ایک دن ٹیکنالوجی کے ساتھ

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

ہم ٹیکنالوجی کو جتنا بُرا بھلا کہیں ، اَب اسبَلاسے چھٹکارا پانا ناممکن بات ہے کیوں کہ اس وقت ہم گلوبل ویلج میں رہ رہے ہیں اور ٹیکنالوجی اور اس کا استعمال ہمارے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔ یاد رہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں، مثبت اور منفی۔ پس ٹیکنالوجی بھی انہی دو پہلوؤں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اَب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس کا استعمال مثبت یا منفی کرتے ہیں۔ بلاشبہ موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے، ہمارا واسطہ ہر شعبے میں اس سے پڑتا ہے۔ صبح سے لے کر رات تک کی تمام سرگرمیوں کی کڑیاں اسی سے ملتی ہیں اور اسی کے تحت یہ سرگرمیاں سرانجام کو پہنچتی ہیں۔ کسی دن خود بیٹھ کر صبح سے لے کر رات گئے تک تمام کاموں کی فہرست بنائیں، ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہونے والے کاموں کی تعداد شمار کریں۔اَب فیصد معلوم کیجئے، طریقہ نہایت آسان ہے۔ اُن کاموں کی تعداد جن میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہوا ہے ، ان کو تمام کاموں کی تعداد پر تقسیم کریں اور سو سے ضرب دیں، فیصد معلوم ہوجائے گی۔ یوں حاصل کردہ فیصد سے آپ کو ٹیکنالوجی کی اہمیت معلوم ہوجائے گی۔ آپ سے فیصد معلوم کروانے سے پہلے یہی سرگرمی میں نے خود کی۔ صبح آذان سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل آلارم کی پکار سے جاگ اُٹھا ، آلارم موبائل فون میں سیٹ کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ موبائل ٹیکنالوجی سے قبل میرا صبح جاگنا ٹائم پیس سے ہوتا تھا ، ہمارے گھر کا اکلوتا ٹائم پیس ماموں جان جرمنی سے اسّی کی دہائی کے آواخر میں لائے تھے ،چابی کی مدد سے چلتا تھا۔ہر ماہ اُس کی صفائی اسپرٹ اور سرسوں کے تیل سے کی جاتی تھی تاکہ اُس کا کوئی پُرزہ زنگ آلود نہ ہوجائے۔ افسوس آج گھر میں کسی الماری کے اندر زنگ آلود پڑا ہوگا۔ آلارم کی پکار سے اُٹھا، آلارم بند کیا اور وقت دیکھا۔ اس کے علاوہ موبائل پر آئے ہوئے چند ایس ایم ایس پڑھے، کچھ ایس ایم ایس جواب دہ تھے لیکن جواب دینے کے لئے یہ وقت مناسب نہ تھاکیوں کہ میرے جواب سے کسی کی نیند میں خلل پڑسکتا تھا۔ لائٹ آن کی ، لیپ ٹاپ کھولا اور اُس کو ڈی۔ایس ۔ایل راؤٹر سے منسلک کیا، رابطہ بحال ہوجانے کے ساتھ انٹرنیٹ سگنلز ونڈوز کے نوٹی فیکشن ایریا میں نمودار ہوئے۔ ای میل چیک کیں اور اُردو سافٹ وئیر کو کھولا اور کالم ٹائپ کرنے بیٹھ گیا۔ نماز فجر کے بعد سے گڈ مارننگ پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا، میں نے واٹس ایپ کے پیغامات بھی موبائل فون پر چیک کئے اور ایک قول ِ زرین اپنے دوستوں کے گروپ میں حسب ِ روایت صبح بخیر کے ساتھ بھیجا۔ ناشتے اور تیار ہونے کے بعد کالج پہنچا ، آن لائن ایڈمیشن ہیلپ دیسک میں نئے داخلے کے خواہش مند طالب علموں کی رہنمائی کی ۔ اس کام میں میرے دیگر رفقائے کار نے بھی ساتھ دیا۔ چائے کے وقفہ میں ، میں نے اپنا کالم اخبار کے ایڈیٹر کو برقی خط کے ساتھ لف کر کے راونہ کیا۔ کالج کا کام نمٹانے کے بعد سیدھا کورئیر آفس جا پہنچا جہاں سے کتابیں اپنی بھانجیوں کے لئے راولپنڈی بھیجیں۔ کورئیر آفس میں رسید پرنٹ کرنے سے قبل الیکٹرانک گیجٹ کی ٹچ اسکرین پر دستخط لیے اور پرنٹ رسید تھما دی جس پر ایڈریس ، وزن ، ٹیکس اورکل رقم وغیرہ سب معلومات درج تھیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کیا اور پھر اپنے دوست کے ساتھ بائیک پر اُس کے نجی آفس آگیا، راستے میں پمپ سے پیٹرول ڈالویا، آج کل تقریباًٍٍ تمام پیٹرول پمپ ہائبرڈ سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں، یعنی پیٹرول کا بہاؤ اینالاگ فیشن میں ہوتا ہے اور جب کہ مقدار اور قیمت ڈیجیٹل صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ آفس میں گپ شپ کے بعد گھر کا رُ خ کیا ، اخبارات کا آن لائن مطالعہ کیا اور اپنے آرٹیکل کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد فولڈر میں محفوظ کیا۔ گھر پہنچ کر رات کا کھانا کھایا اور نجی ٹیلی ویژن چینلوں پر ہونے والے سیاسی تبصرے سُنے۔ بچوں کے ساتھ بیٹھا ، اُن سے دن بھر کا احوال پوچھا، انہوں نے شکایات کا جو انبار لگائے ، وہ زیادہ تر ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ کے استعمال کرنے اور نہ کرنے سے متعلق تھیں۔ ہوم ورک چیک کیا ، خامیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ نشان دہی کی کیوں کہ بچوں نے فوراً ناراض ہوجانا تھا اور اُن کو دوبارہ صاف ستھرا لکھنے کا کہا اور ساتھ میں اُن کی رہنمائی کی۔ بچوں کی سکول ، ٹیوشن اور دیگر ضروریات نوٹ دریافت کیں اور اپنے نوٹ پیڈ میں محفوظ کیں۔ رات کو اُن کے ساتھ ٹیبلٹ پر گیم کھیلا، جب اُن کی آنکھوں میں نیند دیکھی تو گیم کو بند کیا اور بچوں کو سونے کا کہا۔ اَب یہ وقت میرے کالم اور ڈائری لکھنے کا تھا، اُردو لغت ساتھ رکھی اور لکھنا شروع کیا۔ میرے پاس اُردو سے اُردو اور انگلش ، انگلش سے انگلش اور اُردو آف لائن لغات اور جب کہ اُردو لغت ( تاریخی اُصول پر ) آن لائن موبائل فون میں انسٹال ہیں۔ جب دن بھر کی تھکن سے نیند آنکھوں میں تیرنے لگی تو کتابوں ، ڈائری اور فائلوں وغیرہ کو بند کیا اور جلد ہی نیند کی حسین وادیوں میں چلا لگا۔ یہ تھا میرا ایک دن ٹیکنالوجی کے ساتھ ، سارے دن کی سرگرمیوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال نوے فیصد سے زیادہ رہا۔ اَب آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی اپنے ایک دن کا ٹیکنالوجی کے ساتھ حساب نکالیں اور دیکھیں کہ آپ کتنے فیصد ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ میں نے ان تمام سرگرمیوں کے دوران موبائل فون سے ہونے والی کالوں ، ایس ایم ایس ، فیس بُک کمنٹس ، واٹس ایپ ، ائیر کنڈیشن ، سولر سسٹم وغیرہ وغیرہ کا ذکر نہیں کیا۔ یہ وہ تمام سہولیات ہیں جو کہ ٹیکنالوجی کا ثمر ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 533 Print Article Print
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 164 Articles with 74257 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: