہے نہ. اور آذان دینا تو اچھا عمل ہے اسکا جواب یہ ہے کہ اذان ایک توقیفی عبادت ہے اسلیے جس جس مقام اور کیفیت میں اذان دینا ثابت ہے وہاں ہی آذان دی جائے گی. اور جس مقام پر ثابت نہیں ہے وہاں آذان نہیں دی جائے گی.

3. اسی طرح تعزیت کے لیے ایک جگہ جمع ہو کر بار بار ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا. یہ عمل اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم اور صحابہ سے ثابت نہیں ہے بلکہ تعزیت کا یہ طریقہ دین اسلام میں نہیں ہے جو افسوس کہ لوگوں میں عام ہوچکا ہے. اگر ایک شخص کہے بھائ دعا تو اچھا عمل ہے تعزیت کے لیے آکر بار بار ہاتھ اٹھا دعا کرنے میں کیا حرج ہے؟ ہم کہیں گے جی ہاں تعزیت اچھا عمل ہے مگر محترم بھائ کسی کی وفات پر اسکے گھر آکر بار بار جمع کی صورت میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت نہیں ہے بلکہ تعزیت کا طریقہ یہ ہے:

سيدنا اسامہ بن زيد رضى الله عنه سے روايت ہے کہ: ہم رسول الله صلى الله عليه وسلم كے پاس تھے كہ ان كى ايك بيٹی (رضي اللہ عنها ) نے ان كو پيغام بھيج کر بلايا ، ان كا ننھا بچہ حالت نزع ميں تھا ، آپ صلى الله عليه وسلم نے قاصد سے کہا: ان كے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو:

إِنَّ لِلّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَ كُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ

ترجمہ: بے شك اللہ ہی كا ہے جو اس نے لے ليا اور اسى كا ہے جواس نے ديا، اور اس کے پاس ہر چیز مقررہ وقت تك ہے، تمہیں صبر كرنا اور ثواب كى نيت رکھنا چاہیے ۔

(صحيح البخاري: كتاب التوحيد، باب: باب قول الله تبارك وتعالى { قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن، حديث نمبر 6942، صحيح مسلم: كتاب الجنائز: باب البكاء على الميت، حديث نمبر 2174، اردو ترجمہ: مولانا داؤد راز دہلوى رحمہ اللہ)​

یعنی کہ اسکے پاس آو اور انفرادی طورپر ہاتھ اٹھا کر یا بغیر اٹھائے تعزیت کی اوپر پیش کی گئ سنن دعا کرو یا اسکو دلاسا دو.

اگر انکا جواب یہ ہو بھائ بار بار ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے سے منع تو نہیں ہے اور دعا تو بہترین عبادت ہے؟ تو اسکا جواب یہ ہے بھائ آپ کی بات صحیح ہے جیسا کہ اللہ کے رسول نے فرمایا:

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ‏"‏ ‏

ترجمہ: نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دعا ہی عبادت ہے

(حوالہ: سنن ترمذي: حدیث نمبر: 3247 امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ الشيخ الألباني نے اس روايت كو، ابن ماجة (3828) ميں صحيح كها )

یعنی معلوم ہوا کہ دعا ایک توقیفی عبادت ہے اور اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئ عمل کہاں کہا گیا ہے اسے کس کیفیت میں کہا گیا ہے اور وہی دین میں ہوتا ہے.

جہاں جس انداز، جس وقت اور کیفیت میں نہیں کہا گیا ہوتا وہاں اس کیفیت میں وہ عمل نہیں ہوتا جیسے اوپر سات نمازیں پڑھنے اور عید یا نماز جنازہ میں اذان دینے کی مثال دی گئ.

اللہ ہمیں قرآن والسنتہ کا صحیح فہم دے، ہمیں دین کی طرف پھیر دے اور ثقافتى بلا دليل عادات جو دین کے مخالف ہوں ان سے محفوظ رکھے، اللھم آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 287 Articles with 222276 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2019 Views: 611

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ